قراره راشه

قراره راشه Abdulghafoor

پی سی بی (PCB) سے متعلق آج، 19 مارچ 2026 کی تازہ ترین خبریں درج ذیل ہیں:​اہم خبریں​فٹنس تنازع (بابر اعظم اور فخر زمان): ...
19/03/2026

پی سی بی (PCB) سے متعلق آج، 19 مارچ 2026 کی تازہ ترین خبریں درج ذیل ہیں:
​اہم خبریں
​فٹنس تنازع (بابر اعظم اور فخر زمان): پی سی بی کے میڈیکل پینل نے انکشاف کیا ہے کہ بابر اعظم اور فخر زمان ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے دوران مکمل فٹ نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں کھیلنے کی اجازت دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹیم کے فزیو تھراپسٹ کلف ڈیکن (Cliffe Deacon) پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جنہوں نے ان کھلاڑیوں کو کلیئرنس دی تھی۔ پی سی بی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔
​نیشنل ٹی 20 کپ کا فائنل ملتوی: پشاور میں مسلسل بارش اور گیلے آؤٹ فیلڈ کی وجہ سے کراچی وائٹس اور ایبٹ آباد کے درمیان ہونے والا نیشنل ٹی 20 کپ کا فائنل ری شیڈول کر دیا گیا ہے۔ نئی تاریخ اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
​پی ایس ایل 11 (PSL 2026):
​پی ایس ایل کا باقاعدہ آغاز 26 مارچ سے ہو رہا ہے۔
​عاطف اسلم ایک بار پھر پی ایس ایل کے آفیشل اینتھم "بیٹ پہ کھیلیں گے" میں اپنی آواز کا جادو جگائیں گے۔
​آسٹریلوی کھلاڑیوں کی آمد اگلے ہفتے سے شروع ہو جائے گی۔ مارنس لبوشین کو نئی ٹیم حیدرآباد کنگز مین کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
​سرفراز احمد کی ریٹائرمنٹ: سابق کپتان سرفراز احمد نے تمام طرز کی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
​کھلاڑیوں پر جرمانے کی تردید: پی سی بی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی پر کھلاڑیوں کو 50 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

07/02/2026

پاکستان اور بھارت کے درمیان 1999 میں ہونے والی جنگ کو "کارگل جنگ" (Kargil War) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ حالیہ تاریخ کی اہم ترین جنگوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان لڑی گئی۔
​اس جنگ کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
​1. جنگ کا پس منظر
​یہ لڑائی مئی اور جولائی 1999 کے درمیان کشمیر کے ضلع کارگل میں لڑی گئی۔ پاکستانی افواج اور کشمیری مجاہدین نے کارگل کے پہاڑی سلسلوں کی بلند چوٹیوں پر پوزیشنیں سنبھال لی تھیں، جس کا مقصد بھارت کی اہم شاہراہ (NH 1A) کو بلاک کرنا تھا جو سری نگر کو لیہہ سے ملاتی ہے۔
​2. آپریشن کے نام
​پاکستان: اس مہم کو مبینہ طور پر "آپریشن کوہِ پیما" یا کارگل آپریشن کا نام دیا گیا۔
​بھارت: بھارتی فوج نے اس کے جواب میں "آپریشن وجے" (Operation Vijay) شروع کیا۔
​3. جنگ کے اہم واقعات
​بلندی پر جنگ: یہ دنیا کی ان چند جنگوں میں سے ایک ہے جو انتہائی بلندی (تقریباً 18,000 فٹ) اور شدید سردی میں لڑی گئی۔
​نشانِ حیدر: اس جنگ میں بہادری کی عظیم داستانیں رقم ہوئیں۔ پاکستان کے دو سپوتوں، کیپٹن کرنل شیر خان اور حوالدار لالک جان کو ان کی بے مثال شجاعت پر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا گیا۔
​سیاسی صورتحال: اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف تھے اور بھارت کے اٹل بہاری واجپائی۔
​4. جنگ کا اختتام
​جنگ کا باقاعدہ خاتمہ جولائی 1999 میں ہوا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت اور واشنگٹن میں ہونے والے معاہدے کے بعد پاکستانی افواج کو ان چوٹیوں سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 26 جولائی 1999 کو لڑائی مکمل طور پر بند ہوگئی۔
​نتائج اور اثرات
​اس جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا۔
​اکتوبر 1999 میں پاکستان میں جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوا اور جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا۔
​بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا۔

28/01/2026
اسلام میں نمازِ جنازہ صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک انتہائی با مقصد عبادت ہے، جس کے فوائد دنیا اور آخرت دونوں سے وابستہ ہیں۔...
24/01/2026

