University of Jhang

University of Jhang University of Jhang, A newly Approved University for Jhang

روچی رام ساہنی، ایک اور دھرتی کا بیٹا جسے ہم نے بھلا دیا۔۔۔جنہوں نے پیدل ڈیرہ اسماعیل خان سے جھنگ کا سفر کیا اور آدھیوال...
04/09/2023

روچی رام ساہنی، ایک اور دھرتی کا بیٹا جسے ہم نے بھلا دیا۔۔۔
جنہوں نے پیدل ڈیرہ اسماعیل خان سے جھنگ کا سفر کیا اور آدھیوال سکول میں داخلہ لیا۔ اس سکول میں انھوں نے بابو کاشی ناتھ چٹرجی سے انگریزی اور ریاضی سیکھی۔ روچی رام ساہنی کے مطابق بابو کاشی ناتھ کا نہ صرف پڑھانے کا انداز متاثر کن تھا بلکہ شخصیت بھی نہایت متاثر کن تھی۔ وہاں انھوں نے اپنے دو کلاس فیلوز، گردِتہ مل اور بھائی رام سنگھ سے بھی دوستی کی، جنھوں نے بعد میں اپنے اپنے شعبوں میں نام کمایا۔ بابو کاشی ناتھ چٹرجی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ساہنی نے جھنگ چھوڑ دیا اور حویلی راجہ دھیان سنگھ لاہور کے گورنمنٹ ہائی سکول میں داخلہ لے لیا۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کیا۔ پنجاب کے پہلے سائنسدان بنے، معروف طبیعات دان ارنسٹ ردرفورڈ اور نیلز بوہر کے ساتھ کام کیا۔تحریکِ خلافت میں حصہ لیا، “سر” کا خطاب واپس کیا۔۔
1947ء میں روچی رام ساہنی نے لاہور سے ہجرت کرتے وقت اپنی تحریروں کو سٹیل کے ایک ٹرنک میں بند کر کے 22 ریٹیگن روڈ لاہور پر واقع اپنے گھر میں چھوڑ دیا تھا۔ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی فسادات اور امن کی بحالی کے بعد کسی دن اپنے گھر واپس آنے کی امید رکھتے تھے مگر وہ اپنے گھر واپس نہیں آ سکے۔۔۔

شاباش جھنگ کی بیٹی، شاباش ماہا یوسف، آپ صرف جھنگ کے لیے باعث فخر نہیں ہو بلکہ ہر اس باپ کو آپ پر فخر ہے جس نے معاشرے کی ...
22/06/2023

شاباش جھنگ کی بیٹی، شاباش
ماہا یوسف، آپ صرف جھنگ کے لیے باعث فخر نہیں ہو بلکہ ہر اس باپ کو آپ پر فخر ہے جس نے معاشرے کی دباؤ کو خاطر میں نا لاتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی بھیجا، ہر اس ماں کا فخر ہو جس نے اپنی بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے اسے گھر سے دور بھیجا۔ ہر اس بھائی کا فخر ہو جسے اپنی بہن کی تعلیم پر مان ہے، ہر اس بہن کا فخر ہو جو اپنی سہیلیوں میں اپنی بہن کی تعلیم کا ذکر سر اٹھا کر کرتی ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے
اسی واسی جھنگ دے لوک سجن
ساڈا دل دریا، ساڈی اکھ صحرا
شاباش بیٹی

جھنگ سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ عائشہ صدیقہ کو ٹائم میگزین نے وومن آف دا ایئر قرار دیا ہے۔عائشہ صدیقہ انسانی حقوق اور ما...
08/03/2023

جھنگ سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ عائشہ صدیقہ کو ٹائم میگزین نے وومن آف دا ایئر قرار دیا ہے۔

عائشہ صدیقہ انسانی حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کی تصویر بطور وومن آف دا ایئر ٹائم میگزین کے 13 مارچ سے 20 مارچ تک کے ایڈیشن کے کوور پر شائع کی گئی ہے۔

جھنگ میں دریائے چناب کے کنارے اپنا بچپن گزارنے والی عائشہ صدیقہ نے 2012 میں اپنے دادا اور پھر 2014 میں اپنی دادی کو کینسر کے مرض کے باعث کھو دیا تھا۔ وہ ان کی موت کی وجہ دریا میں بہنے والے آلودہ پانی کو قرار دیتی ہیں۔

