Dr. Muhammad Akram

Dr. Muhammad Akram University of Sargodha

06/05/2026
08/04/2026

آپ نے کسی کے ساتھ بہت وقت گزار لیا اور وہ ابھی تک آپ کی باتوں کو اہمیت نہیں دے رہا، تو سوچیں؛
"آپ کے اس تعلق کا کیا نام ہے اور اس کی منزل کیا ہے؟"

عین ممکن ہے کہ وہ آپ کے میسر ہونے کا فائدہ اٹھا رہا ہو، اور ساتھ آپ کی طرف سے مکمل لاپرواہ بھی ہو ، واحد شخص جو اس کھوکھلے ، بے نام تعلق کی وجہ سے متاثر ہورہا ہے، وہ خود آپ ہیں!
لہٰذا اگر آپ اپنی پریشانیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو بہت واضح طور پر اس بارے میں اس سے بات کریں، یہ آپ کے نروس سسٹم کی صحت کا سوال ہے، اپنی صحت داؤ پر مت لگائیں -

ان لوگوں کا انتخاب کریں جو آپ کے نروس سسٹم کا انتخاب کرتے ہیں، یعنی اپنے جذبات کو مجروح کرنے والوں کا انتخاب مت کریں -

ان لوگوں کا انتخاب کریں جنہیں اس بات کا احساس ہو کہ ان کے ایکشنز کا آپ پر کیا اثر پڑتا ہے -

اپنے لیے ان لوگوں کو انتخاب جن سے آپ کو یہ پوچھنے کی نوبت ہی نہ آئے کہ آیا آپ کی ان کی زندگی میں کیا اہمیت ہے؟

ان لوگوں کا انتخاب کریں جن کے قول اور فعل مسلسل اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ:

"مجھے آپ سے محبت ہے"

اگر کوئی آپ کا انتخاب نہیں کرتا تو آپ پھر اپنا انتخاب کریں ، مزید کوشش کرنا ترک کر دیں، چھلانگیں لگا ان کی طرف جانا کہ وہ آپ کا انتخاب کرلیں… ایسا کرنا بھی چھوڑ دیں، مزید ان کو اپنی ذات کی اہمیت کا احساس دلانا
بھی بند کردیں -

زندگی پہلے ہی مشکل ہے، جو محبت آپ کے لیے نہیں بنی اس کے پیچھے ہلکان ہوکر مزید اپنی زندگی کو مشکل نہ بنائیں - انھیں جانے دیں -

29/03/2026
13/03/2026

انسانی جسم کے ہر عضو کی ایک مخصوص غذا ہے ، کچھ اعضا کی غذا طبعی (Physical) ہے تو کچھ کی غیر طبعی (metaphysical). جیسے آنکھ کی غذا روشنی، معدے کی خوراک ، پھیپھڑوں کی سانس ، کان کی آواز سننا…

اب دو اعضا ایسے ہیں جن کی غذا انتہائی پیچیدہ ، بلکہ سمجھ میں نا آنے والی ہے. اور ان دونوں میں تقریباً ایک جیسی مماثلت بھی ہے. پہلا عضو ہے روح ، جس کی غذا کوئی طبعی شے نہیں ہے، بلکہ اس کی تسکین اس کی نظر نہ آنے والی غذا روحانیت (Spirituality) ہے. جس کا بنیادی سورس مذاہب اور عبادات ہیں.

دوسرا عضو ذہن ہے ، جس کی غذا بھی غیر طبعی (metaphysical) ہے. انسانی ذہن کی پہلی آخری لازم و ملزوم خوراک "علم" ہے.
انسانی معاشروں میں ایک شخص دوسروں کی نسبت اتنا ہی زیادہ پرفیکٹ ہوتا ہے کہ جتنا زیادہ وہ علمی اعتبار سے معتبر ہوتا ہے. یہ ہمارا عام تجربہ ہے کہ ایک پروفیسر ایک عالم؛ ایک سپاہی اور تاجر سے کئی گنا زیادہ مہذب شائستہ اور نفیس انسان ہوتا ہے.

اگر خدائی پلان کو دیکھا جائے تو خدا نے بھی انسانی روح اور انسانی ذہن کی غذا کو ہی اولین اہمیت دی ہے؛ موسیٰ کو توریت ، داؤد کو زبور ، عیسٰی کو انجیل اور محمد کو قرآن کے ذریعے ذہنی طور پر علم سے آسودہ حال کیا (علیہم السلام)...

آپ پڑھے لکھے ہیں یا انپڑھ اگر آپ ذہن کو اس کی ضروری غذا دینا بند کرچکے ہیں تو آپ ذہنی فاقہ کشی کی زندگی جی رہے ہیں. اب آپ کا ذہن اپنی بھوک مٹانے کے لیے غیر معیاری غذا؛ رائج برائیوں ، مقبول لائف سٹائل اور نظریات، کو اپنے اندر اتارے جائے گا. اس نے احکامات فرائض ڈائریکشنز لینی ہیں ، اگر یہ پہلی سٹیج پر معیاری علم حاصل کرنے سے محروم رہا ہے تو یہ اب کسی کو بھی اپنا رہبر رہنما رول ماڈل بنا لے گا. اور اسی کے جیسا بنتا چلا جائے گا.

آپ کے معاشرے میں اس وقت اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پہلے مرحلے میں معیاری علم سے محروم رہے ہیں اور اب ہر؛ طاقت، دولت ، ملکیت جائز و ناجائز طور پر مالک کو اپنا رول ماڈل تسلیم کرچکے ہیں. حلال و حرام کی تمیز سے بالاتر ہوکر ہر کسی کو پرتعیش لایف سٹائل چاہیئے.

انسانی ذہن فاقہ کشی میں ہے اور ساتھ ناقص غذا اس میں فیڈ کی جارہی ہے، انسانی روح جتنی مذہب نا آشنا، بے عمل ہوگی اتنی ہی زیادہ وہ پریشان رنجیدہ حال، افسردہ مایوس اور دکھی ہوگی.
مفلوک الحالی کے باوجود آپ کو کبھی حافظ قرآن، قاری خطیب، عالم دین خود کشی کرتا ہوا دکھائی نہیں دے گا.

