21/01/2022
فروری 2009 میں دریائے چناب کے کنارے آباد خوبصورت شہر چنیوٹ کو پنجاب کے 36 ویں ضلع کا درجہ دیا گیا۔چنیوٹ ضلع کا حدود اربعہ 2643 مربع کلو میٹر ہے جبکہ اس کی کل آبادی 13,69,740 نفوس پر مشتمل ہے۔جب چنیوٹ کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو اس وقت رانا طاہر خان کو چنیوٹ کا DCO، فیاض سنبل شہید کو DPO جبکہ دلمیر خان کو پہلا ڈسٹرکٹ اکاؤ نٹس آفیسر مقرر کیا گیا۔بھوآنہ، لالیاں اور چنیوٹ پہ مشتمل تین تحصیلوں کے ذریعے اس نئے ضلع کا کام شروع ہوا۔ ضلع بننے سے پہلے چنیوٹ، جھنگ کی ایک تحصیل ہوا کرتی تھی۔ 1849 میں برٹش راج نے جھنگ کو ضلع کا درجہ دیا اور تین تحصیلیں (جھنگ، چنیوٹ، قادرپور) معرض وجود میں آئیں۔1851میں وہ تمام علاقے جو دریائے راوی کی حدود میں تھے انہیں جھنگ ضلع سے نکال دیا گیا اور ضلع ملتان میں شامل کر دیا گیا۔1854میں فروکہ اور اس کے مضافات کو بھی جھنگ سے نکال کر سرگودھا میں شامل کر دیا گیا۔ 1861 میں ضلع جھنگ کی باؤنڈری تبدیل ہوئی اور چار تحصیلیں (جھنگ، چنیوٹ، احمد پور سیال، شورکوٹ) بن گئیں۔1884 میں جھنگ کی تحصیل چنیوٹ کا جنگلی علاقہ جات گوجرانوالہ میں شامل کر دیا گیا۔ 1886 میں چناب کالونی سسٹم کے بعدلائل پور کو جھنگ کی تحصیل بنا دیا گیا۔ 1890میں جھنگ ضلع مزید سکڑ گیااور اس سے کئی اہم علاقے علیحدہ ہو کر اضلاع اور تحصیلیں بن گئے۔لیہ جو پہلے جھنگ ضلع کا حصہ ہوا کرتا تھا وہ بھی جھنگ سے نکل کر مظفرگڑھ میں شامل ہو گیا۔حیدرآباد کا علاقہ جھنگ سے جدا ہوکر میانوالی میں شامل ہو گیا۔پنڈی بھٹیاں بھی جھنگ ضلع سے نکل کر گوجرانوالہ میں شامل ہو گیا۔جبکہ ساہیوال بھی علیحدہ ہو کر ایک نیا ضلع بن گیا۔1904 میں جھنگ ڈسٹرکٹ کو مزید تقسیم کیا گیا اور لائل پور کو جھنگ سے نکال کر الگ ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ آج وہی لائل پور، فیصل آباد کے نام سے الگ ڈویژن بن چکا ہے اور جھنگ اسی لائل پور کا ایک ضلع ہے۔ 1907میں جھنگ سے سبھاگہ اور اس کے مضافات میں 18 سے زائد دیہی علاقہ جات بھی جھنگ سے سرگودھا کو منتقل کر دیئے گئے۔پھر 2009 آیا اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تحصیل چنیوٹ کو بھی جھنگ سے جدا کیا اور الگ ضلع کا درجہ دے دیا۔یہ کہانی جو 1849 سے شروع ہوئی بالآخر 160سال بعد 2009 میں اختتام پزیر ہوئی۔ الحمداللہ چنیوٹ اور اسکی تحصیلیں کافی بہتر ہیں۔ یہاں تمام سہولیات میسر ہیں۔ ہمارا ریوینیو بھی دوسرے کئی اضلاع سے بہتر ہے۔ تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی چنیوٹ ضلع کئی اضلاع سے آگے بھی ہے اور بہت بہتر بھی ہے۔دریائے چناب کے کنارے پر ہونے کی وجہ سے ہماری تمام تحصیلیں زرعی اعتبار کی وجہ سے بھی کافی ترقی یافتہ ہیں۔ہم اس وقت فیصل آباد ڈویژن میں شامل ہیں۔ چنیوٹ سے فیصل آباد کا سفر صرف 30 منٹ کا ہے۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر سمیت تمام تحصیلیں اپنے ڈویژنل سطح کے کام آسانی سے نکلوا سکتے ہیں اور وقت کی بہت بچت بھی ہوتی ہے۔ قارئین بات دراصل یہ ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ایک پرپوزل زیر بحث ہے جس میں جھنگ ضلع سے تعلق رکھنے والے اراکین پنجاب اسمبلی نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترم عثمان بزدار کو ایک ہاتھ سے لکھی درخواست پیش کی جس میں جھنگ کو (چنیوٹ، جھنگ اور بھکر ملا کر) الگ ڈویژن بنانے کا کہا گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس درخواست میں چنیوٹ ضلع سے تعلق رکھنے والے دو ارکان پنجاب اسمبلی بھی اپنے دستخط فرما چکے ہیں۔