IMCB, Shah Allah Ditta Islamabad Official

IMCB, Shah Allah Ditta Islamabad Official it's an educational institution, therefore educational activities will be shared on this page

07/01/2026

اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء شاہ اللہ دتہ: صبح اسمبلی میں جماعت ہشتم کا طالب علم ہدیہ نعت بحضور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیش کرتے ہوئے۔۔۔۔

06/12/2025

ہمارے ملک میں کافی تعداد میں نیوز اور تفریحی ٹیلی ویژن چینل کام کر رہے ہیں ۔ لیکن بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کوئی ٹیلی ویژن چینل نہیں ہے ۔۔ میں میڈیا کو غیر رسمی تعلیم کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتا ہوں ۔ قوم کے نونہالوں کی تربیت کے لیے چینلز ہونے چاہئیں ، جہاں کارٹون اور دیگر پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کی تربیت قومی و دینی اور اخلاقی تقاضوں اور مستقبل کی ضرورت کے مطابق کی جائے ۔
مزید یہ کہ تفریحی اور حالات حاضرہ کے چینلز مل کر ایک ضابطہ اخلاق بنائیں کہ اشتہارات میں نہ صرف یہ کہ کسی قسم کے ذو معنی الفاظ و فقرات شامل نہ کریں بلکہ ہر اشتہار میں کوئی نہ کوئی اخلاقی قدر، یا قانون کے احترام کا سبق موجود ہونا چاہیے ۔ کیونکہ بچے ان اشتہارات سے بہت کچھ سیکھتے ہیں ۔ ڈراموں میں عوامی مسائل کو اجاگر کیا جانا چاہیے نہ کہ صرف ایلیٹ طبقے سے مخصوص معاملات کو ۔
اگر آپ میرے ان خیالات سے متفق ہیں تو ائیے اپنا کردار ادا کریں ۔ اور زیادہ سے زیادہ شئیر کریں یا کاپی پیسٹ کریں تاکہ قوم کے ان جذبات و احساسات کو اربابِ بست و کشاد تک پہچایا جاسکے ۔
: ظفر علی

جمعۃالمبارک کو کالج میں منعقدہ بزمِ ادب کی تصویری جھلکیاں ۔۔۔
29/11/2025

جمعۃالمبارک کو کالج میں منعقدہ بزمِ ادب کی تصویری جھلکیاں ۔۔۔

ساقی نامہہُوا خیمہ زن کاروانِ بہاراِرم بن گیا دامنِ کوہسارگُل و نرگس و سَوسن و نسترنشہیدِ ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھُپ گی...
09/11/2025

ساقی نامہ
ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار
اِرم بن گیا دامنِ کوہسار
گُل و نرگس و سَوسن و نسترن
شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن
جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں
لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں
فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور
ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور
وہ جُوئے کُہستاں اُچکتی ہوئی
اَٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئی
اُچھلتی، پھِسلتی، سنبھلتی ہوئی
بڑے پیچ کھا کر نِکلتی ہوئی
رُکے جب تو سِل چِیر دیتی ہے یہ
پہاڑوں کے دل چِیر دیتی ہے یہ
ذرا دیکھ اے ساقی لالہ فام!
سُناتی ہے یہ زندگی کا پیام
پِلا دے مجھے وہ میء پردہ سوز
کہ آتی نہیں فصلِ گُل روز روز
وہ مے جس سے روشن ضمیرِ حیات
وہ مے جس سے ہے مستیِ کائنات
وہ مے جس میں ہے سوزوسازِ ازل
وہ مے جس سے کھُلتا ہے رازِ ازل
اُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے
ہُوا اس طرح فاش رازِ فرنگ
کہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگ
پُرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہے
گیا دَورِ سرمایہ داری گیا
تماشا دِکھا کر مداری گیا
گراں خواب چِینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے
دلِ طُورِ سینا و فاراں دو نِیم
تجلّی کا پھر منتظر ہے کلیم
مسلماں ہے توحید میں گرم جوش
مگر دل ابھی تک ہے زُنّار پوش
تمدّن، تصوّف، شریعت، کلام
بُتانِ عَجم کے پُجاری تمام!
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ اُمّت روایات میں کھو گئی
لُبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب
مگر لذّتِ شوق سے بے نصیب!
بیاں اس کا منطق سے سُلجھا ہُوا
لُغَت کے بکھیڑوں میں اُلجھا ہُوا
وہ صُوفی کہ تھا خدمتِ حق میں مرد
محبّت میں یکتا، حمِیّت میں فرد
عَجم کے خیالات میں کھو گیا
یہ سالک مقامات میں کھو گیا
بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہےشرابِ کُہن پھر پِلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا!
مجھے عشق کے پَر لگا کر اُڑا
مری خاک جُگنو بنا کر اُڑا
خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا استاد کر
ہری شاخِ مِلّت ترے نم سے ہے
نفَس اس بدن میں ترے دَم سے ہے
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
دلِ مرتضیٰؓ، سوزِ صدّیقؓ دے
جگر سے وہی تِیر پھر پار کر
تمنّا کو سِینوں میں بیدار کر
ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر
زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے
مری ناؤ گِرداب سے پار کر
یہ ثابت ہے تُو اس کو سیّار کر
بتا مجھ کو اسرارِ مرگ و حیات
کہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات
مرے دیدۂ تَر کی بے خوابیاں
مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں
مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوَت و انجمن کا گداز
اُمنگیں مری، آرزوئیں مری
اُمیدیں مری، جُستجوئیں مری
مری فطرت آئینۂ روزگار
غزالانِ افکار کا مرغزار
مرا دل، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر، یقیں کا ثبات
یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
اسی سے فقیری میں ہُوں مَیں امیر
مرے قافلے میں لُٹا دے اسے
لُٹا دے، ٹھِکانے لگا دے اسے!

