Jamia Qasmia DTS Deoband

Jamia Qasmia DTS Deoband (Jamia Qasmia Darul Taleem was-sana)
founded by Hazrat Mufti Wasif (RA), is a distinguished Islamic seminary in Deoband.

Its graduates are engaged in spreading the teachings of Qur’an and Sunnah with dedication in India and abroad.🌎

ابنائے قدیم جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ دیوبند سے ایک اہم اور ضروری اپیلمحترم علماءِ کرام، قرّاءِ عظام! اللہ تعالیٰ ...
11/08/2026

ابنائے قدیم جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ دیوبند سے ایک اہم اور ضروری اپیل

محترم علماءِ کرام، قرّاءِ عظام! اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے۔

ضروری درخواست یہ ہے کہ جامعہ کے بانی و (فاؤنڈر)، ہمارے اور آپ کے محسن، مفتی محمد واصف عثمانی علی رحمۃ اللہ علیہ کی یومِ وفات کے موقع پر آپ اپنے ادارے میں ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کروائیں؛ آپ اپنے ادارے میں، اپنے گھر میں، اپنے کھیت کھلیان میں ایک درخت (ایک پیڑ) ضرور لگائیں۔ ہماری جانب سے یہ آپ کے لیے بہترین خراجِ عقیدت کے ساتھ ملک کی خوشحالی و ہریالی، ہمارے لیے صدقۂ جاریہ اور ترقی میں معاون و مددگار ثابت ہوگا، ان شاء اللہ۔

ہم آپ کے لیے دل و جان سے دعا کرتے ہیں۔

جزاکم اللہ خیراً وأحسن الجزاء

محمد ابراہیم قاسمی
خادم
جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ، قاسم پورہ، دیوبند، ضلع سہارنپور، یوپی

9412323833 / 9557515268
jamiaqasmiadts.netlify.app

11/08/2026
08/08/2026

جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ، قاسم پورہ روڈ دیوبند، اللہ رب العزت کے فضلِ خاص اور آپ حضرات کی مخلصانہ دعاؤں و تعاون کی برکت سے بتدریج ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ یہ عظیم دینی ادارہ حضرت مولانا مفتی محمد واصف رحمۃ اللہ علیہ کے پاکیزہ مقصد، یعنی خدمتِ قرآن اور دینی تعلیم کے فروغ، کو نہایت اخلاص و استقامت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔
الحمدللہ! یہ مبارک مشن مسلسل جاری ہے اور مزید ترقی و استحکام کے لیے آپ حضرات کی توجہ، تعاون اور دعاؤں کا محتاج ہے۔ آپ کی معمولی سی معاونت بھی اس کارِ خیر میں بڑا حصہ بن سکتی ہے۔

دعاؤں کا طالب:
محمد ابراہیم قاسمی بستوی
Mohammad Ibrahim Qasmi
(منتظم، جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ)

07/08/2026

Jamia Qasmia DTS Deoband 🌿
06/08/2026

Jamia Qasmia DTS Deoband 🌿

جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ دیوبند میں شجرکاری مہم، طلبہ نے جوش و خروش سے پودے لگائےدیوبند، 5 اگست:نبی کریم ﷺ کی اس ...
05/08/2026

جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ دیوبند میں شجرکاری مہم، طلبہ نے جوش و خروش سے پودے لگائے
دیوبند، 5 اگست:
نبی کریم ﷺ کی اس مبارک تعلیم کہ "جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے، پھر اس میں سے انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے" کی روشنی میں آج جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ، قاسم پورہ، دیوبند میں جمعیت یوتھ کلب دیوبند کے زیرِ انتظام شجرکاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر جامعہ کے مہتمم مولانا محمد ابراہیم قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شجرکاری نہ صرف اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے بلکہ ماحول کے تحفظ، فضائی آلودگی کے خاتمے، موسمی توازن اور انسانی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ان کی حفاظت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں، کیونکہ درخت لگانا ایک ایسا صدقۂ جاریہ ہے جس کا ثواب مسلسل جاری رہتا ہے۔
شجرکاری مہم میں اورنگ زیب (ٹرینر، جمعیت یوتھ کلب)، محمد شعیب (ٹرینر)، قاری محمد نوشاد، قاری محمد طالب، قاری محمد ارمان، قاری محمد عظیم اور جامعہ کے طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے مختلف اقسام کے پودے لگائے۔
پروگرام کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شجرکاری کے اس پیغام کو عام کریں گے اور لگائے گئے پودوں کی حفاظت و نگہداشت کو یقینی بنائیں گے تاکہ ایک سرسبز و شاداب اور صاف ستھرا ماحول قائم کیا جا سکے۔
محمد ابراھیم قاسمی دیوبند
٥/٨/٠٢٦

