07/04/2019
"تقریب یوم تجدید ملاقات 6 اپریل 2019"
آج شعبہ اردو جامعہ پشاور میں ایلومینائی کی ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شعبہ اردو کے 150 سے زیادہ سابقہ طلبا و طالبات نے شرکت کی.
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت فہیم اللہ طالب علم ایم اے فائنل نے حاصل کی. محمد اویس نے حضور پاک کی شان میں نذرانہ عقیدت پیش کیا. جبکہ شارب اور ناصر نے اپنی خوبصورت آواز میں اقبال کی نظم پیش کی.
نظامت کے فرائض ابتدا میں عقیل احمد اور معظمہ نواز نے انجام دیے دونوں نے خوبصورت اشعار اور ادبی جملوں میں آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا.معظمہ نواز کا انداز اور آواز قابل داد تھی.
پھر سٹیج ڈاکٹر مشتاق احمد اور پروفیسر نویلہ خانم کا سپرد کردیا گیا. ڈاکٹر مشتاق احمد کی پروقار شخصیت, ادبی ذوق اور نویلہ خانم کے چٹخارہ دار جملے اور برجستہ گوئی محفل کو لوٹتی رہی.
ڈاکٹر صابر کلوروی اور دوسرے مرحومین اساتذہ کے ایصال ثواب کے لیے اجتماعی دعا کی گئی.
یونی ورسٹی انتظامیہ کی طرف سے رئیس کلیہ معراج الاسلام بھی شریک محفل تھے.
پروگرام میں ڈاکٹر روبینہ شاہین اور فضل کبیر کی خدمات کو سراہا گیا کہ انہوں نے چاند چہروں کے مل بیٹھنے کا اہتمام کیا.پروگرام میں نئے کا بینہ کا انتخاب بھی کیا گیا.میڈم زوبیدہ ذوالفقار اور ڈاکٹر ناہید رحمان کی سنیر ممبرز کی حیثیت سے رکنیت برقرار رکھی گئی.اسی طرح فوکل پرسن ڈاکٹر فرحانہ قاضی ,جنرل سیکرٹری فضل کبیر اور میڈم روبینہ کے عہدے بھی برقرار رکھے گئے...سابقہ صدر امان اللہ صاحب کی جگہ ڈاکٹر وارث خان منتخب ہوگئے.پریس سیکٹری کے طور پر ظفر خٹک اور پرودفیسر اورنگزیب شیرازی منتخب ہوگئے.مجلس عاملہ میں ڈاکٹر رئیس مغل,ڈاکٹرانوارعالی,ڈاکٹر وہاب اعجاز اور تقویم الحق منتخب ہوگئے.ڈویزنل نمائندوں کا انتخاب کچھ یوں ہوا.مردان صوابی سے ڈاکٹرسبحان اللہ,پشاور سے ساجد علی'ملاکنڈ سے ظفریاب اور ڈاکٹر مشتاق بنو / کرک سے ڈاکٹر عرفان ,ہزارہ سے میڈم نویلہ ,چترال سے شفیق احمد جبکہ پرانے پاکستان کے قبائیلی علاقہ جات سے ڈاکٹر شاہنواز منتخب ہوا.پروگرام میں ایلومینائی اراکین نے سٹیج پر آکراپنے احساسات و جزبات کا اظہار بھی کیا..میڈم زوبیدہ نے ایلومینائی تقریب کو خود سے ملاقات قرار دی اور اپنی نظم"خود سے ملاقات"بھی سنائی.ڈاکٹر ناہید ,شاہین سروراور ڈاکٹر تاج الدین تاجور نے بھی تقاریر کیے اور اپنی خدمات پیش کرنے کا عہد کیا.پروفیسر ظفریاب نے ڈاکٹر وارث کو نشانہ بنا کر تیر برسائے اور مسحورکن آوازمیں گانا سنا کر محفل کو لوٹ لیا . پھر نویلہ نے آکر ان کی خوب خبر لی.پروفیسر اعجاز نے بھی نویلہ خانم کے چٹخاروں کے زیر سایہ اپنی نظم"شہر فگارہ"سنا ئی.پروفیسر اسحاق وردک نے اپنی مشہور غزل"اے شہر پشاور میں تجھے ہار گیا ہوں"سنا کر سر سہیل سے بالخصوص اور اراکین محفل سے باالعموم داد وصول کی.ڈاکٹر عنبرین شاکر اور ابرارنے آکر شعبہ اردو کی کارکردگی کو سراہا اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کی.رئیس کلیہ معراج الاسلام نے کہا کہ شعبہ اردو میں ایلومینائی کا مقصد یہ ہے کہ ہم آپس میں شیر وشکر ہو جائے اورقومی زبان کو درپیش چیلنجیز سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے منصوبہ بندی کریں.انھوں نے مجلس عاملہ کے ممبران کو شیلڈ دیے.اس کے بعد تمام اراکین کو شیلڈ دیے گئے .آخر میں پرتکلف کھانے کا انتظام کیا گیا تھا اور یوں یہ پروگرام اختتام کو پہنچا....ڈاکٹر سبحان اللہ