Sirat ul Jinan Academy

Call Website Contact the university

Sirat ul Jinan Academy Allama Muhammad Mansoor Maturidi belongs to Fiqh Hanafi Maslak Ahl e Sunnat Wal Jamat. Contact:
0300 2319639
0316 6010 911
(3)

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ تو اے ایمان والو! تم بھی ان ﷺ پر درود بھیجو اور بہترین سلام۔ Sirat ul Jinan Academy is owned by Allama Mansoor Maturidi (Khateeb of Jamia Masjid Faizan-e-Auliya, Karachi), conducts Islamic courses including Dars e Nizami, Alim Course, Alimah Course, Arabic Grammar Course, Quran Translation Course, Tafseer Siratul Jinan Course online. His Maternal School was Jamia Noor ul Quran, Karachi from where he completed Dars e Nizami Alim Course. Allama Mansoor Maturidi is basically a software engineer and a Microsoft Certified Professional (MCP) from Sir Syed Engineering University, Karachi, Graduated in Computer Science (BCS) from Shah Abdul Latif University, Post-Graduated from NED University, and Mastered in Business Administration (MBA) from Federal Urdu University. His Android Application of Arabic Morphology (ILM US SARF) is available on the Google Play store and used by thousands of Dars e Nizami Students.

01/10/2026

113-سُورَةُ الْفَلَقِ کی تفسیر (تفسیر جلالین سے)
سورہ فلق کی وجہ تسمیہ
فَلَق کے بنیادی معنی ہیں: چیرنا، پھاڑنا، شگافتہ کرنا۔
اسی سے فَلَقُ الصُّبْحِ ہے یعنی وہ صبح جس میں رات کا اندھیرا پھٹ کر روشنی ظاہر ہوتی ہے۔
لہٰذا یہاں رَبِّ الْفَلَقِ سے مراد صبح کا رب ہے۔

سورہ فلق کا شان نزول
یہود و نصارٰی اور مشرکین حضور ﷺ سے سخت جلن اور حسد کرتے تھے اور نقصان پہنچانے کی کوششیں کرتے رہتے تھے ، انہی میں سے ایک یہودی لبید بن اعصم نے آپ ﷺ پر جادو کا عمل کیا، جس کا ذکر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
کہ بنی زُریق کے ایک یہودی شخص لبید بن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔

ایک دن یا ایک رات نبی کریم ﷺ میرے یہاں تشریف فرما تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں معلوم ہے میں اللہ سے جو بات پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔

میرے پاس دو (فرشتے جبرائیل و میکائیل علیہما السلام) آئے۔
ایک میرے سر کی طرف کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی طرف۔

ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب ﷺ کی بیماری کیا ہے؟

دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔

اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔

اس نے پوچھا: ”کس چیز میں (جادو کیا ہے)؟“ دوسرے نے بتایا: ”کنگھی اور اس سے جھڑنے والے بالوں میں۔

“ پوچھا”یہ جادو کہاں ہے؟“ اس نے جواب دیا کہ: ”ذروان کے کنویں میں۔“

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔ جب واپس آئے تو فرمایا: ”اے عائشہ! اس کنویں کا پانی مہندی کے نچوڑ جیسا سرخ تھا، وہاں کی کھجوروں کے سر شیطانوں کے سروں جیسے تھے ۔“ میں نے عرض کی : ”یا رسول اللہ ! آپ نے اس جادو کو نکالا نہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے عافیت دے دی ہے، اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ خواہ مخواہ لوگوں میں اس کی برائی پھیلاؤں-

تفسیری روایات کے مطابق یہ جادو لبید بن اعصم نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ مل کر کیا تھا، اس نے رسول اللہ ﷺ کے مبارک بال، جو کنگھی سے نکلے تھے، اور کھجور کی شاخ کا استعمال کیا، اور اس میں گیارہ گرہیں لگائیں اور ان پر سوئیاں چبھوئیں۔ پھر اس جادو کے سامان کو مدینہ منورہ کے ایک کنویں زروان کی تہہ میں ایک بھاری پتھر کے نیچے چھپا دیا۔

