20/08/2026
عمران خان کی اسپتال منتقلی پر حکومت کا نیا مؤقف، نظرثانی درخواست دوبارہ دائر
اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے ہیں، تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم کی پابندی کرے گی۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری اسپتال میں علاج ممکن نہ ہوا تو عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک علاج کا فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا عبوری حکم دیا تھا۔ عدالت نے ان کے علاج کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی تھی۔
دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی، جسے رجسٹرار آفس نے اعتراضات، بالخصوص نامکمل پیپر بکس، کے باعث واپس کردیا تھا۔ بعد ازاں اعتراضات دور کرکے نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کیے جانے کی تصدیق سامنے آگئی۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے مطابق نظرثانی درخواست دوبارہ دائر کردی گئی ہے اور اس پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔
ادھر پی ٹی آئی نے حکومت پر عدالتی حکم پر فوری عملدرآمد کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ عدالت کی مقررہ مدت میں عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کیا گیا تو حکومت کے خلاف توہینِ عدالت سمیت قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان کی اسپتال منتقلی کے انتظامات بھی مکمل کیے جاچکے ہیں اور انہیں آج اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی منتقلی اور اس کے وقت سے متعلق سرکاری سطح پر واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
یوں معاملہ اس وقت ایک اہم قانونی اور انتظامی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے؛ ایک طرف حکومت عدالتی حکم پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اسی حکم پر نظرثانی بھی چاہتی ہے۔ اب نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ کارروائی اور عمران خان کی اسپتال منتقلی کے عملی فیصلے پر مرکوز ہیں۔