08/04/2026
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
معزز قارئین کرام جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فیضان مدینہ جوہر ٹاون لاہور میں "تخصص فی الحدیث " کا آغاز آج سے دو سال قبل کیا گیا تھا ۔ وقت اور حالات کے پیش نظر علوم و فنون کو سیکھنے کے نت نئے طریقے اور جدید ٹولز ایک اہم ضرورت ہے ۔ پاکستان میں اگرچہ علوم حدیثیہ کو اب تک ایک درجہ اختصاص کے طور پر پڑھا پڑھایا نہیں جاتا تھا، لیکن پھر جن علمائے اہلسنت نے علم حدیث سے اپنی وابستگی رکھی اور اس کے متعلقہ علوم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ، ان کا نام ہمیشہ اس گلستان میں جگمگاتا رہے گا۔ قریب ایک صدی پہلے تک علمائے اہلسنت میں وقتا فوقتا ایسے جید اور قابل افتخار ہستیاں برصغیر کے اس چمن میں موجود رہیں کہ جن کی وجہ سے یہ گلستان آج پھر سے اپنے شباب کی جانب رواں دواں ہے ۔
ان ہستیوں میں ایک بڑی تعداد امام اعلی حضرت امام اہلسنت مرکز عقیدت و محبت عاشق سنت ، ماحی بدعت ، پیر طریقت ، رہبر شریعت ، امیر المومنین فی الحدیث ، مفتی الدھر ، عالم شریعت ، سیدی و سندی امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے ساتھ جڑے افراد کی ہے ۔
جن میں سے بطریق اختصار تین ہستیوں کا ذکر کرتا ہوں:
1. حضرت علامہ ، ملک العلماء مفتی ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ صاحب "الجامع الرضوی المعروف ب صحیح البہاری" آپ کا یہ کارنامہ نہایت شاندار اور مسلک احناف کا ترجمان ہے ۔
2. صدر الشریعۃ ، بدر الطریقۃ ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ صاحب "بہار شریعت" ہیں ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے لکھے گئے اس انسائیکلوپیڈیا سے بر صغیر کا شاید ہی کوئی مدرسہ خالی ہو لیکن اس عظیم الشان تصنیف میں جہاں امام اعظم رحمہ اللہ تعالی کے چمنستان کی آبیاری ہے وہیں پر علم حدیث پر آپ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
3. مفسر قرآن حضرت علامہ مولانا سید نعیم الدین مرآد بادی رحمۃ اللہ علیہ صاحب " تفسیر خزائن العرفان " آپ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ مایہ ناز تفسیر آج بھی اہلسنت کے مدارس ومساجد کی زینت ہے ۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علم تفسیر میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں وہیں آپ کی علم حدیث پر بھی گہری نظر تھی جس کا منہ بولتا ثبوت تفسیر خزائن العرفان ہے ۔
اس کے علاوہ بھی سیدی امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں اور خلفاء نے جو علم حدیث میں کارنامے سر انجام دئیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔ انہی بزرگوں سے نسبت رکھتے ہوئے اللہ پاک ہمیں بھی ان کے فیض سے مالا مال فرمائے اور ہمیں بھی علم حدیث کا ذوق نصیب فرمائے ۔ آمین ۔