Shahzad Podcast 113

Shahzad Podcast 113 we deal all kind of program

March 23, 1940: A Day of Independence Significance
23/03/2026

March 23, 1940: A Day of Independence Significance

Faceless Empire Academy **🎓 YouTube Automation Master Class**  **خاص طلبہ کے لیے**  📅 **ٹائمنگ:** شام **3 بجے سے رات 8 ب...
19/03/2026

Faceless Empire Academy
**🎓 YouTube Automation Master Class**
**خاص طلبہ کے لیے**

📅 **ٹائمنگ:** شام **3 بجے سے رات 8 بجے** تک
(سکول/کالج کے بعد آرام سے آ سکتے ہو — پارٹ ٹائم بھی مکمل طور پر ممکن)

✅ مکمل Hands-on ٹریننگ
✅ AI ٹولز سے فیس لیس چینل بنانا
✅ سکرپٹ، وائس، ایڈیٹنگ، تھمب نیل — سب کچھ خودکار
✅ مونیٹائزیشن + پہلی ویڈیو اسی ہفتے
✅ لائف ٹائم ریکارڈنگز + سپورٹ گروپ

**مقام:**
سر سید ہائی سکول
اڈا تیرہ سولنگ، یزمان روڈ، بہاولپور

**رابطہ:**
📲 **0302-7096136** (واٹس ایپ یا کال)
ابھی رجسٹر کروائیں — سیٹیں محدود ہیں!

یہ موقع صرف ان طلبہ کے لیے ہے جو آج سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔
جو کل کریں گے، وہ پیچھے رہ جائیں گے۔

**ابھی ایکشن لو!**
واٹس ایپ پر "YES" لکھ کر بھیج دو یا کال کر دو۔
پہلا لیسن فری بھی دے رہے ہیں!



اپنے کلاس فیلوز، بہن بھائیوں اور دوستوں کو ٹیگ کرو جو پڑھائی کے ساتھ کمائی بھی کرنا چاہتے ہیں! 🔥
یہ پوسٹ شیئر کرو — کوئی ایک بھی طالب علم بدل سکتا ہے!

جلد ملاقات ہو گی کلاس میں! 🚀

03/03/2026

قوانین کی جکڑبندی ۔ بیوی نہیں سافٹ گرل بننا قبولحقوق نسواں کے چکر میں دراصل مردوں کی آزادیکیا خانگی معاملات سے متعلق قوا...
01/02/2026

قوانین کی جکڑبندی ۔ بیوی نہیں سافٹ گرل بننا قبول
حقوق نسواں کے چکر میں دراصل مردوں کی آزادی

