28/08/2019
چاند کی باتیں کرتے ہی سب سورج کو بھول گئے
کم ظرف قسم کے لوگ یہاں عزت پا کر پھول گئے
رخ بدلہ وقت نے اور حکم ہوا رحمان کا تو
منصور جیسے عاشق بھی سولی پر جھول گئے
کہہ دو ان فرعونوں سے یہ طاقت ان کی وقتی ہے
یہاں ابابیل بھی ہاتھیوں کو، چٹوا دھول گئے
یہاں منصف ہیں بازی گر اور نفس پرست اونچے لوگ
جو اندھے ہو کر طاقت کے نشہ میں لکھ قاتل کو مقتول گئے
بن کر اپنی زبان تو عادیؔ مت دیکھ تو لوگوں کے کردار
تو کر حساب اپنا، تیرے کتنے اعمال مقبول ہوئے
از قلم: حاجی عدیل ستّی