آپکی ماہر نفسیات

آپکی ماہر نفسیات Psychological services
Mind Glow
Soul Speak

30/04/2026

Important Announcement!!!

Psychology students are invited to subscribe to my YouTube channel. Further content is forthcoming, insha'Allah, prior to your examinations. Stay tuned.

29/04/2026

پاکستان میں نفسیاتی خدمات کا چیلنج اور معیار پر سمجھوتہ ⚠️

پاکستان میں نفسیاتی خدمات کے معیار پر اکثر سمجھوتہ ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے تھراپسٹ مناسب تربیت یا نگرانی (supervision) حاصل کیے بغیر ہی مختلف تھراپیوں (جیسے کہ CBT، EMDR، یا DBT) کے ماہر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ایک سنگین اخلاقی مسئلہ ہے جو ہمارے پیشے کے وقار کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

ایسے میں، اے پی اے اخلاقی ضابطہ (APA Ethics Code) ہمارے پیشے کے لیے ایک اہم خاکہ ہے جو ہمیں درست سمت دکھاتا ہے۔ اس کا ایک بنیادی اصول معیار 2.01: اہلیت کی حدود (Boundaries of Competence) میں پایا جاتا ہے، جو یہ لازم قرار دیتا ہے کہ ماہرینِ نفسیات کو "صرف اپنی اہلیت کی حدود کے اندر ہی خدمات فراہم کرنی چاہئیں، جو ان کی تعلیم، تربیت، زیر نگرانی تجربے، مشاورت، مطالعے، یا پیشہ ورانہ تجربے پر مبنی ہو۔"

یہ صرف ایک تجویز نہیں ہے؛ یہ وہ بنیاد ہے جس پر نفسیات کا پورا پیشہ قائم ہے۔ عملی طور پر یہ کچھ یوں نظر آتا ہے:

✅ نگرانی (supervision) ایک غیر سمجھوتہ پذیر ضرورت ہے۔ چاہے آپ کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری ہو یا ماسٹرز کی، زیرِ نگرانی مشق اہلیت کو پرکھنے اور بنانے کا بنیادی طریقہ کار ہے۔

➡️ ماسٹرز کی سطح کے تھراپسٹس کے لیے، نگرانی (supervision) لائسنس کا حصول ہے۔ انہیں گریجویشن کے بعد قانونی طور پر آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بجائے، لائسنسنگ بورڈز کو لائسنس کے لیے درخواست دینے سے پہلے ان کے لیے پوسٹ گریجویٹ نگرانی کا ایک سخت، کئی سالوں پر محیط دورانیہ — جو اکثر ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے — درکار ہوتا ہے۔

✅ لائسنس یافتہ ماہرینِ نفسیات کے لیے، نگرانی (supervision) ایک پیشہ ورانہ تحفظ ہے۔ اگرچہ وہ آزادانہ طور پر کام کر سکتے ہیں، اے پی اے کا معیار یہ طے کرتا ہے کہ اگر وہ کوئی نئی تھراپیوٹک طریقہ کار (جیسے EMDR یا DBT) استعمال کرنے یا کسی نئے شعبے میں داخل ہونے کا انتخاب کریں تو انہیں اہلیت حاصل ہونے تک مناسب نگرانی یا تربیت حاصل کرنی چاہیے۔

مسلسل نگرانی (supervision) کا عزم کمزوری کی علامت نہیں؛ یہ ایک پیشہ ور کی زندگی بھر سیکھنے اور اخلاقی مشق کے لیے لگن کا سب سے سچا نشان ہے۔ ہمارے کلائنٹس کی فلاح و بہبود کا انحصار اسی پر ہے۔

28/12/2025


28/12/2025

بچوں کی غیرشائستہ زبان: اصلاح کیسے کی جائے؟
عبدالحئی ثاقب
میرے ایک دوست اپنے چھ سالہ بیٹے کی بگڑتی ہوئی زبان سے متعلق بہت پریشان دکھائی دیتے تھے۔ آخر کار ایک روز انہوں نے کھل کر مجھ سے بات کی اور تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے مجھ سے کچھ سوالات کیے، جن کے جوابات حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اِن تجاویز پر عمل کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچے کی گفتگو میں شامل برے اور ناشائستہ الفاظ آہستہ آہستہ ختم ہوگئے۔ یہاں قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر وہ گفتگو پیشِ خدمت ہے۔ تاکہ ایسے والدین جنھیں ایسی کسی صورت حال کا سامنا ہو اِس سے استفادہ کرسکیں۔

محترم میرا بیٹا جب سے چھ سال کی عمر کو پہنچا ہے گھر کے بجائے محلے میں جا کر کھیل کود کو ترجیح دینے لگا ہے، اِس نے نئے نئے دوست بھی بنالیے ہیں، اور اُن سے اچھی بری عادات اور فضول الفاظ بھی سیکھنے لگا ہے۔ آپ بتائیے کیا میں اس کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردوں؟
جواب:نہیں جناب ایسا ہر گزمت کیجیے اگر آپ بچے کو گھر میں قید کردیں گےتو وہ ان مسائل کا سانا کیسے کرے گا جو اسے مستقبل میں پیش آسکتے ہیں بچے کا معاشرے میں میل جول تو بہت ضروری ہے۔

