04/05/2026
میراج اور پاک فضائیہ
پاک فضائيہ نے فرانس سے میراج خریدے
ہم نے دیکھا ان میراج جہازوں کے ساتھ امریکی اے ایم 9 سائيڈ وائنڈر
میزائل لگا ،واہ فیکٹری کے تیار کردہ بم لگے ،بنکر اور رن وے بسٹر لگے
پھر پاکستانی ایٹم بم لگے ،میراج -5 انہیں اٹھا کر پھرتا رہا رفیقی بیس سے
گلگت ،گلکت سے کراچی اور واپس رفیقی ،میراج اڑتا رہا
پھر پاک فضائيہ نے جنوبی افریقہ سے گلائیڈ بم خریدے ،چار جہازوں کے
ساتھ دو دو بم لگا کر چالیس کلومیٹر دور سے سومیانی فائرنگ رینج
پر میراج نے نشانے پر مارے ،جو میزائل جس ملک سے خریدا میراج کے ساتھ
لگا ،اور پھر پاک فضائیہ کے ایئر ویپن کمپلکس نے اپنا میزائل بنایا رعد
وہ میراج کے ساتھ لگا ،پھر رعد 2 میراج کے ساتھ لگا
جہازوں کی ایوی آنکس پر کام کرنے کے باوجود ہمیں سورس کوڈ کا
پتہ نہیں تھا ،اے -5 یعنی کیو -5 پر 26 سکواڈرن کے جہازوں کی کاک پٹ
میں ،میں نے اپنے ہاتھ سے ریکارڈنگ کی ماڈیفکیشن کی ،یعنی جو جو جہاز بولتا ،جو ریڈار بولتا ،جو ایئر ٹریفک کنٹرول بولتا اس میں ریکارڈ ہوتا
یہ مشکل تھا کیونکہ ٹیپ ریکارڈر کو واکس پر آپریٹ کرنا تھا ،یعنی وآئس آپریٹڈ ،اس کیلئے سرکٹ خود ڈیزائن کیا ،لیکن سور کوڈ کا پتہ نہیں تھا
چينی ایف -6 ،ایف ٹی 6 ،اے 5 امریکی میزائل اور برطانیہ کی ایجیکشن سیٹ استعمال کرتے تھے ،سورس کوڈ کہ نہیں سنا ،پہلی دفعہ جب
انڈیا نے ایس یو 30 خریدا تو ایف 16 اسے جیم نہیں کر سکا ،تو پھر دیکھا گیا تو پتہ چلا ایف سولہ صرف مگ -29 کو جیم کرتا ہے اس وقت کے انجینئرز
نے کمپیوٹر کو کھولا اور اسکو مگ -29 سے ہٹا کر سب جہازوں پر کردیا
لیکن اسکے ساتھ صرف امریکی میزائل ہی لگتے تھے تب پہلی دفعہ
نو انٹیگریشن کمپیٹیبل سنا ،جو آجکل سورس کوڈ کہلاتا ہے
حال ہی میں میراج نے جدید ترین تیمور میزائل اٹھا اور نشانے پر فائر کیا
تو حیرانگي ہوئي کہ میراج کا ریڈار تو صرف 60 یا ستر کلومیٹر تک دیکھتا ہے یہ بی وی آر نہیں تو 600 کلومیٹر والا رعد اور تیمور کیسے فائر کر رہا ہے،ایک آدمی جانتا ہے وہ زیادہ حیران ہوتا ہے
چھ اور سات مئي 2025 کی رات پاکستان کو صرف جے 10 اور جے ایف 17 تک محدود کر دیا گيا ،ایف سولہ اور میراج مقابلے میں نہیں تھے
یعنی پاکستان کے پاس کل 40 جہاز تھے جو انڈیا کے 70 جہازوں کے مقابلے
میں آئے ،تھنڈر 3 کی پروڈکشن تیز ہوئی اور جے 10سی کا ارڈر دیا گیا
جے 35 کے دو سکواڈرن لینے کی بات ہوئي ،لیکن تعداد پوری نہیں ہوتی
کیونکہ 114 رافیل سن 2034 تک انڈیا کو مل جائیں گۓ
اس وقت پاکستان کا پی ایف ایکس ،اور ترکی اور پاکستان کا ،کان ،بھی ہوگا
پی ایف ایکس ،بہت حد تک سٹیلتھ ،زیادہ وزن اٹھانے اور دور تک مار کرنے
کی صلاحیت والا تھنڈر سے جدید جہاز ہوگا تو پاک فضائیہ تھنڈر اور پی ایف ایکس دونوں پر پیسہ خرچ نہیں کرنا چاہتی
پاکستان نے ایک اور کام کیا میراج جہاز پر اٹلی کا گرفو ای ریڈار نصب کر دیا
