انجمن پٹواریان و گرداوران پاکپتن

انجمن پٹواریان و گرداوران پاکپتن Pakistan Zindabad
Patwar Union Zindabad Revenue Department Pakpattan

کھیوٹ نمبر کیا ہوتا ہے؟؟؟
30/09/2026

کھیوٹ نمبر کیا ہوتا ہے؟؟؟

موضع ملوکا کلاں پٹواری حلقہ حاجی محمد  اور چوہدری محسن محمود صاحب رات گئے بھی عوامی مسائل حل کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔
29/09/2026

موضع ملوکا کلاں پٹواری حلقہ حاجی محمد اور چوہدری محسن محمود صاحب رات گئے بھی عوامی مسائل حل کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔

ہمارے ہونہار پٹواری اسد بلال صاحب حلقہ کلیانہ رات گئے   عوام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔  محکمہ مال دن رات عوامی مسائل ک...
29/09/2026

ہمارے ہونہار پٹواری اسد بلال صاحب حلقہ کلیانہ رات گئے عوام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ محکمہ مال دن رات عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔

16/09/2026

کہتے ہیں جس کا کام اسی کو سانجھے
مختلف فورم پر کہا جا رہا ہے یہ حکومت کا اچھا اقدام ہے کہ پرائیویٹ جگہ پر پٹوار خانہ بند کریں اور سرکاری جگہ پر شفٹ کیا جائے . کیا تحصیل آفس میں اتنی جگہ ہے بھی سہی۔
لیکن اس کے برعکس حقیقت کوئی نہیں جاننا چاہتا بس 1350 پر کال کرنے کا کہا گیا ہے
کیا حکومت سرکاری جگہ پر پٹوار خانہ بنا کر دے رہی ہے بجلی بل انٹرنیٹ بل کمپیوٹر جدید پرنٹر سٹیشنری مہیا کر رہی ہے ؟؟
پٹواری اپنی مدد آپ کے تحت یہ تمام امور سر انجام دے رہا تھا
اب پٹواری کو چاہیے کے 1350 پر خود کال کریں اور کہیں کہ سرکاری جگہ پر پٹوار خانہ بنا کر دیں اور یہ سب سامان و سہولیات فراہم کریں۔
پٹوار یونین پنجاب
#وزیراعلیٰ_پنجاب
Maryam Nawaz Sharif Board of Revenue, Punjab

پٹواری گرفتار، نظام آزاد؟احتساب کے نام پر ایک پورا طبقہ کٹہرے میں!تحریر: راؤ عتیق احمد خانپنجاب میں آج کل ایک عجیب منظر ...
16/09/2026

پٹواری گرفتار، نظام آزاد؟
احتساب کے نام پر ایک پورا طبقہ کٹہرے میں!
تحریر: راؤ عتیق احمد خان

پنجاب میں آج کل ایک عجیب منظر ہے۔
جس محکمے کے فیلڈ اہلکار سے ریاست ہر مشکل وقت میں کام لیتی ہے، اسی فیلڈ اہلکار کو معاشرہ سب سے آسان ہدف سمجھتا ہے۔
سیلاب آئے—پٹواری چاہیے۔
بارشوں سے تباہی ہو—پٹواری چاہیے۔
فصلوں کا نقصان معلوم کرنا ہو—پٹواری چاہیے۔
زمین کا ریکارڈ چاہیے—پٹواری چاہیے۔
وراثتی معاملہ ہو—پٹواری چاہیے۔
سرکاری زمین کا مسئلہ ہو—پٹواری چاہیے۔
انتخابی ڈیوٹی ہو—پٹواری چاہیے۔
سروے ہو—پٹواری چاہیے۔
ریلیف کا کام ہو—پٹواری چاہیے۔
لیکن جب بات عزت کی آئے تو؟

’’پٹواری‘‘!

ایک ایسا لفظ جسے ہمارے معاشرے نے رفتہ رفتہ ایک عہدے سے نکال کر گالی، طنز اور اجتماعی الزام کی علامت بنا دیا ہے۔

اور اب اگر کسی پٹواری کی گرفتاری ہو جائے تو گویا پورے طبقے کے خلاف فردِ جرم عائد ہو گئی۔

یہ کیسا احتساب ہے؟

اور اس سے بھی بڑا سوال:

اگر چند افراد کرپٹ ہیں تو پورے نظام کو کرپٹ کہنے کی اجازت کس نے دی؟

---

پٹواری گرفتار ہوتا ہے، مگر سوال باقی رہتا ہے

اینٹی کرپشن کسی سرکاری اہلکار کے خلاف کارروائی کرے، تفتیش کرے، مقدمہ درج کرے یا قانون کے مطابق گرفتاری عمل میں لائے—اگر شواہد موجود ہوں تو قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

لیکن یہاں ایک خطرناک ذہنیت پیدا ہو رہی ہے۔

گرفتاری کو جرم ثابت ہونے کے برابر سمجھ لیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر خبر چلتی ہے:

’’پٹواری گرفتار‘‘

اور چند گھنٹوں میں فیصلہ بھی آ جاتا ہے:

’’سارے پٹواری کرپٹ ہیں۔‘‘

یہ عدالت نہیں، یہ ہجوم کا فیصلہ ہے۔

قانون کہتا ہے کہ الزام الگ چیز ہے، جرم کا ثابت ہونا الگ۔

مگر ہمارے معاشرے میں کسی اہلکار کی عزت چند لمحوں میں ختم کر دی جاتی ہے، اور اگر بعد میں وہ بے قصور نکل آئے تو اس کی عزت واپس کرنے کے لیے کوئی ادارہ، کوئی خبر، کوئی مہم اور کوئی معافی سامنے نہیں آتی۔

گرفتاری کی خبر وائرل ہوتی ہے، بریت کی خبر کون پڑھتا ہے؟

یہ سوال صرف پٹواری کا نہیں، پورے نظامِ انصاف کا ہے۔

---

آٹھ ہزار نوجوان اور ایک پرانا تاثر

سال 2022 کے بعد ریونیو فیلڈ میں آنے والے ہزاروں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم یافتہ، کمپیوٹر سے واقف اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ وہ نسل ہے جس نے ہاتھ میں موبائل کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔

یہ Google، GPS، GIS، ڈیجیٹل میپنگ، آن لائن ریکارڈ اور کمپیوٹرائزڈ سسٹمز سے واقف ہے۔

لیکن افسوس!