اسلام میں نمازِ جنازہ صرف ایک رسم نہیں بلکہ ایک انتہائی با مقصد عبادت ہے، جس کے فوائد دنیا اور آخرت دونوں سے وابستہ ہیں۔ اس کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:

​1. میت کے لیے شفاعت اور مغفرت

​نمازِ جنازہ کا بنیادی مقصد میت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا اور سفارش کرنا ہے۔ جب مسلمانوں کی ایک جماعت اخلاص کے ساتھ میت کی بخشش کی دعا کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے اور میت کے درجات بلند کرتا ہے۔

​2. پسماندگان کی دلجوئی اور تسلی

​جب میت کے لواحقین دیکھتے ہیں کہ ان کے عزیز کے آخری سفر میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہیں اور اس کے لیے دعا کر رہے ہیں، تو اس سے ان کے غم میں کمی آتی ہے اور انہیں نفسیاتی و اخلاقی سہارا ملتا ہے۔

​3. ثوابِ عظیم کا حصول

​نمازِ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق:

​"جو شخص جنازہ میں حاضر ہو کر نماز پڑھے، اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے، اور جو تدفین تک ساتھ رہے، اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے۔" (ایک قیراط احد پہاڑ جتنا بڑا ہوتا ہے)۔

​4. موت کی یاد اور عبرت

​نمازِ جنازہ انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔ یہ ایک خاموش پیغام ہے کہ:

​دنیا فانی ہے اور ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔

​انسان کو اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔

​تکبر اور غرور کا خاتمہ ہوتا ہے کیونکہ سب کا انجام ایک ہی مٹی ہے۔

​5. سماجی اتحاد اور ہمدردی

​جنازہ مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے اور اتحاد کی علامت ہے۔ یہ موقع امیر، غریب، دوست اور دشمن سب کو ایک صف میں کھڑا کر دیتا ہے، جس سے معاشرے میں ہمدردی اور یگانگت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
نماز صرف ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں، بلکہ یہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کے لیے ایک مکمل پیکج ہے۔ اسے "مومن کی معراج" کہا گیا ہے کیونکہ یہ بندے کا اپنے خالق سے براہِ راست تعلق قائم کرتی ہے۔
​نماز کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:

​1. روحانی اور قلبی فوائد

​قربِ الٰہی: نماز اللہ تعالیٰ سے گفتگو کا ذریعہ ہے، جس سے دل کو سکون اور روح کو تازگی ملتی ہے۔

​گناہوں سے دوری: قرآن مجید کے مطابق، نماز انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

​شکر گزاری کا احساس: روزانہ پانچ وقت اللہ کے سامنے جھکنا انسان میں عاجزی پیدا کرتا ہے اور تکبر کو ختم کرتا ہے۔

​2. نفسیاتی اور ذہنی فوائد

​ذہنی سکون (Stress Relief): آج کے دور میں بے چینی اور ڈپریشن عام ہے۔ نماز کے دوران ارتکاز (Focus) سے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔

​ڈسپلن اور وقت کی پابندی: پانچ وقت کی نماز انسان کو منظم بناتی ہے، جس سے زندگی کے دیگر معاملات میں بھی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔

​خود اعتمادی: جب انسان کو یہ یقین ہو کہ کائنات کا مالک اس کے ساتھ ہے، تو اس کا حوصلہ اور خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے۔

​3. جسمانی فوائد

​نماز کی مختلف حالتیں (قیام، رکوع، سجدہ) انسانی جسم کے لیے بہترین ورزش ثابت ہوتی ہیں:

​دورانِ خون میں بہتری: خاص طور پر سجدہ کی حالت میں خون کا بہاؤ دماغ کی طرف بڑھ جاتا ہے، جو یادداشت اور بینائی کے لیے مفید ہے۔

​جوڑوں اور پٹھوں کی لچک: رکوع اور سجدے سے کمر، گھٹنوں اور گردن کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے۔

​ہاضمہ: تشہد کی حالت میں بیٹھنے سے معدے اور آنتوں کے افعال میں بہتری آتی ہے۔

​4. سماجی فوائد

​مساوات: مسجد میں امیر اور غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں، جس سے اونچ نیچ کا فرق ختم ہوتا ہے۔

​اتحاد و بھائی چارہ: محلے کے لوگوں سے دن میں پانچ بار ملاقات ہوتی ہے، جس سے سماجی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی رہتی ہے۔

​خلاصہ: نماز ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو اندر اور باہر دونوں طرف سے سنوار دیتی ہے۔ یہ دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔

​ک

نماز صرف ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں، بلکہ یہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کے لیے ایک مکمل پیکج ہے۔ اسے "مومن کی معر...
23/01/2026

