15/07/2023
"جس نے اپنی بہنوں کا حق کھایا اُسکا سارا رزق حرام ہوگیا" اپنی بہنوں کو وراثت میں حصہ دو۔ اگر تمہاری ذاتی کمائ ہے تو تمہارے ذمہ نہیں لیکن اگر باپ کی طرف سے ایک اینٹ بھی ملی ہے تو آدھا ٹکڑا کرکے بہن کو دو۔ سن لو میرے بھایئوں کہ جس نے اپنی بہنوں کا حق کھایا اسکا سارا رزق حرام ہوگیا سارا رزق حرام ہوگیا۔ ہمارے پورے ملک میں بیٹیوں کے لیے وراثت میں کوئ حصہ نہیں۔ سب کچھ بھائ کھا جاتے ہیں اور ہمارے زمینداروں میں بڑا ظلم ہے جعلی انگوٹھے لگواکر زمین پر قبضہ کرلیتے ہیں اور بہنیں بھی اتنی صبر والی ہیں کہ چُپ کرکے سہ جاتی ہیں ایک لفظ نہیں بولتی۔ کبھی کبھی کہیں کوئ آواز سننے کو ملتی ہے کہ کیس کروالیا ورنہ وہ بیچاری صبر کا کڑوا گھونٹ پی کر چلی جاتی ہیں۔ میرے رب نے بیٹیوں کی وراثت رکھی۔ میرے نبیﷺ نے بیٹیوں کی وراثت رکھی اور اپنی بہن کو اپنی بیٹی کو وراثت نہ دینا یہ اتنی بڑی چوری ہے جیسا کسی کے گھر میں جا کر چوری کرنا، کسی بینک میں جاکر ڈاکہ ڈالنا۔ آج ھمارے معاشرے میں بہنوں کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ سب بھائ کھاجاتے ہیں اور کوئ مجبور بہن حصہ مانگ لے تو کہتے ہیں بیغیرت ہے۔ یا حصہ لے لے یا ہم سے بائکاٹ کرلے۔ حصہ لے گی تو بائکاٹ۔ لیکن میرا رب کہ رہا ہے "او میرے بندوں! میں نے بیٹے کا حصہ بھی رکھا ہے، میں نے بیٹی کا حصہ بھی رکھا ہے" ارے میرے بھایئوں اپنی بہنوں کا حق ادا کرو اور اپنے رب کو راضی کرو۔ بہنوں کا حق کھا کر تم اپنے پیٹ میں آگ کے انگارے بھر رہے ہو۔ اپنی بہنوں کو حصہ دو اللہ تمہارے بھاگ جگاۓ گا۔ تمہاری نسلوں کو آباد کرے گا آج ہمارے معاشرے میں عموماً اک رواج ھے کہ بہن نے بھائی کو حصہ معاف کر دیا بھلا ھم کون ھوتے ھیں وہ حصہ جو رب العالمین نے بنا دیا وہ حق جو رکھ دیا اس حق کو معاف کرنے یا کروانے والے ایسا کیوں نہیں ھوتا کہ بھائی یہ کہیے میں ساری جائیداد بہن کو دیتا ھوں اپنا حصہ بھی نہیں نہیں ایسا نہیں ھوتا قربانی تو بیٹی ھی دیتی ھے بہن ھی دیتی ھے۔۔۔۔۔۔۔۔ رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔ *صرف سور اور سود کھانا ہی حرام نہیں، بہن ،بیٹی کی جائیداد اور وراثت کا حصہ کھانا بھی حرام ہے*