ہم نے نئی نسل کو پرانے طعنوں کے حوالے کر دیا۔

نوجوان پٹواری دفتر میں بیٹھا ہے، کمپیوٹر پر کام کر رہا ہے، آن لائن ریکارڈ دیکھ رہا ہے، فیلڈ میں جا رہا ہے، رپورٹ تیار کر رہا ہے، مختلف سرکاری ایپس پر ڈیٹا اپ لوڈ کر رہا ہے۔

مگر معاشرے کے ذہن میں ابھی بھی وہی پرانی تصویر ہے:

پٹواری یعنی کرپٹ!

یہ صرف ایک ملازم کی تضحیک نہیں۔

یہ ایک پوری نسل کی حوصلہ شکنی ہے۔

---

ماسٹر ڈگری والا تحصیلدار بھی ’’شک کی نظر‘‘ میں؟

آج کا تحصیلدار بھی کوئی روایتی کردار نہیں۔

بہت سے افسران اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں، مقابلے کے امتحانات اور محکمانہ ترقی کے مختلف مراحل سے گزر کر اس ذمہ داری تک پہنچتے ہیں۔

مگر سوال یہ ہے کہ ہم ان سے چاہتے کیا ہیں؟

ایک طرف کہا جاتا ہے:

کارکردگی دکھاؤ!

دوسری طرف:

ہر کام کرو!

پھر کہا جاتا ہے:

عوام کو فوری ریلیف دو!

پھر:

درجن بھر اضافی ڈیوٹیاں سنبھالو!

پھر:

رات دن فیلڈ میں رہو!

اور اگر کہیں کوئی شکایت آ جائے تو:

اب جواب دو!

یہ انتظامی نظام ہے یا مسلسل ذہنی دباؤ کا امتحان؟

---

پٹواری کی نوکری یا ’’ہر کام کے لیے دستیاب ملازم‘‘؟

یہ سوال بھی پوچھنا ہوگا کہ پٹواری آخر ہے کیا؟

کیا وہ صرف ریونیو فیلڈ اسٹاف ہے؟

یا ریاست نے اسے ہر قسم کی ہنگامی صورتحال کے لیے ایک ایسا ملازم سمجھ لیا ہے جو جہاں ضرورت ہو وہاں بھیج دیا جائے؟

آج ایک پٹواری کو بنیادی ریونیو کام کے ساتھ متعدد اضافی ذمہ داریوں میں لگا دیا جاتا ہے۔

ایک طرف ریکارڈ مکمل کرو۔

دوسری طرف فیلڈ رپورٹ دو۔

تیسری طرف سروے کرو۔

چوتھی طرف میٹنگ میں جاؤ۔

پانچویں طرف کسی مہم کی ڈیوٹی کرو۔

چھٹی طرف عوامی شکایات سنو۔

ساتویں طرف افسران کو رپورٹ بھیجو۔

اور آٹھویں طرف اپنی میز پر پڑی اصل فائل بھی مکمل کرو۔

پھر پوچھا جاتا ہے:

’’کارکردگی کیوں کم ہے؟‘‘

جناب!

ایک انسان کو ملازم رکھیے، مشین نہیں۔

---

افسر کی فٹیک بھی، عوام کا غصہ بھی!

ریونیو فیلڈ اسٹاف کی شکایت صرف یہ نہیں کہ کام زیادہ ہے۔

اصل شکایت یہ ہے کہ ذمہ داری اور اختیار کا توازن بگڑ گیا ہے۔

اوپر سے احکامات آتے ہیں۔

نیچے سے عوام سوال کرتے ہیں۔

درمیان میں پٹواری یا تحصیلدار کھڑا ہوتا ہے۔

اوپر افسر کی ناراضی کا خوف۔

نیچے عوام کے غصے کا سامنا۔

اور درمیان میں قانون، ریکارڈ، زمینی حقیقت اور محدود وسائل۔

اگر فیلڈ اہلکار زمینی حقیقت بتائے تو کہا جاتا ہے:

’’کام نہیں کر رہا۔‘‘

اگر ہر حکم ماننے کی کوشش کرے اور عملی مشکلات سامنے آ جائیں تو کہا جاتا ہے:

’’فیلڈ کمزور ہے۔‘‘

اور اگر کسی شہری سے تنازع ہو جائے تو:

’’پٹواری کرپٹ ہے۔‘‘

تو پھر سوال یہ ہے:

آخر پٹواری کرے تو کرے کیا؟

---

’’پٹواری‘‘ ایک عہدہ ہے، کردار کا سرٹیفکیٹ نہیں

سب سے پہلے ہمیں زبان درست کرنی ہوگی۔

پٹواری ایک سرکاری عہدہ ہے۔

جیسے استاد، ڈاکٹر، انجینئر، تحصیلدار، کلرک یا افسر ایک عہدہ ہے۔

کوئی شخص پٹواری ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کرپٹ ہے۔

اگر کوئی پٹواری رشوت لیتا ہے تو اسے رشوت خور کہیں۔

اگر کوئی ایماندار ہے تو اسے ایماندار کہیں۔

پورے طبقے کو ایک لاٹھی سے ہانکنا انصاف نہیں، تعصب ہے۔

اسی اصول کا اطلاق ہر سرکاری ادارے پر ہونا چاہیے۔

اگر ایک ڈاکٹر کرپشن کرے تو کیا پورا شعبۂ طب کرپٹ ہے؟

اگر ایک پولیس اہلکار جرم کرے تو کیا ہر پولیس اہلکار مجرم ہے؟

اگر ایک افسر اختیارات کا غلط استعمال کرے تو کیا پوری بیوروکریسی بدعنوان ہے؟

پھر پٹواری کے لیے یہ اصول کیوں بدل جاتا ہے؟

---

اینٹی کرپشن کو بھی مضبوط ہونا چاہیے، مگر مضبوطی کا مطلب خوف نہیں

اینٹی کرپشن کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

کرپشن ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے۔

جو اہلکار عوام سے ناجائز رقم لیتا ہے، اسے قانون کے کٹہرے میں آنا چاہیے۔

لیکن احتساب کی کامیابی صرف زیادہ گرفتاریوں میں نہیں۔

احتساب کی اصل کامیابی غلط آدمی کو پکڑنے میں نہیں، صحیح آدمی کو پکڑنے میں ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر:

