تخصص فی الحدیث،جوہر ٹاؤن،لاہور

تخصص فی الحدیث،جوہر ٹاؤن،لاہور مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ان شاء اللہ عزوجل

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ معزز قارئین کرام جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فیضان مدینہ جوہر ٹاون لاہور میں "تخصص فی الحد...
08/04/2026

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
معزز قارئین کرام جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فیضان مدینہ جوہر ٹاون لاہور میں "تخصص فی الحدیث " کا آغاز آج سے دو سال قبل کیا گیا تھا ۔ وقت اور حالات کے پیش نظر علوم و فنون کو سیکھنے کے نت نئے طریقے اور جدید ٹولز ایک اہم ضرورت ہے ۔ پاکستان میں اگرچہ علوم حدیثیہ کو اب تک ایک درجہ اختصاص کے طور پر پڑھا پڑھایا نہیں جاتا تھا، لیکن پھر جن علمائے اہلسنت نے علم حدیث سے اپنی وابستگی رکھی اور اس کے متعلقہ علوم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ، ان کا نام ہمیشہ اس گلستان میں جگمگاتا رہے گا۔ قریب ایک صدی پہلے تک علمائے اہلسنت میں وقتا فوقتا ایسے جید اور قابل افتخار ہستیاں برصغیر کے اس چمن میں موجود رہیں کہ جن کی وجہ سے یہ گلستان آج پھر سے اپنے شباب کی جانب رواں دواں ہے ۔
ان ہستیوں میں ایک بڑی تعداد امام اعلی حضرت امام اہلسنت مرکز عقیدت و محبت عاشق سنت ، ماحی بدعت ، پیر طریقت ، رہبر شریعت ، امیر المومنین فی الحدیث ، مفتی الدھر ، عالم شریعت ، سیدی و سندی امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے ساتھ جڑے افراد کی ہے ۔
جن میں سے بطریق اختصار تین ہستیوں کا ذکر کرتا ہوں:
1. حضرت علامہ ، ملک العلماء مفتی ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ صاحب "الجامع الرضوی المعروف ب صحیح البہاری" آپ کا یہ کارنامہ نہایت شاندار اور مسلک احناف کا ترجمان ہے ۔
2. صدر الشریعۃ ، بدر الطریقۃ ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ صاحب "بہار شریعت" ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے لکھے گئے اس انسائیکلوپیڈیا سے بر صغیر کا شاید ہی کوئی مدرسہ خالی ہو لیکن اس عظیم الشان تصنیف میں جہاں امام اعظم رحمہ اللہ تعالی کے چمنستان کی آبیاری ہے وہیں پر علم حدیث پر آپ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
3. مفسر قرآن حضرت علامہ مولانا سید نعیم الدین مرآد بادی رحمۃ اللہ علیہ صاحب " تفسیر خزائن العرفان " آپ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ مایہ ناز تفسیر آج بھی اہلسنت کے مدارس ومساجد کی زینت ہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علم تفسیر میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں وہیں آپ کی علم حدیث پر بھی گہری نظر تھی جس کا منہ بولتا ثبوت تفسیر خزائن العرفان ہے ۔
اس کے علاوہ بھی سیدی امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں اور خلفاء نے جو علم حدیث میں کارنامے سر انجام دئیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔ انہی بزرگوں سے نسبت رکھتے ہوئے اللہ پاک ہمیں بھی ان کے فیض سے مالا مال فرمائے اور ہمیں بھی علم حدیث کا ذوق نصیب فرمائے ۔ آمین ۔

