23/03/2026
احتیاط لازم ہے۔۔۔
آمریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والی بربریت نے ایران , اسرائیل اور عرب ممالک کو برائے راست متاثرکیا ہوا یے۔ آمریکہ کا بھی امتحان شروع ہوا ہے۔ سمندر کی بندیش , آئل ریفائنریز اور گیس پلانٹس پر حملوں کے سبب پاکستان سمیت دنیا کے بہت سارے غریب ممالک کے باسی بلند سطع کی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی شارٹیج کا سامنا کر رہے ہیں۔
حکومت پاکستان, پاکستانی اداروں اور اثنا عشری مسلمان سب ہی رہبر معظم کی شہادت کے بعد مشکل ترین امتحان سے گزر رہے ہیں۔۔
اور سب سے کڑا وقت گلگت بلتستان پر آچکا ہے۔ کراچی , گلگت اور سکردو میں ہونے والےتین ناخوشگوار واقعات میں گلگت بلتستان کے تعلق رکھنے والے 20 کے قریب نوجوان شہید ہوچکے ہیں جس کے سبب سارا خطہ غمزدہ ہے۔ ملت اثناعشری ایک طرف ریبر معظم کی شہادت کا غم براداشت کررہے ہیں اوپر سے ملت کے بیس سے زائد نوجوانوں کی شہادت سے تضاد بڑھ رہا ہے۔
دوسری طرف ریاست پاکستان رٹ چیلنج ہونے پر غصے میں نظر آرہی ہے۔ شائد اسلام آبار حکومت اور افواج پاکستان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ گلگت اور سکردو میں اس نوعیت کا رہکشن آئے گا
دونوں اطراف سے وہ کچھ ہوا جو ہرگز ہونا نہیں چاھئیے تھا۔ ٹین کور, فورس کمانڈر, وزیر داخلہ اور آئی جی حملوں میں ملوث لوگوں کی نشاندھی چاھتے ہیں۔
ملت اثنا عشری جلوس میں شریک شہدا کے خون کا حساب مانگ رہی ہے۔
سرکار حملے کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا خواہاں نظر آتی ہے جبکہ ملت گرفتاریوں کے خلاف محاز کھڑا کرنا چاھتی ہے۔
فلحال دونوں فریقین پوائنٹ آف نو ٹرن پرکھڑے نظر آتے ہیں۔
دونوں فریقین ایک دوسرے کو "سپیس " دینے اور بیچ کا راستہ نکالنے کو فلحال نظر نہیں آرہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کاروائی کے آغاز سے قبل ہی ماحول گرم نظر آرہا ہے۔
اس وقت حکومت میں موجود کوئی شخص یا سیاستدان جلاو گراو والوں کے خلاف معمولی بات کرتا ہے تو لعن تعن شروع ہوجاتی ہے۔
نگران وزیر داخلہ ساجد علی بیگ سے راجہ ناصر اور یاسیر تابان تک جس نے بھی ناخوشگوار واقعات پر زبان کھولی ملت دشمن ٹھہرا۔
سوشل میڈیا پر ملٹری ٹرائل کی بھی بات چلی, ایف سی رینجرز اور دیگر پیعا ملٹری فورسز کی آمد کی بھی بات چلی۔
اس وقت ملت کے نوجوان علما کی بھی بات سننے کو تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔
گلگت بلتستان کی فضا میں تلخی بڑھ رہی ہے جو کہ خطے کے کسی صورت مفاد م