30/12/2024
دوپہر سے واخان تک
اجمل خٹک کے بیٹے ایمل خٹک نے اردو زبان میں لکھا کہ (پاک فوج واخان کوریڈور پر قبضہ کی کوشش کر سکتی ہے)۔ ایک تو ان "دو سرے خانوں" کی موجودہ نسل، جیسے افراسیاب، ایمل وغیرہ سے کہنا ہے کہ خدا کے لیے، بس کر دو۔ اب کہیں تبلیغ میں لگ جاؤ۔
آپ ایک بار اپنے پچھلے ستر سالوں کی سیاست اور ناکام کردار پر نظر ڈالیں، کیا کہا تھا اور کیا بنا دیا۔ دین پر تو آپ کا یقین نہیں، مگر آپ نے پشتونولی اور انسانیت کو بھی دو کوڑی کا کر دیا۔ اجمل خٹک نے تیس سال ہندوستان اور سوویت یونین کی خفیہ فنڈنگ کھائی۔ داؤد خان کو پنجاب سے دشمنی پر لگا دیا، کہتا تھا آزاد پشتونستان بناؤں گا۔ مگر آخر میں مرد بن کر پرویز مشرف سے بیعت کر لی اور نعرہ بلند کیا کہ مضبوط پاکستان چاہیے۔
افراسیاب، ایمل ولی وغیرہ جیسے باقی لوگوں کا تو آج تک یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ انڈے دے رہے ہیں یا بچے پیدا کر رہے ہیں، کس طرف ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ اجمل خٹک کے بیٹے کو ان خاص جنگی حالات میں پنجاب کی طرف سے نفسیاتی جنگ کا محاذ سونپا گیا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ پاک فوج واخان پر قبضہ کرے گی۔ اسے یہ کہنا ہے کہ اگر ناپاک فوج نے واخان پر حملہ کیا، تو ممکن ہے کہ تم اور افراسیاب بھی افغانستان کے لیے غنیمت میں ہاتھ آ جاؤ۔
اگر واخان کی بات کریں، تو واخان کبھی ایک بھولی ہوئی سرزمین تھی۔ لیکن پچھلے تین سالوں سے افغانستان کے اس ٹکڑے کا مالک مل چکا ہے۔ وہاں پہلی بار وزارت دفاع کی بٹالینز فعال ہو چکی ہیں۔ وزارتی سطح کے حکام نے دنوں کے پیدل سفر کے بعد واخان کے چپے چپے تک رسائی حاصل کی ہے۔ وہاں کے لوگوں کو اسکول، مدرسہ، کلینک، سڑکیں اور دیگر سہولیات ملی ہیں۔ وزارت دفاع کی کاوشوں کی بدولت چین کے ساتھ زیرو پوائنٹ تک سڑک تعمیر ہو چکی ہے۔
واخان اب اپنے مالک کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا، واخان پر حملہ پورے افغانستان پر حملہ ہے۔ اور پورے افغانستان پر حملے کے نتائج تاریخ میں دیکھے جا سکتے ہیں کہ یہ لقمہ سکندر، چنگیز، گورگین، انگریز، سوویت یونین اور امریکہ کے لیے کیسا ثابت ہوا۔