Jamia Tus Saliheen KHI

Jamia Tus Saliheen KHI جامعۃ الصالحین کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا، تزکیہ نفس اور رسوخ فی العلم کی تعلیم دینا ہے

Like

24/07/2026

حضرت مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب کا جامعۃ الصالحین کراچی کی تعلیمی و تربیتی رپورٹ اور تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انکے تاثرات۔۔۔۔!

23/07/2026

آج الحمدللہ جامعۃ الصالحین کراچی میں ایک نہایت بابرکت اور یادگار علمی و تربیتی سرگرمی کا انعقاد ہوا۔

حضرت الشیخ رئیس الجامعہ مفتی نور محمد صاحب مدظلہ العالی کے انتہائی مخلص دوست جامع مسجد ابوبکر ڈیفنس کے امام و خطیب، حضرت مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب دامت برکاتہم نے اپنے اساتذہ اور طلبہ کرام کے ہمراہ جامعۃ الصالحین کراچی کا مطالعاتی و تعلیمی دورہ فرمایا۔

مہمانان مکرم کی جامعہ آمد پر رئیس الجامعہ نے اپنے وفد کے ہمراہ ان کا پرتپاک استقبال فرمایا۔

اس موقع پر ادارے کے نظم و ضبط، تعلیمی و تربیتی نظام اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

طلبہ کرام نے آپس میں ملاقات کی، جبکہ دونوں اداروں کے اساتذہ کرام نے تعلیمی و تربیتی امور پر مفید تبادلۂ خیال اور مشاورت بھی کی۔

بعد ازاں حضرت مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب نے جامعۃ الصالحین کے اساتذہ و طلبہ کرام سے خطاب فرمایا۔

حضرت مفتی صاحب نے جامعۃ الصالحین کراچی کی مختصر مدت میں (سہولیات نہ ہونے کے باوجود) نمایاں دینی، تعلیمی اور تربیتی خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ کم وقت میں جامعۃ الصالحین کراچی نہایت بہترین انداز میں دین کی خدمت انجام دے رہا ہے۔

آپ نے جامعہ کے تعلیمی و تربیتی ماحول سے اپنی گہری متاثر ہونے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت رئیس الجامعہ مدظلہ العالی نے جامعہ کا جو تعارف کروایا تھا اور جو میں نے سنا تھا اس سے بھی بڑھ کر میں نے اس جامعہ کو عملی طور پر بہتر پایا۔

آخر میں حضرت مفتی عبد الرحمن صاحب نے طلبہ کرام کو قیمتی نصیحتیں فرمائیں اور اپنی دعاؤں سے اس بابرکت مجلس کا اختتام فرمایا۔

اللہ تعالیٰ جامعۃ الصالحین کراچی اور اس سے وابستہ تمام اکابر، اساتذہ و طلبہ کرام کی دینی و علمی خدمات کو قبول فرمائے اور مزید ترقیات عطا فرمائے۔ آمین۔

11/07/2026

تعلیم صرف کتابوں کے اسباق کا نام نہیں، بلکہ بہترین کردار، مضبوط شخصیت، صحت مند جسم اور متوازن ذہن کی تعمیر کا بھی نام ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر ہر سال کی طرح اس سال بھی جامعۃ الصالحین کراچی کے طلباء کرام کے لیے فارم ہاؤس میں ایک تربیتی و تفریحی (Outdoor Educational Activity) پروگرام کا (8 تا 9 جولائی 2026 بروز بدھ تا جمعرات) اہتمام کیا گیا، جو ہماری تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا باقاعدہ حصہ ہے۔

اسلام انسان کو صحت مند، مضبوط اور متحرک رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جسمانی قوت، باہمی محبت، سفر، قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر اور جائز تفریح کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ اسی طرح طلباء کو وقتاً فوقتاً کھلی فضا میں لے جانا، انہیں عملی زندگی، نظم و ضبط، باہمی تعاون، قائدانہ صلاحیت، اجتماعی زندگی اور حسنِ اخلاق کی تربیت دینا بھی دینی تعلیم کا اہم حصہ ہے۔

طبی اعتبار سے بھی ایسی آؤٹ ڈور سرگرمیاں طلباء کی جسمانی صحت، ذہنی سکون، قوتِ مدافعت، اعتماد، یکسوئی اور تعلیمی استعداد میں اضافہ کرتی ہیں۔ کھلی فضا، جسمانی سرگرمی اور خوشگوار ماحول طلباء کو نئی توانائی بخشتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ مزید شوق اور دلجمعی کے ساتھ اپنی دینی و تعلیمی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔

#سیروتفریحی

03/07/2026

*دو ماہی جائزہ میں پوزیشن ہولڈرز طلباء کرام کے درمیان انعامات کی تقسیم*

جامعۃ الصالحین کراچی میں طلباء کرام کا دو ماہی جائزہ امتحان ہوا
جس کا مقصد طلبہ کی تعلیمی پیش رفت جانچنے، کمزوریوں کی بروقت نشاندہی کرنے اور آئندہ تدریسی منصوبہ بندی کو مؤثر بنانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے طلبہ میں مستقل محنت، وقت کی پابندی، سبق کی دہرائی اور امتحانی تیاری کی عادت پیدا ہوتی ہے، جبکہ اساتذہ اور والدین کو بھی طلبہ کی کارکردگی کا واضح اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہی جائزہ اعلیٰ تعلیمی معیار اور بہتر نتائج کی ضمانت بنتا ہے۔
آج جائزہ میں پوزیشن ہولڈرز طلباء کرام کے درمیان حضرت الشیخ رئیس الجامعہ مفتی نور محمد صاحب کے دست اقدس سے انعامات تقسیم کئے گئے
جسکا مقصد پوزیشن ہولڈرز کی حوصلہ افزائی اور دوسروں میں بھی محنت، لگن اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو، اور ادارے میں صحت مند مسابقت اور اعلیٰ کارکردگی کا ماحول فروغ پائے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کا فیصلہ ایک سنجیدہ روایت اوراجتماعی اعتماد کا مظہر ہے۔ قائد ملت اسلامیہ حضر...
02/07/2026

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ کا فیصلہ ایک سنجیدہ روایت اوراجتماعی اعتماد کا مظہر ہے۔

قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے تجویز کردہ ناموں پر شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ کا بطور صدر اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کا بطور ناظمِ اعلی بلا مقابلہ انتخاب درحقیقت انتخاب سے بڑھ کر ایک فطری امر ہے۔

اسی تسلسل میں قائدِ ملتِ اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم جیسی صاحبِ بصیرت، دانا و حکیم شخصیت کی سرپرستی اس پورے نظام کے لیے مزید قوت اور توازن کا باعث ہے۔

دعا ہے کہ یہ تعلیمی ترقی کا سلسلہ خیر و اعتدال کے ساتھ آگے بڑھتا رہے اور امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا رہے۔

11/06/2026

مدرسوں کو موبائل نے برباد کردیا:
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا بیان

26/05/2026

*📢 اس خیر کے پیغام کو دوسروں تک بھی پہنچائیں ✨*

*🐄 قربانی کے دن اس بات کا بہت زیادہ خیال رکھیں! 🤲🏻*

*💫 آپکا ایک شئیر آپکی نیکیوں میں مزید اضافہ کرسکتا ہے 🌸*

جامعۃ الصالحین کراچی کے روح رواں عارف باللہ محمد صالح نور اللہ مرقدہ کے بارے میں کالمبات ہے سال 1999ء کی، جب میں جامعہ ا...
26/05/2026

جامعۃ الصالحین کراچی کے روح رواں عارف باللہ محمد صالح نور اللہ مرقدہ کے بارے میں کالم