اس جادو کے اثر سے نبی کریم ﷺ پر ایک قسم کی ظاہری ناہمواری اور بھاری پن طاری ہو جاتی تھی، جس سے آپ ﷺ کو بعض اوقات یہ خیال ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ وہ نہیں کیا ہوتا تھا ، یہ اثر صرف آپ کی بشری کیفیت اور جسمانی صحت تک محدود تھا، نبوت، وحی یا احکامِ شریعت میں اس سے کوئی خلل نہیں آیا تھا۔

اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ سورہ فلق اور سورہ ناس اسی موقعہ پر نازل ہوئیں اور ان دونوں سورتوں میں کل گیارہ آیات ہیں
جب بھی رسول اللہ ﷺ ایک آیت تلاوت فرماتے، جادو کی ایک گرہ کھل جاتی اور آپ ﷺ کو ہلکا پن محسوس ہوتا۔

جب تمام 11 آیات مکمل پڑھ لی گئیں تو تمام گرہیں کھل گئیں اور آپ ﷺ مکمل صحتیاب ہو کر اس طرح اٹھے جیسے کوئی شخص رسیوں کی جکڑن سے آزاد ہوا ہو-
ان دونوں سورتوں کا نام معوذتَین (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) ہے

30/09/2026

112-سُورَةُ الْاِخْلَاصِ کی تفسیر جلالین
اخلاص کے معنی ہیں: کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک کرنا، خالص کرنا۔
اس سورت کو اخلاص اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی وحدانیت کو انتہائی خالص انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
سورہ اخلاص کا شان نزول
جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کو بتوں کی پوجا سے روکا اور اللہ کی عبادت کی دعوت دی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کو تو ہم بھی مانتے ہیں لیکن جس اللہ کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں، وہ کیسا ہے؟ اس کا نسب کیا ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ تو یہ سورۃ نازل ہوئی۔
مکہ کے مشرکین اللہ تعالیٰ کے وجود سے بالکل ناواقف نہیں تھے۔ قرآن خود بتاتا ہے کہ اگر ان سے پوچھا جاتا کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا، سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا، تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا نام لیتے تھے۔
لیکن ان کا اصل مسئلہ توحیدِ عبادت تھا۔
وہ اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کے باوجود اس کے ساتھ دوسرے معبود بنا لیتے تھے۔
یعنی ان کے ہاں یہ تصور موجود تھا کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا معبود ہے، لیکن اس کے ساتھ بتوں کی فوج بھی ہے، اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اُن بتوں کی عبادت لازمی ہےتا کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں، یہ ایک عجیب و غریب عقیدہ تھا کیونکہ بتوں کی عبادت کرنے سے بتوں کا قرب حاصل ہو گا نہ کہ اللہ کا۔
سورۃ الاخلاص نے اس باطل عقیدے کی بنیاد ہی جڑ سے ختم کردی
رہی بات ہم مسلمانوں کی۔ کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ شافع محشر ہیں اور وہ گناہ گاروں کی شفاعت فرمائیں گے، تو اس عقیدے اور مشرکین مکہ کے عقیدے میں زمین آسمان کا فرق ہے، کیونکہ ہم مسلمان رسول اللہ ﷺ کی عبادت نہیں کرتے۔
اللہ تعالی نے فرمایا کہ آپ ﷺ ان کو بتا دیجئے کہ وہ اللہ ایک ہے، جبکہ تمہارے بت تو بے شمار ہیں
اللہ بے نیاز ہے ، سب اس کے محتاج ہیں، سب کو اللہ کی ضرورت ہے لیکن اللہ کو کسی کی ضرورت نہیں۔
اللہ کسی کی اولاد نہیں نہ ہی اللہ کی کوئی اولاد ہے، اور کوئی بھی اللہ کا ہم مثل نہیں

