10/07/2024
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عظمت و رفعت پہ نئی منقبت۔۔۔۔
ہے روم کا میدان بھی میدان عمر کا۔
ایران کی بھی فتح ہے فیضان عمر کا۔
اب کعبے کے اندر ہی ادا ہوں گی نمازیں۔
گر روک سکو روک لو اعلان عمر کا۔
ہیں نام عمر سن کے لرزتے وہ ابھی تک۔
کفار پہ ہے دبدبہ ہر آن عمر کا۔
اکرام دل و جان سے ایماں کی قسم ہے۔
کرتا ہے ہر اک صاحب ایمان عمر کا۔
تب سے نہ ہوا خشک ابھی تک یہ سنا ہے۔
ہے جب سے ملا نیل کو فرمان عمر کا۔
یہ دیکھ علی نے کسے داماد بنایا۔
اے دشمن دیں نام تو پہچان عمر کا۔
مداح ہے اصحاب کا ہر ذاکر حق گو۔
ہر شاعر بر حق ہے حدی خوان عمر کا۔
روضے میں رہوں یاروں کے ہمراہ میں تاحشر۔
اللہ نے پورا کیا ارمان عمر کا۔
قرآن میں جو لفظ اشداء ہے آیا۔
دراصل اشارہ ہے یہ سلمان عمر کا۔