نماز صرف ایک مذہبی فریضہ ہی نہیں، بلکہ یہ انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کے لیے ایک مکمل پیکج ہے۔ اسے "مومن کی معراج" کہا گیا ہے کیونکہ یہ بندے کا اپنے خالق سے براہِ راست تعلق قائم کرتی ہے۔
​نماز کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں:
​1. روحانی اور قلبی فوائد
​قربِ الٰہی: نماز اللہ تعالیٰ سے گفتگو کا ذریعہ ہے، جس سے دل کو سکون اور روح کو تازگی ملتی ہے۔
​گناہوں سے دوری: قرآن مجید کے مطابق، نماز انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
​شکر گزاری کا احساس: روزانہ پانچ وقت اللہ کے سامنے جھکنا انسان میں عاجزی پیدا کرتا ہے اور تکبر کو ختم کرتا ہے۔
​2. نفسیاتی اور ذہنی فوائد
​ذہنی سکون (Stress Relief): آج کے دور میں بے چینی اور ڈپریشن عام ہے۔ نماز کے دوران ارتکاز (Focus) سے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے۔
​ڈسپلن اور وقت کی پابندی: پانچ وقت کی نماز انسان کو منظم بناتی ہے، جس سے زندگی کے دیگر معاملات میں بھی نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔
​خود اعتمادی: جب انسان کو یہ یقین ہو کہ کائنات کا مالک اس کے ساتھ ہے، تو اس کا حوصلہ اور خود اعتمادی بڑھ جاتی ہے۔
​3. جسمانی فوائد
​نماز کی مختلف حالتیں (قیام، رکوع، سجدہ) انسانی جسم کے لیے بہترین ورزش ثابت ہوتی ہیں:
​دورانِ خون میں بہتری: خاص طور پر سجدہ کی حالت میں خون کا بہاؤ دماغ کی طرف بڑھ جاتا ہے، جو یادداشت اور بینائی کے لیے مفید ہے۔
​جوڑوں اور پٹھوں کی لچک: رکوع اور سجدے سے کمر، گھٹنوں اور گردن کے پٹھوں کی ورزش ہوتی ہے۔
​ہاضمہ: تشہد کی حالت میں بیٹھنے سے معدے اور آنتوں کے افعال میں بہتری آتی ہے۔
​4. سماجی فوائد
​مساوات: مسجد میں امیر اور غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں، جس سے اونچ نیچ کا فرق ختم ہوتا ہے۔
​اتحاد و بھائی چارہ: محلے کے لوگوں سے دن میں پانچ بار ملاقات ہوتی ہے، جس سے سماجی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی رہتی ہے۔
​خلاصہ: نماز ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو اندر اور باہر دونوں طرف سے سنوار دیتی ہے۔ یہ دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
​ک

‏پی سی بی نے آسٹریلیا کیساتھ ٹی 20 سیریز کے لیے سکواڈ کا اعلان کر دیاپاکستان ٹی20 اسکواڈ: سلمان علی آغا (کپتان)، فخر زما...
23/01/2026

‏پی سی بی نے آسٹریلیا کیساتھ ٹی 20 سیریز کے لیے سکواڈ کا اعلان کر دیا

پاکستان ٹی20 اسکواڈ: سلمان علی آغا (کپتان)، فخر زمان، صائم ایوب، بابر اعظم، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، فہیم اشرف، محمد وسیم جونیئر، محمد سلمان مرزا، ابرار احمد، محمد نواز، عثمان طارق, خواجہ محمد نافع، صاحبزادہ فرحان، عثمان خان شامل

