Govt. College Liaquatabad-Piplan گورنمنٹ کالج لیاقت آباد پپلاں

Govt. College Liaquatabad-Piplan گورنمنٹ کالج لیاقت آباد پپلاں Government Graduate College Liaqatabad, Tehsil Piplan, District Mianwali
Punjab Pakistan,

پروفیسرعلی بابرکُندیشعبہ اکنامکس (معاشیات)
27/12/2021

پروفیسرعلی بابرکُندی
شعبہ اکنامکس (معاشیات)

05/03/2021

لیاقت آبادکالج پپلاں میں پروفیسرملک ممتازصاحب،پروفیسرراناعمران صاحب پروفیسرذیشان حبیب صاحب اور پروفیسر شمس الرحمن صاحب کی سرپرستی اورنگرانی میں تھل میراتھن ریس کاانعقاد

آج ایک عظیم استاد، محقق اور شاعر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی کی دوسری  برسی ہے.        وہ طویل عرصہ اپنی تنخواہ گورنمنٹ کالج ی...
18/01/2021

آج ایک عظیم استاد، محقق اور شاعر ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی کی دوسری برسی ہے.
وہ طویل عرصہ اپنی تنخواہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں غریب طلبہ کو وظائف دینے کیلئے بنائے گئے انڈوومنٹ فنڈ ٹرسٹ کو دے دیتے رہے.
ریٹائرمنٹ پر ملنے والے 50 لاکھ روپے بھی اسی فنڈ میں دے دئیے. 10لاکھ روپے اپنے والد مولوی شفیق احمد صدیقی کے نام سے گولڈن سکالر شپ کے اجراء کیلئے دئیے جو ہر سال شعبہ اسلامیات کے ایک طالبعلم کو میرٹ پر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے 14 کروڑ روپے مالیت کی 28 ایکڑ زمین اور دو کروڑ کا ایک پلاٹ بھی مستحق طلبہ کے وظائف کیلئے دے دیا.
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یونیورسٹی آتے رہے. جونئیر ساتھیوں کا ہاتھ بٹاتے. کچھ نہ کچھ کام کرکے جاتے.
ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی (جنہیں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے Distinguished Professor کا اعزاز دیا تھا) پچاس سے زائد اردو اور فارسی کتب کے مصنف بھی تھے، جن میں پاکستان کی پہلی فارسی سے اردو لغت اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی 50سالہ تاریخ پر مبنی کتاب ’’ نصف صدی کا قصہ ‘‘ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے 84 برس عمر پائی.
ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی کے بڑے بیٹے مائیکروسوفٹ کے سربراہ بل گیٹس کے ایڈوائزر ہیں۔ چهوٹے بیٹے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے اعلیٰ عہدیدار اور صاحبزادی ایف سی سی یونیورسٹی میں انگریزی کی استاد ہیں۔

پروفیسرڈاکٹرشاہدرفیق سابق لیکچرر میتھ گورنمنٹ کالج لیاقت آباد آج پی ایچ ڈی اسکالر بن گئے۔ بہت بہت مبارکباد۔ Most awaited...
01/09/2020

پروفیسرڈاکٹرشاہدرفیق سابق لیکچرر میتھ گورنمنٹ کالج لیاقت آباد آج پی ایچ ڈی اسکالر بن گئے۔ بہت بہت مبارکباد۔
Most awaited day of my life........, Alhamulillah by the grace of Almighty Allah today I successfully defended my PhD thesis.
A dream of my life when Ist time I wrote Dr with my name while I was in grade 10.
Alhamdulilah today my dream comes true........ I m Dr. Shahid Rafiq
I m thankful to all my family members, my friends and specially my teachers who enable me for this day.

(L) Maulana Shaukat Ali and Maulana Mohammad Ali Jauhar known as the Ali Brothers.
17/05/2020

(L) Maulana Shaukat Ali and Maulana Mohammad Ali Jauhar known as the Ali Brothers.

مریخ کے چاند Phobos کی یہ تصویر ناسا کی Curiosity Rover نامی خلائی گاڑی نے اپریل 2014ء کو کھینچی.... یاد رہے کہ Curiosit...
08/04/2020

