الجامعۃ السلفیۃ فیصل آباد

الجامعۃ السلفیۃ فیصل آباد مسلکی تعصب سے پاک قرآن و سنت کی تعلیم کا مستند ادارہ

مو سسین جامعہ
مولانا سید محمد داود غز نوی ، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ، قدوة المساکین میاں محمد باقر، ، امیرالمجاہدین صوفی محمد عبداللہ اور حکیم نور الدین مرحوم ومغفور شامل ہیں۔

فاضلِ جامعہ الشیخ عبداللہ مالدیپی کی جامعہ آمدبتاریخ 28-12-2024 بروزِ ہفتہعبدالقیوم فرُّخالحمدللہ! جامعہ سلفیہ فیصل آب...
31/12/2024

فاضلِ جامعہ الشیخ عبداللہ مالدیپی کی جامعہ آمد
بتاریخ 28-12-2024 بروزِ ہفتہ

عبدالقیوم فرُّخ

الحمدللہ! جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے فیض یافتگان دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جہاں بھی جائیں کوئی نہ کوئی ایسا نمائندہ / سپوتِ جامعہ لازمی دِکھائی پڑے گا جسے لمبی یا مختصر مدت کے لیے جامعہ سلفیہ سے واسطہ رہا ہو۔ یہ فضیلۃ الشیخ محترم جناب عبداللہ صاحب ہیں جن کا تعلق مالدیپ سے ہے۔ جامعہ سلفیہ فیصل آباد مادرِ علمی ہے۔ سنہ 1992 کو جامعہ میں داخل ہوئے تھے اور سنہ 1995 کو اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ اس وقت نیشنل یونیورسٹی مالے (مالدیپ) میں پروفیسر ہیں۔ یہاں پاکستان اپنے دوستوں سے ملاقات اور مادرِ علمی کی زیارت کے لیے تشریف لائے ہیں۔

ان کے ساتھ فضیلۃ الشیخ الاستاذ مولانا مقبول احمد حفظہ اللہ ہیں۔ شیخ مقبول احمد حفظہ اللہ بہترین استاذ، خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عمدہ تاجر بھی ہیں۔ کلیۃ دارالقرآن جناح کالونی میں بطور فاضل استاذ اپنی خدمات سرانجام دے چُکے ہیں۔ اس وقت مرکز داؤد الاسلامی کی میں رئیس اور استاذ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ فیصل آباد کے علاقہ جمیل پارک (کوکیانوالہ) میں آپ نے ایک شاندار مسجد اور مدرسہ قائم فرمایا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اہلِ علاقہ کو ایک فاضلِ مدینہ یونیورسٹی مہتمم میسر آ گئے ہیں۔

شیخ عبداللہ اور شیخ مقبول احمد (حفظھم اللہ) باہم پرانے دوست ہیں۔ مدینہ طیبہ ایک ساتھ پڑھتے رہے ہیں۔ گزشتہ کل جامعہ سلفیہ میں اساتذہ کرام سے ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ شیخ عبداللہ حفظہ اللہ جامعہ میں نئے و پرانے رنگ دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ موبائل نکال کر مختلف زاویوں سے عکس محفوظ کیے۔ کئی رشک آمیز کلمات ارشاد فرمائے اور یادوں کی کتاب کھول کر قصہ پارینہ سنایا۔

*18 دسمبر عالمی یومِ عربی / جامعہ سلفیہ فیصل آباد**بتاریخ 18-12-2024 بروزِ بدھ**تحریر: عبدالقیوم فرُّخ*18 دسمبر عالمی ی...
18/12/2024

*18 دسمبر عالمی یومِ عربی / جامعہ سلفیہ فیصل آباد*
*بتاریخ 18-12-2024 بروزِ بدھ*

*تحریر: عبدالقیوم فرُّخ*

18 دسمبر عالمی یومِ عربی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں عربی زبان سے شغف و محبت رکھنے والے احباب اس دن سے خوب واقف ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اس مناسبت سے کئی قسم کے عربی پروگرام منعقد کرائے جاتے ہیں۔ عربی زبان سے محبت فطری اور کسبی دونوں طرز کی ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ احباب جو عربی پڑھتے اور پڑھاتے ہیں، ان کے لیے عربی زبان بہت اہم ہے۔ اس زبان کی فصاحت و بلاغت اور شائستگی و عمدگی ہر بار کُھل کر سامنے آتی ہے۔ اس کے مطالعہ سے ہر کس اپنے مزاج کے موافق لطف لیتا ہے۔

عربی زبان وحی الٰہی، عبادت، علم و ادب، فصاحت و بلاغت، اتحادِ امت، اہلِ جنت اور اسلامی ثقافت و تاریخ کی زبان ہے۔ اس کے اہم ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اسے رب العزت نے اپنے کلام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔عربی زبان سیکھنا جہاں مدارسِ دینیہ کے طلباء کو فائدہ دیتا ہے، وہاں عوام الناس بھی سیکھ کر بہت زیادہ فوائد سمیٹ سکتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں کم و بیش پونے تین سو ملین ایسے لوگ موجود ہیں جو باقاعدہ عربی بول چال سے وابستہ ہیں۔ بے قاعدہ عربی بولنے والوں (درس و تدریس وغیرہ میں) کی تعداد الگ ہے۔

آج کے دن جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں عربی زبان کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک شاندار پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں عربی زبان کی عظمت، تاریخ، اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ اس سلسلے میں تین طلباء نے عربی زبان کی اہمیت و ضرورت اور فضیلت پر عربی زبان میں گفتگو کی۔ دو طلباء نے عربی زبان اور ارضِ پاکستان کے بارے ایک دلچسپ مکالمہ پیش کیا۔ تین طلباء نے ایک ساتھ مل کر نظم پڑھی۔شیخ الحدیث ڈاکٹر عتیق الرحمن، فضیلۃ الشیخ مولانا محمد ادریس السلفی، فضیلۃ الشیخ مولانا عابد مجید مدنی اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السراج (حفظھم اللہ اجمعین) نے زبانِ عربی کی افضلیت و اہمیت پر گفتگو کی۔ صدارتی خطاب مدیر التعلیم جامعہ سلفیہ فضیلۃ الشیخ پروفیسر چودھری محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ نے فرمایا۔

