Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad

Call Contact the university

Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad The Pakistani Languages & Culture department is playing a significant role to promote Pakistani languages and culture in the country and abroad.

We offer different programs both for Pakistani and foreigner students.

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام23 ستمبر2026ء کو "پشتو زبان و ثق...
23/09/2026

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)، اسلام آباد کے زیرِ اہتمام23 ستمبر2026ء کو "پشتو زبان و ثقافت: ماضی، حال اور مستقبل" کے عنوان سے ایک علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینار نہایت شان و شوکت اور علمی وقار کے ساتھ منعقد ہوا۔ اساتذہ اور طلبہ کی بھرپور شرکت نے پروگرام کی علمی فضا کو مزید نکھار بخشا۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت جناب عزیز احمد نے حاصل کی۔
نظامت کے فرائض شعبہ پاکستانی زبانیں کی پشتو کی استاد ڈاکٹر فرخندہ جبین نے انتہائی خوش اسلوبی اور شگفتہ انداز میں انجام دیے۔ انہوں نے سیمینار کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے حاضرین کو خوش آمدید کہا اور سیمینار کے مقاصد کو نہایت جامع اور مربوط انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت انسانی زندگی کا وہ بنیادی اور ناگزیر پہلو ہے جو کسی قوم کی شناخت، اس کی اقدار اور اس کے اجتماعی شعور کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ان کے بقول ثقافت محض رسم و رواج کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ کسی قوم کی تاریخ، اس کے تجربات اور اس کی حکمتِ عملی کا نچوڑ ہوتی ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو کر اس قوم کو دوسری اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نمل کے ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ کلچر، معزز مہمانانِ گرامی، اساتذہ، طلبہ اور تمام منتظمین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس علمی نشست کے انعقاد میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان دوستی پشتون ثقافت کی روایت کا حصہ ہے؛ پشتون قوم نے کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کی، وہ اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہیں، اپنے اصولوں اور ضابطوں کے پابند ہیں، اور ہر پشتون ان اقدار کو دل سے مانتا اور اپناتا ہے۔ ان کے نزدیک پشتون قوم کوجتنی وابستگی مذہب سے ہے، اتنی ہی گہری وابستگی اپنی روایات سے بھی ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کےپشتو کے استاد جناب حفیظ الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے ماضی، حال اور مستقبل کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ثقافت ایک دن میں تشکیل نہیں پاتی بلکہ صدیوں کے سفر سے انسانی زندگی کا حصہ بنتی ہے۔ انسان نے زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے کچھ اصول اور ضابطے وضع کیے جن کے اندر رہ کر زندگی بسر کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ا گر آج ہم کمزور ہیں تو اس کی بنیادی وجہ اپنی ثقافت سے دُوری ہے، اور اپنی ثقافت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کی ثقافتوں کی بھی قدر کی جائے۔
شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے استاد جناب رضوان اللہ مومند نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ پشتو ہند یورپی زبانوں کے خاندان کی ایرانی شاخ سے تعلق رکھنے والی ایک قدیم زبان ہے، جو پشتون قوم کی شناخت اور تہذیبی ورثے کی امین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتو نے ادب، علم اور صحافت کے میدانوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور آج ڈیجیٹل میڈیا میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے پشتونولی کا ذکر کرتے ہوئے اسے پشتون معاشرے کا وہ غیر تحریری ضابطہ حیات قرار دیا جو عزت، مہمان نوازی اور بہادری جیسی اقدار پر استوار ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے استاد جناب محمد یونس شیرپاؤ نے اپنے خطاب کا آغاز ایک پشتو شعر سے کیا اور کہا کہ پشتون ثقافت میں صدیوں سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ تنگ دست اور مشکلات میں مبتلا افراد کی مدد کی جائے۔ انہوں نے پشتون ثقافت کے خوشی کے تہواروں، موسیقی کی ساخت، لباس کے رنگوں کے تنوع اور خصوصاً خواتین کے لباس کی انفرادیت اور رنگا رنگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
اس سیمینار کی صدارت پشتو ادب کے نامور ادیب ،شاعر، دانشور اور مہمانِ خاص جناب اقبال حسین افکار نے کی۔انہوں نے نمل کے منتظمین اور شعبہ پاکستانی زبانیں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس علمی و ادبی نشست کا اہتمام کر کے پشتو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کسی قوم کی پہچان اور اس کی تہذیبی میراث کی امین ہوتی ہے۔
مہمانِ خاص نے پشتون ثقافت میں مہمان نوازی کی روایت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کو زندہ رکھنے میں مرد سے کہیں زیادہ خواتین کا کردار نمایاں اور بنیادی ہے۔ گھر کی چار دیواری کے اندر خواتین جو خلوص اور خدمت دکھاتی ہیں، وہی دراصل پختون مہمان نوازی کی اصل روح ہے، اگرچہ یہ کردار اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اصل حکمت ہمارے فوک لٹریچر میں پنہاں ہے، جہاں پشتون قوم کی اجتماعی دانش، نفسیات اور فلسفہ حیات وسیع پیمانے پر جھلکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ اور محققین کو اس خزانے کو محفوظ کرنے کی دعوت دی۔
سیمینار کے اختتامی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی کی جانب سے مہمانِ خصوصی جناب اقبال حسین افکار کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور تمام مہمانوں، مقررین، اساتذہ، طلبہ اور حاضرینِ سیمینار کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔
سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر فرخندہ جبین نے ترنم کے ساتھ ایک پشتو غزل پیش کی، جس سے سیمینار کی علمی و ادبی فضا میں چار چاند لگ گئے۔ اس کے بعد گروپ فوٹو سیشن ہوا، اور یوں یہ علمی، فکری اور پُرکیف سیمینار ایک خوشگوار اور یادگار فضا میں اپنے اختتام کو پہنچا۔
شعبہ پاکستانی زبانیں پاکستانی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً اس نوعیت کے علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینارز اور پروگرامز کا اہتمام کرتا رہتا ہے، اور یہ سیمینار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
رپورٹ: رازق راج،لیکچرر بلوچی، شعبہ پاکستانی زبانیں نمل، اسلام آباد