بے گناہ کو بچانا بھی انصاف ہے۔

اگر ایک ایماندار ملازم کو کسی جھوٹے الزام، ذاتی رنجش یا غلط فہمی کے باعث گرفتار کر لیا جائے تو صرف ایک ملازم متاثر نہیں ہوتا۔

اس کے گھر کا نظام متاثر ہوتا ہے۔

اس کے بچوں کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔

اس کی سماجی عزت متاثر ہوتی ہے۔

اس کا پورا کیریئر متاثر ہوتا ہے۔

اور اگر بعد میں وہ بے قصور ثابت ہو جائے تو کیا کوئی اس کے گھر جا کر کہتا ہے:

’’معاف کیجیے، ہم سے غلطی ہو گئی تھی؟‘‘

---

استعفے کی سوچ خطرے کی گھنٹی ہے

اگر واقعی پنجاب کے مختلف علاقوں میں پٹواریوں اور تحصیلداروں کے اندر استعفیٰ دینے یا متبادل روزگار اختیار کرنے کی سوچ پیدا ہو رہی ہے تو اسے محض ایک ملازم کی ناراضی کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ادارے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

سرکاری ملازمت میں آنے والا نوجوان پہلے ہی نجی شعبے اور بیرون ملک مواقع دیکھ رہا ہے۔

اگر وہ یہ سوچنے لگے کہ:

’’میں اپنی تعلیم، وقت اور جوانی یہاں کیوں ضائع کروں؟‘‘

تو یہ ریاست کے لیے سنجیدہ سوال ہے۔

ایک تربیت یافتہ سرکاری ملازم تیار کرنے میں ریاست وقت اور وسائل صرف کرتی ہے۔

اگر وہ چند سال بعد نظام سے بددل ہو کر چلا جائے تو نقصان صرف اس کا نہیں، ادارے کا بھی ہے۔

---

پٹواری کو ختم نہیں، نظام کو شفاف کریں

پٹواری نظام پر تنقید کیجیے۔

اس میں اصلاح کیجیے۔

اختیارات محدود کیجیے۔

ڈیجیٹلائزیشن کیجیے۔

ریکارڈ کو شفاف بنائیے۔

عوام کو آن لائن سہولت دیجیے۔

ہر کارروائی کا ڈیجیٹل ٹریل بنائیے۔

ہر شکایت کی نگرانی کیجیے۔

رشوت کے خلاف سخت کارروائی کیجیے۔

لیکن ایک کام مت کیجیے:

پورے طبقے کو بدنام مت کیجیے۔

کیونکہ اگر نظام کی خامی کا علاج صرف پٹواری کو گرفتار کرنا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ:

نظام کب گرفتار ہوگا؟

وہ افسر کب جواب دے گا جس نے ناممکن ٹائم لائن بنائی؟

وہ پالیسی کب بدلے گی جو ایک آدمی سے دس آدمیوں کا کام لیتی ہے؟

وہ نظام کب جواب دے گا جس میں ذمہ داری تو نیچے منتقل ہوتی ہے مگر اختیار اوپر رہتا ہے؟

وہ انتظام کب جواب دے گا جس میں کامیابی اجتماعی اور ناکامی صرف ماتحت کی ہوتی ہے؟

---

اصل کرپشن صرف میز کے نیچے نہیں، نظام کے اندر بھی ہوتی ہے

ہم کرپشن کو صرف رشوت کی شکل میں دیکھتے ہیں۔

لیکن ادارہ جاتی کرپشن کی ایک اور شکل بھی ہے:

نااہل نظام۔

ایسا نظام جو شہری کو بلاوجہ دفاتر کے چکر لگوائے۔

ایسا نظام جو ذمہ داری واضح نہ کرے۔

ایسا نظام جس میں ایک کام کے لیے پانچ دستخط درکار ہوں۔

ایسا نظام جس میں فائل ایک میز سے دوسری میز تک سفر کرتی رہے۔

ایسا نظام جس میں ملازم کو اختیار کم اور جواب دہی زیادہ دی جائے۔

یہ سب بھی اصلاح کے متقاضی ہیں۔

اگر ہم واقعی کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف افراد نہیں، عملی طریقۂ کار بھی تبدیل کرنا ہوگا۔

---

ایک خطرناک سوال: کل کون آئے گا؟

آج ہم پٹواری کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔

آج ہم تحصیلدار کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

آج ہم ہر فیلڈ اہلکار کو ممکنہ کرپٹ تصور کر رہے ہیں۔

لیکن کل جب کوئی نوجوان سرکاری ملازمت کے لیے آئے گا تو وہ سب کچھ دیکھ رہا ہوگا۔

وہ سوچے گا:

تعلیم حاصل کرو، مقابلہ کرو، سرکاری نوکری حاصل کرو، پھر ہر طرف سے الزام سنو؟

وہ پوچھے گا:

کیا میری عزت محفوظ ہوگی؟

وہ پوچھے گا:

کیا مجھے قانون کے مطابق کام کرنے کا ماحول ملے گا؟

وہ پوچھے گا:

کیا اگر مجھ پر جھوٹا الزام لگ گیا تو میرا ادارہ میرے ساتھ کھڑا ہوگا؟

اگر ان سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ ہے تو پھر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اگر نوجوان سرکاری نوکری کے بجائے بیرون ملک جانے یا نجی کاروبار کو ترجیح دیں۔

---

پٹواری کی عزت دراصل ریاستی نظام کی عزت ہے

پٹواری ریاست کا سب سے نچلا فیلڈ نمائندہ ضرور ہو سکتا ہے، مگر اس کی ذمہ داری زمین جیسے حساس معاملے سے جڑی ہوئی ہے۔

