Pakhtano Hojra

Pakhtano Hojra Love for all bangash

جنگ آزادی میں علماء کرام کی قربانیاں1857ءدہلی کے چاندنی چوک سے پشاور تک درختوں پر علماء کی گردنیں اور - جسم لٹکے ہوئے مل...
30/07/2025

جنگ آزادی میں علماء کرام کی قربانیاں
1857ء
دہلی کے چاندنی چوک سے پشاور تک درختوں پر علماء کی گردنیں اور - جسم لٹکے ہوئے ملتے تھے ۔ روزانہ 80 علماء پھانسی پر لٹکائے جاتے تھے۔ میں دہلی کے ایک خیمے میں بیٹھا تھا، مجھے گوشت کے جلنے کی بو آئی، میں نے خیمے کے پیچھے جاکر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آگ کے انگاروں پر تیس چالیس علماء کو ننگا کر کے ڈالا جا رہا ہے۔ پھر دوسرے 40 اسی طرح لائے گئے انہیں ننگا کیا گیا، ایک انگریز نے ان سے کہا اگر تم اٹھارہ سو ستاون کے اس انقلاب میں شرکت سے انکار کر دو تو تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ ٹامسن کہتا ہے کہ " خدا کی قسم سارے علماء جل کر مر گئے یعنی شہید ہوگئے مگر کسی ایک نے بھی انگریز کے سامنے گردن نہیں جھکائی . -

اٹھارہ سو ستاون کی کہانی انگریز ٹامسن کی زبانی ماخوذ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند شماره 1 جلد (97)

اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ گیا ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ " بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩﻭ "ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮ...
28/06/2025

اﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ گیا ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ " بھائی ذرا اﺱ مرغی ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩﻭ "
ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵﻧﮯ ﮐﮩﺎ " ﻣﺮﻏﯽ ﺭکھ ﮐﺮچلے ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺁﺩھے ﮔﮭﻨٹے ﺑﻌﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ "

ﺍﺗﻔﺎﻕ ﺳﮯﺷﮩﺮ ﮐﺎ قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ پر آ گیا ﺍﻭﺭ ﺩوﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ"
ﺩوﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﯾﮧ مرغی ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ھﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ جو آپ کو دے سکوں"
قاضی ﻧﮯ کہا کہ کوئی بات نہیں ، ﯾﮩﯽ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﻣﺎﻟﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ کہ مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽھے "

ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﺎ بھلا ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ھو گا ؟ مرغی تو ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯼ تھی پھر ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ سکتی ھے" ؟
قاضی ﻧﮯ ﮐﮩﺎ- " ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ اسے غور سے ﺳﻨﻮ ! ﺑﺲ ﯾﮧ مرغی ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ ﺍﺱ کے مالک ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﻮ ﮐﮧ تیری مرغی ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے - ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ خلاف مقدمہ لے کر ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ہی ﮔﺎ "
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ " ﺍﻟﻠﻪ سب کا ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ" اور مرغی قاضی کو پکڑا دی -

قاضی ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ نکل ﮔﯿﺎ ﺗﻮ مرغی کا ﻣﺎﻟﮏ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ دوکاندار سے ﮐﮩﺎ کہ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ھے ؟
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ " میں نے تو کاٹ دی تھی مگر ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے"

ﻣﺮﻏﯽ ﻭالے نے حیران ھو کر پوچھا : بھلا وہ ﮐﯿﺴﮯ ؟ "ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮌ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺌﯽ ھے ؟ دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ھوئی اور پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی جس پر ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ کہ" ﭼﻠﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ قاضی کے پاس چلتے ھیں " اور چل پڑے -

ﺩﻭﻧﻮﮞ نے ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺟﺎﺗﮯ ھﻮﺋﮯ ﺭاﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﻟﮍ ﺭھﮯ ہیں ، ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ھﮯ جبکہ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ - ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﯽ آنکھ ﻣﯿﮟ جا ﻟﮕﯽ ﺍﻭﺭ یہودی کی آنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ - ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ کہ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮯ کر ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ - ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ مقدے ﺑﻦ ﮔﺌﮯ -

