Physics & Mathematics Informations

Physics & Mathematics Informations This page provides informations about physics and mathematics which includes physics lectures ,pictures M.Phil Physics from BZU , Multan

22/06/2025

☢️ ایٹم بم کیسے کام کرتا ہے؟
سوچیں آپ کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیج ہے۔ یہ بیج دیکھنے میں معمولی لگتا ہے مگر اگر اسے زمین میں بو دیا جائے، تو وقت کے ساتھ ایک بہت بڑا درخت بن جاتا ہے۔
ایٹم بم بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
یہ دیکھنے میں چھوٹا ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر ایسی طاقت چھپی ہوتی ہے جو پلک جھپکتے میں ایک شہر کو راکھ بنا سکتی ہے۔

ایٹم بم کا کام کرنے کا اصول ہے:

نیوکلئیر فشن (Nuclear Fission)

اس عمل میں یورینیم-235 یا پلوٹونیم-239 کے ذرات (ایٹمز) کو توڑا جاتا ہے۔ جب ایک نیوٹرون ایک ایٹم سے ٹکراتا ہے، تو وہ ایٹم پھٹ جاتا ہے۔
اس کے نتیجے میں 2 یا 3 نئے نیوٹرون پیدا ہوتے ہیں، یہ نیوٹرون پھر دوسرے ایٹمز سے ٹکراتے ہیں اور یہ عمل ایک زنجیر (Chain Reaction) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

چند مائیکرو سیکنڈ میں لاکھوں ایٹمز پھٹتے ہیں اور ایک دھماکہ خیز توانائی وجود میں آتی ہے جو پورے کے پورے شہر کو راکھ میں بدل دیتی ہے۔

💥 ایٹم بم کے پھٹنے کے فوراً بعد کیا ہوتا ہے؟

⏱ 0.001 سے 1 سیکنڈ:

☀️ حرارت اور روشنی (Thermal Radiation)

شدید سفید روشنی چند ملی سیکنڈز میں آنکھوں کو مستقل نابینا کر سکتی ہے۔

اس کے کور کا درجہ حرارت (300,000°C تک) — سورج کی سطح کے برابر

1 کلومیٹر کے دائرے میں موجود انسانی جسم ہوا میں بکھر جاتا ہے۔

عمارتوں کی دیواریں، شیشے اور گاڑیاں جلنا یا پگھلنا شروع کر دیتی ہیں۔

⏱ 1 سے 3 سیکنڈ:

🌪 شاک ویو (Blast Wave)

شاک ویو کی رفتار: 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ تک

3 کلومیٹر کے اندر کی ہر چیز تباہ — عمارتیں، درخت، گاڑیاں۔

انسان کے جسم کے اندرونی اعضا (پھیپھڑے، دماغ) دباؤ سے پھٹ جاتے ہیں۔

کھڑکیاں 10 کلومیٹر دور تک چکنا چور ہو جاتی ہیں۔

⏱ 3 سے 10 سیکنڈ:

☢️ ابتدائی تابکاری (Initial Nuclear Radiation)

گاما رے + نیوٹرانز خارج ہوتے ہیں

1.2 کلومیٹر کے دائرے میں موجود لوگ فوری موت کا شکار

تابکاری کی شدت: 10,000 Rads سے زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ 100 Rads کی شدت بھی مہلک ہوتی ہے۔

دھماکے کے مقام پر تابکار "گڑھا" بن جاتا ہے — صدیوں تک زہریلا رہ سکتا ہے۔

⏱ 10 منٹ کے اندر:

🔥 آگ کا طوفان (Firestorm)

ہر جلنے والی چیز — لکڑی، پلاسٹک، انسانوں کے کپڑے، خود سے آگ پکڑ لیتے ہیں۔

درجہ حرارت: 1000°C سے 2000°C تک

ہوا کا دباؤ کم ہونے سے گرد و نواح سے آکسیجن اندر کھنچتی ہے۔

5 کلومیٹر کے اندر انسان دم گھٹنے، جلنے اور راکھ بن کے مر جاتے ہیں

پوری فضا میں زہریلا دھواں اور کاربن چھا جاتا ہے۔

⏱ 30 منٹ سے چند گھنٹے کے اندر:

🌧 تابکار بارش (Radioactive Fallout)