ایک ہی لفظ سے خالی جگہ پٔر کریں ۔۔۔
08/11/2025

ایک ہی لفظ سے خالی جگہ پٔر کریں ۔۔۔

15/10/2025
Honorable Principal in "Inclusive Academia &AI" conference at FCE Islamabad.
07/10/2025

Honorable Principal in "Inclusive Academia &AI" conference at FCE Islamabad.

01/10/2025

بال جبریل (16)
میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صف
آہ! وہ تیرِ نیم کش، جس کا نہ ہو کوئی ہدف
تیرے محیط میں کہیں گوہرِ زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج، دیکھ چکا صدف صدف
عشقِ بتاں سے ہاتھ اٹھا، اپنی خودی میں ڈوب جا
نقش و نگارِ دیر میں خونِ جگر نہ کر تلف
کھول کے کیا بیاں کروں سرِ مقامِ مرگ و عشق
عشق ہے مرگِ با شرف، مرگ حیاتِ بے شرف
صحبتِ پیرِ روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب ایک کلیم سَر بکف
مثلِ کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی
اب بھی درختِ طور سے آتی ہے بانگِ لا تخف
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہَ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

(1). معانی: میرِ سپاہ ناسزا: سپہ سالار نالائق ہے ۔ لشکریاں شکستہ صف: فوجوں میں نظم و ضبط نہیں ۔ تیرِ نیم کش: آدھا کھچا ہوا تیر جس کا کوئی ہدف نہ ہو ۔
مطلب: اس نظم کے اشعار میں قریب قریب ہر مقام پر اقبال کی حیثیت ایک دل گرفتہ اور مایوس شاعر کے مانند ہے ۔ چنانچہ ابتدائی شعر میں ہی وہ ایک صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے بڑے دردانگیز لہجے میں یوں گویا ہیں کہ میری قوم اپنی بے حسی اور بے عملی کے سبب انتہائی انتشار کا شکار ہے ۔ یہ بھی ہے کہ قوم کا جو رہنما ہے وہی بے عمل اور قیادت کی صلاحیت سے عاری ہے چنانچہ نہ تو قوم کے سامنے کوئی جذبہ تعمیر ہے نا ہی اس کے رہنما کے ذہن میں کوئی تعمیری منصوبہ جو مثبت کیفیت کا حامل ہو ۔
(2). مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ معاشرے اور قوم میں کوئی تعمیری جوہر تلاش کر سکوں لیکن اس سعی میں بری طرح ناکام ہوا ۔ عملاً یہ اشعار ملت کے انتشار بے عملی اور بے راہ روی کا نوحہ ہیں ۔ ان حالات میں بھی اقبال کسی مثبت پہلو کے متلاشی نظر آتے ہیں
(3). مطلب: اس شعر میں اقبال ملت کو ایک نئی راہ سے آگاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غیروں کی مدح سرائی اور خوشامد سے احتزاز کرتے ہوئے خود اپنی حقیقت کو پہچاننے اور جاننے کی کوشش کر کہ غیروں کی خوشامد اور کاسہ لیسی میں کسی نوع کی قربانی دینا بے مقصد اور بے فائدہ ہے ۔ مراد یہ ہے کہ صحیح انسان وہی ہے جو دوسروں کی غلامی کو مسترد کرتے ہوئے اپنی آزادی کا تحفظ کرے
(4). مطلب: موت اور عشق کے مابین جو فرق ہے اس کو زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی حاجت نہیں بس اتنا کہہ دینا ہی کافی ہو گا کہ عزت کے ساتھ جان دینے کا نام ہی فی الواقع عشق ہے ۔ اس کے برعکس موت بے شرف اور بے وقار عمل کا نام ہے ۔ مراد یہ ہے کہ بے عزتی اور بے وقار زندگی ہی موت کے مترادف ہے ۔
(5). مطلب: اقبال فرماتے ہیں کہ مولانا روم کی تعلیمات نے مجھ پر یہ راز منکشف کیا کہ لاکھوں فلسفی اپنے علوم کو دوسروں تک پہنچانے کے باوجود ایک ایسے شخص کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو عالم باعمل ہے اور عشق حقیقی سے سرشار ہے اور اپنا یہ جذبہ دوسروں میں منتقل کرتا ہے
(6). معانی: معرکہ آزما: جنگ کرنے والا ۔ لا تخف: مت ڈر ۔
مطلب: اس شعر کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح فرعون سے نبرد آزما ہونے کی روایت اگر کوئی آج کے عہد میں بھی زندہ رکھنے کا اہل ہو تو جس طرح فرعون کے خلاف خداوند تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد کی تھی اس طرح آج بھی وہ ایسے شخص کا یقینا مددگار ہو گا ۔ مراد یہ ہے کہ باطل کے خلاف نبرد آزما ہونا ہی حمایت خداوندی کی بنیاد بنتا ہے
(7). مطلب: اس نظم کے آخری شعر میں اقبال عملاً اپنے ذاتی عقیدے کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مغربی تہذیب و دانش نے اپنی تمام تر جلوہ طرازی کے مجھے اس لیے متاثر نہیں کیا کہ میرا واسطہ تو مدینہ و نجف سے ہے ۔ یعنی حضور سرورکائناتﷺ اور امیر المومنین حضرت علی کی تعلیمات نے ہی مجھے وہ بصیرت عطا کی جس کے بعد کسی دوسرے کے فرمودات کی ضرورت نہیں رہتی ی

کمپیوٹر لیب میں طلبہ مصروف ہیں
30/09/2025

کمپیوٹر لیب میں طلبہ مصروف ہیں

Address

Shah Allah Ditta
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when IMCB, Shah Allah Ditta Islamabad Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share