حلال و حرام کو بالائے طاق رکھ کر جسمانی غذا سے ڈیل ڈول تو بہت فربہ ہوچکا. فاقوں میں مبتلا روح اور ذہن پر بھی تھوڑی نظر الفت کریں…

تحریر: Musa Pasha

With تاریخ ادب اور مذہب – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
31/05/2025

With تاریخ ادب اور مذہب – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

11/09/2024

جس نے یہ پڑھ لیا وہ دنیا کا سارا چکر سمجھ گیا اور جس نے یہ نہیں پڑھا سمجھو اسے کچھ پتہ نہ چل سکا"
طویل ضرور ہے لیکن ان شاء اللہ وقت قیمتی بن جائے گا....
آج کے اس دور میں اگر کسی لا علم شخص کے سامنے شیطان پرستی یا کالے جادو وغیرہ کا نام لیا جائے تو یقیناً وہ اسے محض توہمات اور قدیم زمانوں کے رسم و رواج قرار دے گا۔ بے خبر لوگوں کی عمومی رائے کے مطابق شیطان پرستی ختم ہوئے عرصہ گزر چکا ہے اور اب ایسے لوگ اس دنیا پر یا تو موجود نہیں یا ہیں بھی تو افریقہ کے غیر مہذب قبائل یا بھارت کے مخصوص علاقوں میں جہاں مختلف دیوی دیوتاؤں کو پوجا جاتا ہے، ہولناک رسومات ادا کی جاتی ہیں، بچوں کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے۔
حقائق البتہ اس سے کافی مختلف ہیں۔
جو لوگ تحقیق پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں وہ الومناٹی اور فری میسنز کے ناموں سے خوب واقف ہونگے۔ یہ موجودہ وقت کے انتہائی مشہور شیطان پرست گروہ ہیں اور ان کے کرتوت اب دنیا کی ایک کثیر آبادی پر عیاں ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں انہیں محض افسانہ یا افواہ سمجھا گیا البتہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قوت پکڑتے گئے اور خود ہی اپنی نشانیاں اور علامتیں اس طرح ظاہر کرتے چلے گئے کہ شک و شبہ کی گنجائش نہ بچی۔ دنیا کے اہم ترین سیاستدان، سیلبرٹی، مشہور ترین سائنسدان، کاروباری اشخاص اور دیگر کامیاب ترین لوگوں کی بھاری اکثریت شیطان کی انہی اہم نمائندہ جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے۔ حتی کہ شیطان پرستی نے دیگر مذاہب تک کو خالی نہیں چھوڑا بلکہ ان کی بنیادی تعلیمات کو شیطانی عقائد سے آلودہ کیا اور صورتحال یہ ہے کہ دیگر مذاہب کی اہم شخصیات و سربراہان جیسے کہ پادری اور پنڈت وغیرہ بھی اپنے اصل مذہب کے بجائے شیطان پرستی کے مرتکب ہیں اور معصوم لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں (اس پر آگے چل کر ثبوت کے ساتھ تفصیلات بیان کی جائینگی)۔
(نوٹ: یہ مضمون انتہائی باریک تحقیق کے بعد تحریر کیا گیا ہے اور اس میں جو معلومات بیان کی گئی ہے اس سب کے ثبوت بھی دیئے گئے ہیں لہذا کسی کو شبہ ہو تو ہر ایک بات کی تصدیق کر سکتا ہے۔ ویسے بھی خبر کی تصدیق کر لینا سنت ہے)
حال ہی میں امریکی مذہبی شناخت سروے نے بھی ایک ایسا انکشاف کیا جو کئی لوگوں کیلئے ناقابلِ یقین تھا۔ سروے کے مطابق امریکہ میں جو عقیدہ 1990 سے اب تک سب سے زیادہ تیزی سے پھیلا ہے وہ نہ عیسائیت ہے، نہ لا دینیت اور نہ ہی اسلام بلکہ 'ویکہ' ہے۔ عیسائیت کا زوال کوئی اچنبھے کی بات نہیں مگر عمومی تاثر عوام الناس میں یہی پایا جاتا ہے کہ امریکہ تیزی سے یا تو الحاد (کسی خدا کو نہ ماننا) کے عقیدے کی طرف بڑھ رہا تھا یا پھر اسلام کی طرف۔ البتہ غور طلب بات ہے کہ اسلام اگر امریکہ میں اتنی ہی تیزی سے پھیل رہا ہوتا تو کیا امریکی معاشرے پر اس کے مثبت اثرات نہ پڑتے؟ سروے نے اسلام کو دوسرا سب سے تیزی سے پھیلتا عقیدہ ضرور قرار دیا مگر اول نمبر پر 'ویکہ' کا آنا ایک ایسی کڑی ہے جو امریکہ کی دن بہ دن بڑھتی شیطانیت اور اخلاقی و روحانی طور پر زوال پذیر معاشرے کی وجہ بخوبی بیان کرتی ہے۔ ویکہ درحقیقت شیطان پرستی کا ہی ایک فرقہ ہے اور اسے 'وچ کرافٹ' بھی کہا جاتا ہے۔
سروے کے مطابق امریکہ میں اسوقت ویکہ (Wicca) مذہب کے 200000 رجسٹرڈ پیروکار جنہیں باقاعدہ طور پر 'وچز' کہا جاتا ہے موجود ہیں جبکہ غیر رجسٹر شدہ وچز کی تعداد 80 لاکھ سے زیادہ ہے! برطانیہ و دیگر یورپی ممالک میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔ امریکہ کے عیسائی مذہبی ماہرین کیلئے بھی یہ صورتحال کافی تشویشناک بھی ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کے شیطان پرستی کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا ذمہ دار ویپمائر، ویئر وولف، زومبی اور دیگر جادوگری سے متعلق چیزوں کے بارے میں شوق و رغبت پیدا کرنے والی فلموں اور کتابوں کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی سالوں کی بھرپور اور منظم محنت کے بعد اب جب نوجوان نسل کالی طاقتوں اور شیطان کے مختلف اوتاروں کی طرف مکمل طور پر راغب ہو چکی ہے تو شیلفوں پر فلموں اور فکشن کہانیوں کے ساتھ ساتھ براہِ راست شیطان پرستی سکھانے والی سی ڈیز اور کتابیں بھی کثیر تعداد میں نظر آنے لگی ہیں۔ ویکہ کے بارے میں چند دلچسپ حقائق پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
1) اس فرقے کو جدید زمانے کی شیطان پرستی قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی طاقتیں الومناٹیوں سے کم ہیں مگر اس کے اکثر رسم و رواج وہی ہیں جو ہزاروں سالوں سے شیطان پرستوں کے چلے آ رہے ہیں۔