مریخ کے چاند Phobos کی یہ تصویر ناسا کی Curiosity Rover نامی خلائی گاڑی نے اپریل 2014ء کو کھینچی.... یاد رہے کہ Curiosity Rover کو زمین سے کنٹرول کیا جارہا ہے... سامنے Phobos کے نیچے آپ کو جو پہاڑ دکھائی دے رہا ہے اسے Mount Sharp کہتے ہیں، اس کی اونچائی 5.5 کلومیٹر ہے، ہمارے زمین پر سب سے بڑے پہاڑ Mount Everest ہے جس کی اونچائی 8.8 کلومیٹر ہے... اسی طرح مریخ پہ ہمارے نظام شمسی کا سب سے بڑا پہاڑ Mount Olympus بھی موجود ہے جس کی اونچائی 27 کلومیٹر ہے! بہرحال مریخ کا چاند Phobos تقریباً 22 کلومیٹر diameter کا حامل ایک irregular shape کا پتھر ہے... اگر آپ مریخ پہ موجود ہونگے تو آپ کو یہ مغرب سے طلوع ہوتا اور مشرق میں غروب دکھائی دے گا، اس کا مریخ سے فاصلہ صرف 6 ہزار کلومیٹر ہے (ہمارے چاند کا زمین سے فاصلہ تقریباً 4 لاکھ کلومیٹر ہے)، مریخ سے اتنا قریب ہونے کے باعث یہ ایک دن میں دو بار طلوع ہوکر غروب ہوتا ہے، فوبوس ہر سو سال میں 2 میٹر تک مریخ کے قریب ہوتا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اگلے 3 سے 5 کروڑ سالوں میں یہ مریخ سے ٹکرا جائے گا... اس ٹکراؤ کے باعث مریخ صدیوں تک گرد کے بادلوں میں گھِرا رہے گا، آج سے ساڑھے چھ کروڑ سال قبل ہماری زمین کا بھی ایسے ہی ایک پتھر سے ٹکراؤ ہوا تھا جس وجہ سے اندازہ ہے کہ ڈائناسارس سمیت 75٪ پودے اور جانوروں کا زمین سے صفایا ہوگیا تھا، اس کے بعد زمین پر دوبارہ سے زندگی نے شروعات کیں... اگر اگلی چند دہائیوں تک انسان مریخ پہ جاکر آباد ہوجاتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے یہ مریخی چاند شدید خطرہ ہوگا... لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں سال بعد انسان موجود بھی ہوگا کہ نہیں؟ یا وقت کے ساتھ ساتھ کوئی اور روپ تو اختیار نہیں کرلے گا؟ کیونکہ کچھ ریسرچرز یہ بھی کہتے ہیں کہ بطور انسان یہ ہماری آخری صدی ہے... اگلی صدی کے انسان genetically modify ہونگے لہذا انہیں ہمارے جیسا انسان کہنا درست نہیں ہوگا...

تحریر : محمد شاہ زیب صدیقی، اسلام آباد

لیاقت آباد کالج کا انتہائی مخلص،دیانت دار،محنتی اور فرض شناس ملازممحمدریاض
23/02/2020

لیاقت آباد کالج کا انتہائی مخلص،دیانت دار،محنتی اور فرض شناس ملازم
محمدریاض

29/01/2020

ماں جی ----

(ماں کی محبت سے متعلق ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ ملک خداداد خان صاحب کی فرستادہ دل کو چھو لینے والی اور اردو ادب کی ایک شاھکار تحریر-)