07/04/2026

جامعہ المدینہ (دعوتِ اسلامی) کے زیرِ اہتمام **تخصص فی الحدیث** ایک ایسا علمی و تحقیقی کورس ہے جو دورِ حاضر میں علومِ حدیث کی ترویج اور دفاعِ سنت کے حوالے سے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ جوہر ٹاؤن، لاہور میں واقع فیضانِ مدینہ میں اس تخصص کا انعقاد علمِ دین کے تشناگان کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔
ذیل میں اس کورس کی اہمیت اور افادیت پر ایک جامع مضمون پیش ہے:
# # تخصص فی الحدیث: اہمیت و افادیت
# # # 1. حدیثِ رسول ﷺ کی حفاظت اور اہمیت
قرآن کریم کے بعد اسلامی شریعت کا دوسرا بڑا ماخذ **حدیثِ مبارکہ** ہے۔ اللہ عزوجل نے دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، اور حدیث کی حفاظت دراصل قرآن کی تشریح و توضیح کی حفاظت ہے۔ تخصص فی الحدیث کے ذریعے ایسے ماہرین تیار کیے جاتے ہیں جو احادیث کی اسناد، متون اور ان کی علل (خفیہ نقائص) کو سمجھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔
# # # 2. عصرِ حاضر کے فتنوں کا سدِ باب
موجودہ دور میں "فتنۂ انکارِ حدیث" اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی من گھڑت روایات ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔
* **جامعہ المدینہ** کا یہ شعبہ طلبہ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع روایات کے درمیان فرق کر سکیں۔
* مستشرقین (Orientalists) کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب دینے کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
# # # 3. فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن کا علمی ماحول
لاہور کا یہ مرکز اپنی نظم و ضبط اور علمی سنجیدگی کی بنا پر منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں تخصص کرنے والے طلبہ کو:
* عظیم الشان لائبریری تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔
* ماہر اساتذہ اور شیوخ الحدیث کی زیرِ نگرانی تحقیق کا موقع ملتا ہے۔
* ایک ایسا روحانی ماحول میسر آتا ہے جہاں علم کے ساتھ ساتھ تقویٰ اور سنتوں کی پیروی پر بھی زور دیا جاتا ہے۔
# # # 4. نصاب اور تحقیقی مہارت (Skill Development)
اس کورس کے دوران طلبہ صرف کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ وہ درج ذیل مہارتیں حاصل کرتے ہیں:
* **تخریجِ حدیث:** کسی بھی حدیث کو اس کے اصل مآخذ (کتبِ حدیث) سے تلاش کرنا۔
* **جرح و تعدیل:** راویوں کے حالاتِ زندگی اور ان کی ثقاہت (reliability) کا جائزہ لینا۔
* **فقہ الحدیث:** احادیث سے شرعی مسائل کے استنباط (deduction) کا طریقہ سیکھنا۔
# # # 5. معاشرتی افادیت
تخصص مکمل کرنے والے علمائے کرام معاشرے میں درج ذیل خدمات سرانجام دیتے ہیں:
1. **تدریس:** مدارس اور جامعات میں حدیثِ پاک کا درس دینا۔
2. **تحقیق و تصنیف:** حدیث کے موضوع پر علمی مقالات اور کتب تحریر کرنا۔
3. **اصلاحِ عقائد:** صحیح احادیث کی روشنی میں عوام الناس کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرنا۔
# # # خلاصہ کلام
جامعہ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں **تخصص فی الحدیث** محض ایک ڈگری نہیں بلکہ عشقِ رسول ﷺ اور فرمانِ مصطفیٰ ﷺ کی ترویج کا ایک مقدس مشن ہے۔ یہ کورس ان فضلاء کے لیے بہترین انتخاب ہے جو علمِ حدیث کی گہرائیوں میں اتر کر دینِ متین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ادارہ اس تخصص کے ذریعے ایسے رجالِ کار پیدا کر رہا ہے جو مستقبل میں مسلکِ حق کی علمی بنیادوں کو مزید مستحکم کریں گے۔

مولانا احمد رضا مغل مدنی صاحب کی یہ کاوش نہایت شاندار اور لائق تحسین ہے ۔ اللہ پاک فاضل نوجوان کو مزید دین متین کے کام ک...
02/03/2026

مولانا احمد رضا مغل مدنی صاحب کی یہ کاوش نہایت شاندار اور لائق تحسین ہے ۔ اللہ پاک فاضل نوجوان کو مزید دین متین کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
بہت بہت مبارکباد

خوشخبریالحمدللہ عقیدہ ختم نبوت کے گولڈن جوبلی کے موقع پر مفتی محمد ہاشم خان صاحب کی مایہ ناز تالیف " *تحفظ عقیدہ ختم نبو...
27/08/2024