🌙 فرض علوم کورس — آن لائن 🌙وہ تمام احکام جو ہر مسلمان پر سیکھنا فرض ہیں۔📚 کورس میں شامل اہم موضوعات:• عقائدِ اسلام مع دل...
30/09/2026

🌙 فرض علوم کورس — آن لائن 🌙

وہ تمام احکام جو ہر مسلمان پر سیکھنا فرض ہیں۔

📚 کورس میں شامل اہم موضوعات:
• عقائدِ اسلام مع دلائل
• حقوق اللہ اور حقوق العباد
• عقیدۂ ختمِ نبوت اور شانِ رسالت ﷺ
• نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے مسائل
• طہارت و نجاست کے مسائل
• محرم نامحرم، نکاح اور طلاق کے احکام
• حقوقِ زوجین اور حقوق والدین
• اور بہت کچھ
💻 لائیو Zoom کلاسز
⏰ کلاس کا دورانیہ: 1 گھنٹہ
📅 ہفتے میں: 5 دن (پیر تا جمعہ)
📖 کورس کی مدت: 6 ماہ
👥 عمر کی کوئی حد نہیں
✅ پورے کورس کی فیس 12ہزار روپے

🏛️ صراط الجنان اکیڈمی
📱 +92 316 6010911
0312 1205506
https://www.siratacademy.com.pk/

29/09/2026

111-سُورَةُ المَّسَدِ | تفسیر جلالین
مَسَد کا معنی ہے بٹی ہوئی مضبوط رسی جو کھجور کے درخت کی چھال سے بنتی ہے۔چونکہ سورت کے آخر میں مَسَد کا لفظ آیا ہے، اس لیے اسے سورۃ المسد کہا جاتا ہے
اس سورۃ میں ابو لہب اور اس کی بیوی کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے
ابو لہب کا اصل نام عَبْدُ الْعُزّٰى تھا اور یہ رسول اللہ ﷺ کا چچا تھا، اس کو ابو لہب اس لئے کہا جاتا تھا کہ اس کا چہرے کا رنگ آگ کی طرح سرخ اور پیلا تھا
ابو لہب کی بیوی جس کا نام ام جمیل تھا ، کانٹے دار لکڑیاں لاکر رسول اللہ ﷺ کے راستے میں ڈالتی تھی تاکہ آپ ﷺ کو تکلیف پہنچے، وہ لکڑیاں جس رسی سے باندھ کر لاتی تھی، اس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قہر نازل فرمایا کہ اس عورت کی گردن میں اب جہنم کی رسی ہو گی اور جہنم میں یہ اپنے جلتے ہوئے شوہر کی آگ پر لکڑیاں لا لاکر ڈالے گی، تاکہ آگ مزید بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے دونوں پر عذاب ہوگا، یعنی جس طرح یہ دنیا میں رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دینے میں اپنے شوہر کی مددگار تھی، جہنم میں بھی اس کی مدد گار ہوگی

سورہ مسد کا شان نزول

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو حکم دیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو کھلم کھلا اللہ کے عذاب سے ڈرائیں تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو صفا پہاڑی پر جمع کیا۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سورۃ الشُعرہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ -"اور اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔"
تو نبی کریم ﷺ صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے اور پکارا کہ : اے بنی فہر! اے بنی عدی!
یعنی قریش کے مختلف خاندانوں کو آواز دینے لگے، یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہوگئے۔ اور اگر کوئی شخص خود نہ آسکتا تھاتو اس نے کسی دوسرے آدمی کو بھیج دیا تاکہ معلوم کرے کہ کیا معاملہ ہے۔
چنانچہ ابو لہب اور قریش کے لوگ بھی آگئے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ پیچھے اس وادی میں ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے؟
انہوں نے کہا:ہاں، ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا ہی پایا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:تو میں تمہیں اللہ کے ایک سخت عذاب سے پہلے خبردار کرنے والا ہوں۔
اس پر ابو لہب نے کہا:
تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا-؟تمہارے لیے سارا دن ہلاکت ہو! کیا تم نے ہمیں اسی بات کے لیے جمع کیا تھا؟
چنانچہ یہ آیات نازل ہوئیں:تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ۝مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ۝
" تباہ ہو جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہوہی گیا۔ اس کے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور کمائی۔"
مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بددعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی ﷺ کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔چنانچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوا، جس میں طاعون کی طرح گلٹیاں سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ تین دن تک اس کی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہوگئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور شرم کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔

28/09/2026

سُورَةُ النَّصْرِ | تفسیر جلالاین

نصر کا عام مطلب ہے مدد، نصرت اور کامیابی۔
اور اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنی نصرت، فتحِ مکہ اور لوگوں کے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے کی خوش خبری دی، اور ان عظیم کامیابیوں کے موقع پر مسلمانوں کو تسبیح، حمد اور استغفار کا حکم فرمایا کہ جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے، اور آپ ﷺ لوگوں کو دیکھیں کہ وہ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں، تو تمام مسلمان اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کریں اور اس سے مغفرت طلب کرتے رہیں
پس منظر اور شان نزول
رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک توحید کی دعوت دی۔ قریش نے آپ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مخالفت کی، انہیں طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں اور مسلمانوں کو مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔
بالآخر رسول اللہ ﷺ نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی اور وقت گزرنے کے ساتھ مسلمانوں کی قوت میں اضافہ ہوتا گیا۔
6 ہجری میں رسول اللہ ﷺ چودہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔تو قریش نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس موقع پر صلحِ حدیبیہ کا معاہدہ ہوا۔
اس معاہدے کی ایک اہم شرط یہ تھی کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی۔
ایک شق یہ تھی کہ عرب کا کوئی بھی قبیلہ فریقین میں سے کسی کا بھی اتحادی بن سکتا ہے۔ چنانچہ قبیلہ بنو خزاعہ مسلمانوں کا اتحادی بن گیا اور قبیلہ بنو بکر قریشِ مکہ کا اتحادی بن گیا۔
اس کے بعد ہوا یوں کہ ایک رات بنو بکر نے رات کی تاریکی میں بنو خزاعہ پر اچانک حملہ کر دیا ، قریشِ مکہ کو چاہئے تھا کہ وہ ان سے اتحاد ختم کر کے انہیں سزا دیتے لیکن قریشِ مکہ نے ان کو چھپ کر ہتھیار اور فوجی فراہم کئے۔ اس طرح معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو گئی۔
بنو خزاعہ کے لوگوں نے حرمِ کعبہ میں پناہ لے لی، لیکن اس بنو بکر اور قیشِ مکہ نے انہیں قتل کر دیا
بنو خزاعہ کےباقی لوگ مدد کے لیے مدینہ منورہ پہنچے اور رسول اللہ ﷺ سے فریاد کی۔
نبی کریم ﷺ نے قریش سے رابطہ کیا اور ان کے سامنے چند شرائط رکھیں جنہیں انہوں نے غرور میں ٹھکرا دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے 10 رمضان 8 ہجری کو دس ہزار صحابہ کرام کے لشکرِ جرار کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی کا حکم فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنے لشکر کو چار مختلف سمتوں سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور سخت تاکید فرمائی کہ جب تک تم پر حملہ نہ کیا جائے، تم تلوار نہیں اٹھاؤ گے
مکہ والوں نے جب مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھی تو انہیں اندازہ ہوگیا کہ اب وہ مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اور یہ سب اپنے گھروں میں چھپ گئے، اور اسلامی لشکر بغیر کسی جنگ کے فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہو گیا۔ اور مکہ فتح ہو گیا
مکہ کے لوگ خوف زدہ تھے۔
وہ تمام بڑے سردار اور ابوجہل و ابو لہب کے ساتھی خوف و ہراس میں کعبہ کے صحن میں جمع تھے جنہوں نے 13 سال تک آپ ﷺ پر پتھر برسائےتھے ، صحابہ کو تپتی ریت پر لٹایا تھا اور آپ ﷺ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا
رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: "تمہیں معلوم ہے کہ آج میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟" انہوں نے کہا: "آپ سخی بھائی اور سخی بھتیجے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
آج تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ-"جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔"
اس میں فتحِ مکہ کی طرف واضح اشارہ ہے۔
اس کے بعد عرب کے دور دراز علاقوں سے سو سو، دو دو سو افراد کے قبیلے اور وفود مدینہ منورہ آ کر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے اور یوں پورا عرب فوج در فوج دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا، حالانکہ اس سے پہلے لوگ ایک ایک دو دو کر کے اسلام میں داخل ہوا کرتے تھے
اسی لئے ارشاد فرمایا کہ : وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا- فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ
اور آپ لوگوں کو دیکھ لیں کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں، تو مسلمان اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کریں اور اس سے استغفار کریں، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا ہے
یعنی: فتح کا جشن منانے کے بجائے مسلمانوں کو چاہئے کہ اللہ کی تسبیح اور حمد بیان کریں، کیونکہ اصل فتح تو اللہ کی نصرت سے حاصل ہوئی ہے۔ اور وہ کفار مکہ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے وہ اپنے پچھلے مظالم پر اللہ سے توبہ کریں