ﻟﻮﮒ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺍپنے آپ کو چھڑا ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ، ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ھو کر ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼڑھ ﮔﯿﺎ - ﻟﻮﮒ جب ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ لئے ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ تو ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ -

ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ لیا ﺍﻭﺭ سب اس کو ﻟﮯ ﮐﺮ قاضی ﮐﮯ ﭘﺎس ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ -

قاضی مرغی فروش ﮐﻮ ﺩﯾکھ ﮐﺮ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﻣﺮﻏﯽ ﯾﺎﺩ ﺁ ﮔﺌﯽ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ اسے ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ -

ﺟﺐ قاضی ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ اس نے سر پکڑ لیا - اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ "ھم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگرے فیصلہ سناتے ھیں" ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ -

قاضی نے پوچھا ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ دعوی ﮐﯿﺎ ھے ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''جناب والا ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﭼﺮﺍﺋﯽ ھے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ھﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ ھے'' - قاضی صاحب ! ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟؟

قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍﻟﻠﻪ اور اس کی قدرت ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ: ''ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ قاضی صاحب''
قاضی: '' ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ۔۔۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﺎ بھلا کیا مشکل ھے''

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ کا مالک خاموش ھو گیا اور اپنا کیس واپس لے لیا -

قاضی: '' ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﻮ ﻻﺅ '' - ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ عرض کیا کہ '' قاضی ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭی ھے ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁنکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧکھ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ''

قاضی ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ: " ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﯾﺖ ﻧﺼﻒ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺮﯼ آنکھ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ آنکھ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ "
ﯾﮩﻮﺩﯼ: " بس ﺭھنے ﺩﯾﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨوں"

قاضی: " ﺗﯿﺴﺮﺍ مقدمہ بھی پیش کیا جائے" -

ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ عرض کیا کہ " قاضی صاحب ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ "

قاضی تھوڑی دیر ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﻻ: " ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭکہ تم لوگ ﺍسی ﻣﯿﻨﺎﺭ پر جاؤ ﺍﻭﺭ مدعی ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ مدعی علیہ (ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ) ﭘﺮ اسی طرح ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ دے جس طرح مرغی فروش نے اس کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی"
نوجوان نے کہا: " قاضی صاحب ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮ ﻣﺮﺟﺎﺅﮞ گا "

قاضی نے کہا " ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ، میرا کام عدل کرنا ھے - ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ؟؟؟
نوجوان نے اپنا دعوی واپس لے لیا -

** نتیجہ اگر آپ کے پاس قاضی کو دینے کے لئے مرغی ھے تو پھر قاضی
بھی آپ کو بچانے کا ہر ھنر جانتا ھے -

🌍 ماحولیاتی تباہی کی طرف بڑھتا ایشیا📊 عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کے مطابق، ایشیا میں درجہ حرارت دنیا کے دیگر خطوں کے مقا...
25/06/2025

🌍 ماحولیاتی تباہی کی طرف بڑھتا ایشیا
📊 عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کے مطابق، ایشیا میں درجہ حرارت دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

🌡️ اب تک زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 0.85 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے۔

🔮 سائنسدانوں کا خدشہ ہے کہ اگر ہم نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر قابو نہ پایا تو اس صدی کے اختتام تک درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔

❓ شاید آپ سوچیں: “صرف 4 ڈگری! اس میں پریشانی کیا ہے؟”
تو جان لیجیے:

🧊 ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش (HKH) خطہ — جہاں دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز موجود ہیں — اس خطے کا درجہ حرارت اگر:

➖ 2 ڈگری بڑھ جائے تو گلیشیئرز کی 50 فیصد برف پگھل جائے گی
➖ 3 ڈگری بڑھ جائے تو 75 فیصد برف ختم ہو جائے گی
➖ 4 ڈگری بڑھ جائے تو 80 فیصد سے زائد برف صفحۂ ہستی سے غائب ہو جائے گی

