24/05/2026
ستتر اہلِ علم ایسے گزرے جنھوں نے کچھ خاص کتابوں کو سیکڑوں مرتبہ پڑھا...
کتاب «المتلذذون بالعلم» سے ایک حیرت انگیز فہرست...
▪️ ابن ہشام نے «الفیۃ ابن مالک» ایک ہزار مرتبہ پڑھی۔
▪️ غالب بن عطیہ محاربی نے «صحیح البخاری» سات سو مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابو بکر ابہری (م ۳۷۵ھ) نے «مختصر ابن عبد الحکم» پانچ سو مرتبہ پڑھا۔
▪️ امام نووی نے غزالی کی «الوسیط» چار سو مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابو سعید بردعی نے محمد بن حسن کی «الجامع الکبیر» چار سو مرتبہ پڑھی۔
▪️ سلیمان علوی یمنی نے «صحیح البخاری» دو سو اسی مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابن بطی بغدادی نے «جزء البانیاسی» دو سو مرتبہ پڑھا۔
▪️ نفیس الدین علوی (م ۸۲۵ھ) نے «صحیح البخاری» ایک سو پچاس مرتبہ پڑھی۔
▪️ محدث مساعد بشیر نے «صحیح البخاری» ایک سو تیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ اصیل الدین ہروی نے «صحیح البخاری» ایک سو بیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ احمد علاونہ نے زرکلی کی «الأعلام» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبداللّٰہ بن عقیل نے «تفسیر الإیجی» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ حماد انصاری نے ذہبی کی «میزان الاعتدال» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ ابو اسحاق حوینی نے ابن ابی حاتم کی «العلل» ایک سو مرتبہ پڑھی۔
▪️ محمد بن مقبل تاجر نے «صحیح البخاری» پچانوے مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ ابو اسحاق حوینی نے «مذکرات الشاذلی فی حرب اکتوبر» نوے مرتبہ پڑھا۔
▪️ ابن عطیف (م ۸۸۶ھ) نے صردفی کی «الکافی» اسی مرتبہ پڑھی۔
▪️ علی کریدی (م ۸۸۶ھ) نے صروفی کی «الکافی» اسی مرتبہ پڑھی۔
▪️ ایک صاحب نے «الأسدیۃ» پچھتر مرتبہ پڑھی۔
▪️ مزنی نے امام شافعی کی «الرسالۃ» ستر مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابن محرز ابناسی نے «التوضیح» ستر مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ ابو اسحاق حوینی نے معلمی کی «التنکیل» ستر مرتبہ پڑھی اور اسے اپنے ہاتھ سے نقل بھی کیا۔
▪️ حجار ابن الشحنہ نے «صحیح البخاری» ستر مرتبہ پڑھی۔
▪️ امام ابن باز نے نووی کی «شرح صحیح مسلم» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابن الرفاء شافعی نے «جزء ابن عرفۃ» ساٹھ مرتبہ پڑھا۔
▪️ محمد جمنی (م ۱۱۷۰ھ) نے «مختصر خلیل» ساٹھ مرتبہ پڑھا۔
▪️ ابو سعید حلی نے «مقامات الحریری» ساٹھ مرتبہ پڑھیں۔
▪️ برہان الدین حلبی نے «صحیح البخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابن کلوتاتی (م ۸۳۵ھ) نے «صحیح البخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ کرمانی نے «صحیح البخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ سبط ابن العجمی نے «صحیح البخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ موسیٰ بن سعادت (م ۵۱۴ھ) نے «صحیح البخاری» ساٹھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ عبدالغنی عبدالخالق نے امام شافعی کی «الرسالۃ» پچاس مرتبہ پڑھی۔
▪️ علی بن عبدالرحمن حسینی نے غزالی کی «إحیاء علوم الدین» پچاس مرتبہ پڑھی۔
▪️ عبداللّٰہ لغبی عبدلی نے «تہذیب سیرۃ ابن ہشام» پچاس مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ ولید سعیدان نے «الروض المربع» انچاس مرتبہ پڑھا۔
▪️ ابن عساکر قوصی نے غزالی کی «الوسیط» اڑتالیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابو بکر ابہری نے امام مالک کی «الموطأ» پینتالیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ امام ابن باز نے ابن قیم کی «أعلام الموقعین» چالیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ عبدالرحمن عیدروس (م ۹۲۳ھ) نے غزالی کی «إحیاء علوم الدین» چالیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ علی السالم آل جلیٰدان نے «الروض المربع» چالیس مرتبہ پڑھا۔
