15/09/2019
تعداد باعث تقویت نہیں:
تبلیغ دین انبیاء کا کام ہے. آغاز انسانیت سےمفاد پرست عناصر نے اولی العظم انبیاء تک کو نہ چھوڑا اور اپنے مالی اور معاشرتی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے انبیاء کو معاشرے میں تنہا کرنے کی کوشش کی، لیکن تعداد کی کمی نے انبیاء کی فعالیت اور تبلیغ دین کو اور تیز کردیا، پھر انبیاء کے خلاف پروپیگنڈے کا ہتھیار استعمال کیا گیا، کبھی انبیاء کو ساحر کہا جاتا تو کبھی جھوٹا نبی. انبیاء کے پیروکاروں کو اذیتیں دی گئیں اور انبیاء کی تعلیمات کو من گھڑت قرار دیا گیا. اس عالم تنہائی میں انبیاء کو بالکل پریشانی نہ ہوئی اور وہ جانفشانی سے اپنی ذمہ داری انجام دیتے رہے. تعداد کی کمی کا احساس کبھی انبیاء کے اندر احساس تنہائی ایجاد نہ کرتا. آخر یہ تحریک انبیاء کا ثمر حضرت داود و سلیمان ع اور حضرت محمد ص کی دینی حکومت کی صورت میں نکلا، لیکن ابھی تحریک آئمہ ع جاری ہے. تبلیغ دین ابھی رکی نہیں، مفاد پرست عناصر بھی موجود ہیں،مبلغین دین کو تنہا کرنے کا کام بھی جاری ہے، ثمرہ تبلیع حکومت امام خمینی رح کی صورت میں ظاہر ہوا ہے لیکن اس کا اختتام عالمی مہدوی حکومت کی صورت میں ہونا باقی ہے.
#سید عرفان رضا زیدی