19/06/2025
ایک چھوٹے سے خواب کی تعبیر
میں نے اپنی یونیورسٹی "نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد" کی لائبریری سے بہت استفادہ حاصل کیا۔ سب سے زیادہ کتابیں میں نے اسی لائبریری سے پڑھی ہیں۔ لائبریری کا عملہ بھی مجھے جاننے لگ گیا تھا ، اور ابھی تک مجھ سے میری کتابیں پڑھنے کی عادت کی وجہ سے محبت بھی کرتے ہیں۔
جب میں اپنی لائبریری میں لٹریچر والی الماریوں کی طرف جاتی تھی تو سوچا کرتی تھی کہ ایک دن اس لائبریری میں میری لکھی ہوئی کتاب بھی ہوگی۔
اور جب میری پہلی کتاب "عشقِ تو" آئی تو میں نے سب سے پہلے یہ کتاب اپنی لائبریری کو بھیجی۔ میں ایک دن لائبریری گئی کہ دیکھوں میری کتاب وہاں پڑی کیسی لگ رہی ہے لیکن اس دن یہ کتاب کسی کو ایشو ہو چکی تھی۔ یہ بھی الگ خوشی تھی کہ چلیں میری یونیورسٹی کے لوگ میری کتاب پڑھ رہے ہیں۔
اور آج گوگل پہ اپنی کتابوں کو سرچ کر رہی تھی تو نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کی لائبریری کا انٹرنیٹ پر نئے اضافے کا آرکائیو دیکھا۔۔۔۔ اس میں میری دوسری کتاب " قسمت پُڑی" بھی شامل تھی۔۔۔۔ میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے ایکدم خوشی کا بہت گہرا سا احساس ملا۔
کیرے جونیئرز ، مجھے میری کتابوں کی مدد سے جان سکتے ہیں۔
اب کراچی کیمپس کے میرے شاگرد یہ پڑھ کر خفا نہ ہوں۔ عشقِ تو کراچی کیمپس کی لائبریری میں موجود ہے اور انشاللہ اسی مہینے قسمت پڑی بھی کراچی کیمپس کی لائبریری میں موجود ہو گی۔
اس خوشی پر یہی کہوں گی_الحمدللہ
طیبا سید