2) دیگر شیطان پرست فرقوں کی طرح ویکہ مذہب کے پیروکار ہرگز یہ نہیں مانتے کہ وہ برے ہیں۔ وہ اعلانیہ طور پر شیطان (Satan) کی پوجا کرنے کا اقرار کرتے ہیں مگر ان کے نزدیک شیطان بری قوت نہیں جیسا کہ دیگر مذاہب بتاتے ہیں اور ابتداء میں واقعی ان سے کوئی ایسی چیز نہیں کروائی جاتی بلکہ انہیں انسان دوستی، برداشت، حقوق نسواں و ہم جنس پرست اور آزادی رائے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ساتھ انہیں کچھ مخصوص رسوم ادا کرنے کا کہا جاتا ہے، عبادات کے مختلف طریقے بتائے جاتے ہیں اور مختلف جڑی بوٹیوں، رنگوں اور دیگر اشیاء کا استعمال بتایا جاتا ہے جو بظاہر فرحت بخش اور سکون فراہم کرنے والے ٹوٹکے ہوتے ہیں مگر حقیقتاً یہ پجاری کو اپنے حصار میں ایسے قید کرنے لگتے ہیں کہ وہ پھر اس سب سے باہر نہ جا پائے۔ جب تک کہ ویکہ مذہب کا پیروکار مخصوص سطح تک نہیں پہنچ جاتا وہ اسی گمان میں رہتا ہے کہ ہم اچھی اور نیک روحانیت کے سفر پر گامزن ہیں۔
3) ویکن سال ہیلووین تہوار سے شروع ہوتا ہے۔
4) یہ 20 دسمبر کو 'یولی' نام کا تہوار مناتے ہیں جو ان کے عقیدے کے مطابق دیوی کے سورج خدا کو جنم دینے کا دن ہے۔
5) 'لیتھا' (گرمیوں کا درمیاںی حصہ) کے دوران ویکہ کے پیروکار خوب جادو ٹونے کرتے ہیں، اس دوران ان کی طاقتیں عروج پر ہوتی ہیں۔
6) کالی بلیاں، مکڑیاں اور چمگادڑ ان کی پسندیدہ علامات ہیں اور ہیلووین کے دوران ان کا روپ خصوصی طور پر دھارتے ہیں (ہیلووین درحقیقت کوئی عیسائی تہوار نہیں بلکہ عیسائیت میں شیطان پرستی کی ملاوٹ کا نتیجہ ہے اور اس کے خلاف اصل عیسائیوں نے بے پناہ مقالات بھی لکھے ہیں)۔
یہ کچھ مختصر احوال تھا نئے زمانے کے شیطانی فرقے ویکہ کا۔ اب ایک نظر ڈالتے ہیں شیطان پرستی کے مشہور ترین فرقوں الومناٹی و فری میسن اور ان کے عقائد پر، جانتے ہیں کہ کونسی مشہور شخصیات ان کا حصہ ہیں یا رہی ہیں نیز یہ بھی کہ یہ کس طریقے سے پھیلتے ہیں کسی بھی شہر یا ملک میں ان کے مضبوط ترین اڈے کون سے ہوتے ہیں اور دنیا پر ان کا کس حد تک قبضہ ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ الومناٹی اور فری میسنز میں کچھ فرق ضرور ہیں مگر مضمون کو طوالت اور پیچیدگی سے بچانے اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کرنے کیلئے ہم ان دونوں کا مشترکہ اور عمومی جائزہ لینگے۔
اولاً تو یہ جان لینا ضروری ہے کہ الومناٹی یا فری میسن اب کوئی ڈھکا چھپا گروہ نہیں رہا۔ دنیا بھر میں ان کے شیطانی معبد خانے اعلانیہ طور پر عرصہ دراز سے کھلے ہوئے ہیں، ان کے اپنے سکول بھی ہیں یہاں تک کہ یہ شیطانی نصاب اب 'آزادی رائے' کے قوانین کے تحت کھلے عام تقسیم بھی کرتے ہیں نیز اب بہت سے لوگ کھلے عام اپنے الومناٹی ہونے کا اعتراف بھی کر لیتے ہیں اور فخراً کرتے ہیں جبکہ پہلے اپنی شاخت ہر حال میں چھپا کر رکھا کرتے تھے۔ 2011 میں پاکستان کے اندر بھی دو شیطانی معبد خانوں کا انکشاف ہوا تھا ایک کراچی صبا ایونیو میں اور دوسرا اسلام آباد جی-7 کے علاقے میں۔ جبکہ فری میسن تنظم پاکستان میں ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ راولپنڈی میں اولین فری میسن لاج "Light in the Himalyas No. 1448"تھا اور اس کی سرپرستی گرینڈ لاج آف سکاٹ لینڈ کر رہا تھا۔ بعد ازاں راولپنڈی میں مزید فری میسن لاجز تعمیر کیے گئے، لیکن پنجاب میں لاہور ہی فری میسن تحریک کی سرگرمیوں کا مرکزتھا ۔ تقسیم کے وقت پاکستان میں تقریباً30فی میسن لاجز تھے جن میں سے نمایاں ترین شاہ دین بلڈنگ کے سامنے 90مال روڈ(لاہور)، 307(ملتان)، اور 1307(راولپنڈی)شامل تھے۔ لیکن 1973ء میں پنجاب اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے فری میسن تحریک کی سرگرمیوں کو غیر اسلامی اور ریاست مخالف قرار دے دیا جب کہ وفاق میں قائم بھٹو حکومت نے بھی پنجاب حکومت کی اس قرارداد پر عمل کیا۔ لیکن اس وقت کے وفاقی وزیرداخلہ خان عبدالقیوم خان نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ بعدازاں ڈپٹی کمشنر لاہور نے اسلامی سربراہی کانفرنس کے لیے لاہور کے فری میسن لاج میں دو ماہ کے لیے ڈی آئی جی کا عارضی دفتر قائم کر دیا لیکن یہ عمارت پھر کبھی فری میسن تحریک کے ارکان کو واپس نہیں کی گئی۔ حتیٰ کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل اور ڈبل بنچ نے فری میسن تحریک کے حق میں فیصلہ بھی دیا لیکن حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اس دوران بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ضیاء الحق نے فری میسن تحریک کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی اور مارشل لا کے حکم نامے (MLR 56)کے تحت فری میسن تحریک کو مکمل طو رپر غیر قانونی دے دیا گیا۔ فری میسن تحریک کے ارکان نے اس پابندی کے خلاف بے نظیر اور نوازشریف حکومت سے اپیل بھی کی لیکن انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ بالآخر1995ء میں فری میسن کبیر اے شیخ نے مارشل لا حکم نامے کے خلاف رٹ دائر کردی جس میں انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ فری میسن تحریک ایک فلاحی تنظیم ہے۔
