Jinnah Science School & college. D I Khan

Jinnah Science School & college. D I Khan 1. Quality Education
2. Creativity
3. Self Confidence Development
4. Ethics Development

20/08/2024

بچے کھانا کیوں نہیں کھاتے؟
افشاں نوید
چھوٹے بچے آپ کے سامنے باتیں کر رہے ہوں ان کو غور سے سنا کیجئے۔
ان کی معصوم باتوں میں زندگی کی حرارت محسوس کرکے آپ مستقبل کی تصویر کشی کر سکتے ہیں۔۔

میرے کمرے میں چار اور چھ برس کی نواسیاں اور تین برس کی پوتی کھیل رہی تھیں ۔۔
بڑی نے چھوٹی سے کہا :"تم سو جاؤ پھر میں تمہیں جگاؤں گی۔"وہ سونے کی ایکٹنگ کرنے لگی۔۔
ذرا دیر میں اس نے چھوٹی بہن کو جگاتے ہوئے کہا:" اٹھو اسکول جانے کا وقت ہو رہا ہے۔۔ بس فورا اٹھ جاؤ اور جلدی بتاؤ ناشتے میں کیا کھانا ہے؟
سینڈوچ بنا دوں؟
کباب پراٹھا کھاؤگی؟
جیم بریڈ لینا ہے یا آملیٹ بنا دوں؟
لنچ میں نگٹ لے کر جانا ہے, نوڈلز لے کر جاؤ گی؟
برگر بنا دوں؟
وہ اپنی معصوم سی ماما سے بولی:"ماما میں نے کچھ نہیں کھانا"۔
تو جواب آیا:" تم روزانہ مجھے اتنا تنگ کرتی ہو۔ نہ ناشتہ کرتی ہو نہ یہ بتاتی ہو کہ لنچ میں کیا لے کر جانا ہے؟ جلدی بتاؤ دو کیا کھاؤ گی۔تمہیں ناشتہ کر کے جانا ہے آج"۔

یہ کھیل ایک حقیقت کی عکاسی کر رہا تھا۔
اس وقت کی ماں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچے کھاتے نہیں ہیں۔۔
گھر ہو یا تقریبات۔۔ مائیں بچوں کے پیچھے پیچھے پھرتی ہیں, بچے بے نیازی دکھاتے ہیں۔
بیشتر مائیں اب بچوں کو موبائل دیکھ کر کھلاتی ہیں ۔۔۔ بچے کی نظر کھانے کے بجائے اسکرین پر ہو گی تو اسے کھانے سے رغبت کیوں کر پیدا ہوگی۔۔۔۔
شاید یہ بھی ماؤں کی توجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے بچے کھانا کھاتے تھے اج کے بچے کیوں نہیں کھاتے؟
ایک نسل پہلے کی ساری اقدار و روایات کیسے بدل گئیں۔۔۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اج بچوں کے پاس چوائس اور ماؤں کے پاس وقت زیادہ ہے؟
دیکھیں بھوک ایک فطری جذبہ ہے۔۔۔۔۔
بچے کے جسم میں درد ہوگا تو وہ رو کر آپ کو بتائے گا بالکل اسی طرح بھوک بھی ستاتی ہے۔۔۔
بچہ بھوکا ہوگا تو وہ خود مانگ کر کھائے گا۔۔
بھوک ایک ناقابل برداشت کیفیت کا نام ہے۔۔۔۔
جب جانور سارا دن رزق تلاش کرتے ہیں تو انسان کا بچہ جس کو اتنی وافر نعمتیں میسر ہے وہ کھانا کیوں نہیں کھائے گا؟
چھوٹے بچے کے لیے کھانے سے زیادہ اہم ماں کی توجہ ہوتی ہے۔
جب وہ دیکھتا ہے کہ نا کھا کرضد کرکے وہ ماں کی بھرپور توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ تو وہ بار بار توجہ کی طلب میں یہ ٹیکنیک آزماتا ہے۔۔۔
آپ بچے کی خوشامد نہ کریں۔۔۔
کھانا رکھ کے چھوڑ دیں ۔۔
آپ دیکھیں بچہ کھانا کیسے نہیں کھائے گا،
اصل میں وہ اپ کو تنگ کر کے منوانے کا عادی ہو گیا ہے۔۔
مائیں ہاتھ باندھے پیچھے پھر رہی ہیں,خوشامدیں کر رہی ہیں, لالچ دے رہی ہیں کہ یہ کھا لو گے تو موبائل دوں گی۔۔۔ بچے کو روٹھنا اور منانا بہت اچھا لگتا ہے۔۔

پہلے دیگر خانگی امور میں بچوں کو دینے کے لیے اتنا وقت ہی نہیں ہوتا تھا۔۔نہ اتنے وسائل اور چوائس تھے۔
ہماری مائیں تو کھانا پکا کے رکھ دیتی تھی کیونکہ۔۔۔
ان کو کپڑے سلائی کرنا ہوتے تھے۔۔۔
گھر بھر کے میلے کپڑے بن واشنگ مشین ہاتھ سے دھونا ہوتے تھے۔۔
سل پہ مصالحہ پیسنا ہوتا تھا۔۔
سردی میں سویٹر بننا ہوتا تھا۔۔
تب آٹھ اور دس افراد کے خاندان کے لیے روٹی گھر میں پکتی تھی۔۔۔
دوسرے یہ کہ گھر میں جنک فوڈز بھی دستیاب نہیں ہوتے تھے۔۔
بھوک لگنے پر اگر۔۔۔ بچے نے چپس کا پیکٹ اٹھا لیا ہے, چاکلیٹ کھا لی ہے تو بچے کی بھوک کی شدت ایک ٹافی,
ایک چاکلیٹ بسکٹ, لولی پاپ سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔۔۔