21/01/2026

امیر بننا کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک سسٹم، صبر اور صحیح عادات کا مجموعہ ہے۔ اگر آپ مالی طور پر آزاد اور امیر ہونا چاہتے ہیں، تو دنیا کے امیر ترین افراد ان 5 اصولوں پر عمل کرتے ہیں:
​1. اپنی "اثاثہ جات" (Assets) بڑھائیں
​امیر اور غریب میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ غریب پیسے بچاتا ہے، جبکہ امیر پیسہ انویسٹ کرتا ہے۔
​اثاثہ (Asset): وہ چیز جو آپ کی جیب میں پیسہ ڈالے (مثلاً: کرائے کا گھر، شیئرز، کاروبار)۔
​لائبلٹی (Liability): وہ چیز جو آپ کی جیب سے پیسہ نکالے (مثلاً: مہنگا فون، ایسی گاڑی جس کی ضرورت نہ ہو)۔
​اصول: اپنی آمدنی کا ایک حصہ ایسی جگہ لگائیں جہاں سے مزید پیسہ پیدا ہو۔
​2. ہنر سیکھیں (High-Value Skills)
​صرف محنت سے کوئی امیر نہیں بنتا (ورنہ مزدور سب سے امیر ہوتا)۔ آپ کو وہ ہنر سیکھنا ہوگا جس کی مارکیٹ میں قیمت زیادہ ہو۔
​مثلاً: کوڈنگ، ڈیٹا سائنس، سیلز (Sales)، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، یا مصنوعی ذہانت (AI)۔
​اپنی قدر اتنی بڑھا دیں کہ لوگ آپ کے وقت کی بھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔
​3. ضرب دینے والا فارمولا (The Power of Leverage)
​آپ اکیلے کام کر کے ایک حد تک ہی کما سکتے ہیں۔ امیر ہونے کے لیے آپ کو Leverage استعمال کرنی ہوگی:
​لوگوں کا وقت: ٹیم بنائیں جو آپ کے لیے کام کرے۔
​پیسہ: آپ کا پیسہ آپ کے لیے کام کرے (سرمایہ کاری)۔
​ٹیکنالوجی: انٹرنیٹ اور سافٹ ویئر کا استعمال کریں جو 24 گھنٹے کام کرتے ہیں۔
​4. آمدنی کے ایک سے زیادہ ذرائع
​دنیا کے اوسطاً ہر کروڑ پتی کے آمدنی کے کم از کم تین ذرائع ہوتے ہیں۔ صرف نوکری پر انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ نوکری کے ساتھ ساتھ کوئی چھوٹا کاروبار یا پارٹ ٹائم کام شروع کریں۔
​5. اخراجات پر قابو اور مالی نظم و ضبط
​امیر بننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بہت زیادہ خرچ کریں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے پاس کتنا بچتا ہے۔
​50/30/20 کا قاعدہ: اپنی آمدنی کا 50% ضروریات پر، 30% خواہشات پر اور 20% لازمی بچت اور انویسٹمنٹ پر لگائیں۔
​آپ کے لیے پہلا قدم:
​اگر آپ ابھی شروعات کر رہے ہیں، تو ان میں سے ایک راستہ چنیں:
​اگر پیسہ نہیں ہے: تو کوئی ڈیجیٹل ہنر (Skill) سیکھیں اور اسے انٹرنیٹ پر بیچنا شروع کریں۔
​اگر تھوڑا پیسہ ہے: تو اسے کسی چھوٹے کاروبار یا اسٹاک مارکیٹ/میوچل فنڈز میں لگانا شروع کریں۔
​کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس وقت آپ کی عمر کیا ہے یا آپ کیا کام کرتے ہیں؟ تاکہ میں آپ کی صورتحال کے مطابق زیادہ بہتر راستہ بتا سکوں۔

20/01/2026

دنیا میں "سب سے اچھے انسان" کا انتخاب ہر شخص کے اپنے نظریے، عقیدے اور اقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم، اس سوال کو ہم تین مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں:
​۱. مذہبی اور تاریخی لحاظ سے
​مسلمانوں کے نزدیک کائنات کے سب سے بہترین انسان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ غیر مسلم مفکرین (جیسے مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب 'The 100' میں لکھا) نے بھی آپ ﷺ کو انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ بااثر اور عظیم شخصیت قرار دیا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے اخلاق، انصاف اور انسانیت کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔
​۲. انسانیت اور اخلاق کے لحاظ سے
​عام زندگی میں "اچھا انسان" وہ ہے جس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں:
​خیر الناس من ینفع الناس: "بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔"
​جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔
​جو مشکل وقت میں دوسروں کے کام آئے اور اپنے دل میں ہمدردی رکھے۔
​۳. آپ کی اپنی زندگی میں
​بسا اوقات دنیا کا سب سے اچھا انسان وہ ہوتا ہے جو آپ کے لیے مخلص ہو۔ بہت سے لوگوں کے لیے ان کے والدین دنیا کے بہترین انسان ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی قربانی اور محبت بے لوث ہوتی ہے۔
​مختصر یہ کہ:
اچھا انسان وہ نہیں ہے جس کا عہدہ بڑا ہو، بلکہ وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو اور جس کی موجودگی سے دوسروں کو سکون ملے۔

کراچی جل رہا تھا، تیرہ کے لوگ بے گھر تھے، بلوچ قوم اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی اور یہ مینڈیٹ چور اتھارٹیز اور ان کے غیر...
20/01/2026

کراچی جل رہا تھا، تیرہ کے لوگ بے گھر تھے، بلوچ قوم اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی اور یہ مینڈیٹ چور اتھارٹیز اور ان کے غیر سیاسی سہولت کار؟

یہ حضرات شادیوں میں مصروف، مہمان بنے بیٹھے، اور عیاشی میں غرق۔ عوام کی مشکلات ان کے لیے محض ایک نظر انداز شدہ مناظر۔
عوام خوفزدہ، یہ خوش۔ ی
ہی ہے ان کی “حکمرانی” – طاقت، ظلم اور شاپنگ لسٹ کی ترجیحات!

Address

12
Swat

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when قراره راشه posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to قراره راشه:

Share