کیا خانگی معاملات سے متعلق قوانین اور سزائیں مردوں کو جکڑ دیتی ہیں ۔ کیا مغرب زدہ قانون سازی عورتوں کو زیادہ حقوق دلاتی ہے ۔ کیا شکنجوں میں جکڑی شادی سے مرد سہم جاتے ہیں ۔ کیا خانگی معمولی باتوں میں تھانے کچہری کی مداخلت سے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ کیا قوانین کے سہارے سے رشتے نبھائے جا سکتے ہیں ۔ کیا طلاق خلع کو پرکشش بنانے سے خواتین کی زندگیوں زیادہ پُرسکون ہو سکیں گیں ۔
چند سوالات ہیں اور ہر کوئی جواب ڈھونڈ سکتا ہے ۔ لبرل طبقہ اور مغربی و دینی فیمنزم کا شکار کچھ گروہ اس کو بڑی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں کہ مرد جکڑ لئے گئے ۔ اب کسی کی ہمت نہ ہو گی اب قانون کا شکنجہ ہو گا اور ظالم مرد سلاخوں کے پیچھے ۔ بس کامیابی ہی کامیابی اور خوشی ہی خوشی دراصل ایسے قوانین مغرب زدہ این جی اوز مخصوص مقاصد کے لئے بنواتی ہیں ۔ شادی نکاح کو مشکل ترین پیش کرنا اور نوجوان نسل کو قائل کرنا کہ باقی سب کچھ کر لو سوچ لو بس شادی بیاہ نکاح کے قریب بھی نہیں جانا۔ایسا ہمارے ہاں تو شائد ابھی نیا نیا یا زیادہ پرانا نہیں ہے البتہ بہت سے دیگر ممالک تجربات کر چکے ۔ سبق سیکھ چکے اور نتائج دیکھ چکے ۔سافٹ گرل کا بڑھتا رجحان یورپ کی سٹوری ہے ۔ یعنی لڑکیاں پسند کر رہی ہیں کہ شادی کے بغیر جو کہ اب وہاں تصور میں بھی نہیں رہی یا بہت کم ۔ وہ کسی مرد کیساتھ اس کے گھر صرف اس شرط پر رہ لیتی ہیں کہ انہیں کھانا پینا اور کچھ خرچہ ملے گا ۔ایسا ہی اور کچھ ملتا جلتا تصور شوگر ڈیڈی کا بھی ہے ۔ جب مرد کا دل چاہا سب ختم کیا اور کسی اور کو ہائیر کر لیا ۔ شادی و قانونی بندھن ہی نہیں ۔
اب تصور کریں کہ شادی نکاح کا خاتمہ کس کے بھلے میں ہے ۔ گویا مرد تو جیسے آزاد کئے جا رہے ہیں کہ جب چاہیں جیسے چاہیں مرضی کی زندگی گزار لیں ۔جی مانا کہ خواتین کے لیے بھی یہ آپشنز لیکن کمانے کی زمہ داری اور بڑھتی عمر میں بھی کمانے کی فکر عموماً خواتین کو تھکا دیتی ہے ۔ ان ممالک میں تو کچھ کچھ ایسے چل جاتا چونکہ وہاں ریاست خرچہ اٹھا لیتی ہے لیکن یہاں کیا ہو گا ؟؟
دراصل اس رجحان میں دونوں ہی خسارے میں رہتے ہیں ۔ جوانی تو گزار لی اور شائد چالیس سال تک ۔ لیکن پھر زندگی عذاب بن جاتی ہے ۔ تنہائی ہوتی ہے اور شائد بیماریاں بھی ۔ مغرب میں بھی تنہائی اتنا بڑا مسئلہ بن چکی کہ تنہا رہنے والوں کے لیے وزارتیں اور ادارے قائم کئے جا رہے ہیں ۔ کئی کئی ماہ تک لاش تک کا پتہ نہیں چلتا اور بدقسمتی سے ایسے واقعات اب ہمارے ہاں بھی ہونے لگے ۔ ابھی آغاز سفر ہے لیکن ہونے لگا ہے اور یہ سب اسی شاخسانہ ہے کہ جہاں شادی ہوئی نہیں ۔ ختم ہو گئی یا پھر اولاد بھی اسی آزادی کی آڑ میں والدین کو بھول بیٹھی جو خواتین کو چاہیے تھی ۔ جو مشترکہ خاندانی نظام کو ٹھکرا کر نکلے تو پھر خود زندگی کی مشکلات کا شکار بن گئے انہیں تنہائی اور بے سہارا پن کھا گیا ۔
ضرورت کے تحت الگ رہائش اور بات ہے لیکن خاندان سے کٹ جانا اور بس رنگینیوں میں کھو کر اپنوں کو ہی بھلا دینا ۔ شادی نکاح سے فرار اور پھر تلخ ترین زندگی
ہوتے ہیں مسائل بھی ہوتے ہیں لیکن حل یہ نہیں کہ سب ختم ہی کر دیا جائے ۔ کچھ برداشت ۔ صبر اور باہمی احترام ۔ بس منفی پہلو نہیں بلکہ رشتوں سے جڑے بہت سے مثبت پہلو بھی تو ہوتے ہیں ۔ یہ سرمایہ دارانہ ادارے تو چاہیں گے کہ ہر چیز کو مارکیٹ اور پراڈکٹ کے طور پر ہی لیا جائے جہاں رشتوں ۔ اپنائیت اور روایات و دینی احکام کا تصور تک نہ ہو لیکن زندگی اس کا نام نہیں ۔ جنہیں بیوی بننے یا بیوی رہنے سے ڈرا دیا جاتا ہے ۔ باغی بنایا جاتا ہے انہیں ہی پھر کبھی اور کہیں سافٹ گرل بن کر رہنا یا شوگر ڈیڈی کی غلامی کا بھی خطرہ ہوتا ہے ۔ یہ اس سے کہیں گھٹیا اور باعث شرم ہے جن وجوہات کی بنا پر شادی نہ کرنے یا برقرار نہ رکھنے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ یہ کوئی مقابلہ تھوڑی ہے سب ہار جاتے ہیں ۔ زندگی ہار جاتی ہے

🤝🌟👨‍👩‍👧‍👦💕

Never Blame Anyone In Your Life.Good People Give You HappinessBad People Give You ExperienceWorst People Give You A Less...
17/01/2026