بات ہے سال 1999ء کی، جب میں جامعہ اسلامیہ بنّہ (الائی) میں ابتدائی درجوں کا ایک کمسن طالب علم تھا۔ ان دنوں مدرسے میں چھٹیاں تھیں اور میں اپنے گھر کی ضرورت کے لیے ایندھن کی لکڑیاں جمع کرنے جنگل جایا کرتا تھا۔ دو تین دن سے میرا یہی معمول تھا کہ میں 'جڑی بیلہ' اور 'گیدریا' کے گھنے اور پُرشکوه جنگلوں کے درمیان لکڑیاں اکٹھی کرنے میں مصروف رہتا۔
ایک دن، جب سورج اپنے جوہان پر تھا اور ظہر کا وقت ہو چلا تھا، میری نظر ایک دلنشین منظر پر پڑی۔ گھنے درختوں کے بیچ، ایک چٹان پر ایک بزرگ نہایت پرسکون انداز میں بیٹھے تھے۔ پاس ہی ان کے مال مویشی چر رہے تھے، اور وہ بزرگ دنیا و مافیہا سے بے خبر، اپنے دونوں ہاتھوں میں قرآن کریم تھامے نہایت خشوع و خضوع سے تلاوتِ کلامِ پاک میں مصروف تھے۔
جوں ہی ظہر کا وقت داخل ہوا، ان بزرگ نے اسی پتھر پر کھڑے ہو کر پوری دلکش آواز میں اذان دی۔ اذان کی مسحور کن آواز سن کر میرے دل میں بھی نماز کی تڑپ جاگی۔ میں وضو کی غرض سے قریب بہتی ندی کے کنارے گیا، وضو کیا اور ان بزرگ کی طرف چل پڑا۔ جب میں ان کے قریب پہنچا تو میں نے انہیں فوراً پہچان لیا؛ وہ کوئی اجنبی نہیں بلکہ میرے محترم اساتذہ کرام کے والدِ محترم تھے۔
اس وقت میری حالت ایک مسافر اور محنت کش جیسی تھی۔ دو تین دن سے مسلسل جنگل میں لکڑیاں چننے کی وجہ سے میرے کپڑے دھول مٹی سے اَٹے ہوئے تھے، بال بکھرے ہوئے تھے اور حالت بالکل پراگندہ تھی۔
مجھے اس حال میں دیکھ کر شاید ان بزرگ نے سمجھا کہ میں کوئی عام سا دیہاتی لڑکا ہوں جو یہاں لکڑیاں کاٹنے آیا ہے۔ انہوں نے انتہائی شفقت سے مجھ سے فرمایا: "آؤ، جماعت سے نماز پڑھتے ہیں، تکبیر (اقامت) تم کہہ دو۔" میں نے حکم کی تعمیل میں تکبیر کہی اور انہوں نے امامت فرمائی۔
نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب ہمارے درمیان گفتگو کا آغاز ہوا، تو باتوں باتوں میں انہیں معلوم ہوا کہ یہ میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس لڑکا کوئی عام بچہ نہیں، بلکہ اللہ کے فضل سے حافظِ قرآن ہے، ساداتِ کرام کے معزز خاندان سے اس کا تعلق ہے، اور انہی کے مدرسے کا طالب العلم ہوں
یہ سننا تھا کہ اس مردِ صالح کے چہرے پر ندامت اور احترام کے ملے جلے جذبات ابھر آئے۔ وہ انتہائی عاجزی سے مجھ سے معذرت کرنے لگے اور ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی کہ انہوں نے ایک سید زادے اور حافظِ قرآن کو اپنے پیچھے کیوں کھڑا کیا۔ وہ بار بار مجھ سے معافی مانگنے لگے۔ میں نے تڑپ کر کہا: "حضرت! کوئی بات نہیں، آپ تو میرے سر آنکھوں پر ہیں، آپ میرے اساتذہ کرام کے شفیق والد ہیں۔"
دوپہر ڈھلی اور عصر کا وقت ہو گیا۔ بابا جی نے اسی پابندی اور احترام کے ساتھ دوبارہ اذان دی اور اب کی بار مجھے فوراً اپنے پاس بلایا۔ انہوں نے اصرار کیا: "اب نماز تم پڑھاؤ گے اور میں تمہارا مقتدی بنوں گا۔" میں نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے جھجک کر کہا: "حضرت! میرے کپڑے بہت میلے کچیلے ہیں..." لیکن انہوں نے میری ایک نہ سنی اور فرمایا: "جو کچھ بھی ہو، تم سید ہو اور حافظِ قرآن ہو، امامت کا حق تمہارا ہے۔"
چنانچہ، میں مصلّے پر کھڑا ہوا اور اس بزرگ نے پوری عاجزی کے ساتھ میری اقتدا میں نماز ادا کی۔
جنگل کے اس خاموش ماحول میں، اس بزرگ کے دل میں قرآن کریم کا یہ بے پناہ احترام، سادات کرام کے لیے یہ والہانہ محبت، اور ان کا اپنا یہ تقویٰ و للہیت دیکھ کر میرا دل گواہی دے اٹھا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں، بلکہ الائی کی سرزمیں پر اللہ کا ایک بہت بڑا ولی ہے۔
وہ عظیم اور صالح بزرگ کوئی اور نہیں، ہمارے مخلص استاد قاری منیب الرحمن صاحب کے والدِ محترم "محمدصالح بابا" تھے۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کی عاجزی کی وہ خوشبو آج بھی جڑی بیلہ کے درختوں اور میرے دل کے نہاں خانوں میں بستی ہے۔
اللہ تعالیٰ محمدصالح بابا کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر کرے اور ان کا فیض تاابد جاری و ساری رکھے۔ (آمین)

شاہ علیم اللہ

جامعۃ الصالحین کراچی میں عید الأضحی کی نماز 6:00 بجے ادا ہوگی ان شاءاللہ تعالیٰ
23/05/2026

جامعۃ الصالحین کراچی میں عید الأضحی کی نماز 6:00 بجے ادا ہوگی ان شاءاللہ تعالیٰ

Address

Jamia Tus Saliheen Saeedabad Baldia Town Karachi
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Tus Saliheen KHI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share