اس کے بعد عائشہ نیو یارک چلی گئیں جہاں انہوں نے اپنی کالج ڈگری مکمل کی اور اب ان کا شمار دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کے لیے کام کرنے والوں میں ہوتا ہے۔

عائشہ صدیقہ اپنے احساسات کا اظہار شاعری کے ذریعے کرتی ہیں اور اسی کو بطور احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں۔

دی انڈیپینڈنٹ

Proud moment for the University of Jhang that our faculty members Dr. Abdul Basit (Dept. of Microbiology) and Dr. Sultan...
02/08/2022

Proud moment for the University of Jhang that our faculty members Dr. Abdul Basit (Dept. of Microbiology) and Dr. Sultan Adal (Dept. of Management of Sciences) successfully achieved the associate fellowship against UK Professional Standards framework from the Higher Education Academy UK.

16/06/2022
May 30, 2022The University of Jhang Signed an MOU with Lahore Leads University for academic and research collaboration.
06/06/2022

May 30, 2022
The University of Jhang Signed an MOU with Lahore Leads University for academic and research collaboration.

06/06/2022

شہر تو تقریبا آٹھ سو سال پرانا ہے مگر کچھ چھوٹی اینٹیں اور تیکھے ناک اس علاقے کا تعلق چندر گپت موریہ کے وقت سے بتاتے ہیں اور کچھ روائتیں یہاں سکندر اعظم کے لشکر کی روداد سناتی ہیں۔

زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ جھنگ کی بنیاد تیرہویں صدی کے آخر میں رائے سیال نے حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری کے کہنے پہ رکھی۔

آنے والے سالوں میں یہاں سیالوں سے نولوں اور کھیوووں سے بھونگ تک، تقریبا تمام اہم خاندان گاہے گاہے حکومت کرتے رہے۔

وقت بدلا تو عنان اقتدار سکھوں کے ہاتھ آ گئی اور ان کے بعد بھیرووال کا معاہدہ ہوا جس کی رو سے انگریزوں نے اس شہر کو اپنے قلمدان میں شامل کیا، مگر سیالوں سے سیدوں تک جھنگ میں سب کچھ ہوا، ترقی نہیں ہو سکی۔

پانیوں کے آسرے بسی اس بستی کے زیادہ تر لوگ زمین سے رزق اگاتے ہیں۔ مٹی کے ساتھ مٹی ہونے والے یہ کسان بچوں کی طرح بارش کی دعا مانگتے ہیں، مگر بارشیں صرف کھلیانوں میں ہریالی نہیں لاتی بلکہ دریاؤں میں طغیانی کا سبب بھی بنتی ہیں، سو چناب کی قربت جہاں ٹھنڈی شاموں کی سوغات لاتی ہے وہیں سیلاب کا خطرہ بھی پیش کرتی ہے۔

آبادی اور بربادی کے اسی دن رات کا اثر مکینوں میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ جھنگ والوں کے خاکستری لہجوں میں در آنے والا درد انہیں شوریدہ پانیوں کی عطا ہے جن کے لئے یہ دعا مانگتے ہیں۔

دریا سے دور ایک سیلانی کہانی ہیرا اور چندر بھان کی بھی ہے۔ جھنگ کے محلہ بھبھڑانہ تھلہ میں ہندو آباد تھے اور یہیں ایک گھر کوشلیہ کا بھی تھا۔

کچھ تو خدا نے حسن کی نعمت دے رکھی تھی اور کچھ باپ صاحب حیثیت تھا، سو کوشلیہ کی خوبصورتی سارے پتن میں مشہور ہو تھی ۔

کہتے ہیں دریا کے بغیر پنجاب کا ہر رومان ادھورا ہے اسی لئے ہیرا سنگھ نے پہلی بار، کوشلیہ کو چناب کے کنارے پہ دیکھا جب وہ مسن کے میلے میں شرکت کرنے جا رہی تھی۔ اب اسے صحرائی راتوں کا خمار کہئے یا دریا کی قربت کا طلسم! دونوں ایک ہی کشتی میں بیٹھے اور پار اترنے سے پہلے پہلے ایک دوسرے کے دل میں اتر گئے۔

واپسی پہ کچھ دیر تو ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا مگر پھر آہستہ آہستہ بات نکل گئی۔ گھر والوں نے کوشلیہ کا راستہ روکا تو ہیرا سنگھ پہ عرفان کے نئے دروازے کھلنے لگے۔ برسوں گپ چپ رہنے والا کھلنڈرا یک بارگی اظہار کی آبشار بن گیا۔