27/09/2026

109-سُورَةُ الْکَافِرُوْنَ | Tafseer e Jalalain
سورۃ الکافرون کی وجہ تسمیہ
الکافرون کا عام مطلب ہے تمام کفار۔لیکن اس سورت میں بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کے بارے میں اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر وشرک پر ہوگا۔ اور پھر اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی اور نبی ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا
شان نزول
جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں لوگوں کو توحید کی دعوت دے رہے تھے اور کفارِ مکہ کے باطل معبودوں کی تردید فرما رہے تھے۔اورقریش کے سرداروں نے جب دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کسی صورت اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے تو انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ایک سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی۔
ان کی تجویز یہ تھی کہ ہم آپ کے اللہ کی عبادت کرلیتےہیں لیکن آپ بھی ہمارے بتوں کی عبادت کریں؛ اس طرح دونوں طرف سے کچھ نہ کچھ اشتراک ہو جائے۔
کچھ سرداروں نے یہ بھی پیشکش کی کہ ایک سال وہ اللہ کی عبادت کریں گے اور ایک سال آپ ﷺ ان کے بتوں کی عبادت کریں۔
ان سرداروں میں ولد الزّناولید بن مغیرہ، عاص بن وائل اورامیّہ بن خلف شامل تھے
ان کی پیشکش کے رد میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ
آپ ﷺ ان کافروں کو بتا دیں کہ میں ان جھوٹے معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو، اور نہ تم اُس معبودِ واحد کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں ، اس لئے جان لو کہ میں تمہارے بتوں کی عبادت نہیں کروں گا اور مجھے بھی معلوم ہے کہ تم بھی اللہ کی عبادت نہیں کروگے، اس لئے تمہارے لئے تمہارا جھوٹا دین اور میرے لئے میرا سچا دین۔

