12/07/2026
Dr Saima Mobashra is a renowned educationist ,writer and a great critical thinker .She is serving as Principal of a graduate college .As a linguistic expert she beautifully portrayed the current situation of Government colleges and institutions :
سچائی کو کبھی ہمیشہ کے لئے مسخ نہیں کیا جاسکتا لیکن بعض اوقات حالات، واقعات اور مسلسل پروپیگنڈے کی دھول انہیں ہماری نگاہوں سے اوجھل ضرور کر دیتی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں سرکاری تعلیمی اداروں کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ایک ایسا تاثر تشکیل دیا گیا کہ گویا معیاری تعلیم کا واحد راستہ نجی اداروں سے ہو کر گزرتا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف اور گہری ہے۔
اگر ہم صرف تیس برس پیچھے چلے جائیں تو منظر بالکل مختلف نظر آتا ہے۔ اس زمانے میں سرکاری کالج میں داخلہ حاصل کرنا ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ ہر ذہین طالب علم کی پہلی ترجیح سرکاری کالج ہوتا تھا اور ہر سمجھدار والدین کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کے بچے کو ایسے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے جہاں علمی روایت، قابل اساتذہ اور مضبوط تعلیمی ماحول موجود ہو۔
آج ملک کے تقریباً ہر شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیات، چاہے وہ اساتذہ ہوں، سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، جج، سول سرونٹس، فوجی افسران یا سیاست دان، کی ایک بڑی تعداد انہی سرکاری اداروں کی پیداوار ہے۔ ان اداروں نے نا صرف ڈگریاں دیں بلکہ کردار، فکر اور قیادت بھی پیدا کی۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرکاری کالجوں کا معیار اتنا مضبوط تھا تو عوامی تاثر کیوں تبدیل ہوا؟
کیا سرکاری اداروں نے اچانک تعلیم دینا چھوڑ دی؟
کیا وہاں قابل اساتذہ ختم ہو گئے؟
یا پھر ان کی علمی روایت یکدم دم توڑ گئی؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
اصل تبدیلی تعلیم کے میدان میں نجی شعبے کے بڑے پیمانے پر داخل ہونے سے آئی۔ پہلی مرتبہ تعلیم ایک ایسے ماڈل کے تحت سامنے آئی جہاں تعلیمی خدمت کے ساتھ ساتھ مارکیٹنگ، برانڈنگ اور کاروباری حکمت عملی بھی بنیادی حیثیت اختیار کر گئی۔ بڑے بڑے اشتہارات، شاندار عمارتیں، رنگا رنگ تقریبات، ٹاپ پوزیشنز کی تشہیر، اور مسلسل میڈیا مہمات نے آہستہ آہستہ یہ تاثر پیدا کیا کہ معیار کا تعلق ظاہری چمک دمک سے ہے۔
اس دوران سرکاری کالج اپنی روایتی خاموشی کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے۔ ان کے پاس نہ اشتہارات کے بجٹ تھے، نہ برانڈنگ ٹیمیں، نہ مارکیٹنگ کمپینز۔ وہ اپنی روایت کے مطابق تعلیم دیتے رہے، لیکن خاموشی کی یہی قیمت انہیں غلط تاثر کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔
ادھر نجی اداروں نے بہترین طلبہ کو اسکالرشپس، مراعات اور خصوصی سہولیات کے ذریعے اپنی طرف متوجہ کیا، جبکہ عام طالب علم کے لیے تعلیم ایک مہنگی سرمایہ کاری بنتی چلی گئی۔ دوسری طرف سرکاری ادارے محدود وسائل کے باوجود معاشرے کے ہر طبقے کے لیے علم کے دروازے کھلے رکھتے رہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ایک اور غلط فہمی نے جنم لیا کہ جدید عمارتیں، ائیرکنڈیشنڈ کلاس رومز اور خوبصورت کیمپس ہی معیاری تعلیم کی ضمانت ہیں، حالانکہ دنیا کی کوئی بھی تعلیمی تحقیق اس تصور کی تائید نہیں کرتی۔
حقیقی معیاری تعلیم کا انحصار عمارتوں پر نہیں بلکہ اساتذہ، علمی روایت، تحقیقی ماحول، آزادئ افکار اور مسلسل علمی مکالمے پر ہوتا ہے۔
معیاری تعلیم وسیع کیمپس مانگتی ہے جہاں طالب علم آزاد سانس لے سکے۔