جب بات بس سے باہر ہو گئی تو لڑکے کے گھر والوں نے لڑکی کے گھر پیغام بھجوایا۔ معلوم نہیں کنڈلیوں میں پھیر تھا یا ستاروں میں، مگر کوشلیہ کے باپ نے رسم اور مذہب کی تاویل دے کر رشتے سے انکار کر دیا۔

فراق مقدر ہوا تو دونوں اپنی اپنی آگ جلنے لگے۔ ہندو زادے کے دل پہ پہلی بار چوٹ لگی تھی سو اس کا سارا وجود ستار میں ڈھل گیا تھا۔ مضراب کے راگ گلی گلی کوشلیہ کوشلیہ پکارتے پھرتے۔

بیٹی کے نام کے دوہڑے مقبول ہوئے تو کوشلیہ کے باپ نے ہیرا سنگھ کے باپ کو بلا کر معذرت کی کہ رشتوں کا نہ ہونا تو قسمت کا کھیل ہے مگر اس طرح جو خاک اڑ رہی ہے وہ مناسب نہیں۔

باپ نے گھر آ کر بیٹے کو سمجھایا تو ہیرا سنگھ نے کوشلیہ کی بجائے چندر بھان کا نام استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اب ہیرا کے شعر، آرتی کے پھولوں کی طرح نذر تو چندر بھان کے قدموں میں ہوتے مگر دل میں کوشلیہ کے اترتے۔ وہ دوہڑے تو چندر بھان کے نام لکھتا مگر ہوک کوشلیہ کے دل پہ اٹھتی۔

جھنگ میں اب بھی کچھ بوڑھے ایسے ملتے ہیں جنہوں نے ہیرا سنگھ کو بھبھڑانہ محلہ کے باہر کھڑے ہو کر چندر بھان کی تانیں اڑاتے ہوئے سنا ہے۔ اس قصے میں آہوں اور سسکیوں کے سوا بہت سے نادیدہ آنسو بھی ہیں جو کبھی آنکھوں سے نکلے ہی نہیں بس اندر ہی اندر کہیں گرتے رہے۔

کوشلیہ کے گھر والوں نے اس سارے قصے سے بچنے کے لئے اس کی شادی طے کر دی مگر ماتھے کا سیندور دل کے سنجوگ سے بہت ہلکا تھا۔ درس، دیدار اور درشن کی صورت نہ نکلی تو ہیرا سنگھ نے لکھا؛

رات کالی، تانگ یار والی، سخن یار دا بدن وچ تیر کھڑکے اک در بند، دوجا دربان دشمن، ٹراں تیز تاں پیری زنجیر کھڑکے ستا ویکھ دربان نوں در کھولاں، کھولاں در تے در بے پیر کھڑکے ہیریا جینوں مرض ہے عشق والی، سنے ہڈیاں سارا سریر کھڑکے

جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو آزادی کی تحریک زوروں پہ تھی۔ قطب نما کی چار سمتوں کی طرح پنجاب میں اکالی، کانگریس، یونینسٹ اور مسلم لیگ پنجابیوں کو مختلف اطراف ہنکا رہی تھیں، مگر ہیرا اور کوشلیہ کے لئے آزادی، سوراج اور انقلاب خدا جانے کس دیس کے پنچھی تھے۔

کچھ وقت اور گزرا تو کوشلیہ سے دو زندگیاں گزارنا مشکل ہو گیا۔ وہ بیک وقت ایک مرد سے محبت اور دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے سے قاصر تھی، سو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس جھنگ آ گئی۔

دوسری طرف، چندر بھان سے مستقل دوری نے ہیرا کی زندگی تاریک کر دی تھی۔ لہو کی مانند سرپٹ بھاگتا اس کا عشق، اب موت کی برفیلی دلکی چل رہا تھا۔ پھر ایک دن ساری رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد اس کی پلکیں واپس نہیں اتریں۔

کہتے ہیں جس وقت ہیرا سنگھ کی ارتھی کو شمشان کی طرف لے جایا جا رہا تھا، اس وقت چندر بھان جانے کہاں سے آ نکلی اور ارتھی کا راستہ روک کر بے ساختہ اس مردہ وجود سے لپٹ گئی جس سے جیتے جی اسے مذہب اور معاشرے نے ملنے نہیں دیا۔ جب تک آگ کے شعلے جلتے رہے اس وقت تک چندربھان بلکتی رہی مگر پھر خاموش ہو گئی۔