جو 160 کلومیٹر کی رینج والا جدید ایسا ریڈار ہے ،رافیل کا ریڈار 145 کلومیٹر کی رینج والا ہے ،ایف سولہ کا ریڈار امریکا اپ گریڈ کر رہا ہے
کمپنی کو امریکی سنینٹ نے پیسہ دے دیا ہے ،
انڈین وزیر دفاع نے اٹلی کی حکومت سے مدد مانگي کہ پاکستان کو ریڈار
نہ دیں لیکن اٹلی نے کہا ہم معاہدہ کر چکے ہیں ہاں ہم آپ کو کیا دیں گے یہ پاکستان کو نہیں بتائیں گے
اب پاکستان کے تقریبا چالیس سے 50 میراج بی وی آر میزائل اور اتنی دور
سے جہاز دیکھ کر ان میں سے 10 کو لاک کر سکتے ہیں
سکواڈرن لیڈر علی حمزہ نے کہا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ پاکستان اتنے مہنگے ریڈار میراج جیسے پرانے جہاز پر لگائے گا ،لیکن ایئر چیف نے جو ساری سروس میراج اڑاتے رہے انہیں میراج سے کافی انسیت ہے ،وہ میراج کو سب کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے ہیں ،یہ ایک بن لکھا آئین ہے جو جہاز پائلٹ اڑاتے ہیں عموما جہاز پر انکا نام لکھا ہوتا ہے ،پائلٹ کو جہاز ایک پالتو پسندیدہ گھوڑے کی طرح عزیز ہوتا ہے ،میراج کی پرانی گھڑیوں والی کاک پٹ اب ڈجیٹل ہے
دن رات میراج اب ملٹی رول میں ہے ،انڈیا پر 120 کلومیٹر دور سے ایچ -4 بم پھیکنے کا ماہر ہے 27 فروری ہو یا دس مئي ،میراج آج بھی جدید جہازوں کو
جنگ لڑنے کے مشورے دیتا ہے ،اب BVR صلاحیت اسے ایف سولہ اور تھنڈر
کے ساتھ ساتھ اڑنے کی صلاحیت دے گي ،میراج سن 71 سے لیکر آج تک ساری جنگيں لڑنے کا ریکارڈ رکھتا ہے ،ایئر ریفیولنگ
پاکستان اور دنیا میں یہ فرق ہے دنیا یعنی اسٹریلیا ،مصر ،یو اے ای جن جہازوں کو سکریپ سمجھ کر گراؤنڈ کر چکی تھی وہ میراج ان ملکوں
کے جدید جہازوں سے بہت آگے نکل چکا ،مصر سے لیا میراج اب 160 کلومیٹر سے دیکھتا ہے اور تین سو کلومیٹر سے وائی 12 سے جہاز کو اواکس کی مدد سے مارتا ہے ،مصر کا جدید ایف-16،، 90 کلومیٹر سے دیکھتا ہے اور چالیس کلومیٹر سے جہاز کو ہٹ کر سکتا ہے امریکا نے اسرائیل کی وجہ سے ابرام 120 مصر کو نہیں دیا جس سے پاکستان نے 27 فروری کو ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے ایس یو 30 کو 80 کلومیٹر دور سے ٹھوکا تھا
نیوی اور فضائيہ اور آرمی کی صلاحیت روز بروز بڑھ رہی ہے
حال ہی میں فتح 2 کا تجربہ ہوا ،اور مبارک بادیں وصول کی گئیں
حالانکہ فتح 2 راکٹ 10 مئی کو انڈیا پر فائر ہو چکا ہے ،لیکن اب فتح 2
سٹیلتھی ہو گيا سپیڈ بڑھ گئی ،ایکوریسی بڑھ گئی اب انٹرسیپٹ ہونے کے چانسز حتم ہو گئے ،انڈیا نے اسرائیل اور جنوبی کوریا اور فرانس سے فتح سیریز کو انٹرسیپٹ کرنے کا سامان خریدا ،پاکستان نے اسے تقریبا ہائپر سونک کے نزدیک لے گيا اور شکل سٹیلتھی کر دی ،اب انڈیا اور خریدے
لیکن میراج ایف سولہ سے بہتر ہوگيا یہ خوشی ہے کیونکہ 2600 کلومیٹر فی گھنٹہ اڑنے والا واحد جہاز تھا پاکستان کے پاس
اب سنا ہے 2040 کو میراج کا ریٹائر ہونے کا ارادہ ہے سن 1955 میں بننے والا جہاز.
میراج کا کبھی رات کو اڑنے کا سٹائل دیکھیں .