18/12/2024
10/12/2024

شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ فیصل آباد
مولانا عبد العزیز علوی
انتقال فرما گئے
انا للہ وانا الیہ راجعون

19/11/2024

جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں نئی تدریسی عمارت کا کام شروع ہو چکا ہے۔ دعا ہے رب کریم اسے جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین

اختلاف میں احتیاطتحریر: فضیلۃ الشیخ پروفیسر چودھر ی محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰمدیر التعلیم جامعہ سلفیہ فیصل آباددن...
05/11/2024

اختلاف میں احتیاط

تحریر: فضیلۃ الشیخ پروفیسر چودھر ی محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ تعالیٰ
مدیر التعلیم جامعہ سلفیہ فیصل آباد

دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی شخص معصوم نہیں ہے۔ ہر شخص سے غلطی کا امکان موجود ہے اور وہ متنازعہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جب کسی سے مسائل میں اختلاف ہو جائے تو بہترین صورت یہ ہے کہ آدابِ اختلاف کو مد نظر رکھا جائے۔ اختلاف کرتے ہوئے اخلاقی قدروں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ اختلاف تعمیری اور مثبت ہو، علمی اور اصولی ہو۔

چند باتیں جو اختلاف کرتے ہوئے سامنے رکھی جائیں تو اختلاف کا وقار مجروح نہیں ہو گا، مثلاً:
1۔ احترام: ایک عالِم اور دانِش مَند شخص اپنے مخالف کا احترام ہمیشہ برقرار رکھتا ہے، اختلاف کرتے ہوئے کبھی کسی کو برے القاب سے نہ پکاریں اور نہ ہی اس کی اہانت کریں۔

2۔ نرمی اور بردباری: اپنے مد مقابل سے نرمی کے ساتھ بات کریں، غصے سے پرہیز کریں اور آواز کو بلند نہ ہونے دیں۔ اس طرح آپ کی دلیل زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔

3۔ دلیل کی بنیاد پر گفتگو: اپنا موقف دلیل سے پیش کریں، سنی سنائی اور بے بنیاد باتوں سے اجتناب کریں، معتبر کتب و ذرائع کا حوالہ دیں۔

4۔ صبر و تحمل: کسی کی بات کو کاٹ کر بات نہ کریں، بلکہ مخالف کی بات مکمل ہونے پر نہایت تحمل سے اپنی بات کریں، کیونکہ دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے لہٰذا صبر و تحمل سے غور کریں۔

5۔ بدگمانی سے بچیں: اپنے مخالف کے بارے میں بدگمانی کی بجائے حُسنِ ظن سے کام لیں، ممکن وہ اپنی بات مکمل بیان نہ کر پایاہو، آپ کو متکلم کی جس بات سے اختلاف ہو اس کی وضاحت بھی متکلم سے کرائی جائے نہ کہ خود ہی وضاحت شروع کر دیں۔آپ کی تشریح قابلِ قبول نہیں، کیونکہ ہر شخص اپنی مرضی کا مطلب نکالے گا جس کی وجہ سے مزید غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔

6۔ حق کو تسلیم کرنا: ایک دوسرے کے موقف کو سننے کے بعد جو بات حق ہو اسے تسلیم کرنے میں تامّل نہ کریں، ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لیں، یہی ایک عالِم کی شان ہے۔

7۔ حکمت و دانائی: اختلاف کرتے ہوئے یہ ضرور دیکھیں کہ جہاں اختلاف کی گنجائش ہے اگر دو رائے ہو بھی جائیں تو کسی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں، اس پر خاموش رہنا حکمت ہے، ضروری نہیں کہ صرف آپ کا موقف ہی درست ہو۔

گزشتہ ماہ دنیا اسلام کے ممتاز داعی جناب ڈاکٹر ذاکر نائک حفظہ اللہ پاکستان تشریف لائے۔ انہوں نے مختلف مقامات پر عوامی اجتماعات سے خطاب کیے۔ جسے اکثریت نے پسند کیا، بلکہ مخالفین نے بھی ان کی تعریف کی، لیکن ان کی روانگی سے ایک دن پہلے بعض محترم علماء کرام نے ان پر تنقید کی اور ان کی بعض باتوں سے شدید اختلاف کیا۔ یہاں تک کہ بعض نے جوشِ خطابت میں انہیں "جاہل" بھی کہا جو کہ غیر مناسب بات ہے۔ اس لیے کہ علمی اعتبار سے ہم میں کوئی بھی ایسا نہیں جو تمام علوم کا احاطہ کر سکتا ہو۔ ایسا ہو سکتا ہے ایک آدمی شرعی علوم کا ماہر ہو لیکن علم الابدان میں جاہل ہو۔ ہو سکتا ہے ایک شخص علم الفرائض کا ماہر ہو مگر علم الحدیث میں کمزور ہو، اور یہ صورتحال ہم سب میں موجود ہے۔

قرآن حکیم میں ہے: وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ۔(یوسف: 76) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (وفوق كل ذي علم عليم) ، قال: يكون هذا أعلم من هذا , وهذا أعلم من هذا , والله فوق كل عالم۔ (تفسیر طبری: 16/192) امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : في قوله: (وفوق كل ذي علم عليم) ، قال: ليس عالمٌ إلا فوقه عالم، حتى ينتهي العلم إلى الله۔ (تفسیر طبری: 16/193)