دھماکے کے بعد کی مٹی، راکھ اور تابکار مواد فضا میں اٹھتا ہے۔ چند گھنٹوں میں وہ "کالی بارش" کی صورت میں زمین پر گرتا ہے۔

اس میں شامل مواد: سیزیئم-137، آیوڈین-131، اسٹرونشیم-90

یہ مادے کینسر، بانجھ پن، معذوری، ذہنی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

200 کلومیٹر دور تک پانی، فصلیں اور جانور متاثر ہو سکتے ہیں۔

زمین کی زرخیزی 10–50 سال تک مکمل ختم ہو جاتی ہے۔

🧬 ایٹم بم کے طویل مدتی اثرات — ایک خاموش، مگر نہ ختم ہونے والی موت

ایٹم بم کا دھماکہ صرف لمحاتی تباہی نہیں لاتا — یہ ایسی زہریلی وراثت چھوڑ جاتا ہے جو کئی نسلوں تک انسان، جانور، زمین، پانی اور فضا کو آہستہ آہستہ مارتی رہتی ہے۔

جب ہر شے جل چکی ہوتی ہے اور جنگ ختم ہو جاتی ہے — تب شروع ہوتا ہے وہ خوفناک باب جس کا نام ہے: "Survivors کی زندگی"۔

جن لوگوں نے دھماکے کے بعد زندہ رہنے کی کوشش کی، وہ خطرناک تابکار ذرات کی زد میں آ چکے ہوتے ہیں۔

قے، نکسیر، بخار، جلد کا پھٹنا، بالوں کا جھڑ جانا، اور نظامِ ہضم کی تباہی اس کی ابتدائی علامات ہیں۔
زیادہ تابکاری کی مقدار لینے والے اکثر 7 سے 15 دن کے اندر مر جاتے ہیں۔
کچھ لوگ مہینوں زندہ رہتے ہیں مگر رفتہ رفتہ کینسر یا اعضا کی ناکامی سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

تابکار اثرات جینیاتی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں۔ پیدا ہونے والے بچے معذور، ذہنی یا جسمانی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ کئی عورتیں بانجھ ہو جاتی ہیں، بعض خاندانوں میں کینسر اور خون کی بیماریاں نسل در نسل چلتی ہیں۔

اس علاقے کا ماحول برسوں تک زہریلا رہتا ہے اور زمین مکمل طور پر بنجر ہو جاتی ہے۔

🏚 ہیروشیما اور ناگاساکی میں ہونے والی تباہی:

دوسری جنگِ عظیم کے اختتامی دنوں میں، جب جاپان کی فوجی شکست قریب تھی، امریکا نے دنیا کے سامنے پہلی بار ایٹمی ہتھیار کا استعمال کیا۔

📍 6 اگست 1945 — ہیروشیما پر ایٹم بم حملہ

بم کا نام: Little Boy

بم کی نوعیت: یورینیم-235 پر مبنی فشن بم

طاقت: 15 کلو ٹن

تباہی:

فوری ہلاکتیں: 70,000 افراد (پہلے چند سیکنڈ میں)

سال کے آخر تک ہلاکتیں: 1,40,000 سے زائد

2 کلومیٹر کے اندر: ہر شے جل گئی، راکھ بنی

عمارتیں: 70% سے زیادہ مکمل تباہ

تابکاری: ہزاروں لوگ جھلسے، نابینا ہوئے، بعد میں مر گئے

ایک انسان کی صرف "چھاپ" ایک پتھر پر باقی رہی — باقی جسم بخارات بن چکا تھا

📍 9 اگست 1945 — ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی حملہ

بم کا نام: Fat Man

نوعیت: پلوٹونیم-239 پر مبنی فشن بم

طاقت: 21 کلو ٹن (ہیروشیما سے زیادہ)

تباہی:

فوری ہلاکتیں: 40,000

سال کے آخر تک ہلاکتیں: 75,000 سے زائد

پہاڑی علاقہ ہونے کے باعث تباہی کا دائرہ نسبتاً محدود رہا۔

💣 آج کے دور میں ایٹم بم کتنے طاقتور ہیں؟

ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی صرف آغاز تھا،
آج کی دنیا میں جو ایٹم بم موجود ہیں، وہ ماضی کے بموں سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں گنا زیادہ مہلک ہو چکے ہیں۔

🔍 ہیروشیما کا پیمانہ یاد رکھیں:

طاقت: 15 کلو ٹن (15,000 ٹن TNT کے برابر)

