21/08/2026
مولوی تمیز الدین خان برصغیر پاک و ہند کی سیاسی و آئینی تاریخ کا ایک ایسا معتبر اور درخشان باب ہیں جن کی حریت فکر، قانون پسندی اور جراتِ رندانہ نے جمہوریت کے کاروان کو ایک نئی سمت دی۔ مارچ 1889ء میں بنگال کے ضلع فرید پور کی زرخیز مٹی سے جنم لینے والے اس عظیم رہنما کا تعلق ایک محنت کش کسان گھرانے سے تھا، مگر ان کے عزائم آسمان کی بلندیوں کو چھوتے تھے۔ انہوں نے غربت و عسرت کے باوجود علم کی شمع کو فروزاں رکھا اور کلکتہ کے نامور تعلیمی اداروں۔پریذیڈنسی کالج اور ریپن کالج سے انگریزی ادبیات میں ایم اے اور بعد ازاں قانون (ایل ایل بی) کی ڈگری حاصل کرکے فرید پور کے پہلے مسلم ماسٹرز ڈگری ہولڈر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ تعلیم سے فارغ التحصیل ہوتے ہی انہوں نے وکالت کو ذریعہ معاش اور تحریکِ آزادی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
ان کا سیاسی سفر عدم تعاون اور تحریکِ خلافت کے آتشیں دشت سے شروع ہوا، جہاں مہاتما گاندھی اور چترنجن داس کی صحبت نے ان کے اندر حریت کی روح پھونکی، جس کی پاداش میں انہیں فرید پور اور ڈھاکہ کی جیلوں کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ تاہم، وقت کے ساتھ جب انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے روئیے میں تعصب کی جھلک دیکھی تو 1926ء میں انہوں نے اس سے راہِ فرار اختیار کی اور انجمِنِ اسلامیہ کے ذریعے مسلم لیگ کے پرچم تلے آ گئے۔ ان کی بے پناہ عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فرید پور میونسپلٹی کے وائس چیئرمین سے ہوتے ہوئے بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1937ء سے 1947ء کے درمیانی عرصے میں صحت، زراعت، صنعت اور تعلیم جیسے اہم صوبائی محکموں کی وزارتوں پر فائز رہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد مولوی تمیز الدین خان کا سیاسی قد و قامت مزید بلند ہوا۔ وہ 1948ء میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت کے بعد یک زبان ہو کر پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے۔ تاریخ کے صفحات میں ان کا نام اس وقت سنہرے حروف سے درج ہوا جب 1954ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدام کرتے ہوئے دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ جمہوریت پر اس شب خون کے خلاف مولوی تمیز الدین خان نے ہمت کی شمشیر سونت لی اور سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہائی کورٹ نے ان کے حق میں تاریخی فیصلہ سنایا، اگرچہ بعد میں فیڈرل کورٹ کے چیف جسٹس محمد منیر نے "نظریۂ ضرورت" کی آڑ لے کر اس فیصلے کو منسوخ کر دیا۔جس میں صرف جسٹس اے آر کارنیلیس کا واحد اختلاف آئینی پاسداری کا استعارہ بنا—مگر اس قانونی معرکے نے تمیز الدین خان کو پاکستان میں آئین کی بالادستی اور سول بالادستی کا سب سے بڑا سمیع و بصیر نشان بنا دیا۔
وہ صرف ایک نڈر سیاست دان ہی نہیں بلکہ بنیادی اصولوں کی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے آئین سازی کے عمل کے روحِ رواں بھی رہے۔ 1962ء میں وہ ایک بار پھر قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوئے اور 19 اگست 1963ء کو ڈھاکہ میں اپنی وفات تک اس منصب جلیل پر متمکن رہے۔ ان کا فکری اور علمی ورثہ ان کی نسلوں میں بھی پوری طرح منتقل ہوا؛ ان کی بیٹی رضیہ خان نے بنگلہ ادب میں ایک باکمال شاعرہ اور ایکوشے پدک یافتہ مصنفہ کے طور پر نام پیدا کیا، جبکہ دوسری بیٹی کلثوم ہدا خان نے سینٹرل ویمنز یونیورسٹی کی بانی اور وائس چانسلر کے طور پر تعلیمی میدان میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ مولوی تمیز الدین خان کی پوری زندگی اصول پسندی، آئین کی حفاظت اور جراتِ رندانہ کی ایک ایسی تابندہ داستان ہے جو انے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
مقصود احمد ( میراث کہن)شفقت حسین