ڈاکٹر ذاکر نائیک حفظہ اللہ MBBS ڈاکٹر ہیں۔ اس سبب سے اپنی گفتگو میں بعض دفعہ طِبّ کے حوالے سے بات کرتے ہیں، جو لوگ اس سے ناواقف ہیں بلا شبہ وہ علم الطب میں جاہل ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہمیں اس طرح کی گفتگو سے احتیاط کرنی چاہیے۔ ہم سب جانتے ہیں سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ ذکر کیا جو کسی اللہ کے بندے کی تلاش میں نکلے تاکہ ان سے علم حاصل کریں، فرمایا: فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا۔ (الکہف: 65)مقصد واضح ہے کہ کسی کے پاس بھی علم مکمل نہیں ہو سکتا، فرمایا: وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا۔ (الاسراء: 85)

اس لیے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ تمام علوم کا احاطہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا یہ دعویٰ ہے۔ البتہ تقابلِ ادیان میں اللہ تعالیٰ نے انہیں جو مہارت دی ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ ہمیں یہ تو تسلیم کرنا چاہیے۔ باقی جن باتوں سے اختلاف ہو بہت بہتر ہے کہ ان سے ہی اس کی وضاحت کرائی جاتی تو معاملہ ختم ہو جاتا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا!

ہماری تمام معزز علماء کرام سے درخواست ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کا ذکر کیے بغیر اپنا موقف پیش فرما دیں۔ قرآن و حدیث کے مطابق جو صحیح بات ہے اس سے عوام کو اگاہ فرمائیں۔ ضروری نہیں کہ بار بار ڈاکٹر ذاکر نائیک کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ آپ سب داعی ہیں، ہم دل سے آپ کی قدر کرتے ہیں اور آپ کے اخلاص پر بھی شک نہیں۔ لیکن اُسلوبِ دعوت میں حکمت سے کام لیں۔ امید ہے اس سے معاملہ بھی حل ہو جائے گا اور کسی کی دل ازاری بھی نہیں ہوگی۔

وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ اثریہ پشاور میں منعقدہ اجلاس کی رپورٹوفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے زی...
04/11/2024

وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ اثریہ پشاور میں منعقدہ اجلاس کی رپورٹ

وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس خیبر پختونخواہ (ڈویژن پشاور، مردان، مالاکنڈ) کے ملحق مدارس وجامعات کے لیے 29 ستمبر 2024ء بروز اتوار صبح 10 بجے جامعہ اثریہ چمکنی پشاور میں منعقد ہوا، جس میں تربیتی، اصلاحی اور فکری گفتگو کے علاوہ امتحانات سے متعلقہ ضابطہ اخلاق پر بھی گفتگو ہوئی اور تعلیمی و تربیتی ورکشاپ بعنوان : قواعد النحو والصرف کیسے پڑھائیں؟ کا انعقاد ہوا. جس میں 150 سے زائد ناظمین و ناظمات اور مدرسین و مدرسات شریک ہوئیں.

پروگرام کا آغاز قاری سراج الدين صاحب کی تلاوت قرآن حکیم سے ہوا
حمد باری تعالٰی اسد اللہ متعلم جامعہ اثریہ نے پیش کی

بعد ازاں مولانا محمد یونس عاجز حفظہ اللہ ناظم دفتر وفاق المدارس السلفیہ پاکستان نے اہم اجلاس اور تربیتی ورکشاپ کی اہمیت پر گفتگو کی اور مقصد سے آگاہی دی اسی طرح ادارہ وفاق کی جانب سے شرکاء معزز و قابل صد احترام علماء و مشائخ اور ناظمین و ناظمات! کو خوش آمدید کہا! اور شکریہ ادا کیا اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حاضری کو قبول فرمائے۔آمین
بہترین و عمدہ انتظامات کرنے پر مولانا عمر بن عبدالعزيز حفظہ اللہ، اور جامعہ اثریہ کے جملہ منتظمین کا بطور خاص شکریہ ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کی جملہ مساعی قبول فرمائے آمین
آپ نے فرمایا : آج کے اجلاس میں مشائخ کرام کی تربیتی گفتگو ہو گی اور ان کے بعد شیخ الحدیث مولانا ادریس اثری حفظہ اللہ مدیر التعلیم اسلامک ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ مہنتانوالہ قواعد النحو والصرف کیسے پڑھائیں؟ کے عنوان سے تعلیمی و تربیتی ورکشاپ پیش کریں گے۔

پروفیسر محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ
ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان

حمدو صلوۃ کے بعد:
میں شکریہ ادا کرتا ہوں علامہ عبد العزيز النورستانی حفظہ اللہ کا، جو اپنے دامن کو وسیع رکھتے ہیں اور وفاق کے پروگراموں کے لیے اپنے ادارہ کو بڑی فراخ دلی سے وقف کر دیتے ہیں، اسی طرح ان کے بیٹے مولانا عمر بن عبدالعزيز حفظہ اللہ بھی ہمارے معاون ہیں اور ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں.
میں آپ تمام حضرات کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور خوش آمدید کہتا ہوں کہ آج کا دن آپ نے ورکشاپ کے لیے وقف کر دیا ہے، مزید آپ کے اداروں کے منتظمین کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے نے آپ کو یہ موقع فراہم کیا ہے.
وفاق المدارس السلفیہ نے جہاں ایک اچھا نصاب مہیا کیا ہے (جس کے مطابق مدارس میں تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے) وہیں جدید طرق ہائے تدریس میں اساتذہ کو واقفیت دینا بھی وفاق کی ذمہ داری بنتی ہے، اسی سلسلہ کی یہ ہماری پانچویں ورکشاپ ہے، اس سے قبل فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور چیچہ وطنی میں مختلف موضوعات پر ورکشاپس ہو چکی ہیں، آج کی ورکشاپ قواعد النحو والصرف کی تدریس کے حوالے سے ہے جو ماہر تعلیم، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس اثری حفظہ اللہ پیش کریں گے إن شاء الله العزيز