ہر سال کی طرح اس سال بھی ڈیپارٹمنٹ آف پاکستانی لینگویجز، نمل اسلام آباد اپنا سمر کورس آفر کر رہا ہے، جس میں بلوچی، براہو...
01/07/2026

ہر سال کی طرح اس سال بھی ڈیپارٹمنٹ آف پاکستانی لینگویجز، نمل اسلام آباد اپنا سمر کورس آفر کر رہا ہے، جس میں بلوچی، براہوئی، پشتو، پنجابی اور سندھی زبانوں کے کورسز شامل ہیں۔ یہ کورس ان تمام طلبہ و طالبات کے لیے ایک نادر موقع ہے جو پاکستانی زبانوں میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی علمی و لسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ واضح رہے کہ ان کورسز میں نشستیں محدود ہیں، اس لیے دلچسپی رکھنے والے افراد جلد از جلد اپلائی کریں تاکہ وہ اس قیمتی موقع سے مستفید ہو سکیں۔

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 30 اپریل 2026ء کو ''براہوئی زبان...
01/05/2026

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 30 اپریل 2026ء کو ''براہوئی زبان و ثقافت پر عالمگیریت کے اثرات'' کے عنوان سے ایک علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینار انتہائی شان و شوکت اور علمی وقار کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس سیمینار میں اساتذہ اور طلبہ نے بھرپورشرکت کی، جس سے پروگرام کی علمی فضا مزید نکھر گئی۔
سیمینار کا پُروقار آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے استاد جناب محمد یونس شیرپاؤ نے حاصل کی ۔ پروگرام کی نظامت شعبہ پاکستانی زبانیں کے بلوچی کے لیکچرر جناب رازق راجؔ نے شگفتگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع کی علمی اہمیت اور افادیت واضح کرتے ہوئے براہوئی زبان و ثقافت کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا اور تمام حاضرین، اساتذہ اور مہمانانِ گرامی کو فراخ دلی اور خلوصِ دل کے ساتھ خوش آمدید کہا۔
سیمینار کے افتتاحی کلمات شعبہ پاکستانی زبانیں کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اور تمام انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے علمی و تحقیقی سیمینارز انہی سرپرستوں کی شفقت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی بدولت ممکن ہوتے ہیں اور وقتاً فوقتاً منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عالمگیریت کے مفہوم، اس کے وسیع تر اثرات اور بالخصوص براہوئی زبان و ثقافت پر اس کے گہرے نقوش کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور زور دیا کہ عالمگیریت کے اس دور میں مادری زبانوں اور مقامی ثقافتوں کا تحفظ ایک سنجیدہ ذمہ داری بن چکا ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے براہوئی کے استاد جناب محمد عمران نے گلوبلائزیشن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی اہمیت اور ان سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر اپنے خیالات خوبصورت انداز میں پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی ترقی اور بقا کے لیے علمی بحث و مباحثہ اور فکری کاوشیں ناگزیر ہیں اور جس طرح زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات پر توجہ دی جاتی ہے، اسی طرح زبان، ثقافت اور تاریخ کے تحفظ کو بھی ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ زبان اور ثقافت ہی کسی قوم کی اصل شناخت اور ورثے کی امین ہوتی ہیں۔
ان کے بعد شعبہ کے براہوئی کے استاد ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ نے اپنے خطاب میں زبان و ثقافت پر عالمگیریت کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں کا سیرحاصل اور دلائل پر مبنی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جہاں عالمگیریت نے مختلف اقوام کو باہم قریب کیا اور معلومات و ثقافت کے تبادلے کے نئے دروازے کھولے، وہیں اس نے چھوٹی اور مقامی زبانوں کے وجود کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمگیریت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے اور اسے روکنا ممکن نہیں، تاہم اس کے منفی اثرات سے اپنی زبانوں اور ثقافتوں کو بچانے کے لیے مؤثر اور ٹھوس حکمتِ عملی ترتیب دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
سیمینار کے مہمان خاص ریٹائرڈ کنٹرولر پی ٹی وی اور اکادمی ادبیات پاکستان کے اعزازی ڈائریکٹر پروگرامز (بلوچستان)، نامور براہوئی ادیب، دانشور، محقق، شاعر و دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر عبدالقیوم بیدار تھے۔،جس نے آن لائن شرکت کی۔ انہوں نے اپنے مدلل اور فکرانگیز خطاب میں اس عام تاثر کی تردید کی کہ براہوئی زبان معدومیت کے دہانے پر ہے اور دلیل کے ساتھ ثابت کیا کہ براہوئی زبان آج بھی زندہ اور فعال ہے، کیونکہ قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، افغانستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں لاکھوں افراد اسے اپنی مادری زبان کے طور پر بولتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی زبان کی پائیدار ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے سرکاری سطح پر سرپرستی اور تحفظ حاصل نہ ہو اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ براہوئی سمیت تمام مقامی زبانوں کی ترقی، ترویج اور تحفظ میں اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داری کو پوری تندہی سے ادا کرے۔
سیمینار کے اختتامی کلمات شعبہ پاکستانی زبانیں کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے،آپ نے مہمان خاص کے لیے نمل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کردہ یادگاری شیلڈ براہوئی کے استاد ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ کو پیش کی اور مہمانِ خصوصی، تمام مقررین، اساتذہ، طلبہ اور حاضرینِ سیمینار کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد گروپ فوٹو سیشن ہوا، اور یوں یہ نہایت کامیاب، علمی، فکری اور پُرکیف سیمینار ایک خوشگوار اور یادگار فضا میں اپنے اختتام کو پہنچا ۔
شعبہ پاکستانی زبانیں، پاکستانی زبانوں کے فروغ اور تحفظ کے لیے وقتاً فوقتاً علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینارز اور پروگرامز کا اہتمام کرتا رہتا ہے اور یہ سیمینار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

شعبہ پاکستانی زبانیں،نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز( نمل)  اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 14 اپریل 2026ء کو پنجابی زبان و...
14/04/2026