Never Blame Anyone In Your Life.
Good People Give You Happiness
Bad People Give You Experience
Worst People Give You A Lesson
Best People Give You Memories 🫡

True Lines
13/01/2026

True Lines

بل گیٹس اور میلِندا کی کہانی .. محبت، شراکت اور الگ ہونے تک کا سفردنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والا نام ۔۔۔بل گ...
11/01/2026

بل گیٹس اور میلِندا کی کہانی .. محبت، شراکت اور الگ ہونے تک کا سفر
دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والا نام ۔۔۔بل گیٹس۔ کمپیوٹر انقلاب کی علامت، مائیکروسافٹ کے بانی، اور پھر دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کے معمار۔ ان کے ساتھ ایک اور نام جڑا رہا — میلِندا فرنچ گیٹس۔ یہ کہانی صرف ایک شادی اور طلاق کی نہیں، بلکہ دو ایسی شخصیات کی ہے جنہوں نے ایک ساتھ خواب دیکھے، دنیا بدلی، اور پھر ایک مقام پر آ کر ایک دوسرے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔

بل گیٹس اور میلِندا کی ملاقات 1980 کی دہائی میں مائیکروسافٹ کے دفتر میں ہوئی۔ میلِندا ایک باصلاحیت منیجر تھیں اور بل گیٹس کمپنی کے دماغ۔ ملاقاتیں بڑھیں، خیالات ملے، مقصد ایک ہوا، اور پھر 1994 میں دونوں نے شادی کرلی۔ اس شادی سے تین بچے پیدا ہوئے اور ایک بہت بڑا مشترکہ سفر شروع ہوا۔ یہ سفر صرف گھریلو زندگی کا نہیں تھا، بلکہ انسانیت کی خدمت کا بھی تھا۔ دونوں نے مل کر Bill & Melinda Gates Foundation۔۔قائم کی— جس نے دنیا بھر میں صحت، تعلیم اور غربت کے خلاف جنگ میں مرکزی کردار ادا کیا۔

لیکن زندگی ہمیشہ ظاہری تصویر جیسی نہیں ہوتی۔ وقت کے ساتھ اختلافات بڑھے۔ سوچ، ترجیحات، اور زندگی کے زاویے بدلنے لگے۔ بالآخر 3 مئی 2021 کو دونوں نے اعلان کیا کہ وہ شادی شدہ زندگی کو مزید جاری نہیں رکھ سکتے۔ یہ اعلان پوری دنیا کے لیے خبر ضرور تھا، مگر ان دونوں کے لیے ایک ذاتی اور مشکل فیصلہ۔

طلاق کے بعد ایک بڑا سوال اٹھا .. اتنے بڑے مشترکہ اثاثوں کی تقسیم کیسے ہوگی؟ اندازے تھے، قیاس آرائیاں تھیں۔ بالآخر سامنے آیا کہ بل گیٹس نے میلِندا کو تقریباً 8 ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم اور بڑے مالی اثاثے منتقل کیے۔ یہ دنیا کی مہنگی ترین طلاقوں میں سے ایک قرار دی گئی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نے اس معاملے کو عدالتوں کی جنگ نہیں بننے دیا۔ نہ الزامات، نہ تماشہ ..بس ایک سنجیدہ فیصلہ اور باوقار انداز میں اس پر عمل۔

آج دونوں الگ ہیں، مگر ان کے نام سے جڑی فلاحی سرگرمیاں جاری ہیں۔ میلِندا اپنے فلاحی منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں، جبکہ بل گیٹس اب بھی ٹیکنالوجی، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں پر کام کر رہے ہیں۔
اس کہانی میں صرف ایک سبق نہیں، کئی پہلو ہیں .

شہرت اور دولت تعلقات نہیں بچا سکتیں اگر دل ایک نہ رہیں۔
بڑے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں، فیصلہ انہیں بھی کرنا پڑتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کبھی کبھی عزت سے الگ ہوجانا بھی ایک طرح کی دانشمندی ہوتی ہے۔
یہ کہانی اختتام نہیں .. بلکہ دو الگ راستوں پر جاری دو زندگیوں کی نئی شروعات ہے۔

اساتذہ کی اصلاح، تذلیل کے بغیر — یہی اصل قیادت ہےہر اسکول لیڈر کو یہ لمحہ آتا ہے: سبق کمزور رہا، غلطی ہوئی، یا معیار پور...
09/01/2026