معیاری تعلیم تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ مانگتی ہے، نہ کہ ایسے افراد جو بہتر ملازمت کی تلاش میں ہر چند ماہ بعد ادارہ تبدیل کر دیں۔
معیاری تعلیم جدید اور فعال لیبارٹریز مانگتی ہے، صرف خوبصورت کلاس روم نہیں۔
معیاری تعلیم طلبہ کو مالی دباؤ سے آزاد کرتی ہے تاکہ ان کی توجہ اگلی فیس کی قسط کے بجائے اپنی تعلیم پر رہے۔
معیاری تعلیم مصنوعی آسودگی نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی مسائل سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔
اور معیاری تعلیم صرف معلومات نہیں بلکہ کردار، تنقیدی سوچ، برداشت اور سماجی ذمہ داری بھی پیدا کرتی ہے۔
سرکاری کالجوں کی پرانی عمارتیں خستگی کی علامت نہیں بلکہ ایک عظیم علمی ورثے کی نمائندہ ہیں۔ ان دیواروں نے نسل در نسل ایسے طلبہ کو پروان چڑھایا ہے جنہوں نے پاکستان کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔
آج صورتحال دوبارہ بدل رہی ہے۔
سرکاری کالج نہ صرف اپنی علمی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ جدید تعلیمی تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ بھی کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن، سمارٹ کلاس رومز، جدید لیبارٹریز، پبلک آؤٹ ریچ، بین الادارہ جاتی تعاون اور مثبت مسابقت نے سرکاری کالجوں کو ایک نئی قوت عطا کی ہے۔
پنجاب کے آٹھ سو کے قریب سرکاری کالج اب ایک مربوط تعلیمی نیٹ ورک کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جہاں ایک ادارے کا کامیاب تجربہ دوسرے ادارے تک منتقل ہوتا ہے، اساتذہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں، طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں اور مسلسل بہتری کا سفر جاری رہتا ہے۔
آج سرکاری کالج صرف ماضی کی عظمت کا حوالہ نہیں بلکہ مستقبل کی امید بھی ہیں۔
دھند آہستہ آہستہ چھٹ رہی ہے۔
لوگ دوبارہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ علم کی اصل طاقت اشتہار میں نہیں، استاد میں ہوتی ہے؛ عمارت میں نہیں، تعلیمی روایت میں ہوتی ہے؛ اور فیس کی مقدار میں نہیں، تعلیم کے معیار میں ہوتی ہے۔
سرکاری کالج، معیاری کالج محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی حقیقت، ایک تعلیمی فلسفہ اور ایک ایسا اعتماد ہے جو ماضی سے حال تک اپنی سچائی ثابت کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔اور گورنمنٹ ایس ای گریجویٹ کالج بہاولپور ان میں سے ایک چمکتا ستارہ ہے جو آج بھی Gen. Z جیسی نسل کو معیاری تعلیم دے رہا ہے لہٰذا تمام والدین سے اپیل ہے کہ اپنے بچوں کو اس معیاری تاریخی اور تجربہ کا اساتذہ کی زیر نگرانی بہت کم فیس میں اعلی تعلیم کے لیے داخلہ کروائیں تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ اس ادارے کی مثالی طالب علم میں ہاکی کے اولمپین پاکستان کی ہاکی کے کپتان سمیع اللہ خان صاحب اور اس کالج کے موجودہ پرنسپل ڈاکٹر رانا محمد عمران ارشد بھی اسی کالج کے طالب علم ہیں احمد ندیم قاسمی بھی اسی کالج کے طالب علم ہیں زبیر خان پاکستان بیڈمنٹن چیمپین بھی اسی کالج کے طالب علم ہیں اور بہت سے نوجوان جو اس وقت دنیا میں اور ملک میں ایس سی کالج کا نام روشن کر رہے ہیں بہت سے آرمی میں افسران ایس ای کالج سے ہیں تو ایس سی کالج 140 سال میں بے تحاشہ طالب علموں کو تعلیم دے چکا ہے اور اب بھی دے رہا ہے اب بھی ہمارے طالب علم آرمی میں بھی جا رہے ہیں انجینیئرز بھی بن رہے ہیں ڈاکٹرز بھی بن رہے ہیں سی ایس ایس میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں ۔اے ائی پہ کام بھی کر رہے ہیں اور کمپیوٹر میں بھی بے تحاشہ کارنامے سرانجام دے رہے ہیں ایس ای کالج ایک بلڈنگ کا نام نہیں بلکہ تعلیم و تربیت اور اس پہ عمل کرانے کا نام ہے۔