چنیوٹ سے یہ اعزاز ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب محترمہ سلیم بی بی بھروانہ اور مہر تیمور امجد لالی کو حاصل ہوا ہے۔ گو کہ پارلیمانی سیکرٹری و ممبر پنجاب اسمبلی مہر تیمور امجد لالی عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے اس پرپوزل کے حوالے سے یوٹرن لے چکے ہیں اور باقاعدہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ میں اپنی عوام کے ساتھ ہوں جو انہوں نے کہا وہی میرا فیصلہ بھی ہو گا مگر لالی صاحب کاش یہی بات آپ پہلے سوچ لیتے اور دستخط کرتے وقت پرپوزل پہ ہی لکھ دیتے یا اس وقت پریس کانفرنس کر دیتے اور وہاں یہ اعلان فرماتے کہ جھنگ ڈویژن کے قیام کے لیئے میں ان بھائیوں کے ساتھ ہوں مگر چنیوٹ کی شمولیت کا فیصلہ میں اپنے ضلع کی عوام کی مرضی کے بغیر نہیں کر سکتا۔ چلیں لالی صاحب کو کچھ تو خیال آیا عوامی امنگوں کا۔ خیر بھوآنہ سے منتخب ایم پی اے صاحبہ محترمہ سلیم بی بی بھروانہ کو نہ دستخط کرتے وقت چنیوٹ کی عوام کا خیال آیا اور نہ اس بات کو گزرے دس دنوں تک خیال آیا کہ اس کی تردید ہی کر دوں یا اس بارے کوئی بیان ہی داغ دوں۔ ویسے وہ ٹھیک ہیں اپنی بات پہ کیونکہ وہ تو خود ضلع جھنگ کی رہائشی ہیں اور یہان دوسرے ضلع سے الیکشن لڑ کر ایم پی اے منتخب ہوئی ہیں۔ اسی لیئے انہوں نے چنیوٹ کی شمولیت ڈویژن جھنگ میں کرنے پہ کوئی عار محسوس نہیں کیا۔ جھنگ کو ڈویژن بنایا جائے اس سے ہم سب متفق ہیں مگر جو چنیوٹ ضلع کو جھنگ ڈویژن میں ملانے کی بات چیت ہو رہی ہے ہم اس کے مخالف ہیں۔رہی بات جھنگ کی تو اس کو ڈویژن بنانے میں جو کردار زیادہ متحرک ہیں تو ان میں جھنگ کی عوام کے ساتھ ساتھ ضلع جھنگ سے تحریک انصاف کے منتخب ایم پی اے پنجاب اسمبلی رانا شہباز احمد خان، راہ حق پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و ایم پی اے مولانا معاویہ اعظم، صوبائی وزیر رائے تیمور بھٹی اور ان کے ساتھ ساتھ جھنگ سے تحریک انصاف کی منتخب ایم این اے محترمہ غلام بی بی بھروانہ ہیں۔جھنگ کی 160سالہ تاریخ جو اوپر بیان کی ہے اس میں ہمیشہ جھنگ کو نقصان پہنچا، ہر ہر مفاد پرست نے جھنگ سے مفاد اٹھایا۔ جھنگ سے مختلف چھوٹے چھوٹے شہر جدا ہوتے رہے اور جدا ہو کر کوئی تحصیل بنا تو کوئی الگ ضلع۔ اس کی وجوہات بہت تلخ ہیں۔ جھنگ میں ہمیشہ سیاست نے بڑی بڑی چالیں چلی ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب جب جھنگ میں سیاست نے پینترے بدلے ہیں تبھی جھنگ کو نقصان ہوا ہے۔بلاشبہ جھنگ میں عظیم سیاستدان موجود ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جھنگ سے مخلص بہت کم لوگ ہیں۔ جنہیں جھنگ کا درد ہے انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔جھنگ میں سیاست نے ہی خون کی ندیاں بھی بہائیں۔ مذہبی انتہا پسندی ایک لمبا عرصہ عروج پر رہی۔تبھی جھنگ نے ترقی نہ کی اور جھنگ باقی اضلاع کی نسبت کافی پیچھے رہا۔ہم بطور چنیوٹ کے شہری اپنے جھنگ کو ڈویژن بنانے میں جھنگ والوں کے ساتھ ہیں مگر چنیوٹ کی شمولیت کے بغیر۔ جھنگ ڈویژن تو ایک نا ایک دن بن ہی جائے گا مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ جھنگ کے سیاستدانون کو اپنے مفادات ایک سائیڈ پہ رکھ کے جھنگ کے لیئے نکلنا ہو گا۔اب بھی وقت ہے جھنگ کے سیاستدان جھنگ کے لیئے سوچیں اور جھنگ کو ترقی یافتہ بنائیں۔ اپنے اپنے مفادات کے ساتھ چلیں گے تو جھنگ کی ترقی ناممکن ہے۔ لہذا جھنگ والو۔۔۔ جھنگ کے لیئے سوچو۔