اساتذہ کی اصلاح، تذلیل کے بغیر — یہی اصل قیادت ہے
ہر اسکول لیڈر کو یہ لمحہ آتا ہے: سبق کمزور رہا، غلطی ہوئی، یا معیار پورا نہ ہو سکا۔
یہیں قیادت کا امتحان ہوتا ہے۔
اصلاح ضروری ہے، مگر تذلیل نہیں۔
بہت سے اساتذہ کام کے بوجھ سے نہیں، بلکہ لہجے سے ٹوٹتے ہیں۔
✔️ مسئلے کو شخصیت سے الگ رکھیں
✔️ اصلاح تنہائی میں، تعریف سب کے سامنے
✔️ حکم دینے سے پہلے سنیں
✔️ کوشش کو تسلیم کریں، پھر کمی بتائیں
✔️ بات واضح رکھیں، جذباتی نہیں
✔️ معیار کے ساتھ سہارا بھی دیں
یاد رکھیں: آپ کے الفاظ آپ کی نیت سے زیادہ وزن رکھتے ہیں۔
باوقار اصلاح استاد کو مضبوط بناتی ہے،
اور شرمندگی اسے خاموش کر دیتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ آپ اصلاح کرتے ہیں یا نہیں،
اصل سوال یہ ہے: کیا استاد اس گفتگو کے بعد بہتر محسوس کرتا ہے…
یا کمزور؟


گھریلو خاتون کی بھی زندگی ہوتی ہے۔۔۔اکثر سمجھا جاتا ہے کہ گھر پر رہنے والی خواتین "فری" ہوتی ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کی ڈ...
08/01/2026

گھریلو خاتون کی بھی زندگی ہوتی ہے۔۔۔
اکثر سمجھا جاتا ہے کہ گھر پر رہنے والی خواتین "فری" ہوتی ہیں، جبکہ حقیقت میں ان کی ڈیوٹی 24/7 ہوتی ہے جس میں کوئی "آف ڈے" نہیں ہوتا۔
ایک گھریلو خاتون کے ذہنی دباؤ کے چند اہم پہلو:
* وقت کی پابندی کا فقدان: گھر کے کاموں کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہوتا۔ صبح ناشتے سے شروع ہونے والا کام رات گئے برتن دھونے اور اگلے دن کی تیاری پر ختم ہوتا ہے۔
* ذہنی تھکن (Mental Load): صرف جسمانی کام ہی نہیں، بلکہ یہ یاد رکھنا کہ راشن کب ختم ہو رہا ہے، بچوں کے کپڑے استری ہیں یا نہیں، اور گھر کے ہر فرد کی پسند ناپسند کا خیال رکھنا شدید ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔
* اپنی ذات کے لیے وقت کی کمی: دوسروں کی ضروریات پوری کرتے کرتے اکثر خواتین اپنی صحت، شوق اور آرام کو بالکل نظر انداز کر دیتی ہیں۔
* سماجی تنہائی: گھر کی چار دیواری میں بند رہ کر وہی مخصوص روٹین دہرانے سے اکثر اکتاہٹ اور تنہائی کا احساس ہونے لگتا ہے۔
> حقیقت یہ ہے کہ: ایک خوش حال گھر کے پیچھے اس عورت کا ہاتھ ہوتا ہے جو اپنی کئی خواہشات قربان کر دیتی ہے۔ گھر والوں کو چاہیے کہ ان کے کام کی قدر کریں اور انہیں بھی وہ "می ٹائم" (Me-time) دیں جس کی وہ حقدار ہیں۔

"تعلیم کو تربیت سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟"یہ سوال ہمارے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ کو بےنقاب کرتا ہے۔ مثالی یا ترقی یافتہ...
07/01/2026