🇵🇰 صرف پاکستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔

🚰 HKH خطہ سے:

➤ پہاڑی علاقوں میں 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کا پانی انہی گلیشیئرز سے آتا ہے
➤ جبکہ نچلے علاقوں کو ملا کر 1 ارب 64 کروڑ لوگوں کی خوراک، زراعت، پینے کا پانی اور معیشت انہی پانی کے ذخائر پر منحصر ہے

🗺️ یہ خطہ درج ذیل ممالک پر مشتمل ہے:

🔸 پاکستان
🔸 بھارت
🔸 چین
🔸 افغانستان
🔸 نیپال
🔸 بنگلہ دیش
🔸 بھوٹان
🔸 میانمار

🧠 یہ وقت جنگوں اور اسلحہ پر خرچ کرنے کا نہیں، بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم:

✔️ پانی کی حفاظت پر سرمایہ لگائیں
✔️ گلیشیئرز بچانے کے لیے خطے میں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں
✔️ ماحولیاتی تبدیلی کو صرف نعرے نہیں، حقیقتاً عملی اقدامات سے روکیں

🤝 بھارت، پاکستان، چین اور تمام خطے کے ممالک کو سوچنا ہو گا کہ:

❌ جنگیں جیتنے سے قومیں ترقی نہیں کرتیں
✅ بلکہ پانی، زراعت، ماحول اور آنے والی نسلوں کو بچانے سے حقیقی فلاح حاصل ہوتی ہے

24/06/2025

56 بہنوں کا اکلوتا بھائی ایران ۔
جس نے امریکی اڈوں پر حملہ کیا. Pakhtano

Mahogany Treeصرف ایک درخت کی قیمت ہی 20 لاکھ سے 2 کروڑ تکہمارے ہاں کسان اپنی زمینوں پر ایسے درخت لگاتے ہیں جو صرف بالن ی...
25/05/2025

Mahogany Tree
صرف ایک درخت کی قیمت ہی 20 لاکھ سے 2 کروڑ تک
ہمارے ہاں کسان اپنی زمینوں پر ایسے درخت لگاتے ہیں جو صرف بالن یا چند ہزار سے اوپر کے بکتے نہیں ہے کاش انہیں اس درخت کی قدر معلوم ہو جائے
مہاگنی
ایک مشہور اور قیمتی لکڑی ہے جو اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔اسکا آج ایک فٹ کا ریٹ اسلام آباد میں 10 ہزار روپے فٹ ہے اور اس کے دروازے اور کھڑکیاں بنوائی جاتی ہے کیونکہ اس کے گرین بڑے شاندار اور اس میں گانٹھ نہیں ہوتی اور سرخی مائل لکڑی بڑی ہی کمال کی اور مضبوط ہوتی ہے
یہاں اس کے بارے میں مکمل معلومات دی گئی ہیں:

# # # نام کی وجہ
Mahogany
کا نام اس کی خوبصورت، سرخ-بھوری لکڑی کی وجہ سے رکھا گیا ہے جو مختلف قسم کے فرنیچر اور دیگر اشیاء میں استعمال ہوتی ہے²۔

# # # کہاں اور کس موسم میں لگتا ہے
Mahogany
درخت زیادہ تر **وسطی اور جنوبی امریکہ** اور **کیرابین** کانگو کے علاقوں میں پایا جاتا ہے یہ درخت گرم اور مرطوب موسم میں بہترین نشوونما پاتا ہے

# # # ممالک
یہ درخت **ہونڈوراس، برازیل، پیرو، میکسیکو اور کانگو ** میں زیادہ تر پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسے **ایشیا** اور **اوشیانا** کے کچھ حصوں میں بھی اگایا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے گرم علاقوں میں بھی بڑی آسانی سے اگایا جا سکتا ہے

# # # موسم
Mahogany
درخت گرم اور مرطوب موسم میں کامیاب ہوتا ہے۔ یہ درخت زیادہ پانی اور دھوپ پسند کرتا ہے، اور اچھی نکاسی والی مٹی میں بہترین نشوونما پاتا ہے²۔