زمین صرف مٹی نہیں۔

زمین خاندان کی میراث ہے۔

زمین کسان کی زندگی ہے۔

زمین کسی بیوہ کا سہارا ہے۔

زمین کسی یتیم کا حق ہے۔

زمین کسی خاندان کی کئی نسلوں کی جمع پونجی ہے۔

اور اسی زمین کے ریکارڈ کی حفاظت کرنے والا اہلکار اگر ہر وقت ذلت، شک اور خوف میں رہے گا تو نظام کیسے بہتر ہوگا؟

---

اب فیصلہ کرنا ہوگا

ہمیں دو میں سے ایک راستہ منتخب کرنا ہوگا۔

یا تو ہم پٹواری کو ہمیشہ کے لیے معاشرتی طنز کا کردار بنا دیں۔

یا پھر اسے ایک باقاعدہ، تربیت یافتہ، جواب دہ مگر باعزت سرکاری فیلڈ پروفیشنل بنائیں۔

پہلا راستہ آسان ہے۔

دوسرا مشکل۔

لیکن ملک اور ادارے مشکل راستے ہی سے بہتر ہوتے ہیں۔

---

آخری سوال

اگر پٹواری کرپٹ ہے تو ثبوت کے ساتھ پکڑیں۔

اگر تحصیلدار بدعنوان ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

اگر افسر قصوروار ہے تو اسے بھی کٹہرے میں لائیں۔

اگر نظام خراب ہے تو نظام بدلیں۔

مگر کسی ایک شخص کے جرم کی سزا پورے طبقے کو مت دیں۔

اور کسی ایک گرفتاری کو پورے کیڈر کے خلاف پروپیگنڈا مت بنائیں۔

کیونکہ کل کو ممکن ہے وہ نوجوان پٹواری جسے آج ہم ’’کرپٹ‘‘ کہہ رہے ہیں، وہی آپ کے گھر کی زمین کا ریکارڈ درست کر رہا ہو۔

وہی سیلاب میں آپ کے گھر کا سروے کر رہا ہو۔

وہی آپ کے بزرگ کی وراثت کا معاملہ دیکھ رہا ہو۔

اور وہی رات گئے کسی سرکاری مہم میں ڈیوٹی دے رہا ہو۔

ریاست کو کرپٹ اہلکار سے لڑنا چاہیے، اہلکار کے عہدے سے نہیں۔

احتساب ہونا چاہیے، انتقام نہیں۔

گرفتاری ہونی چاہیے تو قانون کے مطابق، تضحیک نہیں۔

اصلاح ہونی چاہیے تو پورے نظام کی، صرف پٹواری کی نہیں۔

اور شاید آج سب سے اہم سوال یہی ہے:

’’پٹواری گرفتار ہو گیا… مگر نظام کب آزاد ہوگا؟‘‘

#پٹواری #

15/09/2026
پٹواری بھی اسی معاشرے کا حصہ ہےسب کو معلوم ہے کہ نہ تو پٹواری حضرات کو مناسب سرکاری دفاتر مہیا کیے گئے ہیں اور نہ ہی پٹو...
14/09/2026

پٹواری بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے

سب کو معلوم ہے کہ نہ تو پٹواری حضرات کو مناسب سرکاری دفاتر مہیا کیے گئے ہیں اور نہ ہی پٹوار خانہ کم از کم دو منشیوں کے بغیر صحیح طور پر چل سکتا ہے۔

ایک طرف پٹواری کی سرکاری ذمہ داریاں ہیں، دوسری طرف عدالتوں اور افسران کے سامنے حاضریاں، پھر سیاسی نمائندگان اور ان کے کارندوں کے فون، اس کے بعد عوامی مسائل اور آخر میں اس کا اپنا گھر بار۔

ذرا پٹواری کی ان حاضریوں پر غور کریں جہاں اسے اکثر اصل ریکارڈ سمیت بلایا جاتا ہے:

1۔ سپریم کورٹ کی پیشیاں
2۔ ہائی کورٹ کی پیشیاں
3۔ سیشن کورٹ میں آئے روز حاضری
4۔ سول کورٹس میں پیشیاں
5۔ ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیشیاں
6۔ اے ڈی سی آر کے سامنے پیشیاں
7۔ ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے چکر
8۔ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے چکر
9۔ تحصیلدار کے سامنے پیشیاں

یہ وہ حاضریاں ہیں جہاں پٹواری کو اکثر ریکارڈ سمیت طلب کیا جاتا ہے۔

اب اگر پٹواری عدالت یا کسی سرکاری افسر کے سامنے ریکارڈ لے کر جائے تو ظاہر ہے کہ پٹوار خانے کو تالا لگا کر ہی جائے گا۔

لیکن اسی دوران کوئی شخص بغیر کسی تحقیق کے اپنے موبائل سے پٹوار خانے کے تالے کی ویڈیو بناتا ہے اور اپنے چینل یا فیس بک پر لگا دیتا ہے:

"دیکھیں وزیراعلیٰ پنجاب صاحب! سرکاری ڈیوٹی کا وقت ہے اور پٹوار خانہ بند ہے۔"

پھر کیا ہوتا ہے؟

اکثر یہی افسران سب سے پہلے پٹواری کو معطل کرتے ہیں اور اس کے بعد مزید جانچ پڑتال شروع ہوتی ہے کہ پٹواری دفتر میں کیوں موجود نہیں تھا۔

اب ذرا پٹواری کی اصل سرکاری ڈیوٹیوں پر بھی نظر ڈالیں:

1۔ نشاندہی کے لیے ریکارڈ سمیت موقع پر جانا
2۔ چار سالہ ترتیب دینا
3۔ تقسیمِ اراضی کے معاملات میں موقع ملاحظہ کرنا
4۔ مختلف دفتری رجسٹروں کو مکمل اور درست رکھنا
5۔ روزنامچہ لکھنا
6۔ فرد جاری کرنا
7۔ کچھ عرصہ پہلے تک انتقالات کی کارروائی کرنا
8۔ گرداوریاں مکمل کرنا
9۔ کمپیوٹر سنٹرز کے مسائل اور اعتراضات کا سامنا کرنا
10۔ اس کے علاوہ بے شمار ریکارڈ اور دفتری ذمہ داریاں پٹواری کے ذمے ہوتی ہیں۔
11. رمضان المبارک میں آٹا اور راشن تقسیم کرنے کی ڈیوٹی ۔
12. محرم الحرام کی ڈیوٹی ۔
13. حکومت کی طرف سے غریبوں کے لیے آنے والی امداد کے پیسے تقسیم کرنے کی ڈیوٹی ۔
14. کنٹرول ریٹ پر کھاد کسانوں کو دینے کی ڈیوٹی ۔
15. الیکشن ڈیوٹی ۔