شعبہ پاکستانی زبانیں،نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز( نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام 14 اپریل 2026ء کو پنجابی زبان و ثقافت کی مناسبت سے ایک علمی، ادبی اور ثقافتی سیمینار بعنوان ''پنجابی زبان اور ثقافت: حال، ماضی اور مستقبل'' نہایت شان و شوکت اور علمی وقار کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں زبان و ادب کے اہلِ علم، اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔
سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت شعبہ پاکستانی زبانیں کے پشتو کے سینئر انسٹرکٹر جناب محمد یونس شیرپاؤ نے حاصل کی۔ پروگرام کی نظامت شعبہ پاکستانی زبانیں کے براہوئی کے لیکچرر ڈاکٹر حفیظ اللہ سرپرہ نے انتہائی اعتماد اورخوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔ انہوں نے سیمینار کے موضوع کی افادیت واضح کرتے ہوئے پنجابی زبان و ثقافت کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا اور تمام حاضرین و مہمانانِ گرامی کا پُرتپاک خیرمقدم کیا۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز( نمل) اسلام آباد کے ریکٹر، ڈائریکٹر جنرل، ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اور انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی سرپرستوں کی شفقت و رہنمائی کی بدولت اس نوع کے علمی و تحقیقی سیمینارز وقتا فوقتا منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ثقافت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ یادگار بات کہی کہ ثقافت دراصل قوموں کی امانت اور ان کی پہچان ہوتی ہے، اور انہی ثقافتی اقدار کے دم سے قومیں زندہ و پائندہ رہتی ہیں۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے استادِ پنجابی جناب قیصر زمان ورک نے پنجابی ثقافت کے تاریخی پس منظر پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجابی ثقافت صدیوں کے سفر سے گزر کر آج بھی قائم ہے۔ انہوں نے اس دن کو گندم کی کٹائی کے جشن سے منسوب کیا اور کہا کہ یہ وہ مبارک روز ہے جب پنجابی کسان اپنی محنت کا پھل پا کر بے پناہ مسرت و شادمانی سے اس دن کو مناتے تھے۔ جناب قیصر زمان ورک نے پنجابی کو آریائی زبان قرار دیتے ہوئے بتایا کہ آریا قبائل تقریباً پندرہ سو سال قبلِ مسیح اس خطے میں وارد ہوئے اور انہوں نے اپنی زبان و تہذیب کے گہرے نقوش چھوڑے۔ انہوں نے مزید بیان کیا کہ ''پنجابی'' کی اصطلاح سولہویں صدی میں رواج پذیر ہوئی اور ''پنجاب'' کا نام شیر شاہ سوری کے دورِ حکومت سے مستعمل ہوا، اس سے قبل یہ خطہ مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس زبان کے لسانی آثار پانچ ہزار سال قدیم ہیں، جو اس کی گہری تاریخی جڑوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس کے بعد شعبہ پاکستانی زبانیں کے استاد ا ڈاکٹر عبدالرؤف گوندل نے اپنے خطاب میں زبان و ثقافت کے تحفظ پر فکرانگیز انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب دو افراد آپس میں اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتے ہیں تو وہ میرے نزدیک لائقِ تعظیم ہیں، کیونکہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت کے امین اور محافظ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرؤف گوندل نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زبانوں کو ہر دور میں چیلنجوں کا سامنا رہا ہے، تاہم کوئی زبان بھی مکمل طور پر نابود نہیں ہوئی۔ جدید دور کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ آج پنجابی مواد گوگل اور انٹرنیٹ پر کافی حد تک دستیاب ہے، جو ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔ انہوں نے حکومتی سطح پر آواز بلند کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کالجوں اور جامعات میں پنجابی زبان کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد فارانی نے اپنے خطاب کا آغاز حضرت میاں محمد بخشؒ کے پُرحکمت کلام سے کیا۔ انہوں نے پنجابی زبان کی تاریخی اہمیت، اس کی فلسفیانہ گہرائی اور اس میں پنہاں حکمت و دانائی کے سرچشموں پر مدلل گفتگو کی۔ پنجابی بولنے والوں کے ساتھ ہونے والی لسانی حق تلفی کا درد بھرا تذکرہ کیا اور پنجاب کی ثقافت کے امتیازی خصائص کو نہایت دل نشین انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے نمل یونیورسٹی کو، اس کے لسانی مشن کے اعتبار سے، پاکستانی زبانوں کی نمائندہ جامعہ قرار دیا اور اسے خراجِ تحسین پیش کیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے بلھے شاہ، وارث شاہ اور سلطان باہوؒ جیسے صوفی شعرا کے کلام میں پوشیدہ روحانی حکمت و دانش کا گہرائی سے تجزیہ کیا اور شرکا کو روشناس کرایا۔
پروگرام کے اختتام پر صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں ڈاکٹر محمد فاروق انجم نے مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد فارانی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ اختتامی کلمات میں انہوں نے مہمانِ خصوصی، مقررین، اساتذہ اور تمام شرکا کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔ بعدازاں یادگار گروپ فوٹو سیشن ہوا اور یوں یہ نہایت کامیاب، علمی اور پُرکیف سیمینار ایک خوشگوار فضا میں اپنے اختتام کو پہنچا۔

