قلم کی دنیا

قلم کی دنیا اس پیج کو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ مختلف عنوانات پر قلم کے

27/04/2026

ایک ہفتہ کے لیے نگر خاص آیا ہوں۔ آن لائن کلاس لینے کے لیے ہر روز علی آباد جاتا ہوں۔ اس جدید دور میں انٹرنیٹ کے نہ ہونے پر حلقہ پانچ میں تین درجن سے زیادہ الیکشن لڑنے والے ایماندار لیڈروں کی قبابلیت پر ماتم کروں یا پھر ووٹ دیکر منتخب کرنے والے عوام پر ۔۔۔۔
فیصلہ آپ خود کریں۔

چین کی ایک یونیورسٹی نے طالب علموں کو موسم بہار کے وقفے کے دوران آرام کرنے اور "محبت میں پڑنے" کا مشورہ دیا ہے، انہیں فط...
28/03/2026

چین کی ایک یونیورسٹی نے طالب علموں کو موسم بہار کے وقفے کے دوران آرام کرنے اور "محبت میں پڑنے" کا مشورہ دیا ہے، انہیں فطرت سے لطف اندوز ہونے اور پڑھائی سے وقفہ لینے کی ترغیب دی ہے۔

سیچوان ساؤتھ ویسٹ ووکیشنل کالج آف ایوی ایشن کے اس اقدام کا مقصد متوازن طرز زندگی، سماجی تعامل اور جذباتی بہبود کو فروغ دینا ہے۔

یہ گھریلو سفر، کھپت، اور گرتی ہوئی شرح پیدائش سے نمٹنے کے لیے وسیع تر کوششوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔

حکام تفریحی سرگرمیوں اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مزید تعطیلات اور لچکدار چھٹی کی پالیسیاں متعارف کروا رہے ہیں۔
ڈس کلیمر: یہ مواد صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے اور دستیاب رپورٹس پر مبنی ہے۔ یہ تصویر حوالہ کے لیے استعمال کی گئی ہے۔

25/03/2026

If Pakistan succeeds in brokering a ceasefire among Amrica, Iran and Israel. It would be the biggest achievement in this century. Best wishes for Pakistan's efforts .

25/03/2026

کروشیا کی صدر نے عیاشی والی زندگی چھوڑ کر غریبوں والی زندگی بنا لی۔ کیونکہ عوام نے غریب اور عام زندگی گزارنے والی عورت کو ووٹ دیا۔ یہ سارا فائدہ عوام کو جاتا ہے نہ کہ ایک کروشیا کی صدر کو۔۔۔ پاکستانی عوام جاگیردار کو اور سرمایہ دار کو ووٹ دیتی ہے۔۔ پھر 10 ارب کے جہاز پر سفر کرنے پر ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ کیا وہ غریب باپ کی بیٹی ہے۔؟ وہ سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئی ہے اسی کے حساب سے زندگی گزارے گی۔۔۔ اگر کروشیہ جیسا صدر چاہیے تو پھر سراج الحق کو منتخب کر لیتے۔۔۔۔۔ بس انتظار کرو سرمایہ داروں کی عیاشیاں دیکھو

25/03/2026
23/03/2026

اسرایئل اپنے تیل کا تقریبا 40 سے 46 فیصد حصہ آزربائیجان سے خریدتا ہے جو کہ ترکی کی پورٹ سے ہوکر اسرایئل پہنچتا ہے- جبکہ 22 سے 26 فیصد روس سے اور باقی بحرالکاہل والی سایئڈ سے آتا ہے

اگر آج ترکی یہ راستہ بند کردے تو اسرایئل کی ایک رات میں بوکی بیٹھ جائے گی عربوں کے بعد ترکی کو خلیفہ ماننے والوں کے لیئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے

23/03/2026

احتیاط لازم ہے۔۔۔

آمریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والی بربریت نے ایران , اسرائیل اور عرب ممالک کو برائے راست متاثرکیا ہوا یے۔ آمریکہ کا بھی امتحان شروع ہوا ہے۔ سمندر کی بندیش , آئل ریفائنریز اور گیس پلانٹس پر حملوں کے سبب پاکستان سمیت دنیا کے بہت سارے غریب ممالک کے باسی بلند سطع کی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی کی شارٹیج کا سامنا کر رہے ہیں۔
حکومت پاکستان, پاکستانی اداروں اور اثنا عشری مسلمان سب ہی رہبر معظم کی شہادت کے بعد مشکل ترین امتحان سے گزر رہے ہیں۔۔
اور سب سے کڑا وقت گلگت بلتستان پر آچکا ہے۔ کراچی , گلگت اور سکردو میں ہونے والےتین ناخوشگوار واقعات میں گلگت بلتستان کے تعلق رکھنے والے 20 کے قریب نوجوان شہید ہوچکے ہیں جس کے سبب سارا خطہ غمزدہ ہے۔ ملت اثناعشری ایک طرف ریبر معظم کی شہادت کا غم براداشت کررہے ہیں اوپر سے ملت کے بیس سے زائد نوجوانوں کی شہادت سے تضاد بڑھ رہا ہے۔
دوسری طرف ریاست پاکستان رٹ چیلنج ہونے پر غصے میں نظر آرہی ہے۔ شائد اسلام آبار حکومت اور افواج پاکستان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ گلگت اور سکردو میں اس نوعیت کا رہکشن آئے گا
دونوں اطراف سے وہ کچھ ہوا جو ہرگز ہونا نہیں چاھئیے تھا۔ ٹین کور, فورس کمانڈر, وزیر داخلہ اور آئی جی حملوں میں ملوث لوگوں کی نشاندھی چاھتے ہیں۔
ملت اثنا عشری جلوس میں شریک شہدا کے خون کا حساب مانگ رہی ہے۔
سرکار حملے کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا خواہاں نظر آتی ہے جبکہ ملت گرفتاریوں کے خلاف محاز کھڑا کرنا چاھتی ہے۔
فلحال دونوں فریقین پوائنٹ آف نو ٹرن پرکھڑے نظر آتے ہیں۔
دونوں فریقین ایک دوسرے کو "سپیس " دینے اور بیچ کا راستہ نکالنے کو فلحال نظر نہیں آرہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر کاروائی کے آغاز سے قبل ہی ماحول گرم نظر آرہا ہے۔
اس وقت حکومت میں موجود کوئی شخص یا سیاستدان جلاو گراو والوں کے خلاف معمولی بات کرتا ہے تو لعن تعن شروع ہوجاتی ہے۔
نگران وزیر داخلہ ساجد علی بیگ سے راجہ ناصر اور یاسیر تابان تک جس نے بھی ناخوشگوار واقعات پر زبان کھولی ملت دشمن ٹھہرا۔
سوشل میڈیا پر ملٹری ٹرائل کی بھی بات چلی, ایف سی رینجرز اور دیگر پیعا ملٹری فورسز کی آمد کی بھی بات چلی۔
اس وقت ملت کے نوجوان علما کی بھی بات سننے کو تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔
گلگت بلتستان کی فضا میں تلخی بڑھ رہی ہے جو کہ خطے کے کسی صورت مفاد م

22/03/2026

جنگ ایک منافع بخش کاروبار ہے.
امریکہ اس جنگ پر اب تک تقریبا 15 ارب ڈالرز خرچ کر چکا ہے،
جبکہ تیل کی بڑھنے والی قیمتوں کی وجہ سے امریکہ کو 60 ارب ڈالرز کا منافع متوقع ہے، روس اور سعودیہ کو ہونے والا اربوں کا منافع الگ ہے.
ایران کی چاروں جانب کی جانے والی آتش بازی کے نتیجے میں ایران نے امریکہ کو نئے گاہک بھی فراہم کر دیئے ہیں، سعودیہ، قطر اور UAE سمیت کئی ممالک امریکہ سے 28 ارب ڈالرز کا دفاعی سامان بھی خریدنے والے ہیں،اور مذید ہوں گے۔
امریکہ ہر جنگ میں اپنی نئی ٹیکنالوجی بازار میں متعارف کرواتا ہے، کسی جنگ میں یہ مزائیل ہوتے ہیں، کسی میں پیٹریاٹ، کسی میں ریڈار، کسی میں ڈرونز، اس جنگ میں میزائیل انٹرسیپٹرز سامنے آئے ہیں، زیادہ تر ممالک امریکہ سے یہ میزائیل انٹرسیپٹرز ہی خریدنے والے ہیں.
یاد رہے میزائیل انٹرسیپٹرز ٹیکنالوجی بھارت اور پاکستان کے ہاس بھی نہیں ہے، حالیہ پاک بھارت جھڑپوں میں نہ انڈیا پاکستان کے میزائیل روک سکا نہ پاکستان بھارت کے میزائیل روک سکا تھا، آنے والے دنوں میں پاکستان اور بھارت بھی ان میزائیل انٹرسیپٹرز کے بہت بڑے گاہک ہونگے.پہلے دن ہی امریکہ اسرائیل نے ایران کی ٹاپ لیڈر شپ مار دی تھی۔باقی دن اُس نے چن چن کر وہ تمام اسلحہ بنانے والی فیکڑریز کو تباہ کردیا ۔اب بھی جو کچھ بچا ہے وہ صفایا کر رہے ہیں ۔میرے نزدیک امریکہ و اسرائیل نے پہلے ہی دن جنگ جیت لی تھی ،لیکن ہماری بونگیاں ہیں کہ تھم نہیں رہی۔جذبات اپنی جگہ لیکن سائنس و ٹیکنالوجی کے بغیر اب سروائیو کرنا ناممکن ہے، یہ سمجھ لینا چاہیے ۔جاپان ایک مثال موجود ہے ہمارے سامنے ،اُن کے ملک پہ ایٹمی حملہ کیا تو اُنہوں نے بونگیاں مارنے کے بجائےسائنس و ٹیکنالوجی کو اپنا شعار بنایا اور آج امریکہ چابان کا سب سے زیادہ مقروض ہے۔ایسا ہر گز نہیں کہ جاپانی بزدل قوم ہے ،اگر آپ تاریخ پڑھیں تو اُنہوں نے کوریا اور چیں جیسی بڑی قوموں کو شکست دے رکھی ہے۔
خیر !مگر ہم کیا کریں جب تک بے وقوف زندہ ہیں عقلمند ترقی کرتے رہیں گےاور دولت بھی کمائیں گے