عین ممکن تھا کہ اس کہانی کی کوکھ سے کوئی ابدی کردار تخلیق ہوتا اور لوک داستانیں لکھی جاتیں مگر پھر پاکستان بن گیا اور محلہ بھبھڑانہ کے سارے ہندو سرحد پار چلے گئے۔

خدا جانے چندر بھان اب بھی ہیرا کا سوگ مناتی ہے یا تقسیم کے نشتر نے اسے ہیرا کے غم سے زیادہ گہرے گھاؤ لگا دئیے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ نئے ملک میں اسے نئی زندگی مل گئی ہو، مگر ان تمام باتوں سے بے نیاز جھنگ کی خاک اڑاتی دوپہروں اور سنسان شاموں میں اب بھی چندربھان کے ماتم اور ہیرا کے دوہڑے سنائی دیتے ہیں۔
کتاب: ریل کی سیٹی

31/05/2022

پھول پھول زندگی،رنگ رنگ زندگی،ہیر ہیر زندگی،جھنگ جھنگ زندگی
دھڑکنوں کی تال پر ناچتی سہاگنیں،بانہہ بانہہ زندگی،وَنگ وَنگ زندگی

شیر افضل جعفری

21/01/2022

فروری 2009 میں دریائے چناب کے کنارے آباد خوبصورت شہر چنیوٹ کو پنجاب کے 36 ویں ضلع کا درجہ دیا گیا۔چنیوٹ ضلع کا حدود اربعہ 2643 مربع کلو میٹر ہے جبکہ اس کی کل آبادی 13,69,740 نفوس پر مشتمل ہے۔جب چنیوٹ کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو اس وقت رانا طاہر خان کو چنیوٹ کا DCO، فیاض سنبل شہید کو DPO جبکہ دلمیر خان کو پہلا ڈسٹرکٹ اکاؤ نٹس آفیسر مقرر کیا گیا۔بھوآنہ، لالیاں اور چنیوٹ پہ مشتمل تین تحصیلوں کے ذریعے اس نئے ضلع کا کام شروع ہوا۔ ضلع بننے سے پہلے چنیوٹ، جھنگ کی ایک تحصیل ہوا کرتی تھی۔ 1849 میں برٹش راج نے جھنگ کو ضلع کا درجہ دیا اور تین تحصیلیں (جھنگ، چنیوٹ، قادرپور) معرض وجود میں آئیں۔1851میں وہ تمام علاقے جو دریائے راوی کی حدود میں تھے انہیں جھنگ ضلع سے نکال دیا گیا اور ضلع ملتان میں شامل کر دیا گیا۔1854میں فروکہ اور اس کے مضافات کو بھی جھنگ سے نکال کر سرگودھا میں شامل کر دیا گیا۔ 1861 میں ضلع جھنگ کی باؤنڈری تبدیل ہوئی اور چار تحصیلیں (جھنگ، چنیوٹ، احمد پور سیال، شورکوٹ) بن گئیں۔1884 میں جھنگ کی تحصیل چنیوٹ کا جنگلی علاقہ جات گوجرانوالہ میں شامل کر دیا گیا۔ 1886 میں چناب کالونی سسٹم کے بعدلائل پور کو جھنگ کی تحصیل بنا دیا گیا۔ 1890میں جھنگ ضلع مزید سکڑ گیااور اس سے کئی اہم علاقے علیحدہ ہو کر اضلاع اور تحصیلیں بن گئے۔لیہ جو پہلے جھنگ ضلع کا حصہ ہوا کرتا تھا وہ بھی جھنگ سے نکل کر مظفرگڑھ میں شامل ہو گیا۔حیدرآباد کا علاقہ جھنگ سے جدا ہوکر میانوالی میں شامل ہو گیا۔پنڈی بھٹیاں بھی جھنگ ضلع سے نکل کر گوجرانوالہ میں شامل ہو گیا۔جبکہ ساہیوال بھی علیحدہ ہو کر ایک نیا ضلع بن گیا۔1904 میں جھنگ ڈسٹرکٹ کو مزید تقسیم کیا گیا اور لائل پور کو جھنگ سے نکال کر الگ ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ آج وہی لائل پور، فیصل آباد کے نام سے الگ ڈویژن بن چکا ہے اور جھنگ اسی لائل پور کا ایک ضلع ہے۔ 1907میں جھنگ سے سبھاگہ اور اس کے مضافات میں 18 سے زائد دیہی علاقہ جات بھی جھنگ سے سرگودھا کو منتقل کر دیئے گئے۔پھر 2009 آیا اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تحصیل چنیوٹ کو بھی جھنگ سے جدا کیا اور الگ ضلع کا درجہ دے دیا۔یہ کہانی جو 1849 سے شروع ہوئی بالآخر 160سال بعد 2009 میں اختتام پزیر ہوئی۔ الحمداللہ چنیوٹ اور اسکی تحصیلیں کافی بہتر ہیں۔ یہاں تمام سہولیات میسر ہیں۔ ہمارا ریوینیو بھی دوسرے کئی اضلاع سے بہتر ہے۔ تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی چنیوٹ ضلع کئی اضلاع سے آگے بھی ہے اور بہت بہتر بھی ہے۔دریائے چناب کے کنارے پر ہونے کی وجہ سے ہماری تمام تحصیلیں زرعی اعتبار کی وجہ سے بھی کافی ترقی یافتہ ہیں۔ہم اس وقت فیصل آباد ڈویژن میں شامل ہیں۔ چنیوٹ سے فیصل آباد کا سفر صرف 30 منٹ کا ہے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر سمیت تمام تحصیلیں اپنے ڈویژنل سطح کے کام آسانی سے نکلوا سکتے ہیں اور وقت کی بہت بچت بھی ہوتی ہے۔ قارئین بات دراصل یہ ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ایک پرپوزل زیر بحث ہے جس میں جھنگ ضلع سے تعلق رکھنے والے اراکین پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترم عثمان بزدار کو ایک ہاتھ سے لکھی درخواست پیش کی جس میں جھنگ کو (چنیوٹ، جھنگ اور بھکر ملا کر) الگ ڈویژن بنانے کا کہا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس درخواست میں چنیوٹ ضلع سے تعلق رکھنے والے دو ارکان پنجاب اسمبلی بھی اپنے دستخط فرما چکے ہیں۔چنیوٹ سے یہ اعزاز ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب محترمہ سلیم بی بی بھروانہ اور مہر تیمور امجد لالی کو حاصل ہوا ہے۔ گو کہ پارلیمانی سیکرٹری و ممبر پنجاب اسمبلی مہر تیمور امجد لالی عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے اس پرپوزل کے حوالے سے یوٹرن لے چکے ہیں اور باقاعدہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ میں اپنی عوام کے ساتھ ہوں جو انہوں نے کہا وہی میرا فیصلہ بھی ہو گا مگر لالی صاحب کاش یہی بات آپ پہلے سوچ لیتے اور دستخط کرتے وقت پرپوزل پہ ہی لکھ دیتے یا اس وقت پریس کانفرنس کر دیتے اور وہاں یہ اعلان فرماتے کہ جھنگ ڈویژن کے قیام کے لیئے میں ان بھائیوں کے ساتھ ہوں مگر چنیوٹ کی شمولیت کا فیصلہ میں اپنے ضلع کی عوام کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتا۔ چلیں لالی صاحب کو کچھ تو خیال آیا عوامی امنگوں کا۔ خیر بھوآنہ سے منتخب ایم پی اے صاحبہ محترمہ سلیم بی بی بھروانہ کو نہ دستخط کرتے وقت چنیوٹ کی عوام کا خیال آیا اور نہ اس بات کو گزرے دس دنوں تک خیال آیا کہ اس کی تردید ہی کر دوں یا اس بارے کوئی بیان ہی داغ دوں۔ ویسے وہ ٹھیک ہیں اپنی بات پہ کیونکہ وہ تو خود ضلع جھنگ کی رہائشی ہیں اور یہان دوسرے ضلع سے الیکشن لڑ کر ایم پی اے منتخب ہوئی ہیں۔ اسی لیئے انہوں نے چنیوٹ کی شمولیت ڈویژن جھنگ میں کرنے پہ کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ جھنگ کو ڈویژن بنایا جائے اس سے ہم سب متفق ہیں مگر جو چنیوٹ ضلع کو جھنگ ڈویژن میں ملانے کی بات چیت ہو رہی ہے ہم اس کے مخالف ہیں۔رہی بات جھنگ کی تو اس کو ڈویژن بنانے میں جو کردار زیادہ متحرک ہیں تو ان میں جھنگ کی عوام کے ساتھ ساتھ ضلع جھنگ سے تحریک انصاف کے منتخب ایم پی اے پنجاب اسمبلی رانا شہباز احمد خان، راہ حق پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ایم پی اے مولانا معاویہ اعظم، صوبائی وزیر رائے تیمور بھٹی اور ان کے ساتھ ساتھ جھنگ سے تحریک انصاف کی منتخب ایم این اے محترمہ غلام بی بی بھروانہ ہیں۔جھنگ کی 160سالہ تاریخ جو اوپر بیان کی ہے اس میں ہمیشہ جھنگ کو نقصان پہنچا، ہر ہر مفاد پرست نے جھنگ سے مفاد اٹھایا۔ جھنگ سے مختلف چھوٹے چھوٹے شہر جدا ہوتے رہے اور جدا ہو کر کوئی تحصیل بنا تو کوئی الگ ضلع۔ اس کی وجوہات بہت تلخ ہیں۔ جھنگ میں ہمیشہ سیاست نے بڑی بڑی چالیں چلی ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب جب جھنگ میں سیاست نے پینترے بدلے ہیں تبھی جھنگ کو نقصان ہوا ہے۔بلاشبہ جھنگ میں عظیم سیاستدان موجود ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جھنگ سے مخلص بہت کم لوگ ہیں۔ جنہیں جھنگ کا درد ہے انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔جھنگ میں سیاست نے ہی خون کی ندیاں بھی بہائیں۔ مذہبی انتہا پسندی ایک لمبا عرصہ عروج پر رہی۔تبھی جھنگ نے ترقی نہ کی اور جھنگ باقی اضلاع کی نسبت کافی پیچھے رہا۔ہم بطور چنیوٹ کے شہری اپنے جھنگ کو ڈویژن بنانے میں جھنگ والوں کے ساتھ ہیں مگر چنیوٹ کی شمولیت کے بغیر۔ جھنگ ڈویژن تو ایک نا ایک دن بن ہی جائے گا مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ جھنگ کے سیاستدانون کو اپنے مفادات ایک سائیڈ پہ رکھ کے جھنگ کے لیئے نکلنا ہو گا۔اب بھی وقت ہے جھنگ کے سیاستدان جھنگ کے لیئے سوچیں اور جھنگ کو ترقی یافتہ بنائیں۔ اپنے اپنے مفادات کے ساتھ چلیں گے تو جھنگ کی ترقی ناممکن ہے۔ لہذا جھنگ والو۔۔۔ جھنگ کے لیئے سوچو۔