"تعلیم کو تربیت سے الگ کیوں کیا گیا ہے؟"
یہ سوال ہمارے معاشرتی زوال کی ایک بڑی وجہ کو بےنقاب کرتا ہے۔ مثالی یا ترقی یافتہ معاشروں میں تعلیم اور تربیت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتیں — وہاں تعلیمی ادارے نہ صرف علم دیتے ہیں بلکہ بچوں کی کردار سازی (Character Building)، اخلاقی شعور، سماجی ذمہ داری، وقت کی پابندی، دیانت، اور صفائی جیسے اقدار بھی سکھاتے ہیں۔
تو ہمارے ہاں یہ فرق کیوں پیدا ہوا؟
یہ خلا چند بنیادی وجوہات کی بنیاد پر پیدا ہوا:
________________________________________
1. استعماری نظامِ تعلیم کا تسلسل
برصغیر میں جب انگریزوں نے تعلیمی نظام وضع کیا تو اس کا مقصد ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا تھا جو صرف نوکری کے قابل ہو — ایسا طبقہ جو حکم ماننے والا ہو، سوال نہ کرے، اور صرف دفتری کاموں کا ماہر ہو۔ اس نظام میں نہ تربیت کی جگہ تھی اور نہ شخصیت سازی کی۔ افسوس کہ ہم نے آزادی کے بعد بھی اسی نظام کو بغیر نظرثانی کے جاری رکھا۔
________________________________________
2. والدین کا کردار اور تربیت کا تسلسل ٹوٹ جانا
پہلے گھروں میں بچوں کی تربیت نانی، دادی، والدین اور بزرگوں کی صحبت میں ہوتی تھی۔ وقت کے ساتھ جب معاشی دباؤ بڑھا، والدین مصروف ہو گئے، خاندانی نظام بکھر گیا، اور سوشل میڈیا نے بچوں کا وقت نگل لیا — تو تربیت کا ماحول ناپید ہوتا گیا۔
بدقسمتی سے، اس خراب تعلیمی اور تربیتی نظام کی وجہ سے جن بچوں کی نہ تعلیم مکمل تھی اور نہ تربیت، آج وہی بچے والدین بن چکے ہیں۔ جب ایک نسل خود تربیت یافتہ نہ ہو تو وہ آگے نئی نسل کی تربیت کیسے کرے گی؟
یوں یہ خلا وقت کے ساتھ نسل در نسل بڑھتا جا رہا ہے۔
________________________________________
3. اساتذہ کی تربیت کا فقدان
اساتذہ کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، لیکن آج بہت سے اساتذہ خود تربیت یافتہ نہیں۔ ان کے پاس نہ وقت ہوتا ہے، نہ وسائل، اور نہ ہی بعض اوقات جذبہ کہ وہ بچوں کی شخصی اور اخلاقی تربیت کریں۔ جب استاد خود کردار سازی سے خالی ہو، تو وہ صرف رٹّا لگوا سکتا ہے، راہ نہیں دکھا سکتا۔
________________________________________
4. تعلیم کے مقاصد کی غلط ترجیحات
ہم نے تعلیم کو محض "اچھے نمبر" اور "اچھی نوکری" کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ تعلیم کی اصل روح — یعنی انسان سازی، سوچنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی، اور سچائی کا شعور — کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ جب مقصد صرف ڈگری ہو، تو تربیت غیرضروری معلوم ہونے لگتی ہے۔
________________________________________
ترقی یافتہ ممالک میں کیا ہوتا ہے؟
ان ممالک کے تعلیمی نصاب میں کردار سازی، سماجی رویّے، وقت کی پابندی، ٹیم ورک، اخلاقیات، اور کمیونٹی سروس جیسے عناصر لازمی شامل ہوتے ہیں۔
وہاں صرف IQ (ذہانت) نہیں بلکہ EQ (جذباتی ذہانت) پر بھی زور دیا جاتا ہے۔ بچے کو انسان بننے کی مشق دی جاتی ہے، محض روبوٹ نہیں بنایا جاتا۔
________________________________________
حل اور امید:
اگر ہم واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، تو محض ظاہری اصلاحات کافی نہیں۔ ہمیں نظامِ تعلیم کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا — ایسا نصاب تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف علم دے، بلکہ تربیت بھی کرے۔
• ہمیں تعلیم کے شعبے میں باصلاحیت، تربیت یافتہ، اور باکردار افراد کو لانا ہوگا۔
• استاد کو عزت اور تربیت دونوں دینی ہوں گی۔
• نصاب میں اخلاقیات، سماجی خدمت، اور عملی زندگی کی مہارتوں کو شامل کرنا ہوگا۔
اگر آج ہم اپنے تعلیمی نظام کی سمت درست کر لیں، تو آنے والی نسل — جو بیس سال بعد والدین اور اساتذہ بنے گی — نہ صرف تعلیم یافتہ ہو گی بلکہ تربیت یافتہ بھی ہوگی۔
تب جا کے ایک باکردار، باشعور، اور کامیاب معاشرہ تشکیل پائے گا۔

Address

Opposite Street No 4
Bahawalpur
63100

Telephone

+923027096136

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahzad Podcast 113 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Shahzad Podcast 113:

Share