ہلاکتیں: 1,40,000+

مکمل تباہی: 2 کلومیٹر دائرہ

70% شہر زمین بوس

موجودہ دور میں ایٹمی طاقتوں کے پاسں جو ایٹم بم ہیں ان میں سب سے کم طاقت والا ایٹم بم بھی ہیروشیما اور ناگاساکی پر گراۓ جانے والے ایٹم بم سے دس گنا زیادہ طاقتور ہے یعنی وہ ایک ایٹم بم اتنی تباہی پھیلا سکتا ہے جتنی ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے دس ایٹم بم مل کر پھیلائیں۔ اور یہ دس فیصد تو کم سے کم ہے، اس کو زیادہ کی طرف لے کر جائیں تو جدید دنیا نے اس سے بھی زیادہ تباہ کن ایٹم بم بنا رکھے ہیں۔ سب سے طاقتور ایٹم بم روس کا Tsar Bomba ہے جس کی طاقت 50 میگا ٹن ہے اور یہ ایٹم بم ہیروشیما سے 3300 گنا زیادہ طاقتور ہے۔
اگر یہ بم کسی بڑے شہر (مثلاً کراچی، دہلی، ماسکو) پر گرے، تو 100+ مربع کلومیٹر تک کا علاقہ مکمل تباہ کر سکتا ہے۔ جو پہلے چند سیکنڈز میں ہی لاکھوں انسانوں کو راکھ کر دے گا۔

🛡 اگر کوئی ملک دوسرے ملک پر ایٹم بم پھینکتا ہے تو کیا اسے روکا جا سکتا ہے؟
اور اگر ہوا میں ہی تباہ کر دیا جائے تو کیا اس کا نقصان بچایا جا سکتا ہے؟

🎯 1. کیا ایٹمی میزائل کو فضا میں مارا جا سکتا ہے؟

جی ہاں، تکنیکی طور پر یہ ممکن ہے۔
دنیا میں کئی ممالک کے پاس ایسے "اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمز" (ABM) موجود ہیں

💥 2. اگر ایٹم بم کو فضا میں مار گرایا جائے، تو کیا ہو گا؟

یہ نقطہ سب سے زیادہ اہم اور خطرناک ہے:

اگر ایٹمی وارہیڈ فائر ہونے سے پہلے تباہ کر دیا جائے (یعنی لانچنگ سے قبل یا بالکل ابتدا میں)
تب ایٹمی دھماکہ نہیں ہوتا۔
صرف ملبہ گرتا ہے، تابکاری بہت محدود رہتی ہے۔:

اگر وارہیڈ کو دھماکے سے چند لمحے پہلے مارا گیا:
تو ہوا میں ہی ایٹمی دھماکہ ہو سکتا ہے۔
جسے Air Burst کہتے ہیں۔

🌫 ایئر برسٹ (Air Burst) کے اثرات:

یہ زمین پر پھٹنے والے بم سے زیادہ وسیع رینج میں تباہی پھیلاتا ہے۔

تابکاری زیادہ دور تک پھیلتی ہے۔

اگر دھماکہ اونچائی پر ہو (مثلاً 10–15 کلومیٹر)، تو EMP (Electromagnetic Pulse) پیدا ہوتا ہے۔

یہ سینکڑوں کلومیٹر کے علاقے میں بجلی، مواصلات، انٹرنیٹ، سیٹلائٹ نظام تباہ کر سکتا ہے۔

جدید شہروں کو ٹیکنالوجی کے لحاظ سے مفلوج کر سکتا ہے۔

لہذا ایٹم بم کو ہوا میں پھٹ جانا زمین پر آ کر پھٹنے سے زیادہ خطرناک ہے، ہیروشیما پر جب ایٹم بم گرایا گیا تو اسے امریکا نے خود ہی ہوا میں چلا دیا تھا تاکہ زیادہ تباہی پھیل سکے۔

🧍‍♂️ کیا عام شہری ایٹم بم سے بچ سکتا ہے؟

سوشل میڈیا پر اکثر ہدایات ملتی ہیں:
"زمین پر لیٹ جاؤ"
"کپڑے سے منہ ڈھک لو"
"پانی زیادہ پیو"
"پختہ عمارت میں چلے جاؤ"

مگر سوال یہ ہے کہ:
کیا یہ احتیاطی تدابیر واقعی ایٹم بم جیسے ہولناک ہتھیار سے جان بچا سکتی ہیں؟