میں اپنی چند گزارشات آپ اساتذہ کے سامنے اختصار کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں:
١. رضائے الٰہی : ہم جو کام کر رہے ہیں یہ رضائے الٰہی کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے ہو ہی نہیں سکتا اور نہ ہی کوئی شخص دنیاوی غرض و غایت اور خواہش کے لیے یہ کام کرتا ہے، اس میں خلوص نیت نہایت ضروری ہے، ہمیں حکم دیا گیا ہے: ﴿وَمَاۤ أُمِرُوۤا۟ إِلَّا لِیَعۡبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخۡلِصِینَ لَهُ ٱلدِّینَ﴾ [البينة ٥] اللہ تعالیٰ ہم سب کی دین اسلام کی کاوشوں کو قبول فرمائے آمین
٢. جدید طریقہ تدریس : انسان ہمیشہ بہتر کی تلاش میں رہتا ہے، آج وسائل زیادہ میسر ہیں، جدید طریقوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے، جدید طریقہ تدریس میں فائدہ ہوتا ہے، جدید طریقہ تدریس کیا ہوتا ہے؟ اس حوالے سے دو باتیں قابل غور ہیں : (1) ماہرین تعلیم کچھ اصول بناتے رہتے ہیں انہیں جاننے کی ضرورت ہے (2) طلبہ کی نفسیات کا مشاہدہ کر کے اس کے مطابق تدریس کریں، طلبہ فہم و ادراک کی صلاحیت میں مختلف اسٹیج رکھتے ہیں، انہیں سمجھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے.
٣. روحانیت : دینی تعلیم کا مزاج ایسا ہے کہ تدریس کرنے والے کا تعلق باللہ مضبوط ہوتا ہے اور روحانیت پیدا ہو جاتی ہے، جبکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ روحانی فیض حاصل کرنے کے لیے نئے نئے فضول طریقے اختیار کرتے ہیں جبکہ قرآن و حدیث پڑھنے پڑھانے سے خود بخود روحانی ماحول حاصل ہو جاتا ہے اور ذھن پاکیزہ ہو جاتا ہے.
٤. مشاورت : اساتذہ و منتظمین کو ہمیشہ مشاورت اور رہنمائی لینی چاہیے، اس سے غلطی کا امکان کم ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کا بھی فرمان ہے : ﴿وَشَاوِرۡهُمۡ فِی ٱلۡأَمۡرِۖ فَإِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ﴾ [آل عمران ١٥٩]
٥. شفقت و محبت: طلباء سے کوتاہی و نادانی کا ہونا لازمی امر ہے، مجھے جامعہ سلفیہ میں تدریس کرتے اور انتظامات سنبھالتے ہوئے 42 سال ہو چکے ہیں، میرے کئی ایک تجربات ہیں، طلباء کی اصلاح میں میرا بہترین تجربہ شفقت و محبت والا رویہ ہے، میں نے سزائیں بھی دیں لیکن فائدہ نہیں ہوا، میں ان بچوں کو علیحدہ لے کر بیٹھ گیا، میں نے کہا آپ جامعہ کے بہترین، ذہین و فطین اور بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں لیکن آپ اپنی کوتاہی و غفلت کے نتیجے میں یہاں تک پہنچے ہیں، اب ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کو موقع ملنا چاہیے، لہذا ہم آپ کی کوتاہی و غفلت سے صرف نظر کرتے ہیں آئندہ آپ خیال کریں، اس شفقت و محبت کا نتیجہ یہ ہوا کہ کلاس میں آخری صف پر بیٹھنے والا پہلی صف میں آ گیا، صرف پاس ہونے والا 90 فیصد نمبر حاصل کرنے لگ گیا، دیکھئے معاویہ بن حکم السلمی رضی اللہ عنہ نے نماز میں کسی کے چھینک کے جواب میں "يرحمك الله" کہہ دیا تو لوگ اسے اپنی نظروں سے اسے ڈانٹنے لگے بالآخر جب سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا تو وہ فرماتے ہیں : فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي ؛ مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ ؛ فَوَاللَّهِ : مَا كَهَرَنِي ، وَلَا ضَرَبَنِي ، وَلَا شَتَمَنِي ، قَالَ : ( إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ ، إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ ) ہمیں بھی ایسا اسلوب اختیار کرنا چاہیے، بعض طلباء کے گھریلو حالات ناگوار اور مالی مشکلات وغیرہ ہوتی ہیں، ان کی مدد کریں یا انتظامیہ کو توجہ دلائیں.
٦. تربیتی ورکشاپ: ورکشاپ میں خوش دلی سے شامل ہوں، بسا اوقات یہاں سے ایسا گُر اور تجربہ مل جاتا ہے کہ زندگی آسان ہو جاتی ہے، میں جامعہ سلفیہ میں اپنے طور پر بغیر وفاق کے تعاون کے مختلف تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کرتا ہوں، ماہر نفسیات تک کو میں نے جامعہ میں بلا کر اساتذہ و طلباء کی ورکشاپ کروائی.
٧. مشارکت : اپنے ادارہ کے طلباء و اساتذہ کو کسی معیاری قریبی مدرسے میں بھیجیں، وہ وہاں کچھ وقت گزاریں اور وہاں کے انتظامات، تعلیم، کلاسیں، ماحول وغیرہ دیکھیں، طلباء وہاں کے اساتذہ اور طلباء سے ملیں اور اساتذہ وہاں کے اساتذہ اور طلباء کو دیکھیں، آپس میں تبادلہ خیال ہو اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں.
٨. عصری تعلیم: عصری تعلیم ضرور دیں آپ اگر مکمل تعلیم نہیں دے سکتے تو کم از کم تعارفی و لازمی مضامین پڑھا دیں، مطالعہ پاکستان پڑھا دیں تاکہ انہیں پاکستان کی تاریخ، جغرافیہ، صوبے، وسائل اور سیاسی حالات کا پتہ چل جائے کہ یہاں حکومت کیسے بنتی ہے، عصری مضامین کے بارے انہیں اندھیرے میں نہیں رکھا جا سکتا اور نہ ہی رکھنا چاہیے.
٩. اخبار بینی : طلباء و اساتذہ کو اخبارات پڑھنے پر لگائیں، کالم و تجزیات وغیرہ پڑھیں تاکہ وہ حالات حاضرہ سے بھی واقف رہیں.

