01/10/2026
113-سُورَةُ الْفَلَقِ کی تفسیر (تفسیر جلالین سے)
سورہ فلق کی وجہ تسمیہ
فَلَق کے بنیادی معنی ہیں: چیرنا، پھاڑنا، شگافتہ کرنا۔
اسی سے فَلَقُ الصُّبْحِ ہے یعنی وہ صبح جس میں رات کا اندھیرا پھٹ کر روشنی ظاہر ہوتی ہے۔
لہٰذا یہاں رَبِّ الْفَلَقِ سے مراد صبح کا رب ہے۔
سورہ فلق کا شان نزول
یہود و نصارٰی اور مشرکین حضور ﷺ سے سخت جلن اور حسد کرتے تھے اور نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے تھے ، انہی میں سے ایک یہودی لبید بن اعصم نے آپ ﷺ پر جادو کا عمل کیا، جس کا ذکر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
کہ بنی زُریق کے ایک یہودی شخص لبید بن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔
ایک دن یا ایک رات نبی کریم ﷺ میرے یہاں تشریف فرما تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں معلوم ہے میں اللہ سے جو بات پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔
میرے پاس دو (فرشتے جبرائیل و میکائیل علیہما السلام) آئے۔
ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔
ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب ﷺ کی بیماری کیا ہے؟
دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔
اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔
اس نے پوچھا: ”کس چیز میں (جادو کیا ہے)؟“ دوسرے نے بتایا: ”کنگھی اور اس سے جھڑنے والے بالوں میں۔
“ پوچھا”یہ جادو کہاں ہے؟“ اس نے جواب دیا کہ: ”ذروان کے کنویں میں۔“
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔ جب واپس آئے تو فرمایا: ”اے عائشہ! اس کنویں کا پانی مہندی کے نچوڑ جیسا سرخ تھا، وہاں کی کھجوروں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے ۔“ میں نے عرض کی : ”یا رسول اللہ ! آپ نے اس جادو کو نکالا نہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ خواہ مخواہ لوگوں میں اس کی برائی پھیلاؤں-
تفسیری روایات کے مطابق یہ جادو لبید بن اعصم نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ مل کر کیا تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ کے مبارک بال، جو کنگھی سے نکلے تھے، اور کھجور کی شاخ کا استعمال کیا، اور اس میں گیارہ گرہیں لگائیں اور ان پر سوئیاں چبھوئیں۔ پھر اس جادو کے سامان کو مدینہ منورہ کے ایک کنویں زروان کی تہہ میں ایک بھاری پتھر کے نیچے چھپا دیا۔
اس جادو کے اثر سے نبی کریم ﷺ پر ایک قسم کی ظاہری ناہمواری اور بھاری پن طاری ہو جاتی تھی، جس سے آپ ﷺ کو بعض اوقات یہ خیال ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ وہ نہیں کیا ہوتا تھا ، یہ اثر صرف آپ کی بشری کیفیت اور جسمانی صحت تک محدود تھا، نبوت، وحی یا احکامِ شریعت میں اس سے کوئی خلل نہیں آیا تھا۔
اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ سورہ فلق اور سورہ ناس اسی موقعہ پر نازل ہوئیں اور ان دونوں سورتوں میں کل گیارہ آیات ہیں
جب بھی رسول اللہ ﷺ ایک آیت تلاوت فرماتے، جادو کی ایک گرہ کھل جاتی اور آپ ﷺ کو ہلکا پن محسوس ہوتا۔
جب تمام 11 آیات مکمل پڑھ لی گئیں تو تمام گرہیں کھل گئیں اور آپ ﷺ مکمل صحتیاب ہو کر اس طرح اٹھے جیسے کوئی شخص رسیوں کی جکڑن سے آزاد ہوا ہو-
ان دونوں سورتوں کا نام معوذتَین (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) ہے