📌 اصل حقیقت:

اگر ایٹم بم کسی شہر پر گرتا ہے، تو اس کے اثرات چار مرکزی شکلوں میں پھیلتے ہیں:

1. حرارت (Heat)
2. دھماکہ (Blast)
3. تابکاری (Radiation)
4. تابکار بارش (Fallout)

یہ سب چند سیکنڈ میں ہوتے ہیں، اور ہر ایک خود ایک مکمل ہلاکت خیز آفت ہے۔

🔥 1. حرارت — "لیٹ جانا" بے فائدہ ہے

جب بم پھٹتا ہے تو فوری درجہ حرارت 300,000°C تک پہنچتا ہے

ایک سے دو کلومیٹر کے دائرے میں ہر چیز، بشمول انسان، جھلس جاتی ہے یا بخارات میں بدل جاتی ہے

زمین پر لیٹ جانا یا دیوار کے پیچھے جانا اس شدت کی حرارت سے بالکل نہیں بچا سکتا

کپڑوں کے اندر تک جلد جل جاتی ہے، اور آنکھوں کی بینائی لمحوں میں ختم ہو جاتی ہے

💣 2. دھماکہ — "دیوار" یا "کھڑکی سے دوری" کوئی معنی نہیں رکھتی

دھماکے کی لہریں 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آتی ہیں

5 کلومیٹر تک کی ہر دیوار، چھت، اور عمارت چکناچور ہو جاتی ہے

اگر آپ گھر کے اندر بھی ہوں، تو چھت آپ پر گر سکتی ہے، جسم دیواروں سے ٹکرا کر ٹوٹ سکتا ہے

شیشے کے ٹکڑے 2 کلومیٹر دور تک انسانی جسم کو چیر سکتے ہیں

☢️ 3. تابکاری — "منہ ڈھانپنا" موت کو نہیں روک سکتا

گاما رے اور نیوٹران تابکاری عام کپڑوں یا ہلکی دیواروں سے باآسانی گزر جاتی ہے، جب تک خاص حفاظتی مادے استعمال نہ کیے گئے ہوں۔

جسم کے اندر کے خلیے متاثر ہوتے ہیں اور تابکاری بیماری شروع ہو جاتی ہے۔

یہ بیماری اکثر چند دنوں میں موت یا مہینوں کی اذیت کا سبب بنتی ہے۔

پانی یا غذا کا استعمال فوری اثر کم نہیں کر سکتا

🌫 4. تابکار بارش (Fallout) — "بعد میں مرنے والی موت"

اگر آپ دھماکے سے بچ بھی جائیں تو تابکار بارش آپ کے جسم، پھیپھڑوں، غذا اور پانی میں شامل ہو کر

کینسر، بانجھ پن، ذہنی معذوری جیسی بیماریاں لاتی ہے

یہ بارش 200 کلومیٹر دور تک اثر ڈال سکتی ہے

محفوظ رہنے کے لیے ایئر ٹائٹ، مکمل شیلٹر چاہیے جو عام شہریوں کے پاس نہیں ہوتا۔
نیوکلیئر شیلٹرز صرف فوج یا اشرافیہ کے لیے ہوتے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں کچھ مخصوص "نیوکلیئر بنکرز" موجود ہیں۔

یہ بنکرز زیر زمین، سیسے اور کنکریٹ سے بنے ہوتے ہیں، جن میں مخصوص ہوا کا نظام ہوتا ہے۔
عام شہری کی ان تک رسائی تقریباً ناممکن ہے۔
پاکستان، بھارت، یا دیگر ترقی پذیر ممالک میں ایسا کوئی مربوط نظام موجود نہیں ہے۔

عام شہریوں کے بچنے کی امید:

1–2 کلومیٹر کے اندر بچنا ناممکن ہے۔
2–5 کلومیٹر ز زندہ بچنا تقریباً ناممکن ہے، اگر بچ بھی گئے تو حالت موت کے قریب ہو گی۔
5–10 کلومیٹر شدید زخمی، تابکاری اور آگ کا اثر
10+ کلومیٹر فال آؤٹ، بیماری اور طویل اثرات

ایٹمی حملے سے سب سے بڑا بچاؤ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ایٹمی جنگ نہ ہو۔