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام بروز 17 دسمبر 2025ء اساتذہ کے لی...
17/12/2025

شعبہ پاکستانی زبانیں، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام بروز 17 دسمبر 2025ء اساتذہ کے لیے ایک نہایت اہم اور مفید تربیتی ورکشاپ بعنوان Understanding International Phonetic Alphabet (IPA) “Symbols for Effective Language Teaching of Pakistani Languages”منعقد ہوئی۔ اس تربیتی ورکشاپ کا بنیادی مقصد پاکستانی زبانوں کی تدریس سے وابستہ اساتذہ کو انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ (IPA) کے نظری اور عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا اور زبانوں کی مؤثر تدریس میں اس کے کردار کو واضح کرنا تھا۔
ورکشاپ کی نظامت جناب قیصر زمان ورک (لیکچرر پنجابی) نے انجام دی۔ انہوں نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور تھیم کی وضاحت کرتے ہوئے معزز مہمانِ خصوصی، گیسٹ اسپیکر اور شریک اساتذہ کو خوش آمدید کہا اور ان کی علمی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔
ابتدائی کلمات صدرِ شعبہ پاکستانی زبانیں، جناب ڈاکٹر فاروق انجم نے ادا کیے۔ انہوں نے نمل کے معزز ریکٹر، پرو ریکٹر، ڈی جی، پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جامی (ڈین فیکلٹی آف لینگویجز) اور جامعہ کی انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہی کی سرپرستی کے باعث اس نوعیت کی علمی و تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ممکن ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اساتذہ کے لیے اس طرح کی تربیتی ورکشاپس تدریسی معیار کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ زبانوں کے صوتی نظام کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے کا ایک مستند اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ذریعہ ہے، جو زبانوں کی درست ادائیگی، تحقیق اور تدریس میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
ورکشاپ کے گیسٹ اسپیکر جناب ڈاکٹر عامر ظہیر (صدرِ شعبہ فرانسیسی) تھے۔ انہوں نے اپنے جامع اور تحقیقی خطاب میں انٹرنیشنل فونیٹک الفابیٹ کے عملی اطلاق پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ کس طرح آئی پی اے مختلف زبانوں میں درست تلفظ، صوتی فرق اور ادائیگی کی باریکیوں کو واضح کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے مختلف زبانوں کی مثالوں کے ذریعے آئی پی اے کی افادیت کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا، جس سے شریک اساتذہ کو عملی تدریسی رہنمائی حاصل ہوئی۔
بعد ازاں مقررین نے آئی پی اے کی تاریخی تشکیل، صوتی علامات اور پاکستانی زبانو خصوصاً بلوچی ،براہوئی ،پشتو اور پنجابی کے صوتی نظام کے تناظر میں اس کے استعمال پر روشنی ڈالی۔
ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں شریک اساتذہ نے آئی پی اے سے متعلق تدریسی اور تحقیقی نوعیت کے سوالات کیے اور گیسٹ اسپیکر کے جوابات سے بھرپور استفادہ کیا۔
اختتامی کلمات جناب پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان (پرو ریکٹر ریسرچ، نمل اسلام آباد) نے ادا کیے۔ انہوں نے اس تربیتی ورکشاپ کو اساتذہ کے لیے نہایت بروقت اور مفید قرار دیتے ہوئے شعبہ پاکستانی زبانیں اور منتظمین کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی علمی و تربیتی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔
اختتام پر تربیتی ورکشاپ میں شریک اساتذہ کو سرٹیفکیٹس جناب پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان کے بدست تقسیم کیے گئے۔ اس کے بعد گروپ فوٹو سیشن ہوا اور یوں یہ تربیتی ورکشاپ خوشگوار اور علمی ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچی۔
رپورٹ:رازق راج لیکچرر بلوچی نمل، اسلام آباد

Address

Department Of Pakistani Languages, New Jinnah Block, First Floor, NUML
Islamabad
04483

Opening Hours

Monday 08:00 - 01:30
Tuesday 08:00 - 01:30
Wednesday 08:00 - 01:30
Thursday 08:00 - 01:30
Friday 08:00 - 01:30

Telephone

+92519265100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Department of Pakistani Languages, NUML, Islamabad:

Shortcuts

Share