یہ جان لینے کے بعد کہ الومناٹی اور فری میسن محض کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقی تنظیمیں ہیں جو دنیا بھر میں باقاعدہ وجود رکھتی ہیں اور شیاطین سے براہِ راست منسلک ہیں، آئیں ہم ان کے بارے میں چند حیرت انگیز اور چشم کشا حقائق پر نظر ڈالتے ہیں:
4) سائنس اور شیطانیت کا ایک شروع سے ایک عجیب تعلق رہا ہے۔ گو کہ عوامی اکثریت سائنس کو ایک بے ضرر اور مفید شے سمجھتی ہے جس سے انسان کی زندگی آسان ہوئی ہے اور جو بھی اس کے خلاف بات کرے اسے دقیانوسی اور کم عقل سمجھا جاتا ہے البتہ اس سب کی آڑ میں ایسے بے شمار نظریات پھیلائے گئے ہیں جو بظاہر سائنسی خ*ل میں لپٹے ہوتے ہیں مگر حقیقت سے ان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصد محض یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ یہ دنیا خودبخود ایک نظام کے تحت چل رہی ہے اور اسے چلانے کیلئے کسی خدا کی ضرورت نہیں۔ ماضی میں کئی مشہور سائنسدان ایسے گزرے ہیں جن کا اصل مذہب شیطان پرستی تھا۔ مثلاً نکولس کاپرنیکس سورج خدا پجاری تھا (ماہر فلکیات جس نے سب سے پہلے یہ نظریہ پیش کیا کہ سورج زمین کے گرد نہیں بلکہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے)، نیوطن نے بظاہر عیسائیت پر بھی کئی کتب لکھیں مگر درحقیت وہ ابتدائی زندگی میں ناکام ہونے کے بعد شیطان کے حوالے اپنی زندگی کر چکا تھا اور فری میسن سے منسلک ہو چکا تھا جس کے بعد یکلخت اسے نت نئے سائنسی نظریات سوجھے اور وہ خوب مشہور ہوا، چارلس ڈارون (نظریہ ارتقاء کا بانی، جس کے مطابق انسان بندر سے بنا ہے) نہ صرف خود شیطان پرست تھا بلکہ اس کا باپ بھی مشہور Lunar Society Of Birmingham کے بانیوں میں سے تھا جو بظاہر فلسفیوں اور انقلابیوں کی سوسائٹی تھی اور اندرون خانہ شیطان پرستوں کا ایک ٹولہ تھا۔ اسی طرح جب سائنسدانوں نے چاند پر جانے کا قصد کیا تو راکٹ بنانے کی ذمہ داری جیک پارسن نامی سائنسدان نے لی جو اعلانیہ طور پر شیطان پرست تھا۔ اس کے ڈیزائن کے مطابق آج تک راکٹ بنائے جاتے ہیں اور اسے فادر آف راکٹری کہا جاتا ہے البتہ یہ بات اب اظہر من الشمس ہے کہ کوئی راکٹ کبھی چاند تک نہیں پہنچ پایا اور چاند پر جانے کی ویڈیوز محض ویڈیو اور فلم تکنالوجی تھی۔ مشاہدے کے مطابق شیطان پرست سائنسدان بے انتہاء شہرت رکھتے ہیں اگرچہ ان کی طرف سے محض جھوٹے نظریات ہی پھیلائے گئے ہوتے ہیں اور ایجادات جن سے عام انسان کو واقعی کوئی فائدہ پہنچے ان کے بس سے باہر رہی ہیں۔ دور حاضر کے تمام مشہور سائنسدان بھی اعلانیہ طور پر لا دین ہیں یعنی کسی خدا کو نہیں مانتے بلکہ سائنس کی مدد سے خدا کے وجود کا انکار ہی تمام تر سائنسی خدمت ہے۔ ان ناموں میں رچرڈ ڈاکنز، نیل ڈی گراس ٹائسن، اسٹورٹ کراؤس اور اسٹیفن ہاکنگ وغیرہ شامل ہیں جبکہ امریکی خلائی ایجنسی 'ناسا' جو کہ تمام ملکوں میں موجود خلائی ایجنسیوں کا حقیقی مرکز ہے اس کے لوگو میں بھی شیطانی علامت یعنی سانپ کی زبان موجود ہے، اسی طرح ناسا کا مشہور ٹیلی اسکوپ 'ہبل' دراصل کفار مکہ کے ایک مشہور شیطانی بت کے نام پر ہے جس کا نام ہبل ہی تھا (بظاہر یہ نام ایک مجہول سائنسدان کے نام پر رکھا گیا ہے)۔ نیز اسی طرح کاپرنیکس اور ناسا کی رائج کردہ سائنس کے مطابق زمین ایک سیارہ ہے اور ایسے کروڑوں سیارے خلاء میں موجود ہیں اس لیے نہ زمین کوئی خاص جگہ ہے اور نہ ہی انسان کوئی خاص مخلوق بلکہ کروڑوں مخلوقات میں سے ایک جن کی کھوج میں مسلسل ناسا لگی ہوئی ہے۔ یہ بات ہمیں مختلف ویڈیوز اور تصاویر سے بارہا باور کروائی جاتی ہے کہ ہم محض کسی لا محدود خلاء کا محض ایک نقطہ ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ براہ راست ابلیس کا شکوہ ہے جو زمین کی خلافت نہ ملنے پر آدم علیہ السلام سے سخت خائف ہوا اور اب وہ اس جھوٹے علم کو پھیلا کر ہمیں حقیر، بے مقصد اور محض حادثاتی مخلوق ثابت کرنے کے درپے ہے۔ البتہ حال ہی میں میں یہ تمام جھوٹ بے نقاب ہونے شروع ہوئے اور آج یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ تمام کاسمولوجی ایک بہت بڑا فراڈ تھا جو سائنس کے نام پر کیا گیا۔ خلاء کا تصور انتہائی غلط ہے اور اس میں اڑتے پھرنا اس سے بھی غلط تصور ہے اسی لیے اس حوالے سے جو بھی ویڈیوز اور تصاویر آج تک دکھائی گئی ہیں وہ کمپیوٹرائزڈ اور ہالی وڈ کی پیشکش سے زیادہ اپنے
واضح رہے کہ ساحری اور جادوگری بھی شیطان ہیں. رستوں کا ہی خاصہ ہے مگر براہِ راست جادوگری کرنے والے شیطان پرست درجہ بندی میں نچلی سطح پر ہوتے ہیں۔ جی ہاں، شیطان پرستوں کے باقاعدہ گریڈ ہوتے ہیں جن میں ٹاپ کی سطح پر مختلف ملکوں کے صدر، وزراء، سیاست دان و سائنسدان، فلسفی، انسانی فلاح کی تنظیمیں چلانے والے و دیگر اس طرح کے مشہور لوگ ہوتے ہیں۔ ایک اور عجیب بات ان کے بارے میں جو معلوم ہوئی ہے وہ یہ کہ بلند گریڈ والے شیطان پرست نچلی گریڈ والے شیطان پرستوں کو شیطانی قوتوں اور عقائد کے بارے میں مکمل معلومات اور تفصیلات نہیں دیتے بلکہ انہیں مزید 'روشنی' حاصل کرنے اور 'حقائق' سے پردہ ہٹانے کی ترغیب دیتے ہیں۔
