Govt.Institute of Comers College Taunsa Sharif

Govt.Institute of Comers College Taunsa Sharif Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Govt.Institute of Comers College Taunsa Sharif, Enseignement supérieur, Democratic Republic of the.

29/08/2024

True lines

05/06/2023
05/06/2023

Atomic online apply available on new madni photostat Taunsa Education D.com FA diploma.Last date 10 june

05/06/2023

6 Month computer course available on gov.of technical college Taunsa Sharif❤️

پیج کو فالو اور شیئر کریں شکریہ 💎💫❤️
05/06/2023

پیج کو فالو اور شیئر کریں شکریہ 💎💫❤️

26/12/2022

کیا ہم آزاد ہیں
آج سے 73 سال پہلے ہمارے بزرگوں نے ہمیں جس غلامی سے آزاد کروایا، اپنا خون پانی کی طرح بہایا، بہنوں نے اپنی عصمتوں کی قربانی دی لیکن افسوس صد افسوس ہم آج بھی اسی غلامی کے زیر اثر ہیں۔ہم نے ملک تو آزاد کروالیا، خطہ زمین تو حاصل کرلیا لیکن ذہنی وثقافتی طور پر ہم ابھی بھی اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم بظاہر آزاد ہیں لیکن 73 سال بعد بھی ہم ان دیکھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے تہذیب اسلام، تمدن اسلام، کلمہ حق اور تعلیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ رکھنے کے لیے، جس معاشرے کے قیام کے لیے اتنی جہدوجہد کی، اپنی نسلوں کی قربانی دی۔ان قربانیوں اور جہدوجہد کو ہم نئی نسل اپنے ہاتھوں سے اس کو نہ صرف ضائع کررہے ہیں بلکہ دشمنوں کی مدد کررہے ہیں کہ وہ ہم سے ہماری پہچان، ہماری آزادی ہم سے چھین لیں۔ہمارے دشمن یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کبھی بھی میدان جنگ مسلمانوں سے نہیں جیت سکتے ان کو میدان جنگ میں جیتنے کے لیے اس کو سب سے پہلے ہماری اسلامی اصلاحات کو مارنا ہے جس کے لیے انہوں نے ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی کہ اسلام ایک ظالمانہ نظام رکھتا ہے اور آزادی ہر ایک کا حق ہے۔ اس کے لیے سوچنے کا نظریہ بدلنا شروع کر دیا، ایسی ایسی ایجادات کردیں کہ ہماری نئی نسل دین کو اپنے نئے نظریہ سے بدلنے لگ گئی۔ لڑکیوں کے دماغ میں بٹھا دیا اور لڑکیوں نے کہنا شروع کر دیا کہ پردہ نظر کا ہوتا ہے۔ اس جملے نے آدھی امت مسلمہ کی لڑکیوں کو برہنہ کر دیا۔ سب کی اپنی ذاتی زندگی ہے اس سوچ نے امت مسلمہ کے باپ بھائیوں کو بے غیرت کردیا۔ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی آزاد نہیں ہیں، زنجیریں نہیں ہیں لیکن پھر بھی ان دیکھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دشمن نے ہمیں ہماری ذہنی صلاحیتوں، ہماری سوچوں کو جکڑا ہوا ہے اور ہم کٹھ پتلیوں کی طرح ان کے اشاروں پر اپنی مرضی سے ناچ رہیں ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں۔ بس ہمیں تو ہمارے مذہب اور روایات نے جکڑا ہوا ہے۔ (سیدہ حمیرا فاطمہ۔کراچی)

20/12/2022

پبلک میسیج
ہمارے بہت سارے باپ ہیں جو بھیس بدل کر ماروی سرمد بن چکے ہیں #لاالامحمدررسوللہ ہر وہ باپ جو بیٹی کی شادی کیلئے اس کی مرضی نہیں پوچھتا وہ ماروی سرمد سے بڑا گنہگار ہے یہ پہلا شرعی حق ہے یاد رکھیے گا
یہ مولوی آپ کو کہتے ہوں گے آپ کا پہلا یہ سوال ہوگا پہلا وہ سوال ہوگا جب آپ کو بیٹی دی جاتی ہے آپ پر کرم کیے جاتے ہیں کیونکہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بیٹیاں تھیں میرا ماننا یہ ہے کہ آپ سے پہلے یہ سوال ہوگا کہ جس دن آپ بیٹی کا بیاہ کر رہے تھے مرضی اسکی تھی یا آپ کی تھی اور اسکی سزا اتنی بڑی ہے کہ جو آپ کی ساری نمازیں اور روزے آپ کو بچا نہیں پائیں گے

18/12/2022

پھر توشہ خانہ !!

Please subscribe our channel
18/12/2022

Please subscribe our channel

Share your videos with friends, family, and the world

11/12/2022

ایسا ہے ہمارا کراچی...
تصویر میں موجود کراچی کا نوجوان انس ہے جو فوڈ رائڈر کی جاب کرتا تھا بعد ازاں اپنا کاروبار شروع کرلیا, گزشتہ سردیوں میں انس آرڈر ڈلیور کرنے گلشن پہنچا جہاں دروازہ کھٹکا کر آرڈر حوالہ کیا, 1850 آرڈر کی قیمت تھی شہری نے 5 ہزار کا نوٹ تھمادیا جس پر رائڈر نے شہری کو کہا کھلا نہیں ہے, شہری کھلا لینے کیلئیے گیٹ کی جانب مڑا اور رائڈر سے رک سوال پوچھ لیا اتنی سردی ہورہی ہے ہم گھر سے نہیں نکل رہے اور تم بغیر گرم کپڑوں کے گھوم رہے ہو جس پر رائڈر بے بسی بول پڑا صاحب جب ﷲ تعالی دیگا تو گرم کپڑے بھی پہن لونگا, یہ سننا تھا کہ شہری نے وہیں رک کر 5 ہزار کا نوٹ انس کے ہاتھ میں تھمایا اور گھر سے مزید 5 ہزار لاکر مٹھی میں رکھ دئیے اور پوچھا تمھاری پسند کی مہنگی سے مہنگی جیکٹ کتنے کی آتی ہے اس پر انس نے بے ساختہ کہا صاحب زیادہ سے زیادہ ڈھائی ہزار کی پھر شہری نے دریافت کیا کہ شادی شدہ ہو جس پر انس نے جواب دیا ہاں, شہری نے فوراََ جواب دیا اس میں سے کھانے کے پیسے کاٹ لو اور باقی جو بچیں ان سے اپنے اور بچہ کیلئیے گرم کپڑے خرید لینا, سوشل میڈیا پر رائڈر کا یہ انٹرویو سن کر دل خوش ہوگیا کہ کراچی والو کا کوئی جواب نہیں ایسی کئی داستانیں اور گمنام شہری ہیں جو روز مرہ ایک دوسرے کی مدد کرتے اور کام آتےہیں, زندہ باد کراچی والو۔

Adresse

Democratic Republic Of The

Site Web

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Govt.Institute of Comers College Taunsa Sharif publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Contacter L'université

Envoyer un message à Govt.Institute of Comers College Taunsa Sharif:

Partager