بھوک کے وقت ہمارے معدے میں ایک تیزاب بنتا ہے وہ ایک چنا کھا کے بھی ختم ہو جاتا ہے اور دو روٹیاں اور ایک پیزا کھا کے بھی۔۔۔
جب بچے کو بھوک کی حالت میں دسیوں چیزیں دستیاب ہیں تو کھانے کی طرف کیوں آئے گا۔۔۔اب تو اسکرین بھوک سے ہی نہیں ہر حاضروموجود سے بے گانہ کردیتا ہے۔۔ ۔۔۔ دسترخوان پر اس کے لیے کوئی کشش نہیں ہے ۔۔
بچے کو کھانے کے اوقات سے پہلے بھوکا رکھیے۔رونے پر بھی کچھ نہ دیں بچہ لازمی کھانے کی طرف ائے گا۔۔
کھانے کی تو خوشبو میں خود اتنی تاثیر ہوتی ہے جو کھانے کی طلب بڑھا دیتی ہے۔۔۔ ۔۔
کیوں قدم فوڈ اسٹریٹس پر رک جاتے ہیں۔
کوئلوں کی مہک اور اشتہا انگیز خوشبوئیں قدم روک لیتی ہیں۔ گھر میں کھانا پکا رکھا ہو لیکن صاحب خانہ پھر بھی بازار سے کباب, رول, تکے,بروسٹ لے اتے ہیں ۔۔
خوشبو مجبور کرتی ہے۔۔
آپ کے بچے کو کھانے کی خوشبو کیوں مجبور نہیں کرتی اس لیے کہ اس کے پاس بھوک کی شدت نہیں ہے۔۔۔
ماں کا کام بچے کی خوشامد کرنا, اس کو ہر وقت راضی رکھنا,اس کی بھوک کی فکر میں گھلتے رہنا, بہت سارے چوائس دینا نہیں ہے۔۔
اپنی بھوک کی فکر ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے۔۔ بھوک لگنے پر ایک نومولود بھی چیخ چیخ کر گھر سر پر اٹھا لیتا ہے۔۔۔
آپ جو کچھ پکاتی ہیں وہ بہترین اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہے۔بچوں کو پیزا اور میکڈونلڈ کے چوائس تو دیے گئے ہیں۔۔اس لیے گھر کے کھانے میں وہ کشش محسوس نہیں کرتے۔۔
بچے کو کھانا کھلانا درد ناک عالمی ایشو ہے۔۔۔
خود کو پریشانی سے نکالیے۔۔
بچے پالنا ایک فطری امر ہے۔۔
اللہ رب کریم نے جانوروں کو بھی بچے پالنا سکھایا ہے۔۔
آپ سے پہلے اربوں کھربوں مائیں بچے پال چکی ہیں۔۔۔
اللہ نے آپ کو بچہ دے کر کسی مصیبت کا شکار نہیں کیا ہے ۔۔
اپ کا بچہ بالکل عام بچوں جیسی حسیات لے کے پیدا ہوا ہے۔ اپنے بچے کو خاص بنانے کے چکر میں اس کو اتنا پیمپر نہ کریں کہ وہ آپ کے لیے درد سر بن جائے۔۔
بچوں کی تربیت میں کھانے کے علاوہ بھی بے شمار لوازم ہیں لیکن کھانا کھلانا ہی ساری توجہ حاصل کر لیتا ہے۔

اولاد امتحانی پرچہ ۔۔۔اور بھی بہت سے سوال درج تھے اس پرچے پر۔۔۔۔

افشاں نوید
١٠ صفر المظفر١٤٤٦ ھ
16 اگست 2024

19/08/2024

اپنے بچوں کے دلوں میں مسجد اقصیٰ کی محبت پیدا کریں۔
انہیں بتائیں مسجد اقصی ہمارے لئے کیوں اہم اور افضل ہے۔
انہیں بتائیں مسجد اقصیٰ کی انبیاء سے کیا نسبت ہے۔
انہیں بتائیں مسجد اقصی کی ہمارے نبی نے کیا فضیلت بیان کی۔
انہیں بتائیں مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے صلاح الدین جیسی عظیم ہستی نے کتنی جنگیں لڑیں۔
انہیں بتائیں آج بھی فلسطین کے مسلمان کس طرح مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کر رہے ہیں۔
انہیں بتائیں مسجد اقصی کے لئے یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
حق غالب آئے گا اور آکر رہے گا۔
اپنے بچوں کو آنے والے دجالی فتنوں سے آگاہ کریں۔
انہیں بے خبر نہ رہنے دیں۔
نہیں تو اپنی آل و اولاد کے بھٹکنے کے ذمہ دار آپ خود ہونگے۔

اپنے بچوں کو ابھی اسلام سے جوڑیں، بچے ہیں تو کیا ہوا۔
بچپن کی سیکھی گئی باتیں، بچپن کی عادتیں، بچپن کی تعلیمات کا ساری عمر اثر رہتا ہے۔
اپنے بچوں کے بچپن کو ضائع مت کریں۔
دین کے اصولوں کے مطابق انکی تربیت کریں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔

18/08/2024

با اصول تربیہ۔۔
✍️📖✅

بچے اللہ رب العزت کی امانت ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ بچے تو بچے ہیں لہذا یہ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئیے کہ ان کو ایک سازگار، خوشگوار اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
جب والدین سے کہا جاتا ہے کہ بچپن سے ہی پیار اور عزت سے اپنے بچوں سے تعلق مضبوط بنائیں تو ڈانٹنے، مارنے یا ذلیل کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ تو اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا اب ان کو بالکل ہی کچھ نہ کہیں، یا یہ کہ بچے تو بالکل ہی بات نہیں سنتے اگر نہ ڈانٹا جائے۔
تو بات یہ ہے کہ ضرور کہیں، بار بار سمجھائیں، اور کر کے دکھائیں، اصول پہ ڈٹے رہیں مگر ان کو ڈانٹے بنا، ان کی عزتِ نفس مجروح کئیے بنا۔

بچوں کے لئیے روز مرہ کے اصول و ضوابط ضرور مرتب کریں اور ان پر عمل بھی کرائیں جہاں سخت رویہ ناگزیر ہو ضرور اپنائیں مگر ڈانٹے اور ذلیل کئیے بنا۔ بچوں کی عزتِ نفس کا خیال کیا جانا بھی انتہائی اہم ہے۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر بچپن سے ہی بچوں کو بات بات پر ڈانٹا، مارا یا ذلیل کیا جائے تو پھر وہ اُسی رویے کے عادی ہوجاتے ہیں۔

👈🏻توجہ طلب:

💎 جو آپ چاہ رہے ہیں ویسا “سازگار ماحول” فراہم کریں۔ مثلا” آپ چاہتے ہیں کہ بچہ مطالعہ کرے تو بار بار کہنے اور بچے کے مطالعہ نہ کرنے پہ چیخنے چلانے کی بجائے مطالعہ کے لئیے “سازگار ماحول” بنائیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ آپ اس سازگار ماحول کا حصہ بھی بنیں۔ ایک کتاب بچے کو دیں اور ایک اپنے ہاتھ میں لیں۔ ڈانٹنے کی نوبت نہیں آئے گی۔

💎بچوں سے ضد نہ لگائیں۔
اکثر اوقعات ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ بچے ضدی ہو رہے ہیں اور بات بات پہ ضد کرنے لگتے ہیں۔ یہاں توجہ کی ضرورت ہے۔ غور کریں کہ بچہ ضد کر رہا ہے یا ہم۔ اگر نقصان دہ کام نہیں ہے تو اسے کر لینے دیں کیونکہ یہ اس کے سیکھنے کی عمر ہے۔ لیکن اگر نقصان ہونے یا چوٹ لگنے کا اندیشہ ہو تو سمجھائیں اور بچے کی عمر کے مطابق نتائج سے آگاہ بھی کریں۔

💎 بچوں سے توقعات کم سے کم رکھیں۔ بار بار سمجھائیں اور بتائیں مگر یہ توقع کرنا کہ ان کا ہر طرزِعمل بڑے اور سمجھدار انسان کی طرح ہوگا تو یہ ممکن نہیں۔ ان سے غلطی بھی سرذد ہو گی اور وہ شرارت بھی کریں گے لہذا کوشش کریں کہ آپ ان کے آس پاس بھی رہیں اور درگزر کرنا سیکھیں۔

💎متبادل فراہم کرنا۔
مثلا” بچے سمارٹ فون بار بار استعمال کرتے ہیں اور دیر تک کھیلنے کے باوجود واپس کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
ڈاکٹرز کے مطابق دس منٹ سے ذیادہ سمارٹ فون کا استعمال بچوں کی نظر کے ساتھ ساتھ دماغ پر بھی بہت برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ لہذا، عمر کے لحاظ سے بچوں کو فون کے متبادل فزیکل ایکٹیویٹی، لکھائی، ڈرائینگ، مطالعہ، کھیل یا کھلونے فراہم کریں۔ بہتر ہے کہ ان کو فون کا عادی نہ بنایا جائے اور اس میں سے تمام گیمز ڈیلیٹ کر دی جائیں۔

💪🏻سختی کرنی پڑے تو بھی اصول پہ قائم رہیں۔ کسی نامناسب بات پہ “انکار” کر دیا تو قائم رہیں مگر ذیادہ ڈانٹ ڈپٹ سے گریز کریں۔ مثلا” فون نہیں دینا تو بس “نہیں” کہ دیں اور وجہ ضرور بتائیں کہ آنکھیں خراب ہو سکتی ہیں، وغیرہ مگر انہیں ذلیل نہ کریں۔

📚پڑھائی، ہوم ورک یا کوئی نیا ہنر سکھانا ہو تو تحمل سے کام لیں ورنہ بچہ اس کام سے متنفر ہو جائے گا۔ اگر اسی دوران آپ ڈانٹیں یا ماریں گے تو جان لیجئیے کہ اس کے حواصِ خمصہ چالیس منٹ کے لئیے کام کرنا چھوڑ دیں گے اور اسکا دماغ خوف اور اپنے بچاؤ کی کیفیت میں چلا جائے گا۔ لہذا پڑھاتے یا سکھاتے نرم رویہ اختیار کرنا نہایت اہم ہے۔