6) شیطان پرست آہستہ آہستہ مختلف شیطانی قوتوں کا مالک بنتا جاتا ہے بلکہ جب اس پر حقیقت روشن ہو جاتی ہے اور وہ اس سے پیچھے ہٹنے کے نہ قابل رہتا ہے نہ ہی اس کا اپنا ارادہ پیچھے ہٹنے کا بن پاتا ہے تو اپنا لیول اور قوتیں بڑھانے کیلئے اسے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور خبیث سے خبیث تر افعال کو اپنانا پڑتا ہے۔ روم میں موجود عیسائیوں کے مشہور 'واٹکین چرچ' کے جتنے بھی پوپ آج تک گزرے ہیں ان سب پر ہمیشہ بچوں کو اغوا کر کہ ان کا ریپ کرنے اور انہیں قتل کرنے کا الزام لگتا رہا ہے البتہ ان الزامات کو محض سازش کہ کر ہمیشہ رد کیا جاتا رہا۔ موجودہ پوپ فرانسیس پر بھی ایسے کئی ناقابلِ تردید الزامات موجود ہیں مگر اس لیول کے شیطان پرست کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ملکہ برطانیہ پر بھی بچوں کی بھینٹ چڑھانے کے کام
بھی کر گزرتے
ہیں)
شیطان کا ایک مشہور ترین مجسمہ 'بیفومیٹ' کے نام سے مشہور ہے۔ اس کی شکل بکرے جیسی ہے، چھاتی عورت کی اور نچلا دھڑ مرد کا۔ نحوست سے بھرپور مجسمے کی بناوٹ سے ہی واضح ہوتا ہے کہ ہم جنس پرستی، آپریشن کروا کر جنس کی تبدیلی اور ناجائز جنسی تعلقات اس کے محبوب ترین مشغلے ہیں اور اس کے پیروکاروں کے دم سے ہی دنیا میں ان کا فروغ ہے۔ مغربی اور یورپی ممالک میں بتدریج جو اخلاقی زوال آیا اس میں پہلے ہم جنس پرستوں کو بالکل نارمل تصور کیے جانے کی کامیاب تحریک چلی اور اب ماں باپ بہن بھائی جیسے رشتوں تک سے جنسی تعلقات استوار کرنے کو 'نارمل برتاؤ' ثابت کرنے پر کام جاری ہے
ہے8) فری میسن اور الومناٹی مخصوص شیطانی علامات ظاہر کیے بنا نہیں رہ پاتے۔ آپ نے اکثر مشہور گلوکاروں، فنکاروں اور سیاستدانوں کو الومناٹی کے نشانات بناتے دیکھا ہو گا۔ یہ symbols ان کو تقویت دیتے ہیں اور دنیا میں نحوست پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے جنتر منتر کے الفاظ اور نشانات سے منحوس اثرات پڑنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے دنیا کی تمام مشہور کمپنیاں انہی لوگوں کی ہیں اور ان کے وسیلے سے یہ شیطانی علامات پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ مشہور بچوں کا چینل Disney ان کا مشہور نیٹ ورک ہے اور اس کے تحت بنائے جانے والے کارٹونوں وغیرہ میں خصوصی طور پر نہ صرف یہ علامات موجود ہوتی ہیں بلکہ ایسے خفیہ پیغامات موجود ہوتے ہیں جو لاشعوری طور پر چھوٹے بچوں کو کم عمری سے ہی جنسی رغبت دلانے اور مختلف شیطانی کاموں کی طرف مائل کرنے کا کام کرتے ہیں۔ اسے subliminal messages کے ذریعے دماغ کی پروگرامنگ کرنا کہا جاتا ہے یعنی اس کا نہ صرف روحانی اثر ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی بھی۔
9) علامات کی طرح حروف اور الفاظ کی بھی تاثیر ہوتی ہے۔ ہر حرف کی اس کے ڈیزائن کی وجہ سے ایک مخصوص تاثیر ہوتی ہے۔ اسی طرح الفاظ اور جملوں کی بھی تاثیر ہوتی ہے۔ عربی زبان میں استعمال ہونے والے حروف یعنی الف با پا جیم وغیرہ پاکیزہ ترین ہیں اور ان سے روح شاداب ہوتی ہے جبکہ قرآن پاک میں الفاظ اور جملوں کی ترکیب روح کو جسطرح تقویت دیتی ہے اور کوئی کلام اس طرح نہیں کر سکتا۔ قرآن جیسی ایک بھی سورۃ نہ لکھ سکنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ اسی طرح اعداد یعنی ایک دو تین جس طرح لکھے جاتے ہیں ان کی بھی اپنی تاثیر ہے۔ قدیم زمانوں میں یہ علوم بہت عام تھے اور الفاظ و حروف سے نقوش وغیرہ بنا کر مختلف غیر یقینی کام لیے جاتے تھے۔ ۔ سو جسطرح حروف اور الفاظ کی اچھی تاثیر ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح بری تاثیر بھی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پوری انگریزی زبان میں موجود حروف تہجی تک مختلف شیطانی علامات سے لیے گئے ہیں۔ اگر آپ الومناٹی کے سمبلز گوگل پر سرچ کریں تو آپ کو واضح طور پر بڑا G بنا نظر آئے گا۔ اسی طرح مختلف قدیم زبانوں کے سمبلز یا نشانات سے انگریزی زبان کے وہ حروف حاصل کیے گئے ہیں جن کی تاثیر بدترین تھی اور ان کی آوازیں رکھی گئی ہیں اور ان سے ایسے الفاظ تشکیل دیے گئے جو سحر پیدا کرتے ہیں۔ الفاظ کا سحر انسان کو قابو کرنے کا قدیم ترین اور طاقتور ترین سحر ہے۔ اس سے موسیقی کے ساز کی طرح ہی انسان کی روح پر زنجیریں پڑتی چلتی جاتی ہیں اور وہ حق کے معاملے میں گونگا بہرا اور اندھا ہو جاتا ہے۔ دور جدید میں جتنا انگریز نسل کو شیطان نے قابو میں رکھ کر اسلام کے خلاف استعمال کیا ہے اتنا کسی اور نسل کو نہیں کیا۔ آپ جانتے ہونگے کہ کیسے انگریز افواج سے مسلمانوں کو مروانے کا کام لیا جاتا ہے اور ان کی اپنی اخلاقی تنزلی یہ ہے کہ ماں اور بیوی کا فرق مٹ چکا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی پروگرامنگ ہی ایسی زبان سے ہوتی ہے جو مستقل سحر پیدا کرتے ہیں۔ اس کو ایک دلچسپ مثال سے سمجھتے ہیں: بچے کو زبان لکھنے کیلئے سب سے پہلے Spell کرنا سکھایا جاتا ہے۔ اب اسپیل کا مطلب ہی جادو ہے۔ Spell کر کہ ہی Sentence مکمل کیا جا سکتا ہے۔ Sentence کا مطلب قید ہے۔ Sentences مل کر Page بناتے ہیں۔ Page کا مطلب روحوں کو بلا کر قید کرنا بھی ہوتا ہے (تصدیق کیلئے انگریزی محاورہ To Page Someone کا مطلب دیکھ سکتے ہیں جس کا مطلب کسی کو نام لیکر بلانا ہے)، Page سے ارواح بد کو بلایا جاتا تھا اور قید کیا جاتا تھا کیونکہ ان میں Sentences یعنی قید کرنے کی صلاحیت ہوتی تھی۔ Pages مل کر Chapter بناتے ہیں۔ Chapter شیطان پرستی کا ایک درجہ ہے (جیسے اوپر درجوں کی بات ہوئی) شیطان پرست کتابیں یعنی Books پڑھنے پر بہت زور دیتے ہیں اور انہیں مسلمانوں سے یہ گلہ رہتا ہے کہ مسلمان قرآن کے علاوہ کسی کتاب کو اہم نہیں سمجھتے۔ کتاب کیلئے انگریزی میں لفظ Book ہے جس کا مطلب گرفتار کر لینا یا قبضہ جما لینا یا بک کروا لینا بھی ہوتا ہے۔ یقیناً ایسی کتابیں بے شمار ہیں جو شعور دینے کے بجائے چھین لیتی ہیں اور اسی لیے انہیں پڑھنے پر بظاہر 'علم دوست' اور 'انٹیلکچوئل' طبقے کی طرف سے بار بار اکسایا جاتا ہے۔