26/09/2026

108-سُورَةُ الْکَوْثَر | Tafsee e Jalalain
سورۂ کوثر کی وجہ تسمیہ
اس سورت میں حوضِ کوثر کا ذکر ہے اسی وجہ سے اس کا نام سورہ کوثر رکھا گیا۔
شان نزول
مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور میں جب آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت کا آغاز فرمایا، تو قریش کے سرداروں نے آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اسی دوران آپ ﷺ کو شدید خانگی صدمات کا سامنا کرنا پڑا؛ آپ ﷺ کے دونوں فرزند (حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما) بچپن ہی میں یکے بعد دیگرے وفات پا گئے۔
عرب معاشرے میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کی نرینہ اولاد (بیٹا) نہ رہے، اسے وہ "اَبْتَر" کہتے تھے، جس کا مطلب تھا: "بے اولاد، محروم، یا وہ شخص جس کا کوئی نام لیوا نہ بچے اور اس کی موت کے بعد اس کا تذکرہ ختم ہو جائے"۔
جب آپ ﷺ کے صاحبزادے انتقال کر گئے، تو مکہ کے بدبخت سرداروں (خصوصاً عاص بن وائل، عقبہ بن ابی معیط اور ابو لہب وغیرہ) نے خوشیاں منائیں اور آپ ﷺ کو معاذ اللہ 'ابتر' کہنا شروع کر دیا تاکہ مکہ میں آپ ﷺ کی دعوت کو کمزور کیا جا سکے اور لوگ یہ سوچیں کہ کچھ سالوں بعد (نعوذ باللہ) اس تحریک کا نام لینے والا کوئی نہیں رہے گا۔
تسلیِ ربانی کا نزول
جب رسول اللہ ﷺ اپنے بچوں کی وفات کے غم اور دشمنوں کے ان طعنوں سے رنجیدہ خاطر تھے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے دلِ مبارک کو ڈھارس بندھانے اور دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے یہ سورت نازل فرمائی۔
حدیثِ مبارکہ کا مفہوم: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ ﷺ پر ایک غنودگی سی طاری ہوئی۔ پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنا سرِ مبارک اٹھایا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے"، پھر آپ ﷺ نے بسم اللہ پڑھ کر سورۃ الکوثر تلاوت فرمائی اور پوچھا: "کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟" ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر خیرِ کثیر ہے اور قیامت کے دن میری امت اس پر پانی پینے آئے گی"۔ (صحیح مسلم)
سورت کا بنیادی پیغام
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ سے تین باتیں فرمائیں:
عطائے کوثر: اے محبوب! آپ غم نہ کریں، ہم نے آپ کو دنیا و آخرت میں "کوثر" (خیرِ کثیر اور جنت کا حوض) عطا کر دیا ہے۔ آپ کا تذکرہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔
شکرانے کا حکم: اس عظیم نعمت کے شکرانے میں آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔
دشمن کی بربادی: آپ کو ابتر کہنے والا عاص بن وائل خود ہی ابتر (بے نام و نشان اور خیر سے محروم) ہے؛ اس کی نسل اور نام لیوا کوئی نہیں رہے گا، جبکہ آپ کا نام قیامت تک بلند رہے گا۔

✨ آن لائن ترجمہ و تفسیر کورس ✨دلوں کو سکون دینے والی تعلیم 📖🕊️✨ کورس کی اہم خصوصیات:1️⃣ لفظ بہ لفظ ترجمہ2️⃣ با محاورہ آس...
25/09/2026

✨ آن لائن ترجمہ و تفسیر کورس ✨
دلوں کو سکون دینے والی تعلیم 📖🕊️

✨ کورس کی اہم خصوصیات:
1️⃣ لفظ بہ لفظ ترجمہ
2️⃣ با محاورہ آسان ترجمہ
3️⃣ قرآنی واقعات اور شانِ نزول
4️⃣ آسان تفسیر صراط الجنان
5️⃣ احکامِ شریعت
6️⃣ اسلامی عقائد اور آداب

📌 کورس کی تفصیلات:
• 👩‍🏫 صرف خواتین کے لیے
• ⏳ عمر کی کوئی حد نہیں
• 🎓 ڈیجیٹل سرٹیفائیڈ کورس
• 📅 دورانیہ: 1 سال (2 سمسٹرز)
• ⏰ لائیو کلاس کا وقت: 1 گھنٹہ (ہفتے میں 5 دن لگاتار)
• 🎥 ریکارڈنگ بھی فراہم کی جائے گی
• 💰 مناسب سمسٹر وائز فیس (Reasonable semester wise fees)
• 🕌 مسلک اہلِ سنت و جماعت