• اسلام میں تشریعی اور سیاسی نظام_ماخذ: بصیرت اکیڈمی، نبراس نصاب (پنجم)، فقہ الاحکام، باب چہارم، صفحات 76-82۔_اسلام ایک ...
04/08/2026

• اسلام میں تشریعی اور سیاسی نظام
_ماخذ: بصیرت اکیڈمی، نبراس نصاب (پنجم)، فقہ الاحکام، باب چہارم، صفحات 76-82۔_

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام میں قانون سازی کا مقصد انسانیت کی فلاح و بہبود، عدل و انصاف کا قیام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔ اسی طرح اسلامی سیاسی نظام کا بنیادی مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں اللہ کے احکام نافذ ہوں اور لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں۔

• اسلامی قانون سازی
اسلامی قانون سازی کی سب سے اہم خصوصیت ربانیت ہے۔ اسلامی شریعت کا ماخذ اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اس کے احکام انسانی خواہشات کے تابع نہیں بلکہ وحی الٰہی پر مبنی ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کیا جائے اور خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔
اسلامی قانون سازی کی دوسری اہم خصوصیت جامعیت ہے۔ شریعت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت اور سیاست سمیت ہر شعبے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ قرآنِ کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کر دیا اور انسان کی ضرورت کی ہر چیز واضح فرما دی۔
تیسری خصوصیت عمومیت ہے۔ اسلامی شریعت کسی خاص قوم، نسل یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے نازل کی گئی ہے۔ اس کے احکام ہر دور اور ہر معاشرے میں قابلِ عمل ہیں۔
چوتھی خصوصیت آسانی اور رفعِ حرج ہے۔ اسلام نے انسانوں پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالا بلکہ سہولت اور آسانی کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ شریعت کے احکام فطرت کے مطابق ہیں اور مجبوری یا دشواری کی صورت میں رعایت بھی دی گئی ہے، جیسے مسافر اور بیمار کے لیے بعض عبادات میں آسانیاں۔

• *اسلامی قانون سازی کے مصادر*
*اسلامی قانون سازی کے بنیادی مصادر چار ہیں:*

1۔ قرآنِ کریم
قرآنِ کریم اسلامی شریعت کا پہلا اور سب سے اہم ماخذ ہے۔ تمام احکام کی بنیاد قرآنِ مجید پر ہے اور مسلمان اس کی رہنمائی کو واجب الاتباع سمجھتے ہیں۔

2۔ سنتِ نبوی ﷺ
سنتِ رسول ﷺ شریعت کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات مسلمانوں کے لیے نمونہ اور رہنمائی ہیں۔ قرآنِ کریم نے بھی رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔

3۔ اجماع
کسی شرعی مسئلے پر امت کے مجتہد علماء کا اتفاق اجماع کہلاتا ہے۔ اجماع شریعت میں معتبر دلیل ہے اور اس کے ذریعے بہت سے
مسائل کا حل نکالا جاتا ہے۔

4۔ قیاس
جن مسائل کا حکم قرآن و سنت میں صراحت کے ساتھ موجود نہ ہو، ان کا حکم مشابہ مسائل پر قیاس کرکے معلوم کیا جاتا ہے۔ قیاس فقہی مسائل کے حل کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

• *اسلام کا سیاسی نظام*
اسلام میں سیاست کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کرنا، عدل قائم کرنا اور عوام کی خدمت کرنا ہے۔ اسلامی سیاسی نظام قرآن و سنت کی تعلیمات پر قائم ہے اور انسانی زندگی کے تمام معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اسلامی سیاسی نظام میں حکومت اور قانون دونوں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے تابع ہوتے ہیں۔ حکمران عوام کے خادم اور امانت دار ہوتے ہیں اور ان پر لازم ہے کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کریں۔

• *اسلامی سیاسی نظام کے اہم اصول*
1۔ حاکمیتِ الٰہی:
اسلام میں اصل حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ تمام فیصلے قرآن و سنت کے مطابق کیے جاتے ہیں اور کوئی قانون اللہ کے حکم کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔

2۔ شورائیت:
اسلام مشاورت کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ حکمران کو چاہیے کہ اہم معاملات میں اہلِ علم اور اہلِ رائے سے مشورہ کرے تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔

3۔ انصاف:
اسلامی نظام کا بنیادی اصول عدل و انصاف ہے۔ تمام افراد قانون کی نظر میں برابر ہیں اور کسی کے ساتھ ظلم یا ناانصافی کی اجازت نہیں۔

