Islamic Seminary

Islamic Seminary Islamic Seminary is a Youtube Channel. It provides free Islamic Courses and many more.

19/10/2024
17/10/2024

16/10/2024

14/06/2024

*قربانی کریں یا غریبوں کی مدد کریں…؟*
✍🏻: رحمت اللہ شیخ
____________________________
ماہِ ذی الحجہ کی مخصوص عبادات میں سے قربانی ایک اہم عبادت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق قربانی ہر عاقل، بالغ اور صاحبِ حیثیت شخص پر واجب ہے۔ لیکن قربانی کے ایام قریب آتے ہی کچھ لوگ انسانیت اور خدمتِ خلق جیسے خوشنما نعرے لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قربانی کرنے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی مدد کی جائے۔ اس تحریر میں ہم اس سوال کو حل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ایک مسلمان کے لیے ان ایام میں قربانی کرنا افضل ہے یا ان پئسوں سے غریبوں کی مدد کرنا؟
بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے سب سے پہلے ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دین اتباع کا نام ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو بغیر کسی چوں چرا کے ماننا ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے؛ پھر ہماری عقل اسے مانے یا نہ مانے۔ اس بات کو ہم اس مثال سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹا قربان کرنے کا حکم ملا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں کوئی سوال نہیں کیا بلکہ فورًا اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی طرف متوجہ ہوئے۔ حالانکہ عقلی لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک انسان کو ذبح کرنا ایک جانور ذبح کرنے سے زیادہ عجیب ہے اور عقل تو اس کو بلکل تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن چونکہ حکمِ ربانی تھا اس لیے عقل کو مقدم نہیں رکھا۔
اب ذرا غور کریں! کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہمیشہ اعتراضات اسلامی احکام پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں؟ اسلامی احکام کے پورا کرنے کو ہی پئسوں کا ضیاع کیوں کہا جاتا ہے؟ حالانکہ دیکھا جائے تو پورا سال شادی بیاہ کی تقریبات، برتھ ڈے اور نیو ایئر پارٹیز جیسے بیسیوں مواقع پر سالانہ اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن اس پر کوئی تنقید نہیں کرتا۔ آپ کو یہ حقیقت سن کر حیرت ہوگی کہ اسپین میں ہر سال ایک تہوار منایا جاتا ہے جس میں تقریبًا ایک لاکھ بیس ہزار کلو ٹماٹر ایک دوسرے پر پھینک کر ضایع کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح اٹلی کے ایک تہوار میں ہر سال پانچ لاکھ کلو سے زیادہ سنگترے ایک دوسرے پر پھینک کر ضایع جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کی تقریبات پر ہمیں انسانیت اور خدمت خلق جیسی چیزیں کیوں یاد نہیں آتی…!؟حق تو یہ ہے کہ اس طرح کے تہواروں پر اعتراض کیا جائے۔ لیکن چونکہ ان کا تعلق اسلام سے نہیں ہوتا اس لیے کوئی اعتراض کرنے کی جرات نہیں کرتا۔ دراصل اعتراض کرنے والے کو انسانیت سے محبت نہیں بلکہ اسلام سے بغض و عداوت اور نفرت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر اسے خدمتِ خلق کی فکر ہوتی تو اسے قربانی کے معاشی و معاشرتی فوائد ضرور نظر آتے۔
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں لازمًا اسلامی تعلیمات پر اعتماد کرنا ہوگا۔ اسلامی احکام کے معاملے میں عقل کے گھوڑے دوڑائے بغیر ان پر عمل کرنا ہوگا۔ اگر ہم بھی اس طرح کے ہتھکنڈوں کو نہ سمجھ سکے تو ہمارے ایمان ضایع ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس طرح کے خوشنما نعروں سے ہمارے سادہ لوح مسلمان جلدی متاثر ہوجاتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ خدارا! خود پر رحم کریں اور اسلام کو سمجھیں ۔ اگر آپ نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور اسلام مخالفین کے جھانسے میں آکر آپ نے اسلام سے دوری اختیار کر لی تو یقین جانیے یہ آپ کا سب سے بڑا خسارہ ہوگا۔

02/01/2024

سردیوں کو قیمتی بنائیں۔ اپنے آس پاس موجود ضرورتمند لوگوں کی خوب مدد کریں اور ڈھیروں دعائیں لیں۔

نماز سے متعلق ایک اہم مسئلے کی وضاحت
19/10/2023

نماز سے متعلق ایک اہم مسئلے کی وضاحت

درج ذیل مسئلے کی تصدیق فرمادیجیے کہ یہ درست ہے یا نہیں؟*نماز میں قعدہ اولی اور قعدہ اخیرہ میں شریک ہونے والوں کے لیے ایک انتہائی اہم مسئلہ*قعدہ اولی میں شریک ہونے والے...

28/09/2023

تحفظِ ناموسِ صحابہ در اصل تحفظِ دینِ اسلام ہے. صحابہ کرام پر طعن و تشنیع، در اصل اسلام پر حملہ کرنے کا ایک چور دروازہ ہے.

فاتحِ بیت المقدس
19/07/2023

فاتحِ بیت المقدس

Address

Khairpur
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Seminary posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Islamic Seminary:

Share