شور کوٹ:  شور کوٹ جھنگ شہر سے اٹھاون کلو میٹر جنوب میں واقع ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔ حضرت سلطان باہو کے والد حضرت ابو...
19/05/2021

شور کوٹ:

شور کوٹ جھنگ شہر سے اٹھاون کلو میٹر جنوب میں واقع ایک قدیم اور تاریخی شہر ہے۔

حضرت سلطان باہو کے والد حضرت ابو زید محمد اور والدہ حضرت بی بی راستی صاحبہ کے مزارات اس شہر میں ہونے کی بنا پر اسے مائی باپ کاشہر بھی کہا جاتا ہے۔

تاریخ کھنگال کر دیکھیں تو شورکوٹ جھنگ سے بھی پرانی تاریخ رکھتا ہے۔

تاریخ دان بلال زبیری اپنی کتاب 'تاریخِ جھنگ' میں لکھتے ہیں کہ یہ شہر مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا جیسے کہ سمیر کوٹ، آشور کوٹ، ایشور کوٹ، شیو کوٹ، سور کوٹ، شور کوٹ وغیرہ۔

اُن کے مطابق یہاں موجود کھنڈرات ثابت کرتے ہیں کہ دس ہزار سال قبل مسیح میں بھی یہاں زندگی کے آثار موجود تھے۔

اس بارے میں وہ مزید لکھتے ہیں کہ تاریخ میں یہ بات درج ہے کہ یہ شہر قدیم ترین قبائل سمیریوں، بابلیوں اور آشوریوں کے تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔

شہر کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ فرعون سیاستریس نامی سپہ سالار نے اس کی بنیاد دس ہزار سال قبل مسیح سے بھی پہلے رکھی اور اپنے خدا کے نام سے منسوب کرتے ہوئے اسے ایشور کوٹ کا نام دے دیا لیکن اس بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ نہیں ملتا۔

شور کوٹ میں داخل ہوتے ہی قدیم قلعہ "بھڑ" کے آثار واقع ہیں جو سمیری قبائل نے آباد کیا اور یہ قلعہ سمیریوں کے بعد کئی دیگر قدیم قبائل آریا، بھیل، دراوڑ اور آشوریوں کا مسکن رہا۔