# # # لکڑی کے استعمالات
Mahogany
لکڑی مختلف مقاصد کے لئے استعمال ہوتی ہے، جن میں شامل ہیں:
- **فرنیچر**:
Mahogany
کی لکڑی سے بنے فرنیچر خوبصورت اور پائیدار ہوتے ہیں۔
- **کشتی سازی**: اس کی مضبوطی اور پانی سے مزاحمت کی وجہ سے کشتیوں میں استعمال ہوتی ہے۔
- **پینلنگ**: گھروں اور دفاتر میں دیواروں کی پینلنگ
دروازے کھڑکیاں اور ٹیبل وغیرہ کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے
Mahogany
درخت عام طور پر **30 سے 40 میٹر** تک لمبا ہو سکتا ہے، لیکن کچھ درخت **60 میٹر** یعنی 200 فٹ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ یہ درخت اپنی لمبائی اور مضبوطی کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔

خود اندازہ لگا لیں ایک درخت ہی 20 لاکھ سے 1.5 کروڑ تک کا مارکیٹ میں سیل ہو سکتا ہے اس لیے اپنی زمینوں پر قیمتی لکڑی کے درخت لگائیں

18/05/2025

پاکستان کے خلاف پوری کفری طاقتیں ایک صف میں ہورہی ہیں
جس میں کچھ مسلم ممالک بھی شامل ہونگے
اللہ پاکستان کی ہر طرف مدد اور حفاظت فرمائے

بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بےوفائی نہ تھی..."💥ایک تعلق جو وقت، فاصلے اور حالات کے باوجود دلوں میں زندہ رہا۔↙️ایک بار پھ...
16/05/2025

بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بےوفائی نہ تھی..."💥
ایک تعلق جو وقت، فاصلے اور حالات کے باوجود دلوں میں زندہ رہا۔↙️
ایک بار پھر بنگلہ دیش نے پاکستان کے لیے اپنی محبت اور سپورٹ کا اظہار کیا — یہ صرف کرکٹ نہیں، دوستی اور بھائی چارے کا اظہار ہے۔
دنیا کو ایک بار پھر یہ پیغام ملا:
پاکستان اور بنگلہ دیش نہ صرف پڑوسی ہیں، بلکہ دل سے بھائی بھائی ہیں۔ 👏💥↙️👀

پاکستان بنگلہ دیش دوستی زندہ باد!
♥️🇵🇰

صرف پونے 4 گھنٹے کی جنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر ؛ محمد سلیمپاکستان آزما لیا گیا ، جو نتائج نکلے ہیں وہ ہمارے لیئ...
13/05/2025

صرف پونے 4 گھنٹے کی جنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر ؛ محمد سلیم