شیخ الحدیث ابو عمر عبدالعزیز النورستانی حفظہ اللہ ورعاہ

خطبہ مسنونہ کے بعد:
سب سے پہلے میں ادارہ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کا اور پھر محترم بھائی ناظم اعلی وفاق المدارس السلفیہ علامہ پروفیسر چوھدری محمد یٰسین ظفر صاحب اور انکے ساتھ آنے والے دیگر رفقاء کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود اہل خیبرپختونخوا کے لئے ایک تربیتی، فکری، علمی ورکشاپ کا انعقاد کیا اور جذبہ خدمت وخلوص کے ساتھ پشاور میں ہمارے جامعہ میں تشریف لائے، اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ان کی عمر، عمل میں خیروبرکت ڈالے اور ہم سب کو مل کر دین متین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ثانیاً: میں تمام صوبہ سے آنے والے مدارس کے مہتممین وناظمین اور مدرسین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکالا اور آج کی ورکشاپ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس میں بھرپور شرکت کی، اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ انکو مزید دین متین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محترم سامعین : جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مدارس وجامعات میں تعلیمی سال جاری وساری ہے اور باحسن طریق سے چل رہا ہے۔ ہمارے ہاں وہی طریقہ تدریس رائج ہے جو عمومی طور پر برصغیر کے تمام مدارس وجامعات میں چل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم وقتا فوقتا دیگر ممالک کے جامعات ومدارس کے طرق تدریس پر بھی غور وفکر کرتے ہیں اور انکے تجربات کو دیکھ کر انہی تجربات سے اپنے مدراس وجامعات کے مدرسین ومعلمات کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے جو طریقہ تدریس طلبہ وطالبات کے لئے أنفع وأشمل ہو اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور اگر کہیں خامی ہو تو اس کا تدارک وتلافی بھی کرتے ہیں۔
یہاں مرحلہ متوسطہ وثانویہ میں عموما طلبہ وطالبات کو کتب پڑھانے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر مشق بھی کرائی جاتی ہے اور بلیک بورڈ یا وائٹ بورڈ کے ذریعہ سے انکو سمجھایا بھی جاتا ہے اور وہ مضامین جن کی پڑھائی کے لئے بورڈ کا استعمال ناگزیر ہوتا ھے تو وہ بالضبط بورڈ کے ذریعے پڑھائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ مرحلہ عالیہ وعالمیہ میں بھی بورڈ کے ذریعے پڑھائی ہوتی ہے جیسے علم الفرائض ودیگر اہم مضامین۔
حاصل یہ ہے کہ موجودہ دور میں جو وسائلِ ایضاح ہیں وہ یہاں تعلیم کے دوران استعمال ہوتے ہیں اور الحمد للہ اس سے طلبہ کو بہت فائدہ حاصل ہوتا ھے، یہ ہمارے لئے نیک شگون ہے کہ ادارہ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے اکابر آج ہمارے پاس اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ جس پر ہم ان کے احسان مند ہیں۔
محترم سامعین! انسان تب کامل، ہوشیار اور سمجھدار ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے ہم عصر ساتھیوں سے ملے اور ان کے قائم کردہ مراکز، مدارس وجامعات کا ویزٹ کرے اور آپس میں مل بیٹھ کر تبادلہ خیال کرے۔ انکے تجربات سے فائدہ اٹھائے اور اپنے تجربات ومشاھدات میں ان کو شریک کرے۔ اگر ایک مہتمم یا ناظم اور مدرس ایسا ھو کہ وہ صرف اپنے وضع کردہ طریقہ کار پر عمل پیرا ھے اور صرف اپنے ہی طریقہ کار پر درس وتدریس کرتا ہے اور دیگر مدارس وجامعات کا وزٹ نہیں کرتا تو اس کی مثال کنویں کی اس مینڈک کی مانند ہے کہ جو باھر کی دنیا سے بالکل لا علم ہوتا ہے۔
مہتمم یا ناظم اور مدرس کو چاھئے کہ وہ دیگر مدارس وجامعات خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے انکا وزٹ کرے، وہاں پر رائج طریقہ درس وتدریس اور نظام واصول کا مشاھدہ کرے کہ مثلا حاضری کس وقت ھے، چھٹی کس ٹائم ھے، روزمرہ حاضری کا کیا طریقہ کار ھے ، طلبہ کی تربیت کیسے کی جاتی ھے، مطالعہ وتکرار کے لئے کیا نظام ھے، ھاسٹل میں رہائش کی کیا ترتیب ہے وغیرہ، ان امور کو اپنے علم میں لائے اور پھر سوچے کہ میرے مدرسہ یا جامعہ میں ان امور میں سے کونسے ہیں اور کونسے نہیں ہیں؟ پھر اساتذہ سے باھم مشورہ کے بعد کہ فلاں مدرسہ یا جامعہ میں یہ طریقہ کار ھے یہ نظام ھے، اگر یہی طریقہ کار ہم اپنے مدرسہ یا جامعہ میں اپنالیں تو کیسا رھے گا؟ اور اس میں کیا فائدہ ھوگا؟ اگر جامعہ کے اساتذہ اس بات پر متفق ہوتے ہیں کہ یہ طریقہ کار اپنانے میں فوائد زیادہ ہیں تو پھر اس پر عمل کرنا چاھئے۔
دوسری بات یہ ھے کہ مدارس وجامعات کا وزٹ کرنے کا مقصد تنقید نہ ہو بلکہ بہ نیت اصلاح اور کچھ سیکھنے کے لئے وزٹ کرنا چاھئے اور وہ یہ کہ اس مدرسے یا جامعہ میں جو خوبیاں ہیں وہ میرے مدرسے یا جامعہ میں ہیں یا نہیں اور اپنے مدرسے یا جامعہ میں مذکورہ خوبیاں پیدا کرنے کے لئے کیا طریقہ کار ہونا چاھئے۔
یہ وزٹ کا ماحول تو صوبہ پنجاب میں عموما رائج ہے لیکن ہمارے صوبہ کے پی کے میں یہ رائج نہیں ھے۔ تو یہاں بھی ہمیں یہ وزٹ کا ماحول بنانا چاھئے اس سے فائدہ یہ ھو گا، ایک دوسرے سے تعلقات مضبوط ہونگے اور شکوک وشبہات زائل ھونگے۔ اہم بات یہ کہ نئے نئے تجربات حاصل ھونگے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال میں خلوص پیدا فرمائے اور اپنی بارگاہ عالیہ میں قبول فرمائے، ہم سب کو آپس میں اتفاق واتحاد عطا فرمائے اور ہمارے جامعات ومدارس کو ہر قسم کے فتنوں سے حفظ وامان میں رکھے۔