💡بچوں کو کبھی بھی روتے ہوئے، اداسی یا ناراضگی کی حالت میں نہ سونے دیں۔ جو بھی معاملات ہوں، سونے سے پہلے انہیں پر سکون کریں۔ وضو کرائیں، دعائیں پڑہیں، سبق آموز کہانی سنائیں اور مل کر اگلے دن کی پلاننگ کریں۔

🌟حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، کتنا ہی بڑا مسئلہ ہو، کبھی بھی اپنے بچوں سے گفتگو یا بات چیت ختم نہ کریں۔ وہ بچے ہیں، انہیں سمجھائیں، بار بار سمجھائیں اور متوقع نقصانات سے آگاہی ضرور دیں۔

❓بچوں کو ہر طرح کے سوال کرنے دیں۔ انہوں نے اسی طرح سیکھنا ہے۔ اگر والدین جواب نہیں دیں گے تو وہ کسی دوست یا انٹرنیٹ سے جواب حاصل کر لیں گے۔ لہذا، ہر طرح کے سوال کے لئیے ذہنی طور پہ تیار رہیں۔ بہترین ہے کہ ہر سوال کا دین کی روشنی میں جواب دیا جائے۔

صُحبت رنگ لاتی ہے۔ اپنے بچوں کے دوستوں کی مکمل معلومات ضرور حاصل کریں۔ خاص طور پر ان کے روز مرہ کے معاملات کا ادراک رکھیں۔ بہتر ہے کہ بچپن سے ہی انہیں آگاہی دیں کہ اللہ کو پسند ہے کہ نیک دوست بنائے جائیں۔

🥇ذیادہ نمبروں یا کلاس میں اول آنے کے لئیے بے جا دباؤ نہ ڈالیں۔ ترغییب ضرور دیں اور پڑھائی میں ان کی مدد بھی ضرور کریں مگر اس معاملے میں بے جا سختی سے بچے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

🕌جو بھی عمل یا رویہ سکھانا ہے وہ خود کر کے دکھائیں۔ “نماز پڑھ لو” کہنے سے وہ اس کی عادت نہیں اپنائیں گے۔ ان کے ساتھ نماز ادا کرنا معمول بنا لیں تو وہ بھی ادا کرنے لگیں گے۔

👈🏻” بچے ہماری سُنتے کہاں ہیں وہ تو ہمیں دیکھتے ہیں” لہذا جیسا آپ بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں ویسا بننا پڑے گا۔

⛔️والدین بننے سے پہلے اپنے بچپن کی محرومی، صدمے یا ٹراما سے نکلنے کی کوشش کریں۔ یہ ضروری ہے، ورنہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کا منفی اثر بچوں پہ پڑ سکتا ہے۔ “heal yourself before having children”

🕋🤲🏻 بحیثیت مسلمان ہمارے پاس سب سے بڑا سہارا اللہ کریم سے دعا کرنا ہے۔
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

#منقول

17/08/2024

بچوں کو پڑھانا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت کرنا نہایت اہم اور نیک کام ہے، شریعتِ مطہرہ نے جہاں ہر نیک کام کی ترغیب دی وہاں اس کے لیے کچھ شرائط، حدود وقیود بھی مقر ر کیے ہیں ، اگر نیک کام میں شرعی اصول وضوابط کی رعایت نہ کی جائے تو وہ نیک کام بھی ثواب کے بجائے وبال کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

بچوں کی تعلیم وتربیت میں نرمی وسختی دونوں پہلوؤں میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے، غصہ میں بے قابو ہوکر حد سے زیادہ مارنا اور یا مارنے کو بالکل غلط سمجھنا دونوں باتیں غلط ہیں، جس طرح نرمی اور محبت سے بچوں کی تعلیم وتربیت کرنا بہتر ہے اسی طرح ناگزیر وجوہات کی بنا پر تنبیہ کی غرض سے بچوں کو سزا دینا بھی جائز ہے، نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ" جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر مارو"،اسی طرح حدیثِ مبارک میں آتا ہے کہ گھر میں ایسی جگہ کوڑا لٹکا کر رکھو جہاں سے وہ گھر والوں کو نظر آئے؛ کیوں کہ یہ ان کی تادیب کا ذریعہ ہے

لیکن اس کے لئے کچھ شرائط ملحوظ رکھنی چاہئے

سزا سے مقصود تنبیہ و تربیت ہو، غصہ یا انتقام کے جذبہ کی تسکین نہ ہو۔

ایسی سزا شرعاً ممنوع نہ ہو۔

غصہ کی حالت میں نہ مارا جائے، بلکہ جب غصہ اتر جائے تو مصنوعی غصہ کرتے ہوئے سزا دے۔

بچوں کی طبیعت اس کی متحمل ہو، یعنی بچوں کو ان کی برداشت سے زیادہ نہ مارے۔

ہاتھ سے مارے، لاٹھی ، ڈنڈا، کوڑے وغیرہ سے نہ مارے، اگر بالغ ہو تو بقدرِ ضرورت لکڑی سے بھی مار سکتا ہے بشرطیکہ برداشت سے زیادہ نہ ہو۔

ایک وقت میں تین سے زیادہ ضربات نہ مارے، اور نہ ہی ایک جگہ پر تینوں ضربات مارے، بلکہ تین ضربات متفرق جگہوں پر مارے۔

