18/05/2026
میں ایک پٹواری ہوں…
ہاں! میں ایک پٹواری ہوں۔
وہی پٹواری جس کا نام سنتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں رشوت، کرپشن اور سفارش جیسے الفاظ آ جاتے ہیں۔
لیکن کبھی کسی نے یہ سوچا کہ اس لفظ “پٹواری” کے پیچھے بھی ایک انسان ہے؟
ایک ایسا انسان جس کی اپنی عزت، مجبوری، ذمہ داریاں، خواب اور دکھ ہوتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب گاؤں کے زمیندار مجھے عزت دیتے تھے۔
اپنے گھریلو فیصلوں میں شامل کرتے تھے۔
وراثت کے معاملات مجھ سے مشورہ کرکے طے ہوتے تھے۔
خوشی ہو یا غم، مجھے شریک کیا جاتا تھا۔
میری بات کو اہمیت دی جاتی تھی کیونکہ میں صرف زمینوں کا ریکارڈ رکھنے والا نہیں تھا بلکہ دیہات کے نظام کا ایک معتبر حصہ سمجھا جاتا تھا۔
پھر وقت بدلا…
لوگ بدلے…
نیتیں بدل گئیں…
اب لوگ زمین منتقل کروانے کے بعد اپنے ہی بیانات سے مکر جاتے ہیں۔
اور جب معاملہ خراب ہوتا ہے تو سب سے آسان راستہ یہی ہوتا ہے کہ الزام پٹواری پر لگا دو۔
سب سے بڑا ڈرامہ کیا رچایا جاتا ہے؟
“ہم تو پاس بک بنوانے گئے تھے، پٹواری نے انگوٹھا لگوا لیا، ہم ان پڑھ تھے…”
حالانکہ آج کا زمیندار پاس بک، انتقال، فرد، رجسٹری اور ریکارڈ کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ جانتا ہے۔
لیکن جب ذاتی مفاد سامنے آتا ہے تو سارا بوجھ پٹواری پر ڈال دیا جاتا ہے۔
اکثر وراثتی کیسز بہن بھائیوں کے درمیان ہوتے ہیں۔
جب بہن غیر شادی شدہ ہوتی ہے تو خوشی خوشی بھائیوں کے نام زمین منتقل کر دیتی ہے۔
لیکن شادی کے بعد، خاوند یا بچوں کے دباؤ میں آکر یہی کہا جاتا ہے کہ “پٹواری نے دھوکہ دیا”۔
کیا ہر معاملے میں صرف پٹواری ہی قصوروار ہے؟
نمبردار؟
پٹی دار؟
گواہ؟
معززین؟
کیا ان کا کوئی کردار نہیں؟
لیکن نہیں…
بدنام صرف پٹواری ہوتا ہے۔
دو فریقین کی لڑائی میں جب پٹواری حقائق دیکھ کر ایک فریق کے حق میں رپورٹ دیتا ہے تو دوسرا فوراً کہتا ہے:
“پٹواری نے پیسے لے لیے!”