مولانا عمر بن عبدالعزيز نورستانی حفظہ اللہ
مدیر جامعہ اثریہ، چمکنی، پشاور

حمد و صلوۃ کے بعد :
ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان پروفیسر محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ اور ان کے ساتھ وفد میں آئے ہوئے تمام مہمانان گرامی قدر کو پشاور اور پھر جامعہ اثریہ چمکنی آنے پر اپنی طرف سے، ناظمینِ مدارس، جامعہ اثریہ کے اساتذہ اور طلباء کی جانب سے خوش آمدید کہتا ہوں

آج کے پروگرام کا موقع دینے پر میں اپنے ان مشائخ کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس کے لیے آج جامعہ اثریہ میں تمام مدارس خیبر پختونخواہ کے ناظمین و مہتممین اور مدرسین و مدرسات جمع ہیں.

دونوں مشائخ پروفیسر محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ اور والد گرامی مولانا عبدالعزیز النورستانی حفظہ اللہ کی گفتگو میں بہت سارے اسباق ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین

*تعارف وفاق المدارس السلفیہ*
وفاق المدارس السلفیہ پاکستان 1977ء سے کام کر رہا ہے، 1980ء سے خیبر پختونخواہ سے سب سے پہلا مدرسہ جامعہ اثریہ الحاق ہوا اور دوسرا جامعہ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ تھا، یہ دونوں مدارس عرصہ دراز سے وفاق کے امتحانات کی پابندی کر رہے ہیں، 2016ء میں پروفیسر محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ نے مشاورت کے بعد یہ ذمہ داری مجھے سونپی، میں اس کا مستحق تو نہ تھا لیکن ان کا حسنِ ظن ہے اور آپ ناظمین کا اعتماد ہے، جب ہمیں ذمہ داری سونپی گئی اس وقت ہزارہ سمیت خیبر پختونخواہ میں کل 38 مدارس ملحق تھے آج الحمدللہ 120 سے زائد مدارس ملحق ہو چکے ہیں، اُس وقت امتحانی مراکز چار یا پانچ تھے آج الحمد للہ 50 کے قریب امتحانی مراکز ہیں، امتحان دینے والے طلباء و طالبات کی تعداد 500 کے قریب تھی آج الحمد للہ ڈھائی ہزار سے زائد ہے.

یہاں ہمارے صوبے میں وفاق کے امتحانات کو ترجیح نہیں دی جاتی تھی لیکن جب اس کی اہمیت و افادیت سامنے آئی تو اب بڑے بڑے مدرسین، شیوخ الحدیث، ناظمین کوئی 40 سال کی عمر میں ہے اور کوئی 60 سال کی عمر میں بھی وفاق کے امتحانات دے رہے ہیں، ہم نے وفاق کا نام، کام اور انتظام اہل مدارس کے سامنے رکھا تو یہ تبدیلی آئی.
آج اگر دیکھا جائے تو ہمارے بچے وفاق کی اسناد کی بنا پر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں، باہر کی یونیورسٹیوں میں داخلے ہو رہے ہیں، سرکاری سطح پر 16، 15 گریٹ تک کے آفیسر، اسلامیات اور عربی ٹیچر، لیکچرار اور پروفیسر کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں.

ان تمام خدمات کا کریڈٹ سب سے پہلے ہمارے امیر محترم پروفیسر علامہ ساجد میر صاحب حفظہ اللہ کو جاتا ہے اور پھر ان کے بعد پروفیسر محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ کی انتھک محنت کا ثمر ہے.
وفاق المدارس السلفیہ پاکستان سلفی مدارس کا ایک بورڈ ہے، اتحادیہ ہے، ہمارے مدارس کے لیے ایک محفوظ چھتری ہے، ہماری آواز اوپر کی سطح پر پہنچاتے ہیں، اللہ تعالیٰ پروفیسر محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ کی عمر میں خیر و برکت عطا فرمائے، انہی کی محنتوں سے ہمارے صوبے میں بھی یہ سلسلہ چل رہا ہے.