الفاظ کے اس سحر کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے۔ بہت سے لوگ ان سب باتوں کو محض اتفاق سمجھتے ہیں اور ہنس کر ٹال دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ مسلمان ہونے پر ہی احساس کمتری کا شکار ہیں اور سمجھینگے کہ مسلمان محض انگریز کی عداوت میں کہ رہے ہیں حالانکہ یہ تحقیقات انگریزوں سے ہی لی گئی ہیں۔ جی ہاں، زبان کے اس سحر کی نقب کشائی بھی گزشتہ ایک دو سالوں میں ہوئی اور انگریزوں نے خود اس پر عمیق تحقیق کی۔ اس سحر کے دماغ اور روح کو قابو کرنے طریقوں پر گہرائی میں بحث کی جائے تو ممکن ہے کہ قارئین کو بہت کم سمجھ آئے لیکن چیدہ چیدہ چیزوں پر مزید نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیسے روز مرہ میں استعمال ہونے والے انگریزی الفاظ ماضی کے خداؤں کے نام سے منسلک ہیں جنہیں ہم بار بار دہرانے پر مجبور ہیں۔ واضح رہے کہ ان سب کی تصدیق گوگل سے کی جا سکتی ہے: Sunday جھوٹے سورج خدا کے نام پر
Monday چاند دیوی کے نام پر
Tuesday جھوٹے خدا Tyr کے نام پر
Wednesday جھوٹے خدا Odin کے نام پر Thursday جھوٹے خدا Thor کے نام پر Friday جھوٹے خدا Fr**ga کے نام پر Saturday جھوٹے خدا Saturn کے نام پر
اسی طرح مہینوں، سیاروں، ستاروں اور دیگر بے شمار چیزوں کے نام جھوٹے خداؤں کے نام پر رکھے گئے ہیں جنہیں ہم بھی بار بار دہرانے پر مجبور ہیں۔ اس پر تفصیل پڑھنے کیلئے " Pagan Origins of the names of days and months" اور " english phoentics satanic spells" لکھ کر گوگل پر سرچ کیا جا سکتا ہے۔
لیول کے شیطان پرستوں کی محبوب ترین انڈسٹریاں ہیں۔ ہر ملک میں فیشن اور میوزک انڈسٹری کے پیچھے شیطان پرست کارفرما ہوتے ہیں۔ فیشن کے بہانے بہت سے لوگ لباس اور حلیہ وغیرہ باآسانی نحوست زدہ بنا لیتے ہیں اور شیطان کو خوش کرتے ہیں جبکہ میوزک میں کئی ساز ایسے ہیں جن سے روح خصوصی طور پر نحوست زدہ ہوتی ہے یعنی موسیقار انہیں عام گانوں میں ہی چھپا کر سامعین کو سنا دیتے ہیں جس سے ایمانی حالت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اور قلب ناپاک ہوتا چلا جاتا ہے۔ کراچی صبا ایونیو میں موجود شیطانی معبد خانے کی رپورٹ میں بھی یہی بیان تھا کہ وہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں رقص و موسیقی کی محفل یعنی پارٹی کے بہانے ہی جمع ہوتے ہیں، ان کے حلیے عجیب ہوتے ہیں، لڑکوں نے کالی نیل پالش لگائی ہوتی ہے اور لڑکے لڑکیاں ہفتہ ہفتہ بھر کے میلے بھی ہوتے ہیں
11) جیسا کہ اس مضمون میں بارہا بتایا گیا ہے، دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے سیاستدان شیطان پرست نہ ہوں ایسا ممکن نہیں، خواہ بظاہر ایک دوسرے کے شدید مخالف کیوں نہ ہوں اندر سے یہ سب ایک ہی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ ملکہ برطانیہ ہو یا اوبامہ سب ایک ہی شیطان کو پوجنے والے اور ایک دوسرے کے حمایتی اور خیرخواہ ہیں۔ Bohemian Grove نامی جگہ پر دنیا کے کئی مشہور سیاستدان، فوجی سربراہان و دنیا کی دیگر اہم شخصیات شیطانی رسوم ادا کرتے پائے گئے ہیں۔ البتہ ان سب کو چلانے والی ایک مخصوص فیملی ہے جسے Rothschild فیملی کے نام سے مشہور ہے۔ دنیا کے سارے بینک اس کے تحت آتے ہیں چنانچہ اسے بینکر فیملی بھی کہا جاتا ہے۔ اس فیملی کا سربراہ David Rockfeller اعلی ترین درجے کا شیطان پرست ہے۔ اس کے بدن کی نحوست اس قدر ہے کہ اس کا قلب چھ بار سڑ چکا ہے اور اس کے اب تک 6 بار ہارٹ ٹرانسپلانٹ ہو چکے ہیں۔ دنیا کی تمام پالیسیاں یہی بناتا ہے اور میڈیا ہو یا نظام تعلیم و تدریس، طب ہو یا زراعت، قانون سازی ہو یا کھیل، کوئی شعبہ ہائے زندگی ایسا نہیں جس پر اس کا کنٹرول نہ ہو۔ یہ elites بھی کہلاتے ہیں اور ان کی شیطانی قوتیں اور نحوست زدہ اشکال کی وجہ سے مخصوص لوگ انہیں انسان کے بجائے کسی reptile کی نسل یا alien سمجھتے ہیں۔ البتہ یہ محض شیطان کی پجاری ہیں اور ریپٹائل نما انسان یہ ایلین جیسی کوئی چیز حقیقی نہیں یہ محض افسانے ہیں جو مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے پھیلائے گئے ہیں۔