کیا میں اس کے ایسے دوستوں پر پابندی لگا دوں جن سے یہ بری زبان سیکھتا ہے؟
جواب: نہیں یہ بے جاسختی ہوگی۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ چھپ چھپ کر ان سے ملے گا جس سے اس کی طبیعت نافرمانی کی جانب بھی مائل ہوجائے گی۔

تو پھر کیا میں اپنے بیٹے کے دوستوں کا انتخاب خود کروں؟
جواب: ایسا کرنا بھی ہر گز مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ اگر آپ اس کے دوستوں کا انتخاب خود سے کریں گے تو ہوسکتا ہے ہو آپ کے منتخب کردہ بچوں کے ساتھ دوستی ہی نہ کرے۔

تو پھر مجھے کیا کرنا چاہیے اور اس کی بگڑتی زبان کا کیا علاج ہے؟
جواب: اول تو آپ کو یہ بات باور کر لینی چاہیے کہ بچوں کو صرف محبت اور جذبات کے درست اظہار کے ذریعے ہی کسی غلط بات سے روکا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ آئندہ کوئی برا لفظ سیکھ کر آئے اور اسے گھر میں بولنے لگے تو اسے مت اور نہ ہی پریشانی کا اظہار کیجیے، بلکہ اپنے قریب بلائیے او ر پیار سے ۔ بیٹا یہ لفظ آپ نے کہاں سے سیکھا ہے؟ اور اس لفظ سے متعلق اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کھل کر کیجیے۔اس دوران اپنے چہرے پر شدید ناگواری کے تاثرات لے کر آئیے۔ پہلی بار صرف اتنا کہہ کر چھوڑ دیجیے۔ دوسری بار بھی اگر وہ یہ لفظ دہرائے تو اُسے زبان سے کچھ مت کہیے، بلکہ اپنے چہرے پرشدید ناگواری کے تاثرات لے کر آئیے، وہ فوراً بات سمجھ جائے گا۔ اگر تیسری بار بھی وہ نا شائستہ زبان اختیار کرتا ہے تو آپ بھی اپنے ناگواری کے تاثرات شدید کردیجیے۔ مثلاً کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ چہرے کو ایسا بنا لیں جیسے آپ کو سخت بدبو آ رہی ہو اور اس دوران ایک آدھ جملہ بھی بولا جا سکتا ہے کہ یہ لفظ سن کر تو مجھے بدبو آنے لگتی ہے۔

یاد رکھیے!
بچہ جذبات کو بخوبی سمجھتا ہے اور اپنے والدین کی ناگواری کو بالکل برداشت نہیں کرتا اس لیے وہ ان کی بیزاری کو دور کرنے کی فوری کوشش کرتا ہے۔ نا شائستہ لفظ کی اصلاح کرتے وقت آپ یہ بات بھی یاد رکھیے۔ کہ وہ لفظ جس کی آپ اصلاح کرنا چاہتے ہیںوہ آپ نے اور آپ کی اہلیہ نے ہرگز ادا نہیں کرنا۔ بلکہ صرف اشاروں ،کنایوں میں ہی اس کی نشاندھی کرنی ہے۔اس گفتگو کے بعد وہ صاحب چلے گئے اور چند روز بعد ان کا فون آیا۔ ان کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ کافی خوش ہیں۔ انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ آپ کی بتائی ہو ئی تجاویز پر عمل کرنے سے میرے بیٹے نے فلاں فلاں لفظ کا استعمال اپنی گفتگو سے ترک کر دیا ہے۔

چند ماہ بعد پھر ان سے بات ہوئی تو انھوں نے پھر بتایا کہ جب بھی وہ کوئی ایسا لفظ سیکھتا ۔میں آپ کی تجاویز پر عمل کرتا ۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ اس میں واضح تبدیلی آگئی۔ وہ اب ایسے بچوں سے دوستی ہی نہیں رکھتا جو ناشائستہ الفاظ ادا کرتے ہیں بلکہ اب وہ ایسے بچوں کو دوست بناتا ہے جو اچھی گفتگو کرتے ہیں۔ یہ بتا کر انہوں نے ایک بار پھر میرا شکریہ ادا کیا۔ عبدالحئی ثاقب

04/09/2025




14/08/2025

چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے
وہ عہد کیا ہم نبھا رہے ہیں؟

گئی رُتوں کے ہر ایک پل کا
دلوں سے اپنے حساب مانگیں
دیا ہے کیا اس وطن کو ہم نے؟
یہ آج خود سے جواب مانگیں

وطن کی راہوں میں ہم وفا کے
گلاب کتنے کھلارہے ہیں؟
یہ کون ہیں جو ہمیں میں رہ کر
ہمارے گھر کو جلارہے ہیں

ہر ایک دشمن کی سازشوں سے
یہ دیس ہم کو بچانا ہوگا
محبتوں کو فروغ دے کر
شعورِ ملت جگانا ہوگا

چلو یہ سوچیں ہم آج مل کے
جو اس زمیں سے کیا تھا ہم نے
وہ عہد کیا ہم نبھا رہے؟







07/08/2025
07/08/2025

𝙎𝙤𝙢𝙚𝙩𝙞𝙢𝙚𝙨, available now, 𝙜𝙧𝙖𝙗 𝙮𝙤𝙪𝙧 𝙘𝙤𝙥𝙮 𝙩𝙤𝙙𝙖𝙮! 🙌🏻

Address

Chakwal

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when آپکی ماہر نفسیات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share