ہمیں اماں جی اس وقت زہر لگتیں جب وہ سردیوں میں زبردستی ہمارا سر دھوتیں-
لکس ، کیپری ، ریکسونا کس نے دیکھے تھے ..... کھجور مارکہ صابن سے کپڑے بھی دھلتے تھے اور سر بھی- آنکھوں میں صابن کانٹے کی طرع چبھتا ... اور کان اماں کی ڈانٹ سے لال ہو جاتے !!!
ہماری ذرا سی شرارت پر اماں آگ بگولہ ہو جاتیں... اور کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھا لیتیں جسے ہم "ڈمنی" کہتے تھے ... لیکن مارا کبھی نہیں- کبھی عین وقت پر دادی جان نے بچا لیا ... کبھی بابا نے اور کبھی ہم ہی بھاگ لئے ...
گاؤں کی رونقوں سے دور عین فصلوں کے بیچ ہمارا ڈیرہ تھا - ڈیرے سے پگڈنڈی پکڑ کر گاؤں جانا اماں کا سب سے بڑا شاپنگ ٹؤر ہوا کرتاتھا ... اور اس ٹؤر سے محروم رہ جانا ہماری سب سے بڑی بدنصیبی !!
اگر کبھی اماں اکیلے گاؤں چلی جاتیں تو واپسی پر ہمیں مرنڈے سے بہلانے کی کوشش کرتیں .... ہم پہلے تو ننھے ہاتھوں سے اماں جی کو مارتے .... ان کا دوپٹا کھینچتے ... پھر ان کی گود میں سر رکھ کر منہ پھاڑ پھاڑ کر روتے-
کبھی اماں گاؤں ساتھ لے جاتیں تو ہم اچھلتے کودتے خوشی خوشی ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے ..... شام گئے جب گاؤں سے واپسی ہوتی تو ہم بہت روتے.....ہمیں گاؤں اچھا لگتا تھا " ماں ہم گاؤں میں کب رہیں گے " میرے سوال پر اماں وہی گھسا پٹا جواب دیتیں ...." جب تو بڑا ہوگا ... نوکری کرے گا ... بہت سے پیسے آئیں گے ... تیری شادی ہوگی ... وغیرہ وغیرہ ... یوں ہم ماں بیٹا باتیں کرتے کرتے تاریک ڈیرے پر آن پہنچتے ...
مجھے یاد ہے گاؤں میں بابا مظفر کے ہاں شادی کا جشن تھا- وہاں جلنے بجھنے والی بتیاں بھی لگی تھیں اور پٹاختے بھی پھوٹ رہے تھے- میں نے ماں کی بہت منّت کی کہ رات ادھر ہی ٹھہر جائیں لیکن وہ نہیں مانی- جب میں ماں جی کے پیچھے روتا روتا گاؤں سے واپس آرہا تھا تو نیت میں فتور آگیا اور چپکے سے واپس گاؤں لوٹ گیا.....
شام کا وقت تھا .... ماں کو بہت دیر بعد میری گمشدگی کا اندازہ ہوا- وہ پاگلوں کی طرع رات کے اندھیرے میں کھیتوں کھلیانوں میں آوازیں لگاتی پھری - اور ڈیرے سے لیکر گاؤں تک ہر کنویں میں لالٹین لٹکا کر جھانکتی رہی -
رات گئے جب میں شادی والے گھر سے بازیاب ہوا تو وہ شیرنی کی طرع مجھ پر حملہ آور ہوئیں- اس رات اگر گاؤں کی عورتیں مجھے نہ بچاتیں تو اماں مجھے مار ہی ڈالتی-
ایک بار ابو جی اپنے پیر صاحب کو ملنے سرگودھا گئے ہوئے تھے- میں اس وقت چھ سات سال کا تھا- مجھے شدید بخار ہو گیا- اماں جی نے مجھے لوئ میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور کھیتوں کھلیانوں سے گزرتی تین کلو میٹر دور گاؤں کے اڈے پر ڈاکٹر کو دکھانے لے گئیں- واپسی پر ایک کھالے کو پھلانگتے ہوئے وہ کھلیان میں گر گئیں ... لیکن مجھے بچا لیا ... انہیں شاید گھٹنے پر چوٹ آئ ... ان کے مونہہ سے میرے لئے حسبی اللہ نکلا ... اور اپنے سسرال کےلئے کچھ ناروا الفاظ ... یہ واقعہ میری زندگی کی سب سے پرانی یاداشتوں میں سے ایک ہے ....
یقیناً وہ بڑی ہمت والی خاتون تھیں-اور آخری سانس تک محنت مشقت کی چکی پیستی رہیں ...
پھر جانے کب میں بڑا ہوگیا اور اماں سے بہت دور چلا گیا...
سال بھر بعد جب گھر آتا.....تو ماں گلے لگا کر خوب روتی لیکن میں سب کے سامنے ھنستا رہتا- پھر رات کو جب سب سو جاتے تو چپکے سے ماں کے ساتھ جاکر لیٹ جاتا اور اس کی چادر میں منہ چھپا کر خوب روتا-
ماں کھیت میں چارہ کاٹتی اور بہت بھاری پنڈ سر پر اٹھا کر ٹوکے کے سامنے آن پھینکتی- کبھی کبھی خود ہی ٹوکے میں چارہ ڈالتی اور خود ہی ٹوکہ چلاتی - جب میں گھر ہوتا تو مقدور بھر ان کا ہاتھ بٹاتا- جب میں ٹوکہ چلاتے چلاتے تھک جاتا تو وہ سرگوشی میں پوچھتیں ... " بات کروں تمہاری فلاں گھر میں ....؟؟ "
وہ جانتی تھی کہ میں پیداٰئشی عاشق ہوں اور ایسی باتوں سے میری بیٹری فل چارج ہو جاتی ہے-
پھر ہم نے گاؤں میں گھر بنا لیا ... اور ماں نے اپنی پسند سے میری شادی کر دی-
میں فیملی لے کر شہر چلا آیا اور ماں نے گاؤں میں اپنی الگ دنیا بسا لی-
وہ میرے پہلے بیٹے کی پیدائش پر شہر بھی آئیں .... میں نے انہیں سمندر کی سیر بھی کرائ...کلفٹن کے ساحل پر چائے پیتے ہوئے انہوں نے کہا " اس سمندر سے تو ہمارے ڈیرے کا چھپڑ زیادہ خوبصورت لگتا ہے....
ماں بیمار ہوئ تو میں چھٹی پر ہی تھا... انہیں کئ دن تک باسکوپان کھلا کر سمجھتا رہا کہ معمولی پیٹ کا درد ہے ... جلد افاقہ ہو جائے گا ... پھر درد بڑھا تو شہر کے بڑے ھسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ جگر کا کینسر آخری اسٹیج پر ہے ......
خون کی فوری ضرورت محسوس ہوئ تو میں خود بلڈ بینک بیڈ پر جا لیٹا .... ماں کو پتا چلا تو اس نے دکھ سے دیکھ کر اتنا کہا..." کیوں دیا خون...خرید لاتا کہیں سے...پاگل کہیں کا "
میں بمشکل اتنا کہ سکا .... " اماں خون کی چند بوندوں سے تو وہ قرض بھی ادا نہیں ہو سکتا ... جو آپ مجھے اٹھا کر گاؤں ڈاکٹر کے پاس لیکر گئیں تھیں ... اور واپسی پر کھالا پھلانگتے ہوئے گر گئ تھیں .... "
وہ کھلکھلا کر ہنسیں تو میں نے کہا "امّاں مجھے معاف کر دینا ... میں تیری خدمت نہ کر سکا "
میرا خیال ہے کہ میں نے شاید ہی اپنی ماں کی خدمت کی ہو گی ... وقت ہی نہیں ملا ... لیکن وہ بہت فراغ دل تھیں .... بستر مرگ پر جب بار بار میں اپنی کوتاہیوں کی ان سے معافی طلب کر رہا تھا تو کہنے لگیں " میں راضی ہوں بیٹا ... کاہے کو بار بار معافی مانگتا ہے !!! "
ماں نے میرے سامنے دم توڑا .... لیکن میں رویا نہیں ... دوسرے دن سر بھاری ہونے لگا تو قبرستان چلا گیا اور قبر پر بیٹھ کر منہ پھاڑ کر رویا-
مائے نی میں کنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
ماں سے بچھڑے مدت ہوگئ...اب تو یقین بھی نہیں آتا کہ ماں کبھی اس دنیا میں تھی بھی کہ نہیں....!!!!
آج بیت اللّہ کا طواف کرتے ہوئے پٹھانوں اور سوڈانیوں کے ہاتھوں فٹ بال بنتا بنتا جانے کیسے دیوار کعبہ سے جا ٹکرایا...
یوں لگا جیسے مدتوں بعد پھر ایک بار ماں کی گود میں پہنچ گیا ہوں .... وہی سکون جو ماں کی گود میں آتا تھا ... وہی اپنائیت ... وہی محبت ... جس میں خوف کا عنصر بھی شامل تھا .... اس بار منہ پھاڑ کر نہیں .... دھاڑیں مار مار کر رویا !!!!
ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنیوالا رب کعبہ ..... اور ہم سدا کے شرارتی بچے !!!!
رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا

✍.. اردو ادب ..✍📝❤

 Shall I compare thee to a summer’s day?Thou art more lovely and more temperate:Rough winds do shake the darling buds of...
14/01/2020


Shall I compare thee to a summer’s day?
Thou art more lovely and more temperate:
Rough winds do shake the darling buds of May,
And summer’s lease hath all too short a date;
Sometime too hot the eye of heaven shines,
And often is his gold complexion dimm'd;
And every fair from fair sometime declines,
By chance or nature’s changing course untrimm'd;
But thy eternal summer shall not fade,
Nor lose possession of that fair thou ow’st;
Nor shall death brag thou wander’st in his shade,
When in eternal lines to time thou grow’st:
So long as men can breathe or eyes can see,
So long lives this, and this gives life to thee.
#شیکسپیئر
قلم:مونٹ بلانک

Allama Dr. Muhammad Iqbal’s petition for call in Black Book.While attending the Government College   Allama Iqbal was in...
11/01/2020

Allama Dr. Muhammad Iqbal’s petition for call in Black Book.

While attending the Government College Allama Iqbal was influenced by the teachings of his philosophy teacher, Sir Thomas Walker Arnold, and was convinced to continue his higher education in Europe. Thus he came to Trinity College, Cambridge from where he was admitted to the Inn on 6 November 1905. He passed his bar finals with a class III pass in Easter term 1907, having graduated from Cambridge the previous year. He then went to Germany to pursue doctoral studies and graduated from Ludwig Maximilian University, Munich in 1908.

08/01/2020
Allama Iqbal's signature in the Bar Book 1908
22/12/2019

Allama Iqbal's signature in the Bar Book 1908

Address

Piplan Liaqatabad

Telephone

0459201086

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt. College Liaquatabad-Piplan گورنمنٹ کالج لیاقت آباد پپلاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Govt. College Liaquatabad-Piplan گورنمنٹ کالج لیاقت آباد پپلاں:

Share