4۔ آزادیوں کا تحفظ:
اسلام انسان کو جائز حدود کے اندر آزادی دیتا ہے۔ عقیدے، جان، مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے اور کسی کو زبردستی دین قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔

اسلامی قانون سازی اور سیاسی نظام انسانی فلاح، عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول پر مبنی ہے۔ اس کے قوانین ربانی، جامع، عالمگیر اور آسان ہیں، جبکہ اس کا سیاسی نظام حاکمیتِ الٰہی، شورائیت، انصاف اور بنیادی آزادیوں کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہی خصوصیات اسلامی نظام کو دیگر نظاموں سے ممتاز بناتی ہیں۔

الحادالحاد قدیم زمانے سے موجود ہے، لیکن انفرادی حالات کے مطابق خاص تھا۔ اسکنڈے نیویں صدی عیسوی میں سائنس، فلسفے اور مادی...
03/08/2026

الحاد
الحاد قدیم زمانے سے موجود ہے، لیکن انفرادی حالات کے مطابق خاص تھا۔ اسکنڈے نیویں صدی عیسوی میں سائنس، فلسفے اور مادی ترقی کے پھیلاؤ کے بعد الحاد نے باقاعدہ ایک فکری تحریک کی صورت اختیار کر لی۔ الحاد کی تعریف یہ ہے کہ انسان کائنات کے خالق کے وجود کا انکار کرے، تمام مذاہب کو غلط سمجھے اور رسالت و آخرت جیسے عقائد کو تسلیم نہ کرے۔
عصرِ حاضر میں الحاد کی کئی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ خدا کے وجود کا مکمل انکار کرتے ہیں، بعض خدا کے وجود کو مانتے ہیں لیکن اس کے کائنات میں کسی عملی کردار کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ کچھ لوگ مذہب، وحی اور رسالت کا انکار کرتے ہوئے صرف انسانی عقل کو معیار قرار دیتے ہیں۔
الحاد کے نمایاں نظریات میں سائنسی الحاد، فلسفیانہ الحاد اور انسانی الحاد شامل ہیں۔ سائنسی الحاد کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کو سائنسی قوانین سے سمجھا جا سکتا ہے، اس لیے خدا کے وجود کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ فلسفیانہ الحاد میں عقل اور منطق کی بنیاد پر مذہبی عقائد پر اعتراضات کیے جاتے ہیں، جبکہ انسانی الحاد انسان کو مکمل طور پر آزاد سمجھتے ہوئے اخلاق اور زندگی کے اصولوں کو انسانی خواہشات اور تجربات سے اخذ کرتا ہے۔
اکیسویں صدی میں الحاد کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اس کے خیالات کو دنیا بھر میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے نوجوان مذہب کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو رہے ہیں اور بعض مسلمان بھی ان نظریات سے متاثر ہو رہے ہیں۔
بعض مسلمانوں کے الحاد کی طرف مائل ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ مغربی تہذیب اور اس کے افکار سے مرعوبیت، مذہبی تعلیمات سے دوری، دینی مسائل کا صحیح فہم نہ ہونا، سوشل میڈیا پر پھیلنے والے شبہات، اور آزادیِ فکر کے غلط تصور کو اختیار کرنا ان اہم اسباب میں شامل ہیں۔ بعض افراد یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب انسانی آزادی میں رکاوٹ ہے، حالانکہ اسلام انسان کو متوازن آزادی عطا کرتا ہے اور اس کے ساتھ ذمہ داریوں کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔
اسلام الحاد کے مقابلے میں مضبوط عقلی اور نقلی دلائل پیش کرتا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بے شمار نشانیاں بیان کرتا ہے۔ اسلام کے مطابق انسان کی حقیقی کامیابی ایمان، اخلاق اور نیک اعمال میں ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی علم حاصل کریں، اپنے عقیدے کو مضبوط بنائیں اور الحادی نظریات کا علمی اور حکیمانہ انداز میں جواب دیں۔

الحاد ایک فکری چیلنج ہے، لیکن اسلام کے مضبوط دلائل اور صحیح دینی تعلیمات اس کا مؤثر جواب فراہم کرتی ہیں۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کا مذاق اڑانا، عیب تلاش کرنا، طعنہ دینا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک سچے ...
22/07/2026

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی کا مذاق اڑانا، عیب تلاش کرنا، طعنہ دینا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا بہت بڑا گناہ ہے۔ ایک سچے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر انسان کے ساتھ عزت، احترام اور حسنِ اخلاق سے پیش آئے۔

Address

Qasim Pura Road & Badziyaul Haq
Deoband
247554

Telephone

+919412323833

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Qasmia DTS Deoband posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Jamia Qasmia DTS Deoband:

Shortcuts

Share