اب ذرا آتے ہیں ہمارے سیاسی نمائندگان اور ان کے کارندوں کی طرف۔

علاقے کا موجودہ ایم این اے اور اس کے کارندے،
علاقے کا موجودہ ایم پی اے اور اس کے کارندے،
بلدیہ کا چیئرمین، وائس چیئرمین اور کونسلرز،
سابقہ ٹکٹ ہولڈر اور اس کے کارندے،
سابقہ کونسلرز اور ان کے کارندے۔

ہر کوئی پٹواری سے فوری کام چاہتا ہے۔

حالت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ پٹواری اگر واش روم میں بھی ہو تو بعض سیاسی کارندے یہ اپنا حق سمجھتے ہیں کہ پٹواری ان کا فون ضرور اٹھائے اور وہ اپنا ذاتی کام مکمل کرنے کے بعد نہیں بلکہ اپنا مسئلہ حل کرنے کے لیے پٹواری سے فوری جواب چاہتے ہیں۔

پھر آتی ہیں پریس رپورٹرز کی کالز۔

اس کے بعد پٹواری کا اپنا گھر بار بھی ہے۔

والدین ہیں، بیوی ہے، بچے ہیں۔
گھر میں کوئی غمی ہو سکتی ہے، کوئی خوشی ہو سکتی ہے، کسی بچے یا والدین کی بیماری ہو سکتی ہے، کسی کو ہسپتال لے جانا پڑ سکتا ہے۔
آخر پٹواری بھی انسان ہے۔

اگر کوئی ذمہ دار انسان ذرا سا بھی غور کرے تو اسے سمجھ آ جائے گا کہ ایک پٹواری کے لیے اکیلے اتنا سارا کام سنبھالنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسی لیے عملی طور پر ایک پٹوار خانہ چلانے کے لیے دو تین منشیوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔

اور سب سے اہم بات:

دفتر فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اگر حکومت پٹواری کو مناسب سرکاری دفتر، ضروری عملہ اور کام کے لیے مطلوبہ سہولیات فراہم نہیں کرتی تو صرف یہ کہہ دینا کہ "پٹوار خانہ بند کیوں ہے؟" مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
پٹواری سے ہر کام چاہیے،
ہر جگہ حاضری چاہیے،
ہر ریکارڈ چاہیے،
ہر عدالت میں پیشی چاہیے،
ہر افسر کے سامنے جواب چاہیے،
ہر سیاسی نمائندے کا فون اٹھانا چاہیے،
ہر رپورٹر کو جواب دینا چاہیے،
اور ساتھ ہی یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ پٹواری ہر وقت اپنے دفتر میں بیٹھا نظر آئے۔

آخر پٹواری ایک انسان ہے، مشین نہیں۔

اگر واقعی نظام کو بہتر بنانا ہے تو صرف پٹواری کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے پورے نظام کو دیکھنا ہوگا۔

پٹواری بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے۔
اس سے احتساب بھی ہونا چاہیے، مگر اس کے مسائل اور زمینی حقیقتوں کو سمجھ کر۔

کیونکہ کسی بھی نظام کو صرف سزا کے خوف سے نہیں، بلکہ مناسب سہولیات، واضح ذمہ داریوں، مؤثر نگرانی اور بہتر انتظامی نظام سے درست کیا جا سکتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں: "پٹواری کرپٹ ہے، اس کی تو سرکاری تنخواہ بھی ہے، پھر یہ کرپشن کیوں کرتا ہے؟" میں آج اسی سوال کا جواب دینا چ...
13/09/2026