👨‍🏫 زیرِ اہتمام: علامه منصور ماتریدی

🏫 ادارہ: صراط الجنان اکیڈمی

📞 واٹس ایپ / رابطہ:
+92 316 6010911
0312 1205506
🌐 ویب سائٹ:
www.SiratAcademy.com.pk

🌿 *قرآنِ کریم کو سمجھنے کا خوبصورت سفر شروع کیجیے!* 🌿📖 *تفسیرِ قرآن کورس*قرآنِ کریم صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے سمجھ...
25/09/2026

🌿 *قرآنِ کریم کو سمجھنے کا خوبصورت سفر شروع کیجیے!* 🌿

📖 *تفسیرِ قرآن کورس*
قرآنِ کریم صرف پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے سمجھنے، غور کرنے اور اپنی زندگی میں رہنمائی کا ذریعہ بنانے کے لیے بھی ہے۔

اسی مقصد کے تحت صراطُ الجنان اکیڈمی، کی جانب سے تفسیرِ قرآن کورس کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس میں قرآنِ کریم کی آیات کا مفہوم، تشریح اور اہم دینی نکات آسان اور عام فہم انداز میں بیان کیے جائیں گے۔

✨ قرآن کو سمجھنے کی خواہش رکھنے والے تمام احباب کے لیے ایک بہترین موقع۔

📚 *تفسیرِ قرآن — علم بھی، فہم بھی، عمل کی ترغیب بھی*

🌸 آئیے! قرآنِ کریم کے ساتھ اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنائیں اور اس کے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

📍 صراطُ الجنان اکیڈمی
📩 مزید معلومات اور داخلے کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔
03166010911
0312 1205506

25/09/2026

107-سُورَةُ الْمَاعُونَ
سورۂ ماعون کی وجہ تسمیہ
اَلْمَاعُون سے مراد وہ معمولی اور روزمرہ استعمال کی چیزیں ہیں جو لوگ ایک دوسرے کو عاریتاً دے دیتے ہیں، جیسے برتن، اوزار، بالٹی، رسّی، سوئی، نمک، چینی اور اس جیسی دیگر اشیاء۔ اس سورت میں ایسے لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو معمولی ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو دینے سے منع کردیتے ہیں، اسی مناسبت سے اس کا نام سورۃ الماعون رکھا گیا۔
شان نزول
سورۃالماعون کا مرکزی مقصد کسی ایک شخص کا بیان نہیں، بلکہ تمام کفار و منافقین کی مجموعی طور پر مذمت کرنا ہے
اس سورہ کی ابتدائی آیات عمومی طور پر تمام کفارِ مکہ اور خصوصی طور پر عاص بن وائل سہمی، ولید بن مغیرہ، ابو جہل اور ابوسفیان بن حرب کی مذمت میں نازل ہوئیں جو دینِ آخرت کو جھٹلاتے تھے، یتیموں پر ظلم کرتے تھے ، مسکینوں کو کھانا کھلانے سے دوسروں کو روکتے تھے ، نہ خود کھلاتے تھے نہ دوسروں کو کھلانے دیتے تھے
ابن جُریح روایت کرتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب (جب حالت کفر میں تھے) ہر ہفتے ایک اونٹ ذبح کیا کرتے تھے۔ ایک دن ایک یتیم بچہ ان کے پاس آیا اور گوشت میں سے کچھ مانگا۔ انہوں نے اسے کچھ دینے کے بجائے اپنی لاٹھی سے جھڑک کر مارا اور دھکے دے کر بھگا دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں
جبکہ آخری آیات اُن منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے نماز پڑھتے تھے

Address

Tabuk

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sirat ul Jinan Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Sirat ul Jinan Academy:

Share