*اساتذہ کرام کا کردار*
اس میں آپ نے درج ذیل چند نکات پر گفتگو فرمائی :
١. تقوی و طہارت اختیار کریں اور قرآن و سنت سے رہنمائی لیں ﴿۞قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلۡمُتَّقِینَ﴾ [المائدة ٢٧]
٢. علم کی اہمیت اپنے ذہنوں میں بٹھائیں اور مطالعہ نہ چھوڑیں ﴿قُلۡ هَلۡ یَسۡتَوِی ٱلَّذِینَ یَعۡلَمُونَ وَٱلَّذِینَ لَا یَعۡلَمُونَۗ إِنَّمَا یَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلۡأَلۡبَـٰبِ﴾ [الزمر ٩]
٣. صبر و تحمل ایک بہترین جز ہے، ہر قسم کی مشکلات کو برداشت کریں: ﴿وَٱسۡتَعِینُوا۟ بِٱلصَّبۡرِ وَٱلصَّلَوٰةِۚ﴾ [البقرة ٤٥]
٤. طلبہ کے ساتھ نرمی و شفقت اور محبت کا معاملہ کریں: إنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ في الأمْرِ كُلِّهِ (صحیح بخاری)
٥. مثالی کردار ادا کرنے کی کوشش کریں: ﴿لَّقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِی رَسُولِ ٱللَّهِ أُسۡوَةٌ حَسَنَةࣱ﴾ [الأحزاب ٢١]
٦. عدل و انصاف کا دامن کبھی نہ چھوڑیں اور ہر طالب علم کو توجہ دیں.
٧. مشاورت و اجتماعيت قائم کریں طلباء کو مشورہ کے انداز میں سمجھائیں.
٨. اخلاقی تربیت بہت ضروری ہے، ہم وارثینِ علومِ نبوت ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا گیا ہے: ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِیمࣲ﴾ [القلم ٤]
٩. دعا کا ضرور اہتمام کیا کریں: طلبہ، مدارس اور منتظمین سب کو اپنی خلوتوں میں یاد رکھا کریں.

اللہ تعالیٰ ہمیں مثالی استاد، مثالی منتظم اور مثالی مہتمم بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

*تقسیم انعامات*
ہمارا شوق تھا کہ ہم اپنے صوبے کے طلبہ کو انعامات سے نوازیں، میں نے اپنے بعض احباب سے مشورہ کر کے اپنی مدد آپ کے تحت کام شروع کیا، ہمیں 19 بنات کے مدارس اور 13 بنین کے مدارس کے نتائج موصول ہوئے، حالانکہ ہم نے تمام مدارس سے رابطہ کیا تھا لیکن بعض مدارس اپنے پاس ریکارڈ محفوظ نہیں رکھتے ہیں.
ہم نے طلباء و طالبات کے ہر مرحلہ میں تین تین انعامات اول، دوم اور سوم کا اہتمام کیا ہے.
١. پروفیسر محمد یٰسین ظفر حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان
٢. فضیلۃ الشیخ مولانا ادریس اثری حفظہ اللہ مدیر التعلیم اسلامک ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ مہنتانوالہ
٣. مولانا محمد یونس عاجز اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات وفاق المدارس السلفیہ پاکستان
ان تینوں مہمانان گرامی قدر کا دل کی اتھاہ گہرائی سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور گزارش کرتا ہوں کہ مہمانانِ گرامی طلباء میں انعامات تقسیم کریں :

*طلباء*
*الثانوية العامة*
١. سبحان اللہ بن فضل سبحان متعلم مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث، گھڑی خانخیل ھوتی ضلع مردان۔
٢. نجیب اللہ بن غوث الرحمن متعلم جامعہ ابی بکر الصدیق، رینگ روڈ، دیر کالونی، ضلع پشاور۔
٣. فہیم اللہ بن زاھد علی
متعلم مدرسہ ضیاء القرآن والتجوید، داگئی پبی صلع نوشہرہ۔

*الثانوية الخاصة*
١. عبد الرحمن بن عبد اللہ
متعلم جامعہ ابی بکر الصدیق، رینگ روڈ، دیر کالونی، ضلع پشاور
٢. کفایت اللہ بن علیم خان
متعلم الجامعہ المحمدیہ، دلہ زاک روڈ، یوسف آباد، ضلع پشاور۔
٣. عزیر اللہ بن ساجد الاسلام متعلم مدرسہ الربانیہ، لنڈے سڑک، ضلع پشاور۔

*العالية*
١. سعید رحمن بن سید اصغر متعلم جامعہ دار السلام اہل الحدیث، گندف، ضلع صوابی۔
٢. فضل امین بن میر عالم خان متعلم الجامعہ المحمدیہ، دلہ زاک روڈ، یوسف آباد، ضلع پشاور۔
٣. حماد خان بن اقبال حسین متعلم الجامعہ الاثریہ چمکنی، ضلع پشاور۔

*العالمية*
١. اشرف الدین بن شفیع اللہ متعلم جامعہ محمد بن اسماعیل البخاری، چمکنی ، ضلع پشاور۔
٢. شاکر اللہ بن محمد غلام
متعلم جامعہ دار القرآن والحدیث السلفیہ، قاضی اباد، ضلع پشاور۔
٣. عبید اللہ بن سمیع اللہ متعلم الجامعہ المحمدیہ، دلہ زاک روڈ، یوسف آباد، ضلع پشاور۔

*طالبات*
*الثانوية العامة*
١. کلثوم نعمان بنت عبد النعمان، مدرسہ الخنساء للبنات، جہانگیر اباد نمبر2، ضلع پشاور۔
٢. مناحل گل بنت عامر خان، مدرسہ ضیاء القرآن والتجوید للبنات، داگئی پبی، ضلع نوشہرہ۔
٣. فاطمہ رحمن بنت حبیب الرحمن، جامعہ دار السلام اہل حدیث للبنات، گندف، ضلع صوابی۔

*الثانوية الخاصة*
١. کومل بنت خیر محمد، جامعہ عربیہ (دار التفسیر) للبنات، سیفن، بڈھ بیر، ضلع پشاور۔
٢. ھاجرہ بنت محمد علی، جامعہ عربیہ (دار التفسیر) للبنات، سیفن، بڈھ بیر، ضلع پشاور۔
٣. سمیہ بنت گل زادہ، جامعہ عربیہ (دار التفسیر) للبنات، سیفن، بڈھ بیر، ضلع پشاور۔

*العالية*
١. شازیہ بنت مجاھد، جامعہ اثریہ للبنات، چمکنی، ضلع پشاور۔
٢. ناہیدہ بنارس بنت بنارس خان، جامعہ عائشہ للبنات، توت ڈھنڈ، باڑہ، ضلع خیبر۔
٣. صالحہ آفریدی بنت اشرف خان، جامعہ اثریہ للبنات، چمکنی، ضلع پشاور۔