12) اگر شیطانی مجسمے 'بیفومٹ' (Baphomet) کو دیکھا جائے تو اس کے پیٹ پر ایک لاٹھی نما چیز دکھائی دے گی جس پر دو سانپ لپٹے ہوئے ہیں۔ جو لوگ نہیں جانتے انہیں یہ سن کر کافی حیرت ہو گی کہ میڈیکل کا symbol بھی دنیا بھر میں وہی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حکمت اور دیگر مکاتب طب کو دنیا سے ختم کیا گیا، انہیں بدنام کیا گیا پھر ان پر پابندیاں لگائی گئیں اور دور جدید کی ادویات کا عادی بنایا گیا۔ ایک طرف میڈیکل سائنس کی ترقی کے گن گائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ پہلے کے لوگ میڈیکل سائنس نہ ہونے کی وجہ سے بہت کم عمر پاتے تھے، لیکن صورتحال کا وسیع النظری سے جائزہ لیا جائے تو اس میڈیکل میں ترقی کا انسان کو کیا فائدہ ہوا؟ انسانی صحت کا معیار اور عمر دونوں ہی گرتے جا رہے ہیں۔ مغرب ہو خواہ مشرق، انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر زندگی بھر دوائیاں کھانے پر مجبور ہے۔ پیسے کماتے کماتے فارما انڈسٹری اس وقت دنیا کی سب سے بڑی انڈسٹری بن چکی ہے مگرانسانوں سے مکمل اور صحیح علاج چھین کر انہیں ایسا میڈیکل سسٹم دے دیا گیا ہے جو بیماریوں جڑ سے ختم نہیں کرتا بلکہ وقتی آرام دیتا ہے اور دوبارہ ضرورت لازمی پڑا کرتی ہے۔ ذیابطیس کا مریض زندگی بھر انسولین خرید کر لگاتا ہے، کسی بھی قسم کی سرجری کروانے والا بقیہ زندگی چیک اپ کروانے اور مختلف دوائیاں کھانے میں گزارتا ہے۔ اسی طرح بہت سی بیماریوں کے مؤجد بھی یہ خود ہی ہیں۔ حتی کہ کینسر اور ذیابطیس کوئی خدا کی بنائی ہوئی بیماریاں نہیں، اسی طرح پولیو بیماری کو باقاعدہ پیدا کیا گیا اور اس کیلئے بے گناہ افریقیوں پر بے شمار تجربے کیے گئے جس سے ان کی اچھی خاصی نسل سوکھے کے مرض کا شکار ہو کر تباہ ہو گئی۔ اسی طرح مختلف بیماریاں پیدا کی جاتی ہیں اور پھر ان کیلئے ویکسینیں اور ادویات بنائی جاتی ہیں اور ان ویکسینوں اور ادویات سے نئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ویکسینوں کا ری ایکشن ہو جانا کوئی خاص بات نہیں۔ امریکہ اور یورپ جہاں کثرت سے ویکسنیشن ہوتی ہے وہاں ابنارمل بچوں کی تعداد میں بیحد اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ حال ہی میں چند ڈاکٹرز نے Autism بیماری کو ویکسینوں کا نتیجہ قرار دے دیا۔ یاد رہے کہ ویکسینوں کا لازمی حصہ مرکیوری ہوتا ہے اور مرکیوری کی دھات کو اللہ تعالی نے جسم کے اندر داخل کرنے کیلئے ہرگز نہیں بنایا تھا۔ دنیا کے امیر ترین آدمی 'بل گیٹس' پر اب بھی بھارت میں مقدمہ چل رہا ہے کہ اس کے پولیو کے قطرے پلانے والی مہم سے 50 ہزار بچے زندگی بھر کیلئے معذور ہو گئے!
(نوٹ: واضح رہے کہ اس میں عام ڈاکٹروں کی غلطی نہیں، ان بیچاروں کو یہ جدید میڈیکل جیسے پڑھائی جاتی ہے وہ اس کی بنیاد پر ہی علاج کر دیتے ہیں البتہ اگر شفا اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ میں نہ رکھی ہوتی تو اس میڈیکل سسٹم سے کوئی وقتی طور پر بھی آرام نہ حاصل کر پاتا۔ خدارا طب نبوی ﷺ اور قدرتی اشیاء و صحیح حکمت سے علاج کریں اور اپنے جسموں کو زہر کا عادی نہ بنائیں)
13) دنیا میں پھیلائی ہوئی شیطان پرستوں کی سازشوں کی اصل حقیقت انسانوں سے چھپی رہے اور ہر غیرمعمولی چیز کو نظر انداز کر دیں یا سازشوں کو سمجھ نہ پائیں، اس کیلئے ضروری ہے کہ انسان کند ذہن رہے، ایک قسم کے 'ٹرانس' میں رہے اور اس کا دماغ مختلف چیزوں میں الجھا رہے اور وہ انہیں ہی اہم ترین سمجھتا رہے۔ اس کیلئے بھی شیطان پرستوں نے خوب مضبوط حکمت عملی اور نظام بنایا ہوا ہے۔ ہماری فصلوں کے بیچ سے لیکر کھاد تک، ہمارے صابن سے لیکر توتھ پیسٹ تک میں ایسے اجزاء موجود ہوتے ہیں جو ہمیں نہ صرف بیمار کرتے ہیں بلکہ کند ذہن، غافل اور لا پرواہ بناتے ہیں۔ توتھ پیسٹ میں فلورائڈ کو باقاعدہ مفید بتایا جاتا ہے البتہ فلورائڈ واضح طور پر زہر ہے اسی لیے اسے نگلنا منع کیا جاتا ہے، یہ منہ کے ذریعے خون میں شامل ہو کر دماغ بھی کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح ہر برانڈڈ پراڈکٹ سے اجتناب ضروری ہے کہ ان میں نقصان دہ ملاوٹ نہ ہو ایسا ہرگز ممکن نہیں۔ مغربی ممالک میں جہازوں سے باقاعدہ کیمکل پھینکے جاتے ہیں جو عام عوام کو بیمار اور کند ذہن بناتے ہیں۔ اسے 'chemtrailing' کہا جاتا ہے یعنی جہاز سفید رنگ کی لیکیریں چھوڑتے ہوئے جاتے ہیں جن میں کینسر سے لیکر مختلف بیماریاں پھیلانے کے اسباب موجود ہوتے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا رہا کہ یہ contrailing ہے یعنی کبھی کبھار جہاز کے انجن کی گرمی کی وجہ سے جہاز بادلوں کی ایک معمولی سے لکیر بناتے ہوئے جاتے ہیں۔ لیکن ان دونوں میں واضح فرق ہے یعنی contrail محض چند منٹوں میں غائب ہو جاتے ہیں لیکن chemtrail کئی گھنٹوں تک بھی برقرار رہتے ہیں اور ان کی لکیریں بیحد لمبی ہوتی ہیں۔ 2016 کے آغاز سے ہی مغربی عوام اب اس پر کھل کر احتجاج کر رہی ہے البتہ میڈیا پر اس طرح کے احتجاج ہرگز نہیں دکھائے جاتے۔ پاکستان میں یہ حال ہی میں یعنی 23 اپریل کو کراچی میں پہلی بار دیکھا گیا ہے اور اس کی باقاعدہ ویڈیو موجود ہے۔