سر اور چہرے پر نہ مارے۔

بچہ تادیب کے قابل ہو، اتنا چھوٹا بچہ جو تادیب کے قابل نہ ہو اس کو مارناجائز نہیں ہے۔

ایسی سزا جس سے ہڈی ٹوٹ جائے یا جلد پھٹ جائے یا جسم پر سیاہ داغ پڑجائے، یا دل پر یا جسم کے کسی نازک حصے پر اس کا اثر ہو ، شرعاً جائز نہیں ہے۔

16/08/2024

تعلیم اور شدت پسندی کا آپس میں بڑا تعلق ہے۔

ہر وہ تعلیم جو انسانی بھلائی کے بجائے دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکلنا سکھائے وہ شدت پسندی پر مائل کرتی ہے اور خود غرض بناتی ہے۔
ہم نے تو سکول، کالج اور یونیورسٹی میں یہی سیکھا
کہ دوڑو ورنہ پیچھے رہ جاءو گے۔ بس پھر اج تک دوڑ رہے ہیں۔ آج رک کر سوچا تو خیال آیا کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہمارے طالب علم POSITION, MERIT , COMPETITION, گریڈ، CGPA کے چکروں میں نفسیاتی مریض بن رہے ہیں۔ یہ مقابلہ اور ریس نظام تعلیم اور معاشرے میں خود غرضی اور ڈپریشن کو بڑھا رہے ہیں۔ ہمارے نوجوان تعاون جیسے الفاظ سے ناآشنا ہیں۔
یہ بھی شدت پسندی ہے کہ نہیں؟
نظام تعلیم کو تعاون کی بنیاد پر قائم کرنا ہوگا، ورنہ یہ انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ہیجان پیدا کر رہا ہے۔

عظمت عاصم صاحب

15/08/2024

ابھی کچھ دیر پہلے ہم کھانا کھانے کیلئے باہر نکلے تو آئس کریم کھاتے ہوئے ایک ماں اور بچے پر نظر رک گئی۔

بچہ کہتا کہ ماما میری والی زیادہ اچھی ہے۔

تو ماما کو نہیں چکھاؤ گے!

بالکل بھی نہیں! آج آزادی کا دن ہے تو یہ تو آزادی سے کھانے دیں۔ آپ اپنی کھائیں!

ماں مسکراتے ہوئے کہنے لگی کہ اچھا جی! ایک تو باہر لا کر آئس کریم کھلائی ، اوپر سے باتیں سنو اس کی!

بچہ بھی ہنسنے لگا۔ پھر گلی میں ایک دم سے شور مچا۔

بچہ کہنے لگا کہ ماما ہم ان بچوں کی طرح باجے کیوں نہیں بجا رہے؟

تو والدہ نے جواب دیا کہ ہم خوشی منانے کیلئے تیار ہو کر آئس کریم کھانے آ گئے ہیں نا! ہمیں یوں شور شرابا کر کے دوسروں کو تنگ کرنے کی ضرورت نہیں۔

لیکن ماما سب تو بجا رہے ہیں۔

آپ نے دادی اماں کی بات سنی تھی نا! بیچاری کتنا تنگ ہو رہی تھیں اس شور سے۔

اچھا ماما! ایک اور آئس کریم کھائیں؟

بالکل بھی نہیں۔۔۔ ! بس تمہارے پاپا آنے لگے ہیں، پھر گھر چلیں۔ میں بھی اس شور سے تنگ ہو رہی ہوں۔

10/05/2024

توقعات اور موازنے کا ایک رخ تو ہمارا جانا پہچانا ہے۔ اس کا دوسرا رخ بھی سوچیے کہ وہ 'اچھے'بچے جن کے ساتھ باقی بچوں کا موازنہ کیا جاتا ہے، خود وہ کن مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ بار بار کسی کو یہ احساس دلانا کہ تم ہمیشہ بات مانتے ہو، سب سے لائق ہو، سب سے محنتی ہو، مانو تو بس پرفیکٹ ہو، اور یہ سب اس کا فلاں فلاں سے مقابلہ کر کے کہا جاتا ہو، اس بچے کے دل و دماغ پر کس درجے کا پریشر آن پڑتا ہے۔

۔ کیا یہ مستقل موازنہ ان کے اپنے ہی گھر میں ان کے لئے حاسدین تو پیدا نہیں کر دیتا؟
۔ آیا پوری دنیا انہیں اتنا ہی اچھا، ذہین، خوبصورت اور پرفیکٹ دیکھتی ہے، جتنا ان کے والدین؟
۔ چونکہ انہیں اسی طرف سے توجہ ملی ہوتی ہے تو کیا وہ اپنی جان تو نہیں مار دیتے خوب سے خوب تر ہونے کی کوشش میں؟
۔ کیا پریکٹیکل لائف میں پیپل پلیزنگ کی جان توڑ کوشش خود انہیں ہی تو نہیں توڑ دیتی؟
۔ کیا "لیس دین پرفیکٹ" ہونا اور اپنی امپرفیکشن قبول کرنا ان کے لئے قابلِ قبول ہے؟
۔ کیا غیر حقیقی توقعات تو جنم نہیں لیتیں اور ان کے پورا نہ ہونے پر مایوسی؟
۔ کیا فرمانبرداری کی بے جا تعریف بچے کو اتنا فرمانبردار تو نہیں بنا دیتی کہ وہ اپنے حق میں آواز اٹھانا ہی نہ سیکھ پائے؟