325 قبل مسیح میں سکندر اعظم جب ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو وہ کئی علاقوں سے ہوتا ہوا شورکوٹ پہنچا اس وقت یہاں کٹھیٹھ اور مل قبائل آباد تھے ۔

مؤرخین لکھتے ہیں سکندر اعظم دو ماہ تک اس قلعے کا محاصرہ کرنے کے باوجود اسے فتح نہ کر سکا تو غصے سے سیخ پا ہو کر اسے بھاری منجنیقوں کی مدد سے تباہ کر دیا۔ (بھڑ کا مطلب تباہ ہونا ہے)

سکندر اعظم کے غیض و غضب سے بچ جانے والوں نے قلعے کے شمال میں مختلف جگہوں پر اپنی الگ سے بستیاں آباد کر لیں۔

تاریخ دان یعقوبی کے مطابق محمد بن قاسم نے جب 712 میں سندھ کو فتح کیا تو اس نے سندھ سے چینوٹ تک کی مختلف ریاستوں کو پانچ صوبوں میں تقسیم کر دیا۔ جن کو روڑ (روہڑی)، ملتان، برہما پور (شورکوٹ)، جندور (چنیوٹ ) کوٹ کروڑ کے نام دئیے گئے۔

شور کوٹ تحصیل دو حصوں، شور کوٹ شہر اور کینٹ میں تقسیم ہے

محمد بن قاسم کے دور میں پہلی بار شورکوٹ کو صوبے کا درجہ دیا گیا اور اس کا پہلا مسلمان گورنر جلال الدین محمود غازی کو مقرر کیا گیا۔

یہاں سے شور کوٹ میں مسلمانوں کے دور کا آغاز ہوا۔ محمد بن قاسم کے علاوہ یہ علاقہ عباسی اور فاطمی خلافتوں کا حصہ بھی رہا۔

بلال زبیری لکھتے ہیں کہ مغل بادشاہ شاہجہاں کے عہد میں شورکوٹ، جھنگ اور کوٹ کروڑ کو صوبہ ملتان میں شامل کر دیا گیا۔

شاہجہاں نے ہی حضرت سلطان باہو کے والد کو ان کی تبلیغی خدمات کے صلہ میں قلعہ قہرگان کے قریب دریائے چناب کے کنارے جاگیر عطا کی جس میں شور کوٹ کا بھی کچھ حصہ شامل تھا۔

مؤرخین کے مطابق صوفی بزرگ سلطان باہو کی پیدائش بھی شور کوٹ کی سرزمین پر ہوئی جنہوں نے اپنی تصانیف میں اس علاقے کا نام قلعہ قہرگان اور شور شریف درج کیا ہے۔

انگریزوں کے آنے سے پہلے راجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں شور کوٹ کو ضلع جھنگ کی تحصیل بنا کر اس علاقے کی اہمیت اور مرکزی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ انتطامی تبدیلیاں کی گئیں۔

1908 میں شور کوٹ شہر سے گیارہ کلو میٹر کے فاصلے پر ریلوے لائن بچھائی گئی جسے دو سال بعد ہی جنکشن کا درجہ دے دیا گیا۔ جس سے کراچی تا پشاور ریلوے لائن کی آمدورفت ممکن ہوئی۔

1965 کی جنگ کے دو سال بعد پاک فضائیہ نے شورکوٹ میں ائیربیس قائم کیا جس کے بعد شور کوٹ کو کینٹ کا درجہ دے دیا گیا۔

فی الوقت شور کوٹ دو حصوں، شور کوٹ شہر اور شور کوٹ کینٹ میں تقسیم ہے۔

اگرچہ یہ شہر مختلف ادوار میں کئی تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے اور تاریخی اعتبار سے بھی یہ لاہور سے کہیں پرانا ہے لیکن آج جو مقام لاہور یا ملتان کو حاصل ہے وہ اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکا۔

سرزمین جھنگ
19/05/2021

سرزمین جھنگ

07/04/2021

Quranic Guidelines for a Succesful Society
1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83

2 غصے کو قابو میں رکھو
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134

3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو،
سورۃ القصص، آیت نمبر 77

4 تکبر نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 23

5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،
سورۃ النور، آیت نمبر 22

6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو،
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11

9 والدین کی خدمت کیا کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

‏10 والدین سے اف تک نہ کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،
سورۃ النور، آیت نمبر 58