کبھی کسی نے یہ سوچا کہ سچ بولنے والے پر بھی الزام لگتا ہے؟
پلس ونڈہ جات میں ایک ہفتے میں سینکڑوں ونڈے مکمل کرنے کا دباؤ ہوتا ہے۔
ایک انسان بمشکل ایک یا دو ونڈے صحیح طریقے سے کر سکتا ہے، مگر پٹواری سے روزانہ درجنوں کام لیے جاتے ہیں۔
غلطی ہو جائے تو انکوائری۔
کسی کا مفاد متاثر ہو جائے تو اینٹی کرپشن۔
کوئی ناراض ہو جائے تو عدالت۔
پٹواری کی پوری زندگی ایک لٹکتی ہوئی تلوار کے نیچے گزرتی ہے۔
ہاں، کچھ لوگ کرپٹ بھی ہوتے ہیں۔
ہر ادارے میں ہوتے ہیں۔
لیکن کیا پورا محکمہ ہی بے ایمان ہے؟
کبھی یہ بھی سوچیں کہ ایک معمولی تنخواہ والا پٹواری اتنی مہنگائی میں گھر کیسے چلاتا ہے؟
کئی پٹواری خود کاشتکاری کرتے ہیں، زمین ٹھیکے پر لیتے ہیں، پراپرٹی ڈیلنگ کرتے ہیں، سرمایہ کاری میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
زیادہ تر زمیندار گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ سب حقیقتیں بھی معاشرے کو دیکھنی چاہئیں۔
اب ذرا وہ فرائض بھی سن لیں جو ایک پٹواری انجام دیتا ہے۔
صرف زمینوں کا ریکارڈ ہی نہیں…
بلکہ:
✔ مردم شماری ڈیوٹی
✔ الیکشن ڈیوٹی
✔ پولیو مہم
✔ کورونا سرویلنس
✔ ڈینگی سرویلنس
✔ رمضان بازار
✔ آٹا، چینی، کھاد سبسڈی
✔ گندم خریداری مہم
✔ سیلاب اور قدرتی آفات سروے
✔ فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ
✔ احساس و بینظیر سروے
✔ تجاوزات آپریشن
✔ عدالتوں میں بطور گواہ پیشی
✔ پولیس و عدالت کو موقع رپورٹ
✔ دانش سکول ویریفکیشن
✔ کسان کارڈ
✔ سولر پینل ویریفکیشن
✔ فلڈ ڈیوٹی
✔ نہر ٹوٹنے کی ڈیوٹی
✔ محرم الحرام انتظامات
✔ VIP پروٹوکول
✔ ناجائز قابضین سے زمین واگزار کرانا
✔ قتل کی واردات کے نقشے بنانا
✔ جانوروں کی بیماریوں کی رپورٹنگ
✔ سرکاری ٹیموں کے ساتھ فیلڈ وزٹ
اور ان میں سے اکثر کام…
بغیر کسی اضافی معاوضے کے!
نہ پٹرول
نہ اسٹیشنری
نہ بجلی کا بل
نہ فیلڈ الاؤنس
بلکہ کئی بار اپنی جیب سے خرچ کرکے کام مکمل کرنا پڑتا ہے۔
پولیو ڈیوٹی بغیر معاوضہ
مردم شماری بغیر معاوضہ
رمضان بازار بغیر معاوضہ
الیکشن ڈیوٹی بغیر معاوضہ
فلڈ ڈیوٹی بغیر معاوضہ
کھاد و آٹا تقسیم بغیر معاوضہ
آبیانہ وصولی بغیر معاوضہ
زرعی ٹیکس بغیر معاوضہ
اور اوپر سے عوام کی نفرت، الزام اور بدنامی الگ۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ہر پٹواری فرشتہ ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر پٹواری چور نہیں ہوتا۔
کسی بھی محکمہ میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔
مگر پورے طبقے کو گالی دینا انصاف نہیں۔
اگر ایک انسان سے درجنوں محکموں کے کام لیے جائیں،
24 گھنٹے عوامی دباؤ رکھا جائے،
ہر وقت انکوائری اور شکایت کا خوف ہو،
اور تنخواہ اتنی کم ہو کہ گھر چلانا مشکل ہو…
تو پھر انصاف سے بتائیں:
کیا کوئی دوسرا محکمہ اتنے کام کرتا ہے؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نفرت نہیں بلکہ حقیقت کو دیکھیں۔
تنقید ضرور کریں، مگر انصاف کے ساتھ۔
غلط کو غلط کہیں، مگر ہر پٹواری کو مجرم نہ سمجھیں۔
کیونکہ پٹواری بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے۔
وہ بھی انسان ہے۔
اس کے بھی بچے ہیں۔
اس کی بھی عزت ہے۔
اس کے بھی خواب ہیں۔
“ایک کرپٹ انسان پورے نظام کی پہچان نہیں ہوتا…
اور ایک ایماندار پٹواری بھی عزت کا حق رکھتا ہے۔”