01/05/2026
شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 30 اپریل 2026ء کو ''براہوئی زبان و ثقافت پر عالمگیریت کے اثرات'' کے عنوان سے ایک علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینار انتہائی شان و شوکت اور علمی وقار کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس سیمینار میں اساتذہ اور طلبہ نے بھرپورشرکت کی، جس سے پروگرام کی علمی فضا مزید نکھر گئی۔
سیمینار کا پُروقار آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے استاد جناب محمد یونس شیرپاؤ نے حاصل کی ۔ پروگرام کی نظامت شعبہ پاکستانی زبانیں کے بلوچی کے لیکچرر جناب رازق راجؔ نے شگفتگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع کی علمی اہمیت اور افادیت واضح کرتے ہوئے براہوئی زبان و ثقافت کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا اور تمام حاضرین، اساتذہ اور مہمانانِ گرامی کو فراخ دلی اور خلوصِ دل کے ساتھ خوش آمدید کہا۔
سیمینار کے افتتاحی کلمات شعبہ پاکستانی زبانیں کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اور تمام انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے علمی و تحقیقی سیمینارز انہی سرپرستوں کی شفقت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی بدولت ممکن ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عالمگیریت کے مفہوم، اس کے وسیع تر اثرات اور بالخصوص براہوئی زبان و ثقافت پر اس کے گہرے نقوش کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور زور دیا کہ عالمگیریت کے اس دور میں مادری زبانوں اور مقامی ثقافتوں کا تحفظ ایک سنجیدہ ذمہ داری بن چکا ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے براہوئی کے استاد جناب محمد عمران نے گلوبلائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی اہمیت اور ان سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر اپنے خیالات خوبصورت انداز میں پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی ترقی اور بقا کے لیے علمی بحث و مباحثہ اور فکری کاوشیں ناگزیر ہیں اور جس طرح زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات پر توجہ دی جاتی ہے، اسی طرح زبان، ثقافت اور تاریخ کے تحفظ کو بھی ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ زبان اور ثقافت ہی کسی قوم کی اصل شناخت اور ورثے کی امین ہوتی ہیں۔
ان کے بعد شعبہ کے براہوئی کے استاد ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ نے اپنے خطاب میں زبان و ثقافت پر عالمگیریت کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں کا سیرحاصل اور دلائل پر مبنی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں عالمگیریت نے مختلف اقوام کو باہم قریب کیا اور معلومات و ثقافت کے تبادلے کے نئے دروازے کھولے، وہیں اس نے چھوٹی اور مقامی زبانوں کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمگیریت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے اور اسے روکنا ممکن نہیں، تاہم اس کے منفی اثرات سے اپنی زبانوں اور ثقافتوں کو بچانے کے لیے مؤثر اور ٹھوس حکمتِ عملی ترتیب دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
سیمینار کے مہمان خاص ریٹائرڈ کنٹرولر پی ٹی وی اور اکادمی ادبیات پاکستان کے اعزازی ڈائریکٹر پروگرامز (بلوچستان)، نامور براہوئی ادیب، دانشور، محقق، شاعر و دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر عبدالقیوم بیدار تھے۔،جس نے آن لائن شرکت کی۔ انہوں نے اپنے مدلل اور فکرانگیز خطاب میں اس عام تاثر کی تردید کی کہ براہوئی زبان معدومیت کے دہانے پر ہے اور دلیل کے ساتھ ثابت کیا کہ براہوئی زبان آج بھی زندہ اور فعال ہے، کیونکہ قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، افغانستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لاکھوں افراد اسے اپنی مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی زبان کی پائیدار ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے سرکاری سطح پر سرپرستی اور تحفظ حاصل نہ ہو اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ براہوئی سمیت تمام مقامی زبانوں کی ترقی، ترویج اور تحفظ میں اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داری کو پوری تندہی سے ادا کرے۔
سیمینار کے اختتامی کلمات شعبہ پاکستانی زبانیں کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے،آپ نے مہمان خاص کے لیے نمل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ یادگاری شیلڈ براہوئی کے استاد ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ کو پیش کی اور مہمانِ خصوصی، تمام مقررین، اساتذہ، طلبہ اور حاضرینِ سیمینار کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد گروپ فوٹو سیشن ہوا، اور یوں یہ نہایت کامیاب، علمی، فکری اور پُرکیف سیمینار ایک خوشگوار اور یادگار فضا میں اپنے اختتام کو پہنچا ۔
شعبہ پاکستانی زبانیں، پاکستانی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینارز اور پروگرامز کا اہتمام کرتا رہتا ہے اور یہ سیمینار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