موازنہ کرنا ایک فطری چیز ہے، لیکن شعوری کوشش رہنی چاہیے کہ اپنے آپ کو، اور اپنے سے جڑے لوگوں کو مقابلے کی فضا میں نہ ڈالیں۔ ہم سب کا سفر الگ ہے اور رفتار مختلف۔ ہم کیوں کسی کی انفرادی خوبیوں کو پسِ پشت ڈال کر اس سے وہ طلب کریں جس کے لئے وہ بنا نہیں۔ کیوں نہ ہم لوگوں کو 'کوئی اور' بنانے کے بجائے ویسا قبول کرنا سیکھیں جیسے وہ ہیں۔

ہم سب جدا ہیں۔ ہماری منزل ایک ہو تب بھی اس تک پہنچنے کے راستے الگ ہوتے ہیں۔ ہمارا سٹارٹنگ پوائنٹ، اور حالات جدا ہو سکتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور اس تنوع میں زندگی کا حسن پوشیدہ ہے۔ اسے اون کرنا ہے اپنے لئے بھی، اپنی اولاد کے لئے بھی۔ کسی کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں، ہمارا مقابلہ بس ہمی سے ہے۔

نیر تاباں

10/05/2024

ففٹیز اور سکسٹیز کی پیدائش والی نسل کے والدین سخت گیر تھے۔ یا ایسا نہ ہو تو بھی پابندیاں قدرے زیادہ تھیں۔ پھر یہ بھی تھا کہ مالی حالات درمیانے سے تھے۔

پھر یہ نسل والدین بنی۔

کچھ سخت گیر والدین اور اساتذہ سے جڑے اپنے تجربات تھے، کچھ تحقیقات بتانے لگیں کہ بچے کو نو کہنے سے اسکی سیلف اسٹیم کم ہوتی ہے۔ اپنے بچپن کی مالی کمی کا ازالہ کرنے کے لئے اپنی اولاد کو ہر چیز فراہم کرنے لگے۔ ایک نئی انتہا نے جنم لیا۔ جو مانگیں دے دو۔ جب جو فرمائش کریں، پورا کرنا اپنا فرض سمجھو۔ بچوں کو منع نہ کرو۔ جو کرتے ہیں، کرنے دو۔ جب مرضی سوئیں، جب جی چاہے اٹھیں۔ جو ہمسایہ، رشتہ دار پسند کا نہ ہو بیشک کمرے سے باہر نکل کر سلام دعا نہ لو۔ کوئی میلوں کا سفر کر کے آپکے گھر آئے لیکن سوتی ہوئی جوان اولاد کی نیند خراب سے جگا کر ملنے کا نہ کہو۔

اب یہ نسل جوان ہوئی ہے۔

رکھ رکھاؤ، ایمپتھی، بزرگوں کی عزت و تکریم سب بتدریج کم ہو رہا ہے۔

تین نسلوں کا ذکر ہے ان کچھ جملوں میں۔ آخری نسل جسکا ذکر ہے، آہستہ آہستہ اب شادی کے لائق ہو رہی ہے یا کچھ سالوں میں ہونے لگے گی۔ سوچنا یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش کس طور پر کریں گے۔

آج کے والدین ہیں ہم۔۔۔ بڑی بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے۔۔۔ بیشک اعتدال کا راستہ ہی بہترین راستہ ہے۔

ماخوذ از
13 Things Emotionally Strong Parents Don’t Do
By Amy Moris

نیر تاباں

پوری دنیا میں استعمال ہونے والی اسمارٹ-فون ٹیکنالوجی، کمپیوٹر ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید کاروں، جد...
24/04/2024

پوری دنیا میں استعمال ہونے والی اسمارٹ-فون ٹیکنالوجی، کمپیوٹر ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید کاروں، جدید طبی آلات اور دیگر ان گنت ٹیکنالوجی کی دنیا میں جتنے بھی بڑے بڑے نام بلکہ ٹیکنالوجی کے دیو ہیں وہ سب ایک چھوٹے سے ملک کے محتاج ہیں.
وہ اکلوتا ملک ساٹھ فیصد تک پوری دنیا میں استعمال ہونے والے ان گنت الیکٹرانک آلات کے لیے ایک ایسا دماغ بناتا ہے جس کے بغیر کوئی بھی جدید ٹیکنالوجی چلنے سے قاصر ہے.
جدید ٹیکنالوجی سے لیس دماغ کو نیم موصل یا سیمی کنڈکٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے. ان سیمی کنڈکٹر سرکٹس، چپ یا مائیکرو چپ کے علاوہ وہ ملک دیگر ایسے پرزہ جات فراہم کرتا ہے جن کے پائے کا پوری دنیا میں کوئی متبادل نہیں ہے.
مشہور زمانہ ایپل کا سمارٹ فون" آئی فون" بھی انہی کی ٹیکنالوجی سے اپنی انفرادیت اور برتری قائم رکھے ہوئے ہے.

