23/09/2026
شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام23 ستمبر2026ء کو "پشتو زبان و ثقافت: ماضی، حال اور مستقبل" کے عنوان سے ایک علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینار نہایت شان و شوکت اور علمی وقار کے ساتھ منعقد ہوا۔ اساتذہ اور طلبہ کی بھرپور شرکت نے پروگرام کی علمی فضا کو مزید نکھار بخشا۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت جناب عزیز احمد نے حاصل کی۔
نظامت کے فرائض شعبہ پاکستانی زبانیں کی پشتو کی استاد ڈاکٹر فرخندہ جبین نے انتہائی خوش اسلوبی اور شگفتہ انداز میں انجام دیے۔ انہوں نے سیمینار کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے حاضرین کو خوش آمدید کہا اور سیمینار کے مقاصد کو نہایت جامع اور مربوط انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت انسانی زندگی کا وہ بنیادی اور ناگزیر پہلو ہے جو کسی قوم کی شناخت، اس کی اقدار اور اس کے اجتماعی شعور کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ان کے بقول ثقافت محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ کسی قوم کی تاریخ، اس کے تجربات اور اس کی حکمتِ عملی کا نچوڑ ہوتی ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو کر اس قوم کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نمل کے ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ کلچر، معزز مہمانانِ گرامی، اساتذہ، طلبہ اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس علمی نشست کے انعقاد میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان دوستی پشتون ثقافت کی روایت کا حصہ ہے؛ پشتون قوم نے کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کی، وہ اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہیں، اپنے اصولوں اور ضابطوں کے پابند ہیں، اور ہر پشتون ان اقدار کو دل سے مانتا اور اپناتا ہے۔ ان کے نزدیک پشتون قوم کوجتنی وابستگی مذہب سے ہے، اتنی ہی گہری وابستگی اپنی روایات سے بھی ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کےپشتو کے استاد جناب حفیظ الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے ماضی، حال اور مستقبل کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ثقافت ایک دن میں تشکیل نہیں پاتی بلکہ صدیوں کے سفر سے انسانی زندگی کا حصہ بنتی ہے۔ انسان نے زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے کچھ اصول اور ضابطے وضع کیے جن کے اندر رہ کر زندگی بسر کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ا گر آج ہم کمزور ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اپنی ثقافت سے دُوری ہے، اور اپنی ثقافت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کی ثقافتوں کی بھی قدر کی جائے۔
شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے استاد جناب رضوان اللہ مومند نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ پشتو ہند یورپی زبانوں کے خاندان کی ایرانی شاخ سے تعلق رکھنے والی ایک قدیم زبان ہے، جو پشتون قوم کی شناخت اور تہذیبی ورثے کی امین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتو نے ادب، علم اور صحافت کے میدانوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور آج ڈیجیٹل میڈیا میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے پشتونولی کا ذکر کرتے ہوئے اسے پشتون معاشرے کا وہ غیر تحریری ضابطہ حیات قرار دیا جو عزت، مہمان نوازی اور بہادری جیسی اقدار پر استوار ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے استاد جناب محمد یونس شیرپاؤ نے اپنے خطاب کا آغاز ایک پشتو شعر سے کیا اور کہا کہ پشتون ثقافت میں صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ تنگ دست اور مشکلات میں مبتلا افراد کی مدد کی جائے۔ انہوں نے پشتون ثقافت کے خوشی کے تہواروں، موسیقی کی ساخت، لباس کے رنگوں کے تنوع اور خصوصاً خواتین کے لباس کی انفرادیت اور رنگا رنگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
اس سیمینار کی صدارت پشتو ادب کے نامور ادیب ،شاعر، دانشور اور مہمانِ خاص جناب اقبال حسین افکار نے کی۔انہوں نے نمل کے منتظمین اور شعبہ پاکستانی زبانیں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس علمی و ادبی نشست کا اہتمام کر کے پشتو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کسی قوم کی پہچان اور اس کی تہذیبی میراث کی امین ہوتی ہے۔
مہمانِ خاص نے پشتون ثقافت میں مہمان نوازی کی روایت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کو زندہ رکھنے میں مرد سے کہیں زیادہ خواتین کا کردار نمایاں اور بنیادی ہے۔ گھر کی چار دیواری کے اندر خواتین جو خلوص اور خدمت دکھاتی ہیں، وہی دراصل پختون مہمان نوازی کی اصل روح ہے، اگرچہ یہ کردار اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اصل حکمت ہمارے فوک لٹریچر میں پنہاں ہے، جہاں پشتون قوم کی اجتماعی دانش، نفسیات اور فلسفہ حیات وسیع پیمانے پر جھلکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور محققین کو اس خزانے کو محفوظ کرنے کی دعوت دی۔
سیمینار کے اختتامی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی کی جانب سے مہمانِ خصوصی جناب اقبال حسین افکار کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور تمام مہمانوں، مقررین، اساتذہ، طلبہ اور حاضرینِ سیمینار کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔
سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر فرخندہ جبین نے ترنم کے ساتھ ایک پشتو غزل پیش کی، جس سے سیمینار کی علمی و ادبی فضا میں چار چاند لگ گئے۔ اس کے بعد گروپ فوٹو سیشن ہوا، اور یوں یہ علمی، فکری اور پُرکیف سیمینار ایک خوشگوار اور یادگار فضا میں اپنے اختتام کو پہنچا۔
شعبہ پاکستانی زبانیں پاکستانی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً اس نوعیت کے علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینارز اور پروگرامز کا اہتمام کرتا رہتا ہے، اور یہ سیمینار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
رپورٹ: رازق راج،لیکچرر بلوچی، شعبہ پاکستانی زبانیں نمل، اسلام آباد