23/05/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کبھی انسان جنت کے بہت قریب پہنچ جاتا ہے، مگر ایک غلط بات کہنے کی وجہ سے اتنا دور ہو جاتا ہے کہ جنت اس سے بہت ہی دور رہ جاتی ہے۔”
حوالہ: مسند احمد، حدیث نمبر: 23586
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے زبان کی حفاظت اور گفتگو کی اہمیت کو بیان فرمایا ہے، یعنی انسان کبھی نیک اعمال، عبادات اور اچھے اخلاق کے ذریعے جنت کے قریب ہو جاتا ہے، لیکن اگر وہ بے احتیاطی سے کوئی ایسی غلط، گناہ والی یا نقصان دہ بات کہہ دے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو تو وہ اس کے لیے آخرت میں نقصان اور جنت سے دوری کا سبب بن سکتی ہے، اسلام انسان کو سوچ سمجھ کر بات کرنے، زبان کو گناہوں سے بچانے اور اچھی گفتگو اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے اور ہر بات سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص جھوٹ، غیبت، بدزبانی یا کسی کو تکلیف دینے والی بات سے بچے اور ہمیشہ سچائی، نرمی اور خیر کی بات کرے تو یہ اس کے ایمان اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ زبان کا صحیح استعمال انسان کو جنت کے قریب اور غلط استعمال اسے نقصان اور محرومی کی طرف لے جا سکتا ہے۔