Jame Ashraf

Directions

Jame Ashraf Jame Ashraf Is An Islamic University In Kichaucha Shareef Uttar Pradesh

04/10/2026

طلبۂ گنگناتے ہوئے
A glimpse into the daily life at Jame Ashraf in Kichhauchha Shareef. Drop a comment if you have ever visited this blessed institution!

  درگاہ کچھوچھہ شریف امبیڈکر نگر یوپی کا ایک خوبصورت اور حسین منظر
04/10/2026

درگاہ کچھوچھہ شریف امبیڈکر نگر یوپی کا ایک خوبصورت اور حسین منظر

عالم ربانی کے یوم وصال کی مناسبت سے
27/09/2026

عالم ربانی کے یوم وصال کی مناسبت سے

27/09/2026
" انتقال پُرملال" نہایت غمناک خبر ہے کہ سرزمین راج محل کی عظیم المرتبت شخصیت مؤلف "حیات محدث اعظم" حضرت مولانا ذاکر حسین...
25/09/2026

" انتقال پُرملال"
نہایت غمناک خبر ہے کہ سرزمین راج محل کی عظیم المرتبت شخصیت مؤلف "حیات محدث اعظم" حضرت مولانا ذاکر حسین مصباحی اشرفی کا آج ١٢ ربیع الثانی ١٤٤٨ ھ / ٢٤ ستمبر ٢٠٢٦ بروز جمعہ بوقت صبح انتقال ہوگیا انا للہ و انا الیہ رجعون
کافی دنوں سے علیل تھے، اللہ عزوجل ان کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ــــــــــ

21/09/2026

The beautiful mosque of Jame Ashraf. Have you ever visited this blessed place?

16/08/2026

80 واں یوم آزادی کے پر بہار موقعے پر صدر المدرسین جامع اشرف درگاہ کچھوچھہ شریف کا خوبصورت بیان سماعت فرمائیں!

عالم اسلام کو جامع اشرف کی طرف سے ماہ میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم مبارک ہو ❤️
14/08/2026

عالم اسلام کو جامع اشرف کی طرف سے ماہ میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم مبارک ہو ❤️

04/08/2026

حضرت ممتاز الفقہاء، استاذ العلماء مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی بھاگلپوری علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور آئندہ بھی اہلِ علم و اربابِ قلم ان کے علمی نقوش کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ تاہم اکابر کی عظمت کو الفاظ کے پیمانوں میں ناپا نہیں جا سکتا، البتہ اہلِ محبت اپنے ظرف کے مطابق عقیدت کے چراغ ضرور روشن کرتے رہتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون بھی حضرت ممتاز الفقہاء مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کے ایک فیض یافتہ اور تربیت یافتہ شاگرد کی عاجزانہ پیش کش ہے، جس میں استادِ محترم کے علمی احسانات، تربیتی فیوض اور روحانی نسبت کے اعتراف میں سپاس و محبت کے چند اوراق رقم کیے گئے ہیں۔ قاری اسے ایک شاگرد کے قلبی تاثرات کے آئینے میں ملاحظہ فرمائیں۔

ــــــــــــــــــــ وہ جو چراغِ جامع اشرف تھے ــــــــــــــــــــ

ممتازُ الفقہاء حضرت علامہ بھاگلپوری علیہ الرحمہ کے یومِ وصال پر خراج عقیدت

زمانہ کبھی کبھی ایسی ہستیوں کو جنم دیتا ہے جن کے وجود سے اداروں کو وقار، درسگاہوں کو اعتبار، علمی مجالس کو رونق اور طالبانِ علوم نبویہ کو سمت و رہنمائی نصیب ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے، جن کا علم محض کتابوں تک محدود نہیں بلکہ سینوں میں اترنے والا، کردار میں ڈھلنے والا اور نسلوں کو سنوارنے والا ہوتا ہے۔ ایسے ہی نفوسِ قدسیہ میں ایک درخشاں نام ممتاز الفقہاء، جامع معقول و منقول، استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی بھاگلپوری علیہ الرحمہ کا ہے، جن کی یاد آج بھی جامع اشرف کے در و دیوار سے جھانکتی اور ہزاروں شاگردوں کے قلوب کو گرما دیتی ہے۔

آج ٢٠ صفر المظفر ہے؛ وہی تاریخ جس نے تین برس قبل جامع اشرف کے افق سے علم و فضل کے ایک ایسے آفتاب کو غروب ہوتے دیکھا، جس کی شعاعوں سے ایک نہیں بلکہ کئی نسلیں منور ہوئیں۔ اگرچہ قدرت کا یہی اٹل فیصلہ ہے کہ ہر ذی روح نے ایک دن اس دار فانی سے کوچ کرنا ہے، لیکن بعض رحلتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بعد صرف ایک فرد نہیں جاتا، بلکہ علم کا ایک باب بند ہو جاتا ہے، ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور ایک خاموشی مدتوں تک اہل علم کے دلوں میں گونجتی رہتی ہے۔

حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ انہی نابغۂ عصر شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس، فقہ و افتاء، تربیت و اصلاح اور اشاعتِ علومِ اہلِ سنت کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی ذات میں علم کی گہرائی بھی تھی اور عمل کی روشنی بھی، تحقیق کا وقار بھی تھا اور اخلاص کی خوشبو بھی، فقاہت کی متانت بھی تھی اور تصوف کی لطافت بھی۔ آپ کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ اکابرینِ اہلِ سنت کی علمی و روحانی روایت آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے۔

جامع اشرف سے آپ کا تعلق صرف ایک مدرس یا صدر شعبۂ افتاء کا نہ تھا، بلکہ آپ اس ادارے کی علمی روایت کے امین، اس کی تدریسی عظمت کے محافظ اور اس کے امتیازی تشخص کے معماروں میں سے تھے۔ جامع اشرف کی علمی فضا میں آپ کی شبانہ روز محنت، خاموش خدمت اور مخلصانہ کاوشوں کی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس ادارے کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی تو حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کا نام نہایت احترام، عقیدت اور امتیاز کے ساتھ لیا جائے گا۔

دورۂ حدیث کی تدریس آپ کا ایسا میدان تھا جس میں آپ کو امتیازی ملکہ حاصل تھا۔ آپ کا درس محض عبارت خوانی نہیں بلکہ فکر و نظر کی تربیت، استنباط احکام کی مشق اور فہم حدیث کی ایک زندہ درسگاہ ہوتا تھا۔ حدیث کے دقیق مباحث ہوں یا فقہی جزئیات، ائمۂ مجتہدین کے اختلافات ہوں یا محدثین کے مناہج، آپ ہر موضوع پر ایسی محققانہ، متوازن اور دلنشیں گفتگو فرماتے کہ طلبہ نہ صرف مسئلہ سمجھتے بلکہ اس کے پس منظر اور اس کے علمی اسرار سے بھی آشنا ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے بے شمار تلامذہ آج بھی اعتراف کرتے ہیں کہ علمِ حدیث کا ذوق، فقہ کی بصیرت اور تحقیق کا سلیقہ انہیں اپنے اسی عظیم استاذ کے زانوئے تلمذ میں نصیب ہوا۔

فقہ و افتاء کے میدان میں بھی آپ کا مقام اہلِ علم سے مخفی نہیں۔ آپ کے قلم سے صادر ہونے والے فتاویٰ محض جوابات نہیں ہوتے تھے بلکہ تحقیق، احتیاط، اصولِ فقہ کی پاسداری اور نصوصِ شرعیہ کے عمیق فہم کا حسین امتزاج ہوتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ افتاء کے منصب کی نزاکت کو ملحوظ رکھا اور ہر مسئلے میں عجلت کے بجائے تدبر، تحقیق اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اہلِ علم آپ کی فقہی بصیرت پر اعتماد کرتے اور آپ کی رائے کو وقعت و اعتبار کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی قوتِ حافظہ، وسعتِ مطالعہ اور حاضر دماغی سے بھی نوازا تھا۔ شاید ہی کوئی علمی موضوع ایسا ہوتا جس پر آپ فی البدیہہ گفتگو نہ فرما سکتے ہوں۔ فقہ، حدیث، تفسیر، عقائد، سیرت، تاریخ، ادب یا دیگر علوم ہر موضوع پر آپ کی خطابت سننے والوں کو اس بات کا احساس دلاتی تھی کہ یہ شخص صرف کتابوں کا قاری نہیں بلکہ علوم اسلامیہ کا ایک زندہ امین ہے۔ آپ کی گفتگو میں علم کی پختگی، استدلال کی قوت اور بیان کی شیرینی اس طرح جمع ہو جاتی کہ سامعین بے اختیار محوِ سماعت رہ جاتے۔

جامع اشرف کی ان علمی روایات میں جن پر آج بھی اہلِ علم بجا طور پر فخر کرتے ہیں، مسابقۂ حفظ احادیث کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس مبارک علمی تحریک کی آبیاری اور اس کے استحکام میں حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ اس مبارک سلسلے کے اہم ارکان اور سرگرم متحرکین میں شمار ہوتے تھے۔ طلبہ کے سینوں کو احادیثِ نبویہ کے انوار سے منور دیکھنا آپ کی قلبی آرزو تھی۔ اسی لیے آپ نہ صرف اس مسابقے کی نگرانی فرماتے بلکہ طلبہ کی حوصلہ افزائی، رہنمائی اور علمی تربیت میں بھی غیر معمولی دلچسپی لیتے تھے۔ آج اس مسابقے کی جو عظمت اور مقبولیت دکھائی دیتی ہے، اس میں حضرت کی خاموش مگر مخلصانہ جدوجہد کا بھی ایک روشن حصہ شامل ہے۔

حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کی شخصیت کا ایک نہایت حسین پہلو ان کی بے نفسی، تواضع اور صوفیانہ مزاج تھا۔ علم و فضل کی اس بلندی پر فائز ہونے کے باوجود ان کی طبیعت میں نہ تکلف تھا، نہ خودنمائی اور نہ منصب کا احساس۔ سادگی ان کا شعار، خاموشی ان کا زیور، اخلاص ان کی پہچان اور خدمتِ دین ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر شخص یہی محسوس کرتا تھا کہ وہ ایک ایسے مرد خدا کی صحبت میں ہے جس کے دل میں علم کے ساتھ خوفِ خدا بھی موجزن ہے۔

جامع اشرف کی علمی اور تدریسی تاریخ کا تذکرہ حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کے بغیر ادھورا معلوم ہوتا ہے۔ اس ادارے کی ترقی، اس کی علمی وقعت، اس کے تدریسی نظم اور اس کے فقہی ذوق کی آبیاری میں آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جامع اشرف کو صرف اپنا وقت نہیں دیا بلکہ اپنی پوری زندگی، اپنی صلاحیتیں، اپنی فکر اور اپنا اخلاص اس ادارے کے نام کر دیا۔ اسی لیے جامع اشرف کا ہر درد مند طالب علم، ہر فاضل اور ہر وابستہ شخص آپ کو صرف ایک استاذ نہیں بلکہ اس ادارے کے محسنین میں شمار کرتا ہے۔

آج حضرت کے یومِ وصال پر جب ماضی کے دریچے کھلتے ہیں تو درسِ حدیث کی وہ نورانی مجلسیں، افتاء کی وہ باوقار نشستیں، طلبہ کی اصلاح و تربیت کے وہ دل نشیں مناظر اور آپ کی متبسم و باوقار شخصیت نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتی ہے۔ بظاہر چند برس گزر گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی شخصیات وقت کے گزرنے سے فراموش نہیں ہوتیں وہ اپنے شاگردوں کے علم میں، اپنے اخلاق میں، اپنی تربیت میں اور اپنی چھوڑی ہوئی علمی روایت میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

حضرت کی علمی، روحانی اور اخلاقی عظمت کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں، نہ ہی چند اشعار ان کے مقام و مرتبہ کا احاطہ کر سکتے ہیں۔ یہ سطور دراصل ایک ادنیٰ شاگرد کے قلبِ گداز کی وہ کیفیات ہیں جو اپنے عظیم محسن کی یاد میں بے ساختہ صفحۂ قرطاس پر اتر آئیں۔ اگر ان میں کہیں حسنِ بیان یا تاثیر کی کوئی جھلک محسوس ہو تو وہ بھی حضرت ہی کے فیضانِ تربیت کا صدقہ ہے، ورنہ مجھ بندۂ ہیچ مداں کی بساط اس سے کہیں کم ہے۔

اسی احساسِ عقیدت کے ساتھ اپنے استاذ محترم کی شان میں یہ دو اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں:

علمِ حق کے پاسباں مفتی شہاب الدین تھے
فضل کے کوہِ گراں مفتی شہاب الدین تھے

جامعِ اشرف تا دمِ آخر کرے گا جس پہ نـاز
ایسے مـرد بـاصفـا مفتی شـہاب الدیـن تھے

اللہ تعالیٰ حضرت ممتاز الفقہاء، استاذُ العلماء علامہ مفتی شہاب الدین اشرفی جامعی بھاگلپوری علیہ الرحمہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی قبرِ انور کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، جنت الفردوس میں اپنے مقرب بندوں کا ساتھ عطا فرمائے، ان کے علمی فیضان کو تا قیامت جاری و ساری رکھے اور ہمیں بھی ان کے اخلاص، للّٰہیت، علم اور عمل سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

نتیجۂ فکر: (جموئی، بہار)
صدر المدرسین الجامعۃ الچشتیہ میران پور کٹرہ شریف شاہجہاں پور یوپی
٢٠ صفر ١٩٤٨ھ مطابق 4 اگست 2026ء

Address

Dargah Kichaucha Shareef
Akbarpur
224155

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jame Ashraf posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share