خوشخبری
الحمدللہ عقیدہ ختم نبوت کے گولڈن جوبلی کے موقع پر مفتی محمد ہاشم خان صاحب کی مایہ ناز تالیف
" *تحفظ عقیدہ ختم نبوت اور رد قادیانیت* "
شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہے ۔
اس کتاب میں آپ پڑھ سکیں گے:
جھوٹے مدعیان نبوت کا انجام
عقیدہ ختم نبوت کا ثبوت قرآن و حدیث اور اقوال ائمہ کی روشنی میں
مرزا غلام قادیانی کے جھوٹ کفریات اور گستاخیاں اور ان کا رد
تحریک ختم نبوت 1953 کے اسباب اور واقعات
تحریک ختم نبوت 1974 کے اسباب اور واقعات
تحفظ عقیدہ ختم نبوت میں علماء اہل سنت کا کردار
اور بھی بہت سی معلومات۔۔
کتاب حاصل کرنے کے لیے مکتبہ امام اہلسنت سے رابطہ فرمائیں:
03486072219

منہج النقد فی علوم الحدیث کا منہج و اسلوب دور جدید و قدیم میں  عرب و عجم میں اصول حدیث پر  علماء کرام نے  بہت ساری تصانی...
27/02/2023

منہج النقد فی علوم الحدیث کا منہج و اسلوب
دور جدید و قدیم میں عرب و عجم میں اصول حدیث پر علماء کرام نے بہت ساری تصانیف لکھیں ہیں ، اور قیمتی تصانیف اس امت کے لیے پیچھے چھوڑی ہیں ، اسی سلسلہ کی ایک کڑی عصر حاضر کے ایک محدث الدکتور نور الدین عتر رحمہ اللہ تعالی کی کتاب منہج النقد فی علوم الحدیث ہے ، آپ رحمہ اللہ تعالی کا نسب نورالدین بن محمد بن حسن ہے ، آپ رحمہ اللہ تعالی حسنی و حسینی سید ہیں ، اسی لیے آ پ کے شیخ عبد اللہ الحماد آپ کو اصیل الجدین کہا کرتے تھے ، آپ محدث ، مفسر ، ادیب، اور شیخ المشائخ ہیں، آپ کی ولادت سترہ صفر المظفر تیرہ سو چھپن ہجری بمطابق 28 اپریل 1937ء کو شام کے شہر حلب میں ہوئی ، آپ رحمہ اللہ تعالی نے تقریبا پچاس کے قریب کتب لکھیں، جن میں سے چند یہ ہیں ، علوم القرآن الکریم ، احکام القرآن ، کیف تتوجہ الی العلوم و القرآن الکریم، اصول الجرح و التعدیل و علم اسماء الرجال ، لمحات موجزۃ فی اصول علل الحدیث ، معجم المصطلحات الحدیثیۃ ، آپ رحمہ اللہ تعالی کا وصال 23 دسمبر، 2020ء بروز بدھ کو ہوا۔
اسلوب و منہج:
مصنف علیہ الرحمۃ نے کتاب میں سات ابواب اور ایک خاتمہ لکھا ہے ، باب اول سے پہلے مقدمہ الطبۃ الاولی اور ثالثہ موجود ہے ، اور شروع کتاب میں ڈاکٹر محمد بن محمد ابو شہبہ کی تقریظ موجود ہے ، اور کم و بیش پچاسی انواع پر کلام کیا ہے ، جن کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
باب اول: میں علم مصطلح الحدیث کی تعریف[یعنی مصطلح الحدیث کا منشاء ، علم حدیث روایت و درایت کے اعتبار سے، علم مصطلح کی غایت، علم مصطلح مسلمانوں کا خاصہ ہے ] ، اور علم مصطلح الحدیث کے تاریخی ادوار[مصنف نے سات ادوار بیان کئے ہیں دو ر اول: عصر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے لیکر پہلی صدی ہجری کے آخر تک ہے اس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے حفظ حدیث کے عوامل ، کتابت حدیث ، بعض مستشرقین کی کتابت حدیث کے بارےمیں آراء اور ان کا رد، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے زمانہ میں روایت کے قوانین، وضع حدیث کا ظہور اور اس کے وسائل وغیرہ بیان کئے ہیں۔ دور ثانی: دوسری صدی ہجری کے اوائل سے آخر تک ہے : دور ثانی میں چند امور میں بدلاو آیا ، جیسے کہ لوگوں کے حفظ میں کچھ کمزوری آ گئی ، سندیں طویل ہو گئیں، باطل فرقوں کی کثرت ہونے لگی،اسی چیز کے پیش نظر حضرت عمر بن عبد العزیز نے تدوین رسمی کا ارادہ فرمایا تھا،جرح و تعدیل میں وسعت ہوئی۔ وغیرہ امور کو بیان کیا ہے، دورثالث : تیسری صدی ہجری کے اوائل سے چوتھی صدی ہجری کے نصف تک ہے ، دور رابع: چوتھی صدی ہجری کے نصف سے ساتویں صدی ہجری کے اوائل تک ہے ۔ دور خامس: ساتویں صدی ہجری سے دسویں صدی ہجری تک ہے ۔ دور سادس : دسویں صدی ہجری سے چودھویں صدی ہجری تک ہے ، اور دور سابع : چودھویں صدی ہجری سے لیکر اب تک ہے ۔ مصنف نے ہر دور کی مشہور کتب اور مصنفین کا تذکرہ بہت احسن انداز میں کیا ہے ۔ ] ، اور ہر دور کے مشہور مصنفین اور مشہور کتب، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے حفظ حدیث پر گفتگو کی گئی ہے۔
باب دوم: رواۃ حدیث کے علوم کے بارے میں ہے ۔ اس میں دو فصلیں ہیں ۔
فصل اول: قبول و رد کے اعتبار سے راوی کے حال کی معرفت کے علوم کے بارے میں ہے ۔[اس فصل میں مصنف علیہ الرحمۃ نے راویوں کی تعریف ، القاب وغیرہ کے بارے میں تمہیدی گفتگو کی ہے ، اور اس کے بعد سات ابحاث پر کلام کیا ہے 1: کن کی روایت کو قبول کیا جائے گا اور کن کو رد کیا جائے گا۔ 2: جرح و تعدیل ۔ 3: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۔ 4: ثقہ اور ضعیف راویوں کے بارے میں ۔ 5: جن کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا ان راویوں کے بارے میں ۔ 6: وحدان یعنی وہ راوی جن سے روایت کرنے والا صرف ایک شخص ہو ۔ 7: مدلسین کے بارے میں ۔اور سب سے آخر میں نتائج فصل بھی بیان کئے ہیں ]
فصل دوم: راویوں کے ان علوم کے بارے میں ہے کہ جو راوی کی شخصیت کو واضح کرتے ہیں۔ اس فصل کے تحت دو مباحث ہیں ۔ مبحث اول: راویوں کے علوم تاریخیہ کے بارے میں ہے[اس مبحث میں دس امور پر گفتگو کی ہے : 1: راویوں کی تاریخ پر ۔ 2: راویوں کے طبقات پر ۔ 3: تابعین پر ۔ 4: تبع تابعین پر ۔ 5: الاخوۃ و الاخوات پر۔ 6: مدبج اور روایۃ الاقران پر ۔ 7: روایۃ الاکابر عن الاصاغر پر ۔ 8: السابق و اللاحق پر ۔ 9: روایۃ الآباء عن الابناء پر ۔ 10: روایۃ الابناء عن الآباء پر ۔ ] ، اور مبحث دوم: راویوں کے اسماء کے بارے میں جو علوم ہیں ان کے بارے میں ہے ۔ [اس مبحث میں کل تیرہ امور پر گفتگو ہے ۔ 1: مبہمات پر ۔ 2: متعدد اسماء والے راویوں کی معرفت پر۔ 3: اسماء اور کنی پر۔ 4:محدثین کے القاب پر ۔ 5: جو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف ہیں ان راویوں پر۔ 6: نسب جو خلاف ظاہر ہےاس پر ۔ 7: راویوں اور علماء سے جواپنے قبیلے کے علاوہ کسی اور قبیلے کی طرف منسوب ہوں ان کے ساتھ لفظ مولا کا استعمال کیا جاتا ہے ان پر۔ 8: راویوں کے وطن اور شہروں پر۔ 9: اسمائے مفردہ اور کنی پر ۔ 10: متفق و مفترق پر ۔ 11: موتلف و مختلف پر۔ 12: متشابہ رواۃ۔ یعنی جب دو شخصوں کا نام یا کنیت جس سے وہ معروف ہیں وہ ایک جیسی ہوں اور نسب یا نسبت میں اختلاف ہو، یا اس کے برعکس ہو ۔ پر ۔ 13: متشابہ مقلوب یعنی دو راوی ایسے ہوں کہ ایک نام دوسرے کے باپ کا نام ہو ۔ جیسے اسود بن یزید اور یزید بن اسود وغیرہ ۔ اور آخر میں نتائج فصل بھی بیان کئے ہیں ۔