22/03/2026

آج ،امریکہ اور اسرائیل نے فضائی حملوں میں ایران کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

22/03/2026

اسرائیلی شہر عراد اور ڈیمونا میں کئی ہلاکتیں 80 سے زائد زخمی..

22/03/2026

🚨ایران نے پاکستان پر میزائیل کیوں نہیں مارا، رابرٹ کیاسکو کا تجزیہ ہے کہ۔۔۔۔ اگر اس خطے کی حالت جاننی ہے تو یہ تجزیہ ضرور پڑھو۔۔۔۔۔

ایرانی فوسسز نے عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، اردن، ترکی — حتیٰ کہ قبرص پر بھی بمباری کی ہے۔
اس جنگ کے 16 دنوں میں ہر سمت میں میزائل اور ڈرون ہیں۔

لیکن ایک ملک جو ایران کی سرحد پر واقع ہے — اسے ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔
وہ ہے پاکستان۔
اور پاکستان کی سرزمین پر امریکی فوجی نگرانی (reconnaissance) آپریشنز بھی موجود ہیں۔
تو پھر ایسا کیا ہے کہ ایران پاکستان کو کیوں نظرانداز کر رہا ہے؟
یہ اس پوری جنگ کے سب سے دلچسپ اسٹریٹجک سوالات میں سے ایک ہے۔ اور اس کا جواب صرف پاکستان سے کہیں بڑی تصویر کو ظاہر کرتا ہے۔
سب سے پہلے — آئیے وہ حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمیں معلوم ہیں۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ہمسایہ ممالک ہیں۔
ایران نے ان ممالک پر حملہ کیا ہے جو اس کے لیے کم خطرہ رکھتے ہیں — جیسے اردن، ترکی، عمان، قبرص — ایسے ممالک جن کی نہ تو ایران کے ساتھ سرحد ہے اور نہ ہی امریکی مہم میں بڑی اسٹریٹجک اہمیت۔
لیکن پاکستان — جو براہ راست ایران کا ہمسایہ ہے، جس کی سرزمین پر امریکی نگرانی کے اثاثے بھی موجود ہیں، جس نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت F-16 طیارے تعینات کیے ہیں — اس پر ایران نے ایک بھی حملہ نہیں کیا۔
ایران نے پاکستان کو زبانی طور پر بھی نشانہ نہیں بنایا۔ نہ کوئی دھمکی، نہ کوئی انتباہ، نہ کوئی الٹی میٹم۔
ایک ایسی جنگ میں جہاں ایران نے برطانیہ سے لے کر جنوبی کوریا تک سب کو دھمکیاں دی ہیں — پاکستان کے حوالے سے مکمل خاموشی۔
اس کی وجوہات یہ بھی ہو سکتی ہیں...
1. پاکستان ایک ہی وقت میں ہر فریق کے ساتھ توازن برقرار رکھ رہا ہے — اور ایران یہ جانتا ہے۔
پاکستان اس وقت دنیا کے پیچیدہ ترین جغرافیائی و سیاسی حالات میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔
اس کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے — جو ایران کا علاقائی حریف ہے۔
اس نے سعودی عرب میں F-16 طیارے تعینات کیے ہیں۔
اس کی 80 فیصد سے زیادہ فوجی خریداری چین سے ہوتی ہے۔
یہ افغانستان کی سرحد پر طالبان کے خلاف اپنی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔
اسے اپنے شہروں میں ایران کے حامی شیعہ مظاہروں کو بھی سنبھالنا پڑ رہا ہے۔
اس نے ایران میں پھنس

26/01/2026

With Jamil Nagri – I just got recognized as one of their top fans!
اس نے بالوں میں سجا رکھے تھے کاغذ کے گلاب
میں یہ سمجھا کہ بہاروں کے زمانے آۓ

Address

Gilgit

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when قلم کی دنیا posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to قلم کی دنیا:

Share