ملٹن فریڈمین، جنہوں نے 1976 میں معاشیات کا نوبل انعام حاصل کیا تھا، ان سے ایک دن سوال کیا گیا کہ ان کی نظر میں ان کے وطن کے علاوہ دوسرا بہترین ملک کون سا ہے؟
فریڈمین کا جواب تھا: تائیوان.
یہ جواب سب کے لیے حیرانی لیے ہوئے تھا اور جب تائیوان کے بہترین ہونے کی وجہ دریافت کی گئی تو جواب تھا: کیونکہ یہ قدرتی وسائل سے محروم ملک ہونے کے باوجود حیرت انگیز قوم کا مسکن ہے.
تائیوان کی زمین پتھریلی ہے اور پہاڑ بنجر ہیں۔ سمندر میں گھرا ہونے کے باعث اس کا زیادہ وقت طوفانوں سے نمٹنے میں گزرتا ہے، ایشیائی ملک ہونے کے باوجود اسے ہر چیز درآمد کرنا پڑتی ہے، یہاں تک کہ تیل، ریت اور بجری بھی.
پھر بھی اس کے پاس دنیا کا چوتھا بہترین مالیاتی ذخیرہ ہے، کیونکہ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ معدنیات کی تلاش میں بنجر زمین کو کھودنے پر وسائل جھونکنے کی بجائے ہمیں اپنے بچوں کے ذہنوں میں کھدائی کرنے اور عقل و منطق والی تخلیقی کانیں دریافت کرنے کی ضرورت ہے، اور ان کا یہی انتخاب انہیں پوری دنیا میں ممتاز کرتا ہے۔
انہوں نے اس صدی کی سب سے بہترین دریافت کی ہے جسے انسانی توانائی کہا جاتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ صرف ایک ہی صدی میں کسی ملک کی ترقی کی پیمائش ممکن ہے اور اکیسویں صدی میں تائیوان نے یہ کر دکھایا ہے۔ مستقبل کی قوموں کی طاقت اور دولت کا تعین جس بات سے ہوگا وہ قدرتی وسائل یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا نہیں ہوگا، بلکہ ہر چیز کو پس پشت ڈال کر سب سے پہلے ایک کامیاب استاد کو "تخلیق" کرنا ہے جو بچوں کی تربیت اس نہج پر کرے کہ ان کے اندر سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو کھوج کر باہر نکالے، پھر نونہالوں میں ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں سنجیدگی پیدا کرے، جدید دنیا میں یہی سب سے سب بڑی ترقی ہے کہ آپ ایسے استاد تخلیق کر لیتے ہیں جو اپنی توانائی بچوں کو نصاب سکھانے پر خرچ کرتے ہیں، نہ کہ انہیں یہی بتانے میں مصروف رہتے ہیں ہیں کہ ہم سونے، ہیرے اور تیل جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہیں. سب سے بڑے وسائل "تعلیم، تعلیم کے نتائج اور ان کا معیار ہیں" ۔ کوئی بھی ملک جس کا انحصار اگر تیل، گیس اور ہیروں پر ہو، مگر وہ اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے افراد کی تعلیم و تربیت اور ان کی شخصی ترقی پر خرچ نہ کرے تو یہ سب بیکار ہے۔ توقیر بُھملہ














تربیت اولاد: ایک اہم ذمہ داریبچوں کی تربیت ایک نہایت اہم اور پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے والدین کو صبر، حکمت اور بصیرت کی ضر...
18/04/2024

تربیت اولاد: ایک اہم ذمہ داری

بچوں کی تربیت ایک نہایت اہم اور پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے والدین کو صبر، حکمت اور بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا ذمہ داری ہے جسے ہرگز نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس کا بچوں کی زندگی اور معاشرے پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

ایک خالی زمین کو اگر تھوڑی سی توجہ دی جائے تو وہ جلد ہی سر سبز و شاداب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح، چھوٹے بچوں کو اگر بروقت تعلیم و تربیت دی جائے اور ان کی دیکھ بھال کی جائے تو وہ ایک دن اچھے اور صالح شہری بن کر معاشرے کے لیے باعث فخر و عزت بن سکتے ہیں۔

لیکن اگر بچوں کو نظر انداز کر دیا جائے اور ان کی تربیت و تعلیم پر توجہ نہ دی جائے تو ان کی مثال اس باغ کی طرح ہے جسے کچھ دن توجہ نہ دی جائے تو وہ گھاس پھوس اور خود رو پودوں سے بھر جاتا ہے۔ ایسے بچے اکثر اخلاقی طور پر کمزور، شعور و آگہی سے محروم اور معاشرے کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں بڑی تعداد میں نوجوان ایسے ہیں جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود شعور و آگہی سے محروم ہیں۔ انہیں وہ اسلامی تعلیمات اور اخلاقیات نہیں دیے گئے جن کی انہیں ضرورت تھی۔ نتیجتاً، وہ اکثر غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں اور معاشرے کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔

اس صورتحال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت و تعلیم پر خصوصی توجہ دیں۔ انہیں صرف دنیاوی تعلیم ہی نہیں دینی چاہیے بلکہ ان میں اسلامی اخلاقیات اور شعور و آگہی بھی پیدا کرنی چاہیے۔ انہیں قرآن و حدیث کی تعلیم دینی چاہیے اور انہیں نبی کریم ﷺ کی سیرت و کردار سے روشناس کرانا چاہیے۔

والدین کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے بچے اچھے ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔ انہیں ایسے لوگوں سے دور رکھنا چاہیے جو ان پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