باب سوم: روایت حدیث کے علوم کے بارے میں ہے ۔ یعنی تحمل حدیث ، ادائے حدیث ، کتابت حدیث ، اور اس کے آداب ، اور حدیث کی کتاب کی اصطلاحات کے بارے میں ہے ۔ [ اس باب میں پانچ امور پر گفتگو ہے ۔ 1: طالب حدیث کے آداب پر ۔ 2: محدث کے آداب پر۔ 3: سماع حدیث ، تحمل ، اور ضبط کی کیفیت پر ۔4: روایت حدیث کی صفت اور اس کے اداء کرنے کی شرطوں پر۔5: کتابت حدیث اور اس کے ضبط کی کیفیت پر۔] اور آخر میں نتیجۃ الباب بیان کیا ہے۔
باب چہارم: حدیث کے قبول و رد کے اعتبار سے جو علوم بنتے ہیں ان کے بارے میں ہے ۔ اس میں دو فصلیں ہیں۔
فصل اول: حدیث مقبول کی انواع کے بارے میں ہے ۔ [ اس فصل میں حدیث صحیح ، حدیث حسن ، صحیح لغیرہ اور حسن لغیرہ پر گفتگو کی ہے]
فصل دوم: حدیث مردود کی انواع کے بارے میں ہے ۔ مردود سے مراد ضعیف حدیث ہے ، اور اس کی کثیر انواع بنتی ہیں ۔[ اس فصل میں پانچ امور پر گفتگو کی ہے ۔ 1 : حدیث ضعیف ، حدیث مضعف یعنی وہ حدیث جس کے ضعف پر علماء مختلف ہیں بعض اسے ضعیف جانتے ہیں اور بعض اسے قوی جانتے ہیں ، متروک ، مطروح ، اور حدیث موضوع ، اس کے اسباب ، علامات ، پر گفتگو کی ہے ] آخر میں نتائج الباب بھی ذکر کئے ہیں ۔
باب پنجم: علوم متن کے بارےمیں ہے ۔ اس میں دو فصلیں ہیں ۔
فصل اول: قائل کے اعتبار سے علوم متن کے بارے میں ہے ۔ [ اس میں چار امور پر گفتگو کی ہے ، حدیث قدسی ، حدیث مرفوع ، حدیث موقوف، حدیث مقطوع ،اور ان کے مسائل کو بیان کیا ہے ]
فصل دوم: درایت کے اعتبار سے علوم متن کے بارے میں ہے ۔ [ اس فصل میں پانچ امور پر گفتگو کی ہے ۔ غریب الحدیث ، ورود حدیث کے اسباب ، ناسخ و منسوخ ، مختلف الحدیث ،حدیث محکم ، اور نتائج عامہ بیان کئے ہیں]
باب ششم: علوم سند کے بارے میں ہے ۔ اس میں دو فصلیں ہیں ۔
فصل اول: اتصال کےاعتبار سے علوم سند کے بارے میں ہے ۔[ اس فصل میں آٹھ امور پر گفتگو کی ہے ۔ 1: متصل ، 2: مسند ، 3: معنعن ، 4: مونن ، 5: مسلسل ، 6: سند عالی ، 7: سند نازل، 8: المزید فی متصل الاسانید]
فصل دوم : انقطاع کے اعتبار سے علوم سند کے بارے میں ہے۔ [اس فصل میں چھ امور پر گفتگو کی ہے ۔ 1: حدیث منقطع،2: حدیث مرسل ، 3: حدیث معلق، 4: حدیث معضل ، 5: حدیث مدلس، 6: مرسل خفی، اور آخر میں اہم نتائج بھی بیان کئے ہیں ]
باب ہفتم: ان علوم کے بارے میں ہے جو سند و متن میں مشترک ہوتے ہیں ۔ اس میں تین فصلیں ہیں ۔
فصل اول: تفرد حدیث کے بارے میں ہے ۔[اس فصل میں دو امور پر گفتگو ہے ۔ 1: حدیث غریب پر ، 2: حدیث فرد پر ، فرد یہ غریب سے عام ہے اس میں وہ اقسام بھی داخل ہیں جو غریب میں داخل نہیں ہوتی]
فصل دوم: روایت حدیث کے تعدد جب اتفاق کے ساتھ ہو اس کے بارے میں ہے ۔ [ اس فصل میں چھ امور پر گفتگو کی ہے ۔ 1: حدیث متواتر، 2: حدیث مشہور، 3: حدیث مستفیض ، 4: حدیث عزیز، 5: تابع ، 6: شاہد ]