14) اب تک آپ یہ بات بخوبی سمجھ چکے ہونگے کہ ہم ایک نظام یعنی نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ بن چکے ہیں اور خواہ ہمیں اس بات کا ادراک ہو پائے یا نہیں، ہم شیطان پرست Elite ٹولے کے غلام ہیں۔ جب ہم پیدا ہوئے تو ہمیں سکولوں میں بھرتی کروا دیا گیا جہاں بینکر فیملی کی تعین کردہ حدود کے اندر نصاب تشکیل دیا گیا جس کی مدد سے تمام بچوں کو ایک جیسا بنانے کی کوشش کی گئی اور ان سے اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی گئی۔ پھر ہم نے اپنی مرضی سے کوئی فیلڈ منتخب کی اور اس میں ڈگری لے کر نوکری یا کاروبار پر لگ گئے۔ اب ہم دن رات جو بھی محنت مزدوری کرتے ہیں اس کے عوض ہمیں چند کاغذ کے نوٹ یعنی کرنسی دی جاتی ہے جس کا اصل ذریعہ یہ بینکر فیملی ہی ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا، ہر ملک کا بینک انہی کے تحت ہوتا ہے اور جہاں نہیں ہوتا وہاں جنگ مسلط کر دی جاتی ہے اور نظام قائم کیا جاتا ہے۔ اب ان کاغذوں کو ہم انہی شیطان پرستوں کی پھیلائی ہوئی بے جا اور فضول برانڈز، اشیاء، بیماریوں/علاج، تفریح وغیرہ پر اڑا دیتے ہیں جبکہ پیٹ بھرنے کیلئے بہت ہی کم استعمال ہوتا ہے۔ پھر پورے مہینے دوبارہ جی توڑ محنت کرتے ہیں۔ پھر کچھ کاغذ ملتے ہیں اور پھر یہی سب ہوتا ہے۔ جبکہ ہماری محنت سے اصل اثاثے بنانے والے یہی لوگ ہیں اور ہم ساری زندگی ان کیلئے مزدوری کرتے رہتے ہیں۔ بہت کم لوگ اصل اثاثے بنا پاتے ہیں یا اس طرف دھیان دیتے ہیں اور وہ بھی مجبور ہو کر بقیہ رقم ان مسلط کردہ ”ضروریات زندگی“ پر لگا دیتے ہیں۔ یوں ہماری تمام عمر کسی اور کیلئے مزدوری کرتے تمام ہوتی ہے اور ہم اسے ایک آزاد زندگی سمجھتے ہیں۔ یہ ہرگز آزاد زندگی نہیں بلکہ یہ نئے دور کی غلامی ہے بس اسے سمجھنے کیلئے تھوڑا غور و فکر اور تحقیق چاہیئے اور جیسے جیسے یہ بات عوام سمجھتی جائیگی یہ نظام ختم ہوتا جائے گا ہمیں آگاہی پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ یہ معاملہ اب انسانی بساط سے باہر ہے اور اللہ سے مدد مانگنی ضروری ہے اور بیشک اللہ تعالی مدد کرینگے لیکن اس کیلئے پہلے سب کو پتہ ہونا ضروری ہے کہ وہ کس حد تک اس دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔
قارئین مضمون طویل ہو چلا ہے مگر اس کے باوجود شیطان پرستوں اور ان کی سازشوں کی محض ایک جھلک ہے جو اس میں بیان ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم چاروں طرف سے ان کی چالوں اور نحوست میں گھرے ہوئے ہیں۔ ماضی میں جن کو محض ’کانسپری تھیوریاں‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا ان میں سے بیشتر سچ ثابت ہوئی ہیں جو بیحد خطرناک بات ہے۔ علم کے میدان سے لیکر خوراک تک پر ان شیطان پرستوں کا قبضہ ہے۔ ان حالات میں مدد الہی ضرور نازل ہو گی لیکن اس سے پہلے لازم ہے کہ ہم چیزوں کی اصلیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھائیں تاکہ صورتحال واضح ہو جائے کہ ہم کس حد تک اس دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور اس سسٹم میں ہماری حیثیت ایک غلام جیسی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ انقلاب اور شعور مغرب سے ہی بیدار ہوا ہے اور مغرب کی ایک بڑی آبادی اب اپنے ہی حکمرانوں کے بنائے ہوئے اس ظالمانہ نظام پر سراپا احتجاج ہے لہذا ہم پر بھی لازم ہے کہ اس حوالے سے معلومات پھیلائیں وگرنہ میڈیا کی برین واشنگ کی وجہ سے ہماری عوام یہی سمجھتی ہے کہ مغرب کی زندگی جنت ہے جبکہ آپ مضمون کے لنکس دیکھ سکتے ہیں کہ سب مغرب سے ہی درآمد شدہ ہیں اور جو اس سسٹم کو پہچان گئے اور اس سحر سے باہر آ گئے وہ اب سخت اذیت کا شکار ہیں۔ نیز شیطان پرستوں کی چالوں سے بچنے کیلئے قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، ہر قسم کے نت نئے فالتو تہواروں سے لازم بچیں، جس قدر ممکن ہو قدرتی اشیاء استعمال کریں خواہ خوراک کے طور پر ہو یا طب کے طور پر، علم خواہ سائنس کے نام پر ہی کیوں نہ ہو اور بظاہر کتنا ہی شاندار کیوں نہ لگے اس پر تب تک بھروسہ نہ کریں جب تک کہ اس کا مشاہدہ یا عام تجربہ ممکن نہ ہو۔ کلوننگ ہو یا سفرِ چاند یہ محض فریب ہیں اور ان کا کچھ اصل نہیں۔ نیز تاریخ ہو یا علم اگر اسلام اور خدا کے خلاف ہو تو پھر چاہے 'روشنی یا حقیقت' کا دعوی دار ہو اس سے فوراً اللہ کی پناہ مانگیں کہ انٹرنیٹ پر ایسی چیزیں باقاعدہ طور پر ڈالی گئی ہیں جن سے اہل ایمان اپنی کم علمی کی وجہ سے مشکوک ہو جائے اور آخرکار اپنا ایمان کھو بیٹھے۔ یاد رہے کہ ایمان کھونے کے بعد محض چند سالوں کے اندر انسان بغیر ادراک ہوئے ہی شیطان پرستی کی بیشتر خصوصیات حاصل کر لیتا ہے اور مختلف قسم کی برائیاں اور گھناؤنی چیزیں اسے اچھی لگنے لگتی ہیں اور وہ ان کی تشہیر اور دفاع بھی کرتا ہے۔ اپنے ارد گرد اس بارے میں معلومات ضرور پھیلائیں اس سے بڑھ کر اسلام کی خدمت موجودہ دور میں کوئی نہیں۔ بلاشبہ کند ذہن لوگ جن کے دماغ اب تک سوئے ہوئے ہیں آپ کو علم دشمن اور سازشی کہینگے مگر مضمون میں موجود لنکس پر ضرور ریسرچ کر کہ اپنی معلومات بڑھائیں اور دوسروں کو آگاہ ضرور کریں۔ آخر میں سب سے اہم چیز دعا ہے۔ اللہ تعالی سے ہدایت اور ایمان کی دعا خصوصی طور پر گڑگڑا کر مانگیں اور نیو ورلڈر سے ہمیں نجات دلانے کی دعا مانگیں، خالق سے روحانی تعلق پیدا کریں اور اس پر مکمل بھروسہ رکھیں کہ ہمارا رب سب کچھ کرنے پر قادر ہے اور وہی ہمیں اس شیطانی چنگل سے باہر نکالے گا۔
آمین

Address

Assistant Registrar
Sargodha
40100

Website

http://www.su.edu.pk/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Akram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Dr. Muhammad Akram:

Share