22/06/2025

بی-2 طیارے نے GBU-57 بم گرا دیئے!!
(ضیاء چترالی)
امریکا نے ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات (اصفہان، نطنز اور فردو) پر بی-2 اسپرٹ بمبار طیارے سے بنکر بسٹر بم (GBU-57) گرا دیئے۔ حملے کو ٹرمپ نے نہایت کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب امن کا وقت ہے!!! اس کا کہنا ہے کہ فردو کے مرکزی جوہری مقام پر مکمل بمباری کی گئی۔ اب یہ نیوکلیئر کمپلیکس ختم ہو چکا ہے۔ تمام امریکی طیارے اب ایرانی فضائی حدود سے باہر ہیں اور محفوظ مقام پر واپس پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اس کارروائی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “دنیا میں کوئی دوسری فوج ایسا نہیں کر سکتی، صرف امریکی فوج ہی یہ کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔” ٹرمپ نے کہا: “اب وقت آ گیا ہے کہ امن کی جانب بڑھا جائے اور میں اس معاملے میں آپ کی دلچسپی پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ساتھ ایران سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوراً جنگ بندی پر رضامند ہو، بصورت دیگر اسے دوبارہ شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔” امریکی صدر نے اس لمحے کو امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے لیے "تاریخی" قرار دیا۔
بی-2 اسپرٹ بمبار:
بی-2 اسپرٹ (B-2 Spirit) دنیا کا سب سے جدید، اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لیس اسٹرٹیجک بمبار طیارہ ہے، جسے امریکی فضائیہ (USAF) کے لیے نارتھروپ گرومن کمپنی نے تیار کیا۔ یہ طیارہ جوہری اور روایتی دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور راڈار سے مکمل طور پر اوجھل رہنے کی اپنی غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے دشمن کے انتہائی محفوظ علاقوں میں حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا اسٹیلتھ ڈیزائن راڈار، انفراریڈ، صوتی اور بصری سراغ رسانی سے بچنے کے لیے کا خاص ڈھانچہ ہے۔ یہ بغیر ری فیولنگ کے تقریباً 11,000 کلومیٹر سفر کرسکتا ہے۔ 18,000 کلوگرام (nuclear + conventional) لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے دو پائلٹ چلاتے ہیں۔ رفتار تقریباً 1,010 کلومیٹر فی گھنٹہ۔ اس کی قیمت صرف 2 ارب ڈالر ہے۔
بی-2 بمبار کی پہلی پرواز 1989 میں ہوئی اور 1997 میں یہ باضابطہ طور پر امریکی فضائیہ میں شامل ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد سوویت یونین کے دور میں دشمن کی اینٹی ایئر ڈیفنس لائنز کو عبور کرنا تھا۔ اب یہ طیارہ امریکہ کی جوہری تہرک (nuclear triad) کا اہم ستون ہے۔ اس کا افغانستان، کوسوو، عراق، لیبیا اور شام میں ہدفی بمباری کے لیے استعمال ہو چکا ہے۔ اب ایران پر بھی اسے استعمال کیا گیا۔ اپنی راڈار سے بچاؤ کی صلاحیت کی وجہ سے اسے انتہائی حساس اہداف پر ابتدائی حملے کے لیے ترجیح دی جاتی ہے۔
یہ طیارہ امریکا کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس کی ٹیکنالوجی کو سخت رازداری میں رکھا گیا ہے۔ اس طیارے کی قیمت اور حساس نوعیت کی وجہ سے امریکہ نے اسے نہ کبھی کسی ملک کو فروخت کیا اور نہ ہی اس کی برآمد کی اجازت دی گئی۔ دنیا میں صرف 21 عدد B-2 طیارے بنائے گئے، جن میں سے 2 حادثات کا شکار ہو چکے ہیں اور اب 19 ایکٹیو ہیں۔ یہ ایک بے مثال فضائی ہتھیار ہے، جو جنگی حکمت عملی میں انقلابی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی پوشیدہ پرواز، جوہری ہتھیاروں کے ساتھ حملے کی صلاحیت اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے کی خوبی اسے دنیا کے خطرناک ترین بمبار طیاروں میں سرِفہرست رکھتی ہے۔
مہلک ترین بم GBU-57:
جی بی یو-57 ایک انتہائی طاقتور امریکی بم ہے۔ جسے MOP بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی Massive Ordnance Penetrator۔ جو زیرِ زمین محفوظ تنصیبات، بنکرز اور جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا روایتی (non-nuclear) "بم شکن" ہتھیار ہے۔ جس کا وزن تقریباً 13,600 کلوگرام (30,000 پاؤنڈ یا 13 ٹن) ہے۔ لمبائی 6.2 میٹر اور بارود کی مقدار 2,400 کلوگرام ہے۔ یہ بم 60 میٹر کنکریٹ یا 40 میٹر سخت چٹان تک گھس کر تباہی مچاتا ہے۔ یہ جی پی ایس گائیڈسسٹم سے لیس ہے، جو انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔ اسے صرف B-2 Spirit بمبار ہی لے جا سکتا ہے۔ اسی لیے اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات کو ہٹ کرنے کے لیے امریکا کی مدد حاصل کی۔ کیونکہ نہ تو اسرائیل کے پاس مذکورہ طیارہ ہے اور نہ ہی یہ بم۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کو خود ہی براہ راست حملہ کرنا پڑا۔ امریکا نے یہ بم بنایا ہی گہرائی میں قائم جوہری تنصیبات، بنکرز یا کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو تباہ کرنے کے لیے تھا، جہاں عام بم مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ GBU-57 جدید ترین، انتہائی وزنی اور گہرائی تک پہنچنے والا بم ہے، جو دنیا میں کسی بھی ملک کی بنکر شکن ٹیکنالوجی سے آگے ہے۔ یہ بم دشمن کے زیرِ زمین قلعہ بند اثاثوں کے خلاف سب سے خوفناک غیر جوہری صلاحیت کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ بم GBU-28 بم کا جدید اور کئی گنا بڑا ورژن ہے۔ اس کا وزن (GBU-43/B) سے بھی زیادہ ہے، لیکن MOAB زمین پر دھماکے کے لیے ہے، جبکہ GBU-57 زیرِ زمین گہرائی تک جا کر دھماکہ کرتا ہے۔ MOAB کو مدر آف بمز یعنی بموں کی ماں کہا جاتا ہے۔ جسے ٹرمپ ہی نے افغانستان میں گرایا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ اب تک GBU-57 کا کسی جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارا پڑوسی ملک ایران تاریخ میں اس کا سب سے پہلا ہدف بن گیا۔ امریکا نے مختلف آزمائشی تجربات کے بعد اسے "آخری آپشن" کے طور پر ایران پر استعمال کرلیا۔
اب تو یقینا ٹرمپ کو امن کا نوبل ایوارڈ مل ہی جانا چاہئے۔