فصل سوم: روایت حدیث میں اختلاف کے بارے میں ہے ۔ [ اس فصل میں دس امور پر گفتگو ہے ۔ 1: زیادات الثقات، 2: ش*ذ ، 3: محفوظ ، 4: منکر ، 5: معروف، 6: مضطرب ، 7: مقلوب، 8: مدرج ، 9: مصحف، 10: معلل، اور آخر میں نتیجہ و موازنہ بھی بیان کیا ہے ۔ ]
خاتمۃ الکتاب: مناقشات اور نتائج عامہ کے بارے میں ہے ۔ [ اس میں حدیث کے حکم پر گفتگو کی ہے اور حکم کی تین قسمیں بنائی ہیں قسم اول : مقبول ، قسم دوم: کی پانچ قسمیں بنائی ہیں ، 1: اگر شرط عدالت میں خلل ہو تو : موضوع ، متروک ، مطروح،۔ اگر ضبط میں خلل ہو تو : ضعیف ، منکر ، مضطرب ، مصحف ، مقلوب، اور مدرج بنیں گی۔ اگر شرط اتصال مفقود ہو تو : منقطع ، مرسل ، معضل ، معلق ، مدلس، اور مرسل خفی بنیں گی۔ اگر عدم شذوذ کی شرط مفقود ہو تو : ش*ذ اور منکر بنیں گی۔ اور اگر عدم علت کی شرط مفقود ہو تو : معلل بنے گی۔ قسم ثالث: جو مقبول و مردود کے درمیان مشترک ہے تو اس میں : حدیث قدسی ، مرفوع ، موقوف، مقطوع، متصل ، مسند ، معنعن ، مونن، مسلسل،عالی، نازل ، مزید فی متصل الاسانید، غریب، فرد، عزیز ، مشہور، زیادۃ الثقۃ ، کو شامل کیا ہے ۔پھر اس کے بعد شبہات اور مناقشات کو ذکر کیا ہے ، پھر تدوین حدیث اور فقہ میں اس کا اثر کیا ہے اس کو بیان کیا ہے ، پھر صحت حدیث میں تدوین اور اس کے اثر کیا ہے اس کو بیان کیا ہے ، پھر مستشرقین کے جو مصطلح پر اعتراضات ہیں ان کو بیان کیا ہے، اور آخر میں علم مصطلح کی اہمیت پر بھی کلام کیا ہے ۔]
اسلوب :
1-مصنف علیہ الرحمۃ نے ہر بحث میں مصادر اصلیہ سے استفادہ کیا ہے ۔
2-علوم حدیث کی ہر نوع میں خاص اس کے متعلق لکھی گئی کتب سے استفادہ کیاہے۔
3-مصنف علیہ الرحمۃ نے مخطوطات اور ایسی کتابوں سے بھی استفادہ کیا ہے جو اپنی ندرت کے سبب مخطوط کے حکم میں ہو چکی ہیں ۔
4-مصنف علیہ الرحمۃ نے اس کتاب میں ایک جدید طرز سے ابحاث کو لکھا ہے۔جیسا کہ متن کے علوم کو الگ سند کے علوم کو الگ اسی طرح سند و متن میں مشترک علوم کو الگ بیان کیا ہے ۔
5-علوم حدیث کی ہر نوع کی امثلہ کا اہتمام کیا ہے ، اور اس میں قدیم مصنفین کے دی گئی امثلہ پر اقتصار نہیں کیا بلکہ اس کے علاوہ بھی امثلہ دی ہیں اور ان کی بہترین انداز میں وضاحت بھی کی ہے۔
6-کتاب میں وارد ہونے والی احادیث کی تخریج بھی کی ہے اور اس روایت کے بارےمیں اگر اقوال علماء میں اختلاف ہے تو اسے بھی ترجیح و تطبیق سے حل کیا ہے ۔
7-کتا ب میں وارد اعلام کا ترجمہ یا تاریخ وفات ضرور لکھی ہے تاکہ قاری کے سامنے اس کا تاریخی دور اچھے انداز میں واضح ہو۔
8-کسی مسئلہ میں اگر آراء علماء میں تعارض ہو تو تطبیق دیتے ہیں ۔
9-مستشرقین کی آراء و افکار کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں اور رد بھی کرتےہیں ۔ بالخصوص خاتمۃ الکتاب میں مستشرقین کے اقوال کا رد کیا گیا ہے۔
کتاب منہج النقد فی علوم الحدیث ، کئی مرتبہ طبع کی جا چکی ہے میرے سامنے اس کا مکتبہ دار الفکر ، دمشق بیروت کی طبعہ ثالثہ کا نسخہ ہے جس کا سن طباعت 1401ھ ہے ، مصنف علیہ الرحمۃ کی عادت تھی کہ اپنی کتابوں میں نظر فرماتے رہتے اور ہر ایڈیشن میں کچھ کمی زیادتی کرتے رہتے تھے ، لہذا مذکورہ تمام کلام اسی طبعہ ثالثہ کےنسخہ کے مطابق ہے ۔
راقم الحروف: قاسم چوہدری