پاکستان آزما لیا گیا ، جو نتائج نکلے ہیں وہ ہمارے لیئے تو قابل فخر ہیں لیکن دنیا کے لیئے انتہائی خوفناک ہیں ۔
ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم پہلے اپنی کچھ قائدانہ کمزوریوں کی وجہ سے ایک خودساختہ احساس کمتری میں مبتلا تھے ۔ لیکن پاک افواج نے صرف تین گھنٹے میں ہماری سوچ, دنیا کی سوچ اور خطے کی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ۔
ایک سوچ تھی کہ
"پاکستان دس دن جنگ لڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔"
وہ اس سوچ میں بدل گئی کہ
"پاکستان دس دن میں بھارت جیسے دس ممالک کو دس مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔"
اگر میں آپ کو کل ملا کر بتاؤں تو پاکستان نے محض تین گھنٹے 45 منٹ کی جنگ میں بھارت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا اور جب صرف اتنی کسر باقی رہ گئی کہ صرف ایک پھونک مارنی تھی اور پورا بھارت اس گڑھے میں غرق ہو جاتا تو دنیا کے وہ چوہدری جو پیپسی اور لیز چپس کے پیکٹ لے کر صرف تماشا دیکھنے بیٹھے تھے وہ سب کچھ پھینک کر اس تماشے میں کودنے پر مجبور ہو گئے ۔
کچھ کہہ رہے ہیں کہ مودی نے ٹرمپ کو فون کیا ۔
مودی نے ؟ ؟ ؟
کیا مودی کا فون کام کر رہا تھا ؟ ؟
کیا مودی کا دماغ کام کر رہا تھا ؟ ؟
کیا مودی کے حواس کام کر رہے تھے ؟ ؟
مودی کو تو جب ہوش آیا ہو گا تو کچھ اس قسم کے کلمات منہ سے نکل رہے ہوں گے ۔ ۔
میں کِتھے آں؟
توُں کون اِیں؟
اے کی اے؟
میں پاگل آں ؟
توں پاگل ایں ۔
ہیں ... اوۓ۔۔
اے کون اے؟
وہ تو پوچھ رہا ہو گا کہ کیا بھارت تباہ ہو گیا اور ہم سب سورگ میں ہیں ؟
پھر اسے بتایا گیا ہو گا کہ نہیں آپ سب کو بچا لیا گیا ہے ۔ ٹرمپ صاحب موقع پر پہنچ گئے تھے ۔
ٹرمپ نے بھگوان بن کر ان کی مدد کی ہے ۔ اب یہ اسی کو پوجیں گے ۔
ورنہ ان کو تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کہاں کہاں سے میزائل آرہے ہیں اور کہاں کہاں گر رہے ہیں ۔ کیا کیا تباہ ہو گیا اور بچا کیا ہے ۔
اور
اور وہ جو ہمارا روسی ساختہ دنیا کا نمبر ون دفاعی نظام تھا وہ کہاں چلا گیا ؟
وہ کیا کر رہا ہے ؟
مودی کے اس جنگی جنون کی پوری عمارت تین ستونوں پر کھڑی تھی ۔
1 ۔ رافیل طیارے ناقابل شکست ہیں ۔
2 ۔ بھارت کے دفاعی نظام کے ہوتے ہوئے یہاں پرندہ پر نہیں مار سکتا ۔
3 ۔ پاکستان بھارت کے آگے دس دن نہیں ٹک سکتا ۔
ان تینوں ستونوں کو زمین بوس ہونے میں 3 گھنٹے اور 45 منٹ لگے ۔
پہلا ستون رافیل تو اسی دن گر گیا جس دن بھارت نے حملہ کیا ۔
دوسرے ستون روسی ساختہ دفاعی نظام کو گرانے کے لیئے پاکستان نے اپنے صرف دو پرندے بھیجے تھے اور ان دو پرندوں نے اس جدید ترین دفاعی نظام کو بھی تباہ کر دیا ۔
کیسے کیا ؟
کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی ؟
ایمانداری سے کہوں تو خود میں بھی ابھی تک سمجھ نہیں پایا کہ پاکستان نے یہ کیا کیسے ۔ وہ روسی ساختہ دفاعی نظام بلامبالغہ پچاس طیاروں اور اتنے ہی میزائلز کو ایک ہی وقت میں ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔
کچھ کہتے ہیں وہ کمپرومائزڈ ہو چکا تھا ۔ ۔
ہیک ہو چکا تھا ۔ ۔
لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں ان شاہینوں کو جنہیں بتا کر بھیجا گیا تھا کہ اس مشن سے واپسی ناممکن ہے لیکن آپ نے ٹارگٹ ہٹ کرنے سے پہلے ہٹ نہیں ہونا ۔
انہوں نے ٹارگٹ بھی ہٹ کیا اور الحمدللہ واپس بھی آگئے ۔
بھارت کا سب سے بڑا بت ٹوٹنے کے بعد پورا بھارت پاکستانی میزائیلوں کے رحم و کرم پر تھا ۔
کوئی روکنے والا نہیں تھا ۔
پاکستان دس دن جنگ نہیں لڑ سکتا ؟ ؟
یہ جملہ پاکستان کے لیئے ایسا ہی ہے جیسے کوئی مائک ٹائسن کو کہے کہ تم تیسرا راؤنڈ نہیں لڑ سکتے ۔ تھک جاؤ گے ۔
مائک ٹائسن کے آگے تیسرا راؤنڈ کبھی کسی باکسر نے دیکھا بھی ہے ۔ مائک ٹائسن کی فائٹ میں صرف پہلے راؤنڈ کے تین گھنٹے ریفری بجاتا تھا ۔ اس کے بعد کے سارے گھنٹے مائک ٹائسن خود بجاتا تھا ۔
مخالف کی آنکھ پھر ہسپتال میں کھلتی تھی اور وہ نرس سے پوچھتا تھا کہ کیا دوسرا راؤنڈ نہیں ہو گا ؟
نرس اسے دلاسا دیتی تھی کہ ہو گا بابا ۔ ضرور ہو گا ۔ لیکن فی الحال تمہاری ایک ٹانگ ٹوٹ گئی ہے ۔ بازو کی ہڈی چار جگہ سے فریکچر ہے ۔ سر پر گہری چوٹ آئی ہے جس کی وجہ سے تمہارا دماغ ابھی اگلے کئی سال تک کے لیئے ماؤف ہو چکا ۔ چار پسلیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے ۔ اب تم مائیک ٹائسن تو کیا کسی کے بھی سامنے سیدھے کھڑے نہیں ہو سکتے ۔
کچھ علاج کروا لو ۔ ٹھیک ہو جاؤ ۔ پھر لڑ لینا ۔
بھارت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔
مکمل ناک آؤٹ ۔
ان تین گھنٹوں کی گولہ باری میں مودی کے اختیار سے سب کچھ نکل چکا تھا ۔
رافیل کی پہلے ہی مٹی پلید ہو چکی تھی لہٰذا انتہائی ضرورت کے باوجود پاکستانی جے ایف تھنڈر کے مقابلے میں بھارت کے کسی طیارے نے اڑان نہیں بھری ۔ ہمارے طیارے بھارت کی فضاؤں میں اکیلے دندناتے پھر رہے تھے ۔
پاکستان کے ڈرونز نے مت ماری ہوئی تھی ۔
روسی ساختہ دفاعی نظام تباہ ہو چکا تھا ۔
ملٹری ڈیفینس کے سیٹیلائٹ پر سائبر اٹیک ہوا تھا اور وہ ہیک ہو چکا تھا ۔
بھارت کے ستر فیصد علاقوں کی بجلی پاکستان نے کنٹرول کر کے معطل کر دی تھی ۔
اس قدر برا حال تھا کہ بھارت کے معمولی کسان سے لے کر بھارت کے وزیر اعظم تک ۔ کسی کو صورتحال کے بارے میں کچھ نہیں پتہ نہیں تھا ۔
بھارت کی وزارت دفاع نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر کے کہا کہ اگر پاکستان رک جائے تو ہم بھی مزید تناؤ نہیں چاہتے ۔
یہ بھارت کا اعتراف شکست تھا کہ ہماری بس ہو چکی ہے ۔
وہ بھارت جسے پوری دنیا سمجھا رہی تھی کہ اس جنگی جنون سے باز آجاؤ لیکن وہ باز نہیں آرہا تھا ۔
پھر پاکستان نے اسے تین گھنٹے سمجھایا اور وہ سمجھ گیا ۔
نہ صرف وہ سمجھ گیا بلکہ اس کے پیچھے بیٹھے سب دشمن سمجھ گئے ۔
وہ منصوبہ جس کو کئی ہفتوں تک طول دے کر دشمن پاکستان کو زچ کرنا چاہتا تھا اسے پاکستان نے محض چند گھنٹے میں لپیٹ کر دنیا کے منہ پر مار دیا ۔
تماشا پاکستان کا دیکھنا تھا ۔ تماشا بھارت کا لگ گیا ۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