20/06/2025

Institute of Physics BZU Multan

*9th Class Physics New Book Chapter 2 Solved Numericals*⏬⏬
20/06/2025

*9th Class Physics New Book Chapter 2 Solved Numericals*⏬⏬

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کے انسٹی ٹیوٹ آف فزکس نے حال ہی میں ایک دلچسپ اوپن ڈے کا انعقاد کیا، جس میں طلباء اور ز...
29/05/2025

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کے انسٹی ٹیوٹ آف فزکس نے حال ہی میں ایک دلچسپ اوپن ڈے کا انعقاد کیا، جس میں طلباء اور زائرین کو طبیعیات کے عجائبات کو عملی جامہ پہنانے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا گیا۔ اس تقریب میں شمسی مشاہدے کا ایک سیشن پیش کیا گیا، جہاں شرکاء نے شمسی فلٹرز سے لیس دوربینوں کے ذریعے سورج کا بحفاظت مشاہدہ کیا، جس سے فلکیات اور خلائی سائنس کے بارے میں تجسس پیدا ہوا۔ ایک پراجیکٹ نمائش نے طبیعیات کے مختلف ڈومینز بشمول آپٹکس، برقی مقناطیسیت، اور قابل تجدید توانائی میں طلباء کے جدید پروجیکٹس کی نمائش کی۔ ان ڈسپلے نے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں، تحقیقی صلاحیتوں اور سائنسی فہم کو اجاگر کیا، جس سے سامعین پر ایک دیرپا تاثر قائم ہوا۔ زائرین نے رہنمائی لیب کے دوروں کا بھی لطف اٹھایا، جہاں انہوں نے جدید سائنسی آلات سے بات چیت کی اور حقیقی وقت کے مظاہرے دیکھے۔ دوروں نے تجرباتی تکنیکوں اور نظریاتی علم کے عملی استعمال کے بارے میں بصیرت فراہم کی۔ مجموعی طور پر، اوپن ڈے طلباء کو مشغول کرنے، سائنسی تحقیقات کو فروغ دینے اور طبیعیات کے شعبے کے لیے گہری تعریف کو فروغ دینے کے لیے ایک کامیاب اقدام تھا.