12 لین دین کا حساب لکھ لیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282

13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36

14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280

15 سود نہ کھاؤ،
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278

16 رشوت نہ لو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42

17 وعدہ نہ توڑو،
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20

‏18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42

20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو،
سورۃ ص، آیت نمبر 26

21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 8

23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں،
سورۃ النساء، آیت نمبر 7

24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 2

‏25 یتیموں کی حفاظت کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 127

26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 6

27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10

28 بدگمانی سے بچو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

29 غیبت نہ کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

30 جاسوسی نہ کرو،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

31 خیرات کیا کرو،
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271

32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو
سورة المدثر، آیت نمبر 44

33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو،
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273

34 فضول خرچی نہ کیا کرو،
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67

‏35 خیرات کرکے جتلایا نہ کرو،
سورة البقرۃ، آیت 262

36 مہمانوں کی عزت کیا کرو،
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27

37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44

38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو،
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36

39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو،
سورة البقرة، آیت نمبر 114

40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں،
سورة البقرة، آیت نمبر 190

41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو،
سورة البقرة، آیت نمبر 190

‏42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ،
سورة الأنفال، آیت نمبر 15

43 مذہب میں کوئی سختی نہیں،
سورة البقرة، آیت نمبر 256

44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ،
سورۃ النساء، آیت نمبر 150

45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو،
سورة البقرة، آیت نمبر، 222

46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ،
سورة البقرة، آیت نمبر، 233

47 جنسی بدکاری سے بچو،
سورة الأسراء، آیت نمبر 32

48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247

49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو،
سورة البقرة، آیت نمبر 286

50 منافقت سے بچو،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16

‏51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو،
سورة آل عمران، آیت نمبر 190

52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے،
سورة آل عمران، آیت نمبر 195

53 بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 23

54 مرد خاندان کا سربراہ ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 34

55 بخیل نہ بنو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 37

56 حسد نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 54

57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 29

58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو،
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

‏59 گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100

62 صحیح راستے پر رہو،
سورۃ الانعام، آیت نمبر 153

63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 38

64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو،
سورۃ الانفال، آیت نمبر 39

65 مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 3

‏66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

67 جوا نہ کھیلو،
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

68 ہیرا پھیری نہ کرو،
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 70

69 چغلی نہ کھاؤ،
سورۃ الھمزۃ، آیت نمبر 1

70 کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو،
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو،
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو، انھیں مدد دو،
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 6

73 طہارت قائم رکھو،
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 108

74 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،
سورۃ الحجر، آیت نمبر 56

‏75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 17

76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ،
سورۃ النحل، آیت نمبر 125

77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،
سورۃ فاطر، آیت نمبر 18

78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 31

79 جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو،
سورۃ النحل، آیت نمبر 36

‏80 کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (تجسس نہ کرو)،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو،
سورۃ النور، آیت نمبر 27

82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے،
سورۃ یونس، آیت نمبر 103

83 زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو،
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 63

84 اپنے حصے کا کام کرو۔ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین تمہارا کام دیکھیں گے۔
سورة توبہ، آیت نمبر 105

85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،
سورۃ الکہف، آیت نمبر 110

‏86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو،
سورۃ النمل، آیت نمبر 55

‏87 حق (سچ) کا ساتھ دو، غلط (جھوٹ) سے پرہیز کرو،
سورۃ توبہ، آیت نمبر 119

88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو،
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 37

89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں،
سورۃ النور، آیت نمبر 31

90 اللّٰه شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے،
سورۃ النساء، آیت نمبر 48

91 اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہ ہو،
سورۃ زمر، آیت نمبر 53

92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو،
سورۃ حم سجدۃ، آیت نمبر 34

93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو،
سورۃ الشوری، آیت نمبر 38

‏94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے،
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13

95 اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے۔
سورۃ الحدید، آیت نمبر 27

96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے،
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر 11

97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ،
سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر 8

98 خود کو لالچ سے بچاؤ،
سورۃ النساء، آیت نمبر 32

99 اللہ سے معافی مانگو وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے ،
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 199

100 جو دست سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو،
سورۃ الضحی، آیت نمبر 10

101 مجرموں پر ترس نہ کھاؤ. انہیں سر عام سزائیں دیا کرو
سورة نور، آیت نمبر2

Address

Jhang City
35200

Telephone

+92479200425

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when University of Jhang posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to University of Jhang:

Share