11/05/2025

دوسرے ملک کی فضاء میں جاکر ریڈار سے ایئر ڈیفنس سسٹم سے بچنا بڑی بات ہوتی ہے
شاہین ہر طرف چھا گے ہیں
🦅

زمین پر تیز ترین مخلوق انسان کی نہیں ہے - یہ پروں والی ہے۔پیریگرین فالکن، فطرت کی رفتار کا چیمپئن، اپنے شکار پر حملہ کرن...
06/05/2025

زمین پر تیز ترین مخلوق انسان کی نہیں ہے - یہ پروں والی ہے۔

پیریگرین فالکن، فطرت کی رفتار کا چیمپئن، اپنے شکار پر حملہ کرنے کے لیے 400 کلومیٹر فی گھنٹہ (250 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے غوطہ لگا سکتا ہے - اور پھر بھی، اسے ہوا کے بے پناہ دباؤ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اس کا راز کیا ہے؟
اس کی ناک میں ایک چھوٹی سی ہڈی جسے ٹیوبرکل کہتے ہیں، جو ہوا کے بہاؤ کو سست کر دیتی ہے اور اس کے نظام تنفس کی حفاظت کرتی ہے۔

قدرتی انجینئرنگ کے اس شاندار ٹکڑے نے ایروناٹیکل انجینئرز کو متاثر کیا۔ جدید جیٹ انجن کے ڈیزائن اس چھوٹی خصوصیت سے مستعار لیے گئے ہیں، ہوائی جہاز میں ہوا کے بہاؤ، رفتار اور استحکام کو بہتر بناتے ہیں۔
یہاں تک کہ بلین ڈالر کا امریکی B-2 بمبار بھی تیز رفتار حملوں کے دوران پیری گرائن فالکن میں مشاہدہ کیے گئے ایروڈینامک اصولوں کو شامل کرتا ہے۔

اس میں غور کرنے والوں کے لیے نشانی ہے۔
پاک ہے وہ ذات جس نے تمام مخلوقات کو مکمل کیا - جس نے ایک چھوٹے پرندے کے اندر ایک راز رکھا جس نے انسانیت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مدد کی۔

# please like

آجکل گرمی کا موسم ہے اور تربوز کا سیزن 🍉 تربوز کو ڈھول کی طرح بجا کر چیک کرنا چھوڑیں اور `تربوز چیک کرنے کے چند طریقے سی...
04/05/2025

آجکل گرمی کا موسم ہے اور تربوز کا سیزن 🍉
تربوز کو ڈھول کی طرح بجا کر چیک کرنا چھوڑیں اور
`تربوز چیک کرنے کے چند طریقے سیکھیں۔

`پہلا طریقہ:-`
تربوز گہرا سبز ہو اور ایک طرف سے پیلا ہو.
`دوسرا طریقہ:-`
تربوز کی ڈنڈی سے چیک کریں اگر ڈنڈی والی جگہ سبز ہو تو تربوز کچہ ہے اور ڈنڈی والی جگہ تھوڑی کالی اور پیلی ہو تو تربوز پکا ہے.
`تیسرا طریقہ:-`
تربوز کو اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے دبائیں اگر تربوز سخت ہو تو تربوز کچہ ہے اور آگر تھوڑا دب جانے تو پکا ہے.
`چوتھا طریقہ:`
تربوز کا وزن کریں اگر سائز میں بڑا ہو اور وزن میں کم ہو تو تربوز سو فیصد کچہ ہے اگر تربوز چھوٹا ہو اور بھاری ہو تو پکا تربوز ہے.
`پانچواں طریقہ،`
تربوز کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑیں ایک اوپر اور ایک نیچے رکھیں اب اوپر ہاتھ سے تربوز کو بجائیں اور نیچے والے میں ہلکی جُنبش محسوس کریں تو تربوز پکا ہے.
جب تربوزچیک کرکےگھرلےآئیں فریج میں رکھیں جب فل ٹھنڈا ہو جائے تو مجھے دعوت دیں کھانے کا طریقہ ان شاءاللہ موقع پر بتاؤں گا۔ 🍉
*شکریہ* 😊

Address

Kohat
BANGASH

Telephone

+923320842713

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakhtano Hojra posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share