Dr Abdul Shakoor Sab with students Institute of Physics  BZU Multan
29/05/2025

Dr Abdul Shakoor Sab with students
Institute of Physics
BZU Multan

29/05/2025

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کے انسٹی ٹیوٹ آف فزکس نے حال ہی میں ایک دلچسپ اوپن ڈے کا انعقاد کیا، جس میں طلباء اور زائرین کو طبیعیات کے عجائبات کو عملی جامہ پہنانے کا ایک منفرد موقع فراہم کیا گیا۔ اس تقریب میں شمسی مشاہدے کا ایک سیشن پیش کیا گیا، جہاں شرکاء نے شمسی فلٹرز سے لیس دوربینوں کے ذریعے سورج کا بحفاظت مشاہدہ کیا، جس سے فلکیات اور خلائی سائنس کے بارے میں تجسس پیدا ہوا۔ ایک پراجیکٹ نمائش نے طبیعیات کے مختلف ڈومینز بشمول آپٹکس، برقی مقناطیسیت، اور قابل تجدید توانائی میں طلباء کے جدید پروجیکٹس کی نمائش کی۔ ان ڈسپلے نے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں، تحقیقی صلاحیتوں اور سائنسی فہم کو اجاگر کیا، جس سے سامعین پر ایک دیرپا تاثر قائم ہوا۔ زائرین نے رہنمائی لیب کے دوروں کا بھی لطف اٹھایا، جہاں انہوں نے جدید سائنسی آلات سے بات چیت کی اور حقیقی وقت کے مظاہرے دیکھے۔ دوروں نے تجرباتی تکنیکوں اور نظریاتی علم کے عملی استعمال کے بارے میں بصیرت فراہم کی۔ مجموعی طور پر، اوپن ڈے طلباء کو مشغول کرنے، سائنسی تحقیقات کو فروغ دینے اور طبیعیات کے شعبے کے لیے گہری تعریف کو فروغ دینے کے لیے ایک کامیاب اقدام تھا.

28/05/2025

Physics is a fundamental branch of science that explores the nature of matter, energy, and the universe. It encompasses various subfields, including:

*Branches of Physics*
1. *Classical Mechanics*: Studies the motion of objects and the forces that act upon them.
2. *Electromagnetism*: Examines the behavior of electric and magnetic fields and their interactions with matter.
3. *Thermodynamics*: Deals with the relationships between heat, temperature, and energy.
4. *Quantum Mechanics*: Describes the behavior of particles at the atomic and subatomic level.
5. *Relativity*: Includes both special relativity (SR) and general relativity (GR), which describe the nature of space and time.

*Key Concepts*
1. *Energy*: A fundamental concept that comes in various forms, such as kinetic, potential, thermal, and electromagnetic.
2. *Momentum*: A measure of an object's mass and velocity.
3. *Waves*: Oscillations that transfer energy through a medium, including water waves, sound waves, and light waves.
4. *Particles*: Fundamental building blocks of matter, such as electrons, protons, and neutrons.

*Applications of Physics*
1. *Technology*: Physics principles are used in the development of electronic devices, medical equipment, and transportation systems.
2. *Engineering*: Physics is essential for designing and optimizing structures, machines, and systems.
3. *Materials Science*: Understanding the properties of materials is crucial for developing new technologies.
4. *Astronomy*: Physics helps us understand the behavior of celestial objects and the universe as a whole.

*Famous Physicists*
1. *Isaac Newton*: Developed the laws of motion and universal gravitation.
2. *Albert Einstein*: Introduced the theory of relativity and the famous equation E=mc².
3. *Marie Curie*: Pioneered radioactivity research and discovered the elements polonium and radium.
4. *Stephen Hawking*: Contributed to our understanding of black holes and the origin of the universe.

Physics has far-reaching implications for our understanding of the world and the universe. Its principles and concepts have led to numerous breakthroughs and innovations, transforming our daily lives and shaping the future of science and technology.

Address

Kahror Pakka
59340

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Physics & Mathematics Informations posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Physics & Mathematics Informations:

Share