Tajweed-e-Quran online academy

Tajweed-e-Quran online academy for online teaching of quran (tajweed, hifz, turjama, tafseer)

25/02/2025

آج کا سبق

وضو کے فرائض

وضو میں چار فرض ہیں
1. منہ دھونا۔
2. دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا۔
3. چوتھائی سر کا مسح کرنا۔
4. دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا۔
ان کی تفصیل یہ ہے
1. منہ دھونا منھ دھونے کی حد یہ ہے کہ لمبائی میں پیشانی پر سر کے بالوں کے اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور چوڑائی میں ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک دھونا فرض ہے ، گنجان داڑھی ( یعنی جس کے اندر سے کھال نظر نہ آئے ) کے ظاہری یعنی اوپر کے حصہ کو دھونا فرض ہے ، اور اگر کھال نظر آتی ہو تو اُس کھال تک پانی پہچانا فرض ہے
2. دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت دھونا انگوٹھی، چھلا، چوڑی، کنگن وغیرہ کے نیچے پانی پہچانا اور اگر وہ ایسے تنگ ہوں کہ بغیر ہلائے پانی نہ پہنچ سکے تو ان کو ہلا کر پانی پہچانا فرض ہے۔ اگر کوئی چیز آٹا وغیرہ ناخنوں وغیرہ پر جما ہوا ہو تو اس کا چھڑانا بھی فرض ہے آج کل ناخنوں پر ناخن پالش وغیرہ لگاتے ہیں اس کی موجودگی میں۔وضو و غسل درست نہیں
3. چوتھائی سر کا مسح کرنا مسح کم از کم تین انگلیوں سے کرے ، ایک یا دو انگلیوں سے جائز نہیں۔ ٹوپی یا عمامہ یا اوڑھنی یا برقعے وغیرہ پر مسح کیا تو درست نہیں۔ سر پر خضاب یا مہندی کی تہہ (یعنی جب خضاب یا مہندی لگانے کے لئے اوپر لیپ دی جاتی ہے )۔لگی ہوئی ہو تو اس کے اوپر سے مسح جائز نہیں
4. دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا اگر کسی کے ہاتھ یا پیر کی انگلیاں بالکل ملی ہوئی ہوں یعنی ان میں کھلا فاصلہ نہ ہو تو ان میں خلال کرنا فرض ہے۔ اگر اعضاء غسل و وضو میں کوئی چکنی چیز لگی ہوئی ہو تو اس کے اوپر سے پانی بہہ جانا شرط ہے۔ اندر تک اثر کرنا۔شرط نہیں لہذا اس کا غسل و وضو جائز ہے

فائدہ
وضو غسل اور تیمم میں کوئی واجب نہیں ہے یعنی وہ واجب جو عمل میں فرض سے کم درجہ رکھتا ہو۔ بعض کتب میں کچھ واجب الگ لکھے ہیں
1. داڑھی مونچھ اور بھنویں اگر قدرے گنجان ہو کہ نیچے کی کھال نظر نہ آئے تو ان بالوں کا دھونا۔
2. کہنیوں کا دھونا۔
3. ٹخنوں کا دھونا۔
4. چوتھائی سر کا مسح کرنا لیکن دراصل وہ فرض ہی میں شامل ہیں جیسا کہ اوپر فرائضِ وضو کی تفصیل میں ان کا بیان ہو چکا ہے اس لئے کہ عملاً وہ فرض ہی ہیں اور ان کر ترک سے وضو غسل اور تیمم نہیں ہوتا

ہمارے چینل کو سسکرایب کریں شکریہ
08/02/2025

ہمارے چینل کو سسکرایب کریں شکریہ

subscribe my channel

08/02/2025
30/09/2024

وارننگ الرٹ 🚨

ذاتی دشمنی ہو یا کوئی رنجش اب دو منٹ میں فیک ID بنے گی تیسرے منٹ کے بعد اسکی جلی ہوئی لاش اور قاتل کو میڈل ملے گا..

ایک انتہائی خطرناک سرگرمی شروع کر دی گئی ہے۔ خدا نہ کرے، اگر ایسا ہوا تو لوگ آپ کو اپنی وضاحت کرنے کا موقع بھی نہیں دیں گے۔

سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک کرکے یا نیا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا کر مذہب اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں نفرت انگیز، فحش مواد، اور توہین آمیز مواد کا اشتراک کرنے کا رجحان جاری ہے۔

ایسی صورت حال میں اگر کوئی آپ کو میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کوئی نفرت انگیز یا غیر اخلاقی پوسٹ بھیجتا ہے تو میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میرا بیان ریکارڈ پر رکھا جائے۔

نوٹ: میں اپنی جان قربان کر سکتا ہوں، لیکن میں پیارے آقا حضور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیتؓ و صحابہ اکرامؓ کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتا۔. لکھنا تو دور کسی کا کچھ غلط کہا ہوا سہہ بھی نہیں سکتا..