لوگ کہتے ہیں: "پٹواری کرپٹ ہے، اس کی تو سرکاری تنخواہ بھی ہے، پھر یہ کرپشن کیوں کرتا ہے؟" میں آج اسی سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں۔ اور پہلے ہی واضح کر دوں: میں کرپشن کا دفاع نہیں کر رہا۔ رشوت لینا جرم ہے، اختیار کا ناجائز استعمال جرم ہے، کسی شہری کو بلاوجہ تنگ کرنا جرم ہے، کسی کا حق روکنا جرم ہے، زمین کے ریکارڈ میں جان بوجھ کر گڑبڑ کرنا جرم ہے۔ جو پٹواری یہ سب کرتا ہے، اس کا احتساب ہونا چاہیے اور اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف پٹواری کو گالی دینے سے مسئلہ ختم ہو جائے گا؟ کیا صرف ایک پٹواری کو معطل یا گرفتار کرنے سے وہ پورا نظام بدل جائے گا جس میں وہ کام کر رہا ہے؟ یا پھر اگلے دن اسی کرسی پر ایک نیا پٹواری بیٹھے گا اور کچھ عرصے بعد وہی سوال دوبارہ ہمارے سامنے کھڑا ہوگا؟ ذرا پٹواری کی زندگی کو بھی سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ ایک پٹواری کی تنخواہ ہے، وہ بھی اپنے گھر کا خرچ چلاتا ہے، اس کے بچے ہیں، والدین ہیں، بجلی کا بل ہے، بچوں کی تعلیم ہے، بیماری کے اخراجات ہیں، آنے جانے کا خرچ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف تنخواہ ملنے سے سرکاری ملازم کے تمام دفتری اخراجات بھی ختم ہو جاتے ہیں؟ پٹواری کے پاس ہمیشہ باقاعدہ سرکاری دفتر، مناسب فرنیچر، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، پرنٹنگ، ریکارڈ رکھنے کی مکمل سہولت اور فیلڈ ورک کے لیے ہر وقت سرکاری ٹرانسپورٹ موجود ہوتی ہے؟ اگر ہے تو ہمیں دکھائیے، اور اگر نہیں ہے تو پھر اس خلا کو کون پُر کرتا ہے؟ ایک طرف شہری کہتا ہے: "میری فرد نکال دو۔" دوسرا کہتا ہے: "میرا انتقال کر دو۔" کسی کی وراثت کا مسئلہ ہے، کسی کی زمین کی حد بندی ہے، کسی کی زمین پر قبضے کا تنازع ہے، کسی کو نقشہ چاہیے، کسی کا ریکارڈ درست ہونا ہے، کسی کے بھائی نے درخواست دے دی ہے، کسی کے خاندان میں وراثت کا جھگڑا ہے، اور تقریباً ہر شخص کے لیے اس کا اپنا مسئلہ سب سے زیادہ اہم اور فوری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین صرف زمین نہیں ہوتی۔ کسی کے لیے وہ باپ کی آخری نشانی ہوتی ہے، کسی کے لیے نسلوں کی جمع پونجی، کسی کے لیے روزگار، کسی کے لیے گھر اور کسی کے لیے پوری زندگی کی محنت۔ اسی لیے زمین کے ریکارڈ سے متعلق ایک چھوٹی سی غلطی بھی کسی خاندان کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ اب پٹواری کو دیکھیے۔ ایک طرف عوام کا دباؤ، دوسری طرف افسران کے احکامات، اوپر سے فون، نیچے سے سفارش، بااثر لوگوں کے پیغامات، اور پھر کہا جاتا ہے: "قانون کے مطابق کام کرو۔" لیکن بعض اوقات چند لمحوں بعد ہی دوسرا فون آ جاتا ہے: "یہ کام قانون کے مطابق نہیں، ہمارے مطابق کرو۔" اب سوال یہ ہے: جب قانون اور اثر و رسوخ آمنے سامنے کھڑے ہوں تو درمیان میں کون کھڑا ہوتا ہے؟ پٹواری۔ اور پھر ہم کہتے ہیں: "پٹواری کرپٹ کیوں ہے؟" بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔ پٹواری کا کام صرف دفتر میں بیٹھ کر کاغذ دیکھنا نہیں۔ بہت سے معاملات میں اسے موقع پر جانا پڑتا ہے، زمین دیکھنی ہے، حد بندی کرنی ہے، موقع کی صورتِ حال دیکھنی ہے، لوگوں کے بیانات لینے ہیں، تنازعات دیکھنے ہیں اور یہ سب کرنے کے لیے سفر بھی کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس فیلڈ ورک کا حقیقی خرچ کون اٹھاتا ہے؟ کیا ہر بار مناسب TA/DA ملتا ہے؟ اگر نہیں ملتا تو ملازم اپنے وسائل کہاں سے استعمال کرے؟ اسی طرح دفتری ضروریات کا معاملہ ہے۔ پرنٹر کے کاغذات، انٹرنیٹ، معمولی دفتری سامان، کبھی فرنیچر، کبھی کسی چیز کی مرمت، کبھی پرنٹنگ کے اخراجات۔ اگر سرکاری نظام ہر ضرورت پوری نہیں کرتا تو پھر یہ خلا کہاں سے پُر ہوتا ہے؟ یہ سوال صرف پٹواری سے نہیں، پورے انتظامی نظام سے پوچھنا چاہیے۔ اور پھر پٹواری کی ڈیوٹیاں۔ الیکشن ڈیوٹی، پولیو ریفیوزل کیسز، منڈی میں ڈیوٹی، بکرا منڈی میں ڈیوٹی، جلوس میں ڈیوٹی، اجلاس میں ڈیوٹی، محرم ڈیوٹی، خصوصی تقریبات، افغان ڈیوٹی، فلڈ اور ایمرجنسی ڈیوٹیاں، حتیٰ کہ بعض جگہوں پر ایسے کاموں میں بھی ڈیوٹیاں لگا دی جاتی ہیں جن کا بنیادی ریونیو کام سے براہِ راست تعلق تک نہیں ہوتا۔ سوال یہ نہیں کہ سرکاری ملازم ڈیوٹی کیوں کرتا ہے، وہ کرے گا، ریاستی کام ہے تو کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ ان اضافی ڈیوٹیوں کے اخراجات، سفر اور وقت کا مناسب معاوضہ اور سہولت کہاں ہے؟ سیلاب آیا تو سرکاری اہلکاروں کو میدان میں اتارا گیا، متاثرین کے لیے کام کرنا ضروری تھا، لیکن اگر کسی ملازم سے کہا جائے کہ انتظام کرو، کھانے پینے کا بندوبست کرو، سامان کا بندوبست کرو، لوگوں کی مدد کرو، تو سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ان اخراجات کا باقاعدہ سرکاری طریقہ کیا ہے؟ یہ رقم ملازم اپنی جیب سے کیوں لگائے؟ اور پھر جب وہ ملازم اپنے مسائل بیان کرے تو جواب ملتا ہے: "نوکری چھوڑ دو!" کیوں؟ کیا اس کے بچے نہیں ہیں؟ کیا اس کے والدین نہیں ہیں؟ کیا گھر کا خرچ نہیں؟ کیا بجلی کا بل نہیں؟ کیا بچوں کی تعلیم نہیں؟ کیا بیماری کے اخراجات نہیں؟ کیا آنے جانے کا خرچ نہیں؟ اس نے اپنی تعلیم کیوں حاصل کی؟ صرف اس لیے کہ ایک دن سرکاری نوکری ملے اور پھر اسے ہر طرف سے دباؤ، اضافی کام اور اخراجات کے درمیان کھڑا کر دیا جائے؟ یہ نوکری کسی نے گھر بیٹھے تحفے میں نہیں لی۔ لوگ سالوں پڑھتے ہیں، ٹیسٹ دیتے ہیں، انٹرویوز دیتے ہیں، پاکستان کے مختلف شہروں میں امتحانات کے لیے جاتے ہیں اور پھر کہیں جا کر سرکاری ملازمت حاصل ہوتی ہے۔ پورے پنجاب میں ہزاروں نئے تعلیم یافتہ پٹواری بھرتی ہوئے۔ کیا ان سب نے اس نیت سے امتحان دیا تھا کہ "ہم بڑے ہو کر کرپشن کریں گے؟" یقیناً نہیں۔ ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ واقعی ایمانداری سے کام کرتے ہیں، کچھ غلط راستہ اختیار کرتے ہیں، کچھ دباؤ میں آ جاتے ہیں اور کچھ خود نظام کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس لیے پورے طبقے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا بھی انصاف نہیں۔ لیکن یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر پٹواریوں کے خلاف آواز اٹھانے والے بہت سے لوگ واقعی اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہوں گے اور ان کی شکایت سننا ضروری ہے، لیکن بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غلط کام کروانے کے لیے خود پیسے کی پیشکش کرتے ہیں۔ جب ان کا غیر قانونی کام نہیں کیا جاتا تو وہ کہتے ہیں: "پٹواری پیسے مانگتا ہے!" اگر کسی پٹواری نے واقعی رشوت مانگی ہے تو ثبوت کے ساتھ شکایت کریں، قانونی کارروائی کریں، احتساب کریں، لیکن اگر کوئی شخص خود غیر قانونی کام کروانے کے لیے پیسے کی پیشکش کرے اور انکار پر سوشل میڈیا پر الزام تراشی شروع کر دے تو کیا اسے بھی احتساب سے مستثنیٰ ہونا چاہیے؟ اور ہاں، صحافت کے نام پر بلیک میلنگ کرنے والے افراد بھی اگر کہیں موجود ہیں تو ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ صحافت ایک مقدس ذمہ داری ہے، کسی سرکاری ملازم کو دباؤ میں لانے کا ذریعہ نہیں۔ اسی طرح سیاسی اور بااثر لوگوں کی مداخلت کا مسئلہ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی سرکاری ملازم سے غیر قانونی کام کروانے کے لیے فون آتا ہے، سفارش آتی ہے، دباؤ آتا ہے یا اسے کسی بااثر شخص کے سامنے مجبور کیا جاتا ہے تو صرف ملازم کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ دباؤ ڈالنے والے کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر قانون کہتا ہے کہ کام قانون کے مطابق ہوگا تو پھر قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ پٹواری کے لیے بھی، عام شہری کے لیے بھی، بااثر شخص کے لیے بھی، سیاسی شخصیت کے لیے بھی، افسر کے لیے بھی اور صحافی کے لیے بھی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پٹواری بے گناہ ہیں۔ نہیں۔ جو کرپٹ ہے، اسے سزا دیں۔ جو رشوت لیتا ہے، اسے پکڑیں۔ جو شہری کو ذلیل کرتا ہے، اس کے خلاف کارروائی کریں۔ جو زمین کے ریکارڈ میں جان بوجھ کر خیانت کرتا ہے، اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔ لیکن ساتھ یہ بھی پوچھیں: ایک ایماندار پٹواری کو ایماندار رہنے کے لیے نظام نے کیا دیا؟ کیا اسے مناسب دفتر دیا؟ کیا اسے بنیادی دفتری سہولیات دیں؟ کیا فیلڈ ورک کے لیے وسائل دیے؟ کیا ریکارڈ کے تحفظ کا جدید نظام دیا؟ کیا عوام کو آسان، شفاف اور براہِ راست سروس دی؟ کیا سیاسی دباؤ سے تحفظ دیا؟ کیا غیر ضروری مداخلت روکنے کا مؤثر نظام بنایا؟ اور سب سے اہم، کیا ایسا ماحول بنایا جس میں ایک ملازم رشوت کے بغیر بھی اپنے فرائض آرام سے انجام دے سکے؟ اگر نہیں تو پھر صرف ایک پٹواری کو کرپٹ کہہ کر کہانی ختم نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ کرپشن صرف ایک شخص کی بیماری نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی پورا نظام ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے جہاں غلط راستے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں فرد اور نظام میں فرق کرنا ہوگا۔ کرپشن کبھی جائز نہیں ہو سکتی، لیکن کرپشن کے خاتمے کے لیے صرف ملازم کو سزا دینا کافی نہیں۔ نظام کو بھی درست کرنا ہوگا۔ پٹواری کا دفتر ڈیجیٹل اور شفاف بنانا ہوگا، ریکارڈ تک شہری کی آسان رسائی ہونی چاہیے، ہر کام کی مقررہ فیس اور مقررہ مدت واضح ہونی چاہیے، درخواست کا آن لائن ٹریکنگ نظام ہونا چاہیے، ملازم کے ہر جائز کام کے لیے باقاعدہ سرکاری وسائل ہونے چاہئیں، فیلڈ ورک کے اخراجات حکومت کو برداشت کرنے چاہئیں، اضافی ڈیوٹیوں کا مناسب معاوضہ ملنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر سیاسی اور غیر قانونی مداخلت کے خلاف سرکاری ملازم کو ادارہ جاتی تحفظ ملنا چاہیے۔ پھر دیکھیے، اگر نظام شفاف ہوگا، وسائل مکمل ہوں گے، ہر کام کی ٹائم لائن ہوگی، شہری کو بار بار دفتر نہیں آنا پڑے گا، ہر درخواست کا ریکارڈ ہوگا اور ہر لین دین قابلِ نگرانی ہوگا تو رشوت کے مواقع خود بخود کم ہوں گے۔ اور اگر اس کے باوجود کوئی پٹواری رشوت لے گا تو پھر اس کے خلاف کارروائی بالکل ہونی چاہیے، سخت کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ سہولت دینے کا مطلب جرم کی اجازت دینا نہیں۔ میں ایک کرپٹ پٹواری ہوں۔ مجھے گالیاں دیجیے، میرا احتساب کیجیے، اگر میں نے رشوت لی ہے تو مجھے قانون کے مطابق سزا دیجیے، اگر میں نے کسی کا حق مارا ہے تو مجھے سزا دیجیے، اگر میں نے طاقتور کے لیے کمزور کے ساتھ زیادتی کی ہے تو مجھے کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ لیکن اگر مجھے فیصلہ سنانے سے پہلے صرف دو منٹ مل جائیں تو میری ایک بات ضرور سن لیجیے۔ پٹواری بننے سے پہلے میں بھی ایک عام نوجوان تھا۔ میرے بھی خواب تھے۔ میں بھی عزت کی نوکری چاہتا تھا۔ میں بھی چاہتا تھا کہ لوگ کہیں: "یہ سرکاری ملازم ہے، عوام کا کام کرتا ہے۔" میں بھی پڑھا، میں نے بھی امتحان دیے، میں نے بھی انتظار کیا اور پھر ایک دن مجھے یہ نوکری ملی۔ میرے ہاتھ میں لوگوں کی زمینوں کا ریکارڈ آ گیا، لوگوں کی وراثتیں، ان کی کھیتیاں، ان کے گھر، ان کے جھگڑے، ان کے مسائل اور ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی۔ شروع میں مجھے عزت ملی۔ لوگ کہتے تھے: "پٹواری صاحب آ گئے ہیں۔" لیکن آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ یہ صرف ایک نوکری نہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک انسان کے کندھوں پر کاغذوں سے زیادہ لوگوں کے مسائل لاد دیے جاتے ہیں۔ صبح دفتر آؤ تو لوگ انتظار کر رہے ہوتے ہیں، ایک کی فرد، دوسرے کا انتقال، تیسرے کی وراثت، چوتھے کی حد بندی، پانچویں کا قبضہ، چھٹے کی درخواست، اور ہر شخص کہتا ہے: "پٹواری صاحب، میرا کام بہت ضروری ہے۔" اور حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کا کام واقعی ضروری ہوتا ہے، کیونکہ زمین کسی کے لیے صرف زمین نہیں۔ وہ اس کے باپ کی نشانی ہے، اس کے بچوں کا مستقبل ہے، اس کا روزگار ہے، اس کا گھر ہے، اس کی پوری زندگی ہے۔ پھر ایک طرف عوام کا دباؤ آتا ہے، دوسری طرف افسران کے احکامات، اوپر سے فون، نیچے سے سفارش، اور پھر کہا جاتا ہے: "قانون کے مطابق کام کرو۔" اور کبھی اسی کے بعد کہا جاتا ہے: "لیکن یہ کام ہمارے مطابق کرو۔" جب قانون اور سفارش آمنے سامنے کھڑے ہوں تو درمیان میں پھر وہی پٹواری ہوتا ہے۔ اور پھر ہم کہتے ہیں: "پٹواری کرپٹ ہے!" ہاں، اگر وہ واقعی کرپٹ ہے تو سزا دیجیے، لیکن صرف پٹواری کو سزا دے کر نظام کو مت چھوڑ دیجیے۔ اس نظام سے بھی پوچھئے: ایک شہری کو اپنے بنیادی حق کے لیے اتنے چکر کیوں لگانے پڑتے ہیں؟ ایک سرکاری ملازم کو بنیادی دفتری وسائل کے لیے کیوں ترسنا پڑتا ہے؟ فیلڈ ورک کے اخراجات کا واضح نظام کیوں نہیں؟ اضافی ڈیوٹیوں کے لیے مناسب TA/DA کیوں نہیں؟ سیاسی مداخلت روکنے کا مؤثر نظام کہاں ہے؟ غیر قانونی دباؤ ڈالنے والوں کا احتساب کہاں ہے؟ اور ایک ایماندار سرکاری ملازم کو ایماندار رہنے کے لیے ریاست کیا تحفظ دیتی ہے؟ کیونکہ اگر ہم ہر بار صرف ایک پٹواری کو پکڑ کر کہیں: "یہ کرپٹ ہے!" تو ممکن ہے ہم ایک شخص کو تو پکڑ لیں، مگر اس ماحول کو نہ بدل سکیں جس نے کرپشن کے مواقع پیدا کیے۔ اس لیے ہمیں صرف پٹواری کا احتساب نہیں کرنا، نظام کا بھی پوسٹ مارٹم کرنا ہے۔ میں ایک کرپٹ پٹواری ہوں۔ اگر میں نے کسی کا حق کھایا ہے تو مجھے سزا دیجیے۔ اگر میں نے رشوت لی ہے تو مجھے قانون کے مطابق سزا دیجیے۔ اگر میں نے کسی غریب کو تنگ کیا ہے تو مجھے سزا دیجیے۔ لیکن میرے ساتھ ساتھ اس نظام سے بھی پوچھ لیجیے کہ اس نے کتنے ایماندار لوگوں کو کام کرنے کے قابل ماحول دیا؟ کتنے لوگوں کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھا؟ کتنے دفاتر کو مکمل وسائل دیے؟ کتنے شہریوں کو بغیر سفارش اور رشوت کے ان کا بنیادی حق دیا؟ اور کتنے ایسے دروازے بند کیے جہاں سے کرپشن جنم لیتی ہے؟ کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم پٹواری بدلتے رہیں، معطل کرتے رہیں، پکڑتے رہیں، سزائیں دیتے رہیں اور وہی پرانا نظام ہر بار زندہ رہے۔ پٹواری بدلتا رہے، چہرے بدلتے رہیں، نام بدلتے رہیں، لیکن کہانی وہی رہے۔ اس لیے میرا مطالبہ یہ نہیں کہ مجھے پاک صاف قرار دیا جائے۔ میرا مطالبہ صرف انصاف ہے۔ جو کرپٹ ہے اسے سزا دو۔ جو ایماندار ہے اسے تحفظ دو۔ جو غیر قانونی دباؤ ڈالتا ہے اسے بھی سزا دو۔ اور جو نظام کرپشن کے مواقع پیدا کرتا ہے، اسے تبدیل کرو۔ کیونکہ کرپشن ختم کرنے کے لیے صرف کرپٹ آدمی پکڑنا کافی نہیں، کرپشن پیدا کرنے والے نظام کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ پٹواری جاتا رہے گا، پٹواری آتا رہے گا اور کرپشن زندہ رہے گی۔

#وزیراعلیٰ_پنجاب
Maryam Nawaz Sharif
Board of Revenue, Punjab
Commissioner Sahiwal
Deputy Commissioner Pakpattan
All Punjab Patwari Associationانجمن پٹواریان پنجاب ۔
پٹوار یونین پنجاب
Sajjad Ali Bhinder
Patwar Community

Address

Pakpattan
Pakpattan
57400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when انجمن پٹواریان و گرداوران پاکپتن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share