01/06/2022

رہن (گروی) سے متعلق ایک اہم مسئلہ سنیئے

06/05/2022

جامعة المدینہ فیضان غریب نواز اقصی مسجد شیرانوالہ گیٹ لاہور میں نیو کلاسز کا آغاز ان شاء اللہ العزیز بروز پیر شریف سے ہو گا ۔ تمام طلبہ کرام بروقت تشریف لائیں۔ جزاکم اللہ خیرا

دعوت اسلامی کے زیر اہتمام جامعة المدینہ اقصی مسجد شیرانوالہ گیٹ میں درس نظامی (عالم کورس) کے داخلے جاری ہیں جس میں آپ سی...
23/04/2022

دعوت اسلامی کے زیر اہتمام جامعة المدینہ اقصی مسجد شیرانوالہ گیٹ میں درس نظامی (عالم کورس) کے داخلے جاری ہیں جس میں آپ سیکھیں گے قرآن پاک تفسیر قرآن حدیث اصول حدیث فقہ اصول فقہ منطق بلاغت فلسفہ صرف و نحو عربی تکلم سیرت اور علوم اسلامیہ میں جدید طرز سے انداز تحقیق و تدوین ۔ تو جلدی کیجیے اور داخلہ لیجیے وہ بھی بالکل مفت ۔ یاد رہے داخلے کی آخری تاریخ دس شوال المکرم ہے ۔

21/04/2022
21/04/2022

Address

جوہر ٹاؤن نزد ایکسپو سنٹر، لاہور
Lahore

Telephone

+923486072219

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تخصص فی الحدیث،جوہر ٹاؤن،لاہور posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share