مولوی کی زندگی اور موت۔یوں تو یہ کہانی راولپنڈی میں وفات پا جانے والے ایک جید عالم دین قاضی عبدالرشید مرحوم کی ہے جنکی پ...
29/08/2024

مولوی کی زندگی اور موت۔
یوں تو یہ کہانی راولپنڈی میں وفات پا جانے والے ایک جید عالم دین قاضی عبدالرشید مرحوم کی ہے جنکی پوری زندگی دین متین کی ترویج و بقاء کیلئے جہد مسلسل کی عملی تصویر رہی۔ مگر ہم لوگ اگر اپنے گلی محلے کے مولوی صاحب سے شروع کریں تو بھی اس کہانی میں وہی مماثلت محسوس ہو گی۔ بس آپ علاقہ، نام تبدیل کر سکتے ہیں۔۔مگر اس دھرتی پہ جس کیساتھ بھی مولوی کا لاحقہ لگتا ہو اسکی زندگی سے موت تک کا سفر یکساں ہوا کرتا ہے۔۔
کل قاضی صاحب کا لیاقت باغ میں نماز عصر کے بعد جنازہ تھا۔۔تو بلاشبہ راولپنڈی کا تاریخی لیاقت باغ باوجود اپنی وسعت کے تنگ پڑ گیا جس کے بعد لوگوں نے باہر شاہراہوں پہ نماز جنازہ ادا کی۔۔
مگر یہ موت بھی سابقہ ان گنت اموات کیطرح وہی سوال لیئے کھڑی تھی کہ عوام کے اس جم غفیر نے زندگی میں قاضی صاحب کو کتنا مانا اور ان کی کتنی مانی۔۔۔جہاں موجودہ دور میں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آپکو خود کو اچھا ثابت کرنے کیلئے مرنا پڑتا ہے وہیں یہ بھی سچ ہے کہ پوری زندگی آپکی راہوں میں کانٹے بچھانے والے، آپکو ان گنت مسائل کا سبب سمجھنے والے، آپکی شخصیت سے بڑی حد تک بیزار رہنے والے اور آپ کے انتہاء درجے کے ناقدین بھی آپکی موت کے بعد آنسو بھی بہاتے ہیں، آپکی میت کو کندھا بھی دیتے ہیں اور آپکی نماز جنازہ بھی ادا کرتے ہیں۔۔
البتہ علمائے کرام کی ماضی کی اموات کیطرح کل بھی قاضی صاحب کے خونی ورثا سے بھی ایک قدم آگے ان کے حقیقی وارث بن کر ملک بھر کے علمائے کرام ہی کھڑے تھے۔۔۔اور ہر عالم دین خود کو تعزیت کا اصل حقدار سمجھ رہا تھا۔۔۔گویا ایک محلے کے مولوی صاحب سے لے کر اوپر تک علمائے کرام کے حقیقی وارث عالم دین ہی ہوا کرتے ہیں۔ جبکہ جنازہ کے اسی اجتماع میں قاضی صاحب کے بیٹے مولانا جنید صاحب کی دستار بندی بھی کی گئی۔ یعنی والد مرحوم کی وہ دستار جو انہوں نے عمر بھر کی مشقت کے بعد کمائی اور بچائی تھی، وہ دستار بحیثیت ورثا علمائے کرام نے بطور وراثت ان کے بیٹے کے سر پہ رکھ دی۔۔یہ وہ خوبصورت رسم ہے جو صدیوں سے رواں دواں ہے۔۔اور پوری امید ہے کہ جب تک علم ( پرچم ) ایک ہاتھ سے دوسرے اور دستار ایک سر سے دوسرے پہ منتقل ہوتی رہے گی یہ سلسلہ یوں ہی رواں دواں رہیئگا۔۔۔
آپ مولوی کیساتھ لاکھ اختلاف رکھیں۔۔۔انکو جتنا مرضی برا بھلا کہیں۔۔مگر اس سچ سے انکار نہیں کر پایئں گے کہ آج اللہ کے گھر، اللہ اکبر کی صدایئں، قرآن و حدیث کی تعلیمات، مساجد کی آبادکاری اور بڑوں کی روایات انہی کی بدولت آگے منتقل ہو رہی ہیں۔۔۔یہ پوری زندگی ہماری باتیں سنتے ہیں۔۔طعنوں کا سامنا کرتے ہیں۔۔طنز کے نشتر سہتے ہیں۔۔۔اور پھر ایک دن خاموشی سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔۔۔اور ان کا بیٹا باپ کی دستار سر پہ رکھ کر دوبارہ سے ہمارے جیسوں کی خدمت کیلئے خود کو وقف کر دیتا ہے۔۔۔۔
اللہ تعالی قاضی صاحب کی کامل مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر کیساتھ استقامت دے۔۔آمین
غلام شبیر منہاس۔

Address

Rawalpindi
44000

Telephone

+923418874745

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tajweed-e-Quran online academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Tajweed-e-Quran online academy:

Share