21/08/2026
وفاقی اردو یونیورسٹی میں سابق طلبہ کی پہلی تقریب، المنائی ایسوسی ایشن کے قیام کا اعلان
سابق طلبہ یونیورسٹی کے سفیر ہیں، اپنی کامیابی، کردار اور صلاحیتوں سے مادرِ علمی کا نام روشن کریں، وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری
سابق طلبہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا اہم سرمایہ ہوتے ہیں، المنائی کو یونیورسٹی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، سعید اللہ والا
کراچی: وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام یونیورسٹی کے سابق طلبہ و طالبات کے اعزاز میں پہلی المنائی تقریب و عشائیے کا انعقاد کیا گیا، جس میں سابق طلبہ و طالبات، اساتذہ، سینیٹ ارکان اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کی، جبکہ معروف کاروباری شخصیت اور رکن سینیٹ سعید اللہ والا اور رکن سینیٹ و سابق وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی مہمانانِ اعزازی تھے۔ تقریب کی نظامت مشیر امور طلبہ ڈاکٹر سعدیہ خلیل نے انجام دی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کہا کہ سابق طلبہ کسی بھی یونیورسٹی کا قیمتی اثاثہ اور اس کے سفیر ہوتے ہیں۔ ان کا یونیورسٹی سے تعلق ڈگری حاصل کرنے کے بعد ختم نہیں ہوتا بلکہ زندگی بھر قائم رہتا ہے۔ سابق طلبہ جہاں بھی جائیں اپنی کامیابی، کردار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے مادرِ علمی کا نام روشن کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں تمام طلبہ کو رنگ، نسل، زبان، جنس یا مذہب سے قطع نظر مساوی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور ہر طالب علم جامعہ کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور اس نے ملک کے مختلف علاقوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو باہم جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کا بنیادی مقصد اردو زبان کے فروغ کے ساتھ معیاری اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور فعال المنائی نیٹ ورک اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے اعلان کیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق طلبہ و طالبات کو ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے المنائی ایسوسی ایشن قائم کی جا رہی ہے، جس کے مختلف کیمپسز میں چیپٹرز بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے سابق طلبہ سے اپیل کی کہ وہ جامعہ کی بہتری کے لیے صرف مالی تعاون تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنا وقت، تجربہ، روابط اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھی یونیورسٹی اور موجودہ طلبہ کے لیے وقف کریں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب سابق طلبہ طلبہ کی عملی زندگی، کاروبار، ٹیکنالوجی، کھیل، تحقیق اور دیگر شعبوں میں رہنمائی کرسکتے ہیں۔
وائس چانسلر نے کہا کہ مستحق طلبہ کے لیے سابق طلبہ کے تعاون سے وظائف کا نظام قائم کیا جاسکتا ہے، جبکہ وہ اپنے والدین اور بزرگوں کی یاد میں یونیورسٹی کے کلاس رومز، لیبارٹریز، لائبریری اور دیگر تعلیمی سہولتوں کی بہتری میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ المنائی ایسوسی ایشن کا مقصد محض چندہ جمع کرنا نہیں بلکہ یونیورسٹی اور سابق طلبہ کے درمیان مضبوط، مستقل اور بامقصد رابطہ قائم کرنا ہے۔
مہمانِ اعزازی سعید اللہ والا نے المنائی ایسوسی ایشن کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق طلبہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی پہچان اور اہم سرمایہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے ایمانداری، محنت، مستقل مزاجی، وقت کی قدر اور اچھا کردار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ سابق طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی کامیابیوں اور تجربات سے یونیورسٹی کے موجودہ طلبہ کو فائدہ پہنچائیں اور جامعہ کی ساکھ اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
سعید اللہ والا نے کہا کہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، دوسروں کی رائے کا احترام کرنا اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی مسلسل کوشش ایک کامیاب انسان اور بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔ انہوں نے سابق طلبہ پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنائیں اور اسے ملک کے ایک مثالی تعلیمی ادارے کے طور پر آگے بڑھانے میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے کہا کہ سابق طلبہ کسی بھی یونیورسٹی کے علمی، سماجی اور پیشہ ورانہ اثاثے ہوتے ہیں۔ ان کی کامیابیاں دراصل ان کے مادرِ علمی کی کامیابیوں کا حصہ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ المنائی ایسوسی ایشن کو تحقیق، صنعت و جامعات کے روابط، طلبہ کی پیشہ ورانہ رہنمائی، انٹرن شپ، روزگار اور علمی تعاون کے لیے مؤثر پلیٹ فارم بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے سابق طلبہ پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹی کو وقت دیں اور نئی نسل کی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کریں۔
تقریب میں تمام شرکاء کی مشاورت سے المنائی ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا اعلان بھی کیا گیا، جس کے مطابق مفتی نعمان نعیم صدر، ڈاکٹر شکیل نائب صدر، مبشر نعیم جنرل سیکریٹری، ڈاکٹر دیدار علی جوائنٹ سیکریٹری، صالحہ ایڈووکیٹ ڈپٹی جوائنٹ سیکریٹری، معاذ لیاقت فنانس سیکریٹری، فریال احسن ڈپٹی فنانس سیکریٹری اور رانا جاوید پریس سیکریٹری ہوں گے۔
اس موقع پر وفاقی اردو یونیورسٹی میں قائم نئے آڈیٹوریم کا بھی ذکر کیا گیا، جسے عبدالقدیر خان و عثمان اللہ والا آڈیٹوریم کا نام دیا گیا ہے۔ اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ آڈیٹوریم جامعہ کی اہم علمی، ادبی، تحقیقی اور دیگر تقریبات کے لیے ایک مؤثر مرکز ثابت ہوگا۔
ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد زاہد اور ڈاکٹر لبنی بشیر اور ڈاکٹر عبید کورائی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔
تقریب کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ، اساتذہ،ہ طلبہ اور سابق طلبہ باہمی تعاون سے جامعہ کو ایک مضبوط، معیاری، باوقار اور تحقیق دوست تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