▪️ شیخ مشہور حسن سلمان نے ابن قیم کی «أعلام الموقعین» تیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابن السراج سجلماسی (م ۱۰۵۷ھ) نے «تفسیر الکشاف» تیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ ادیب علی طنطاوی نے «الفرج بعد الشدۃ» تیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ ادیب علی طنطاوی نے منفلوطی کی «النظرات» تیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ ربیع بن سلیمان نے امام شافعی کی «الرسالۃ» تیس سے کچھ زیادہ مرتبہ پڑھی۔
▪️ عبدالرحمن بن علی حسینی نے غزالی کی «إحیاء علوم الدین» پچیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابن العجمی کلبی نے شیرازی کی «المہذب» پچیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ ابن عیسیٰ اندلسی نے «کتاب سیبویہ» چوبیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ ابو اسحاق حوینی نے ذہبی کی «سیر أعلام النبلاء» چوبیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ فقیہِ عراق زریرانی نے ابن قدامہ کی «المغنی» تئیس مرتبہ پڑھی اور ہر بار اس پر حاشیہ بھی لکھا۔
▪️ شیخ حماد انصاری نے ابن حجر کی «فتح الباری» بیس مرتبہ پڑھی۔
▪️ مرغینانی (م ۵۹۳ھ) نے «الہدایۃ» اٹھارہ مرتبہ پڑھی۔
▪️ احمد معبد نے ابن حجر کی «فتح الباری» اٹھارہ مرتبہ پڑھی۔
▪️ احمد بن محمد الہادی (م ۱۰۴۵ھ) نے غزالی کی «إحیاء علوم الدین» چودہ مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبدالعزیز بن مقیرن نے «تفسیر ابن کثیر» دس مرتبہ پڑھی۔
▪️ محمد غیثی تباعی نے شیرازی کی «المہذب» نو مرتبہ پڑھی۔
▪️ احمد حطیبہ نے ابن قدامہ کی «المغنی» آٹھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ معالی الشیخ صالح لحیدان نے اصفہانی کی «الأغانی» سات مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبدالسلام ہارون نے جاحظ کی «الحیوان» سات مرتبہ پڑھی۔
▪️ امام ابن باز نے ابن کثیر کی «البدایۃ والنہایۃ» سات مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبداللّٰہ بن سعدان نے ابن کثیر کی «البدایۃ والنہایۃ» سات مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبدالکریم خضیر نے احمد امین کی «حیاتی» چھ مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ البانی نے «مسند الإمام أحمد» کے چھ ختم کیے۔
▪️ امیر شکیب ارسلان نے اصفہانی کی «الأغانی» پانچ مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ بکر ابو زید نے «آثار البشیر الإبراہیمی» پانچ مرتبہ پڑھیں۔
▪️ شیخ بکر ابو زید نے زرکلی کی «الأعلام» پانچ مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبدالکریم خضیر نے طہ حسین کی «الأیام» پانچ مرتبہ پڑھی۔
▪️ ڈاکٹر عبدالرحمن بن معاضہ شہری نے «تفسیر القرطبی» پانچ مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبدالعزیز عوید نے ذہبی کی «سیر أعلام النبلاء» پانچ مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ بکر ابو زید نے حموی کی «معجم البلدان» چار مرتبہ پڑھی۔
▪️ ادیب علی طنطاوی نے اصفہانی کی «الأغانی» تین مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ عبدالعزیز عوید نے بسام کی «علماء نجد» تین مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ محمد غلاوی نے ابن حجر کی «فتح الباری» تین مرتبہ پڑھی۔
▪️ شیخ محمود شاکر نے «لسان العرب» تین مرتبہ پڑھا۔
▪️ شیخ عابد سندی کتبِ ستہ کا ہر ماہ ایک ختم کیا کرتے تھے۔
▪️ ابو عبداللّٰہ یونینی (م ۷۰۱ھ) ہر ماہ «صحیح البخاری» پڑھا کرتے تھے۔
عمدہ کتابوں کا ایک ہی بار مطالعہ کفایت نہیں کرتا... انھیں بار بار پڑھنا پڑتا ہے تا کہ علم دل میں بیٹھے، ذہن میں اترے اور طبیعت کا حصہ بن جائے۔ سو دہرائیے، تا کہ بات قلب و ذہن میں قرار پکڑے۔ جو شخص یہ شکایت کرے کہ میں پڑھتا تو ہوں مگر ذہن میں کچھ ٹھہرتا نہیں، اس سے کہا جائے گا: جیسے انھوں نے دہرایا تم بھی دہراؤ۔
(المتلذذون بالعلم، ص ۴۱۶ تا ۴۲۲)
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]
۲۴ مئی ۲۰۲۶ء