*العالمية*
١. طاہرہ رفیق بنت رفیق خان، مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات، شاد باغ کالونی، ضلع پشاور۔
٢. حسنی بنت مہربان شاہ، جامعۃ الفرقان للبنات، تہکال بالا، ضلع پشاور۔
٣. خامسہ بنت عبد الناصر، مدرسہ تعلیم القرآن للبنات، رستم، ضلع مردان۔

شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس اثری حفظہ اللہ مدیر التعلیم اسلامک ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ مہنتانوالہ
قواعد النحو والصرف کیسے پڑھائیں؟

الشیخ حفظہ اللہ نے ابتدائی گفتگو میں فرمایا: علوم اسلامیہ و عربیہ کے لیے علمِ نحو و صرف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی تعلیم و تدریس کا ٹھوس و مضبوط نظام ہی کامیابی کا ضامن ہے، اسی سلسلے میں وفاق المدارس السلفیہ نے ثانویہ عامہ اور ثانویہ خاصہ میں نحو و صرف کی تدریس کرنے والے اساتذہ کے لیے "قواعد النحو والصرف کیسے پڑھائیں؟" کے نام سے ورکشاپ کا اہتمام کیا ہے۔

آپ کی گفتگو کے دو مرحلے تھے:
پہلے مرحلے میں انہوں نے بتایا کہ تعلیم و تربیت اور سیکھنے و سکھانے کا ماحول اس حد تک بنائیں کہ وہ آپ کا مزاج بن جائے. تعلیم و تربیت سے منسلک جملہ متعلقین کا مزاج ایک جیسا ہونا بہت ضروری ہے.

درج ذیل نقاط پر جدید و قدیم کا تقابل پیش کرکے خوب روشنی ڈالی :
1) مزاج افراد
2) مزاج تعلیم
3) مزاج نصاب
4) مزاج اساتذہ
5) مزاج طلبہ
6) مزاج ادارہ و انتظام
7) مزاج فتن
8) مزاج تعلیم و تعلّم
اصل مزاج کی بحالی کے بغیر نتائج و کامیابی ناممکن ہے۔

دوسرے مرحلے میں علم نحو و صرف کے حوالے سے اصول و ضوابط اور قواعد اپنے تجربات کی روشنی میں بیان کیے، جس میں درج ذیل ترتیب رکھی گئی:
1) علم صرف کا خلاصہ (اسم متمکن+فعل متصرف) کا جدول بناکر رہنمائی فرمائی۔
2) علم نحو کا خلاصہ (کلمہ و کلام) کے نقشہ جات سامعین کے گوش گزار کیے گئے۔
3) ترکیب واجراء کا طریقہ ۔
4) عربی لغت سے ہمارا رشتہ صرف زبان کا نہیں بلکہ عبادت و دین کا رشتہ ہے۔
5) کتاب قواعد الصرف اور قواعد النحو۔
6) پڑھانے کا انداز بیان کیا۔
7) مختلف اسالیب: قواعد پڑھانے اور یاد کروانے کا اسلوب، جدولی انداز، نقشہ جات کے ساتھ سمجھانا، قرآن و حدیث اور عربی عبارات میں وجہ اعراب پر طلبہ کی گرفت کرنا اور ان میں عبارت کو حل کرنے کی لیاقت و استعداد پیدا کرنا۔

آخر میں فضیلۃ الشیخ مولانا اقبال شاہ صاحب حفظہ اللہ مدرس جامعہ اثریہ چمکنی پشاور نے دعا کروائی اور پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا.

پروگرام صبح 10 بجے شروع ہوا اور 2:30 تک جاری رہا پروگرام کے اختتام پر حاضرین کو پرتکف ظہرانہ دیا گیا

تقبل الله جهود الجميع

شعبہ نشرو اشاعت وفاق المدارس السلفیہ پاکستان

کیسی قابل رشک موت!! اللہ اللہ شیخ الحدیث ابو اسعد مولانا محمد صدیق صاحب نے ساری زندگی حدیث پڑھائی۔ خدا کے ہاں ان کی حدیث...
03/07/2024

کیسی قابل رشک موت!! اللہ اللہ
شیخ الحدیث ابو اسعد مولانا محمد صدیق صاحب نے ساری زندگی حدیث پڑھائی۔ خدا کے ہاں ان کی حدیث سے محبت یوں قبول ہوئی کہ دم آخر بھی طالبان حدیث کو کلاس میں فقہ حدیث رسول ہی کا سبق پڑھا رہے تھے کہ وقت آخر آ پہنچا۔ ۔۔
جب لبوں پر قال الرسول کی فقہ و تفہیم کے الفاظ تھے تو ایسے میں ہی قضا چلی آئی،اس کے بعد لبوں سے جو مزید کلمات ادا ہوئے، وہ یہ تھے۔۔
استغفراللہ۔۔۔
لاالہ الااللہ ۔۔
اور اس حسن خاتمہ کے ساتھ ہی آپ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں استاد تھے،خود میں نے آپ سے مشکوہ شریف پڑھی تھی۔ کیا حلیم الطبع ، نکتہ دان اور دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے،جن میں سے ایک ضخیم کتاب صرف آیت الکرسی پر مشتمل ہے۔
اللهم اغفر له وارحمه

شیخ ابو اسعد محمد صدیق مدرس جامعہ سلفیہ قضاء الٰہی سے انتقال فرما گئے ہیں انکی نماز جنازہ مغرب کے بعد جامعہ سلفیہ حاجی آ...
03/07/2024

شیخ ابو اسعد محمد صدیق مدرس جامعہ سلفیہ قضاء الٰہی سے انتقال فرما گئے ہیں انکی نماز جنازہ مغرب کے بعد جامعہ سلفیہ حاجی آباد میں ادا کی جائے گی

Address

Haji Abad Faisalabad
Faisalabad
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الجامعۃ السلفیۃ فیصل آباد posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share