Akkalkuwa Madrasa

Call Directions Website

Akkalkuwa Madrasa Jamia Islamia Ishaatul Uloom Akkalkuwa is a renowned Islamic Institute of India. How ever, this is not official page.

The Jamia Islamia Ishaatul Uloom, Akkalkuwa was set up in 1979 in the lap of the SATPUDA Mountain with the pious aim and goal to remove the darkness of the community and to train them in a standard manner by which they can be a qualified tutor for the villagers from where they are coming. The Trust has attained its goals only within the lifespan of 30 years. During this short run the trust have started many professional courses for which the community may not imagine in long term too.

25/08/2026
25/08/2026
انا للہ وانا الیہ راجعون
17/08/2026

انا للہ وانا الیہ راجعون

رواں سال ششماہی امتحان کی چند جھلکیاں
17/08/2026

رواں سال ششماہی امتحان کی چند جھلکیاں

Masha Allah jamia Akkalkuwa Hafiz E Quran TulabaJamia Islamia ishatul Ulom's Akkalkuwa Maharashtra India.....Allah Inki ...
03/08/2026

Masha Allah jamia Akkalkuwa Hafiz E Quran Tulaba
Jamia Islamia ishatul Ulom's Akkalkuwa Maharashtra India.....
Allah Inki umar me barkat de aur inhi ki badolat aur bhi bachcho ko hafiz e quran banaye Allah hame aur ane wali naslo ko taufiq de Ameen ya rabbul alamin......

**4 مئی: تاریخ کے دو عظیم روشن ستارے** **1. شیرِ میسور: سلطان فتح علی خان ٹیپو (شہادت: 4 مئی 1799)**ٹیپو سلطان ہندوستان ...
04/05/2026

**4 مئی: تاریخ کے دو عظیم روشن ستارے**
**1. شیرِ میسور: سلطان فتح علی خان ٹیپو (شہادت: 4 مئی 1799)**
ٹیپو سلطان ہندوستان کی تاریخ کے وہ مایہ ناز حکمران اور مجاہد تھے جنہوں نے غیر ملکی تسلط (برطانوی راج) کے خلاف کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
* **عزم و ہمت:** آپ نے اپنی پوری زندگی وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دی۔ آپ کا مشہور قول ہے کہ *"شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے"*۔
* **عسکری مہارت:** آپ کو دنیا کا پہلا **"راکٹ مین"** مانا جاتا ہے، جنہوں نے جنگوں میں تکنیکی مہارت اور جدید راکٹوں کا استعمال کیا۔
* **شہادت:** 4 مئی 1799 کو میسور کی چوتھی جنگ کے دوران سری رنگا پٹنم کے قلعے کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
# # # **2. خادمِ قرآن و مدارس: حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحبؒ (وصال: 4 مئی 2025)**
حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحبؒ علم و عمل اور خدمتِ خلق کا ایک عظیم نام تھے، جن کی پوری زندگی امت کی تعلیمی اور اخلاقی سربلندی کے لیے وقف رہی۔
* **تعلیمی خدمات:** آپ نے مدارس، مکاتب اور مساجد کے قیام کے ذریعے ہزاروں طلبہ کی علمی پیاس بجھائی اور دینی تعلیم کو عصری تقاضوں کے مطابق عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
* **شخصیت:** آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور اخلاص کا نمونہ تھی۔ آپ نے ہمیشہ نوجوانوں کی صحیح تربیت اور اتحادِ امت پر زور دیا۔
* **برسی (ایک سال مکمل):** آج 4 مئی 2026 کو آپ کے وصال کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ آپ کی علمی و ملی خدمات آج بھی ایک صدقہ جاریہ کے طور پر امت کی رہنمائی کر رہی ہیں۔

جامعہ اکل کوا کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیںجاوید گھانچی (اکل کوا) گزشتہ تقریباً ۴۷ برسوں سے جامعہ اکل کوا ملک ب...
06/12/2025

جامعہ اکل کوا کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں

جاوید گھانچی (اکل کوا)
گزشتہ تقریباً ۴۷ برسوں سے جامعہ اکل کوا ملک بھر میں تعلیم، صحت، عوامی اور انسانی خدمات کے شعبے میں بنا کسی مذہبی تفریق کے کام انجام دے رہا ہے، روزگار، علاج، پانی، اناج، گھر اور قدرتی آفات میں راحت رسانی جیسی کئی ذمہ داریاں جو در حقیقت حکومت کی ہوتی ہے انہیں بھی یہ ادارہ مسلسل نبھاتا آیا ہے، انسانیت کو بنیاد بناکر خدمت کرنے والا یہ ادارہ قومی سطح پر اعزاز کاحق دار ہے۔
بدقسمتی کی بات ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے جامعہ اکل کوا کو مسلسل نشانہ بنایاجارہا ہے، اور اسے بدنام کرنے کےلیے منظم کوشش کی جارہی ہے، جن لوگوں کی اپنی ساکھ مشتبہ ہے، انہیں کے الزاموں کو بنیاد بناکر ایک بھروسے مند قومی ادارے پر سوال کھڑے کیے جارہے ہیں۔