اولاد کی تربیت ایک مشکل کام ہے، لیکن یہ ایک ایسا کام ہے جس کی اجر بہت زیادہ ہے۔ جو والدین اپنی اولاد کی تربیت و تعلیم پر توجہ دیتے ہیں وہ نہ صرف اپنے بچوں کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں۔

✍️اخت محمد














کسی انفلوئینسر کی بات سن کر ہم ٹرک کی بتی کی طرح اسی کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔تعلیم اور ڈگری بہت اہم ہے پاکستان کی ابھی بھی ...
17/04/2024

کسی انفلوئینسر کی بات سن کر ہم ٹرک کی بتی کی طرح اسی کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔
تعلیم اور ڈگری بہت اہم ہے پاکستان کی ابھی بھی آبادی کا زیادہ حصہ میٹرک فیل ہے کیونکہ ہمارے بچے بھی پڑھنا نہیں چاہتے جو پڑھ رہے ہیں ان کو بھی نہ۔پڑھنے دیں اب یہ ویڈیوز چلا کر۔ سولہ،سترہ،اٹھارہ سال کے کچے ذہن ہوتے ہیں وہ جس کو آئیڈیلائز کرتے ہیں ان کی ماننے لگتے ہیں ۔

خود بھی ڈگری لی ہوئی ہے نا!!!!
ہمارے بچوں کو بھی تعلیم اور ڈگری سے متنفر نہ کریں۔

یاد رکھیں بغیر ڈگری کے آپکا بزنس بھی گرو نہیں کر سکتا

مزدور بغیر ڈگری کے sky scrappersنہیں بنا سکتے۔

پرچون کی دکان برینڈ نہیں بنے گی۔

بزنس میں بھی innovation تعلیم کی وجہ سے آتی ہے۔

اور

تعلیم انسان بناتی ہے اس کا رزق سے بالواسطہ اور بلا واسطہ کوئی تعلق نہیں۔
Instead of saying this we should promote educate,learn and earn

تعلیم کے ساتھ ہنر سیکھیں اور کمائیں، ذمہ دار بچہ ہو تو تعلیم نکھارے گی 18 سے 25 سال کی عمر میں بہت potentialہوتا ہے وہ تعلیم کے ساتھ بھی بزنس کر سکتے ہیں۔

کیا خیال ہے آپکا؟؟

طیبہ حمید
















♦️ *عِلم بُوجھ نہیں**اسکول ميں چھٹی ہوئی،* بچے اپنے "ہینڈکیری" طرز کے "ڈبل ویلر اسکول بیگ"  سڑک پہ لئے گھروں کو روانہ ہو...
16/04/2024

♦️ *عِلم بُوجھ نہیں*

*اسکول ميں چھٹی ہوئی،*
بچے اپنے "ہینڈکیری" طرز کے "ڈبل ویلر اسکول بیگ" سڑک پہ لئے گھروں کو روانہ ہوئے۔
ایسے میں میری نظر ایک خوبصورت سے لاغر اور معصوم سے بچے پہ پڑی۔
وہ کمزور اور نحیف بدن سات سالہ بچہ ہانپتے ہوئے اپنا *"علمی تھیلا"* بمشکل گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا تھا۔
اچانک بیگ کا ایک "ویل" خراب ہونے پر وہ بچہ پریشان ہوگیا۔
پھر کچھ ہی دیر میں وہ پاؤں کی مدد سے بستے کو دھکیلنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔
ایک سرد آہ میرے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔

بھلے وقتوں کے *"جاہل لوگ"* محض دو کتابوں کو سینے سے لگائے با ادب طریقے سے مکتب کی راہ لیتے تو،
یہ سلیقہ علم سے ان کی محبت کا خوبصورت اظہار ہوا کرتا تھا۔
پھر کپڑے کے تھیلے بنے تو "بستا" بچوں کے گلے میں کسی "پنڈولم" کی مانند جھُولنے لگا۔
وقت کا پہیہ گھُومتا رہا۔ رفتہ رفتہ علم کا "بَوجھ" کتابوں کی صورت میں بڑھنے لگا۔
اب "اسکول بیگز" کا سارا بوجھ بچوں کی پیٹھ پہ لاد دیا گیا۔

مطلب کتابیں سینے سے سفر کرتی ہوئی اب پُشت تک پہنچ گئیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ
موجودہ دور کے نازک اندام بچے، کتابوں کے اس بڑھتے ہوئے بوجھ کو اُٹھانے سے قاصر ہوتے گئے،
نتیجتاً" ہینڈ کیری کا سہارا لینا پڑا۔
اب کتابیں پاؤں میں ٹھوکریں کھاتی ہوئی انسان کے پیچھے کسی جانور یا گدھا گاڑی کی مانند چلی آتی ہیں۔

حقیقی علم کی برکت اس قوم سے شاید اسی لیے اُٹھتی چلی جا رہی ہے۔

*"ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں"*

ہمارے آباء کتاب کو سینے سے لگا کر دنیا بھر میں سُرخرو تھے۔
جب کہ!
ہم اپنی کتابوں سے روا رکھے سلوک کے طفیل اُنہی کی طرح زمانے کی ٹھوکریں کھا رہے ہيں۔“





Address

Draban Chungi, Near White Rose Marque
Dera Ismail Khan

Telephone

+923449394994

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jinnah Science School & college. D I Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Jinnah Science School & college. D I Khan:

Share