ایف سی آر اے معاملے کا سچ

ایف سی آر کی منسوخی کے بارے میں جو تصویر پیش کی گئی وہ حقیقت سے بالکل الگ ہے، کشمیر میں کمبل تقسیم کو غلط انداز میں پیش کیا گیا، جب کہ کمبل نندور بار کے ایک تاجر سے خریدے گئے تھے، ادائیگی بینک سے ہوئی تھی اور ای وے بل پر درج تنظیم کا ایف سی آر رد ہونا ہی تنازعہ کی وجہ بنا، جامعہ نے سپریم کورٹ کے وکیل کے ذریعے سے پوری حقیقت سامنے رکھی کہ جامعہ نے نہ اس تنظیم کو کوئی پیسہ دیا نہ اس کا کوئی تعلق تھا، صرف سامان بھیجا گیا تھا پوری جانکاری دینے کے باجود باتوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔
خالد خضمی یمنی کا معاملہ
خالد خضمی قانونی ویزے پر ہندوستان آئے، ویزا پورا ہونے کے بعد یمن کی خراب صورتحال اور پروازیں بند ہونے کی وجہ سے صرف دس دنوں کا اوور اِسٹے ہوا، اس کے باوجود ان پر غلط دفعات لگا کر جیل بھیج دیاگیا، بعد میں جبل پور ہائی کورٹ نے انہیں یمن قونصلیٹ ممبئی کے سپرد کیا، اور پوری قانونی کارروائی اکل کوا میں مکمل ہوئی، اس کے بعد بھی دوبارہ گرفتاری کر لی گئی اور جامعہ کے بانی مولانا غلام محمد وستانوی اور ان کے جانشین مولانا حذیفہ وستانوی کو بے بنیاد طریقے سے اس معاملے میں شامل کیا گیا، سنگین بیماری میں بھی مولانا کو پولیس کے سامنے پیش ہونا پڑا۔

خدیجہ خالد کا معاملہ
خدیجہ خالد اپنے دودھ پیتے بچے کے ساتھ پناہ گزیں کے طور پر ہندوستان میں رہ رہی تھی، انہیں پوچھ تاچھ کے نام پر جیل بھیج دیاگیا اور بچے کو ماں سے الگ کر دیا گیا، بعد میں عدالت سے ضمانت ملی، اس رویے نے انسانیت کو شرمسار کردیا۔

آدھار کارڈ کا معاملہ
پورا کام قانونی طور طریقوں کے تحت انجام دیا گیا، بچوں کی تعلیم کے لیے ایجوکیشن افسر سے اجازت لے کر اسکول میں داخلہ دیا گیا، پرانے قانون کے مطابق ۱۸۰ دنوں کے قیام کے بعد آدھار بن سکتا تھا، انہیں بنیادوں پر بچوں کے آدھار کارڈ بنے، جس میں یمن شہریت واضح طور پر درج تھی، بعد میں ان ہی بنیادوں پر یمن قونصلیٹ نے بچوں کو پاسپورٹ جاری کیا، تاریخ پیدائش کے سبھی دستاویز بھی عدالت کے حلف نامے پر پورے کیے گئے۔

جامعہ کی علمی خدمات
جامعہ کے اسکول و کالج میں ۳۰ فیصد سے زائد غیر مسلم طلبہ پڑھتے ہیں، گزشتہ تیس برسوں میں لگ بھگ ۹ ہزار غیر مسلم طلبا ڈاکٹر، انجینئر، فارماسسٹ، آئی ٹی آئی، نرسنگ، بی ایڈ، ایس ایس سی اور ایچ ایس سی جیسے شعبوں میں کامیاب ہو کر ملک کی خدمات انجام دے رہے ہیں، اس لیے مقامی طو رپر جامعہ کے خلاف کوئی ٹھوس حمایت نہیں مل پائی، جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے معاملہ ای ڈی تک لے جایا گیا مگر جامعہ سے کوئی بھی غیر قانونی رقم دستیاب نہیں ہوئی، دو الگ الگ ٹرسٹیوں کے نجی معاملوں کو جامعہ سے جوڑ کر غلط کہانی بنائی گئی۔
اخیر میں، اگر اس ملک میں تعلیم دینا، علاج کرانا، پانی اناج پہنچانا ، سردی اور ٹھنڈ میں کپڑے دینا، مصیبت میں لوگوں کی مدد کرنا، اسپتال اور تعلیمی ادارے چلانا اور یتیم بیوائوں کی مدد کرنا جرم ہے تو پھر ہر مددگار شخص مجرم ٹھہرتا ہے۔ مولانا غلام محمد وستانوی کی خدمات اتنی بڑی ہیں کہ اگر حکومت سچ میں تعلیم کے تئیں سنجیدہ ہوتی تو ان کا اعزاز کرتی نہ کہ بے بنیاد الزامات کو ہوا دیتی، ضرورت ہے کہ عوام تک درست حقیقت پہنچے، تاکہ اس نیک تنظیم کے ساتھ ہورہی ناانصافی کو روکا جاسکے، اللہ تعالیٰ اس ادارے کی حفاظت فرمائے۔

Address

Akkalkuwa Town
Akkalkuwa
425415

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akkalkuwa Madrasa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share