Madrasa Tahfeezul QURAN

Madrasa Tahfeezul QURAN This is the official page of Darul Uloom Tahfeezul Quran, Sikthi, Mubarakpur, Dist: Azamgarh (UP)

01/02/2024
06/02/2023
،🌹باپ کی عظمت کا ایک اہم واقعہ 🌹ﺍﯾﮏ شخص ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ کی خدمت میں حاضر ہوا اوراس نے ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎ...
09/08/2022

،

🌹باپ کی عظمت کا ایک اہم واقعہ 🌹

ﺍﯾﮏ شخص ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ کی خدمت میں حاضر ہوا اوراس نے ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽﮐﮧ اے ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ !
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ نہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ.

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ والد محترم ﮐﻮ بلوایا،

ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ آلہ و ﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ ﺗﻮﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮬﻮﺋﮯ...

ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻠﮯ...

ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺗﮭﯽ
ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺠﮫ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ کہتے ہوئے پہنچے.

ﺍﺩﮬﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﻞ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ معاملہ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺌﯿﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮئے ﺁﺭﮨﮯ ﮬﯿﮟ.

ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮮ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮐﮧﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﻦ ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭﺳﻨﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﻮﮮ ﺁﺋﮯ ﮬﯿﮟ.

ﻭﮦ ﻣﺨﻠﺺ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺗﮭﮯ
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ... ﮐﮧ
ﺟﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ بھی ﻧﮩﯿﮟ ہوئے، ﻣﯿﺮﮮ اپنے ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ابھی ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﮯ...

ﺁﭖ کے ﺭﺏ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﻟﺌﯿﮯ....

اور آپ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ کو بتا بهی دیا. ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ

ﺍﻥ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ

( ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ آسان ﺗﺮﺟﻤﮧ بتانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ جو اشعار تھے اور جس اعلی پائے کے تھے اور جو جذبات کی کیفیت تھی، ان کی صحیح ترجمانی اردو میں مشکل ہے بہرحال اشعار کچھ اس طرح سے تھے کہ )

ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ !
ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ
ﮨﻤﺎﺭﯼ محنت ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ.
ﺗﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، ﮨﻢ ﺳﻮ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﮯﺗﮭﮯ.

ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ.

ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ علاج معالجے کے لیے مارے مارے پھرتے تھے ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ تجھے کچھ ہو نہ جائے. ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ

حالانکہ ﻣﻮﺕ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ

ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ

ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎؤﮞ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ

ﭨﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﻮﮌﮮ

ﺗﻐﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﺮمی ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ

ﺟﻮ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ
ﺟﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ

ﺗﯿﺮﯼ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ اب ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮉﯾﺎﮞ تک کمزور ﮨﻮ گئی ہیں لیکن تو کڑیل جوان ہو گیا ہے....

ﭘﮭﺮ....

ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺰﺍﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ڈال ﻟﺌﮯ لیکن ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺎﺭ ﺁﮔﺌﯽ...

ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ
ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ

ﺍﺏ میری خواہش اور ﺍﻣﯿﺪ پوری ہوئی
ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ

ﭼﻞﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ

ﻣﮕﺮﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺗﮯ ﮬﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﯿﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ....

ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ. ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﮐﮧ جیسے ﻣﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ ہے

ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐوئی غلام ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿں کرتا...

ﭘﮭﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ساری زندگی کی ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ ﺩﯾﺎﮐﮧ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮ ﮬﻮﮞ....

ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮئی ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ...

ﺗﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﺮ....

ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے چہرہ مبارک ﭘﺮ پڑی تو دیکھا کہ

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ.

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ جلال ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ کا گریبان پکڑ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
انت و ما لک لا بیک
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ
( تفسیر قرطبی)

اللہ کریم سے دعا ھے
رب ارحمهما كما ربياني صغيرا
اے ہمارے پالنے والے رب ہمارے والدین پر رحم فرما ایسا ھی جیسے وہ مُجھ پر رحم کرتے تھے جبکہ میں چھوٹا تھا.🌹

07/06/2022

💸 اپنی کــــم تنخواہ پر غم نا کریں ہوسکتا ہے آپکو رزق کے بدلے کچھ اور دے دیدیا گیا ہو

کیونکہ

○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
قد يكون الرزق خلقا أو جمالا

🍂 رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت اچھا اخلاق یا پھر حسن و جمال دے دیا گیا ہو

○ قد يكون الرزق عقلا راجحا
زاده الحلم جمالا وكمالاً

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت میں عقل و دانش دے دی گئی ہو اور وہ فہم اس کو نرم مزاجی
اور تحمل و حلیمی عطا دے

○ قد يكون الرزق زوجا صالحا
أو قرابات كراما وعيالا

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے
کہ کسی کو رزق کی صورت میں بہترین شخصیت کا حامل شوہر یا بہترین خصائل و اخلاق والی بیوی مل جائے
مہربان کریم دوست اچھے رشتہ دار یا نیک و صحت مند اولاد مل جائے

○ قد يكون الرزق علما نافعا
قد يكون الرزق أعمارا طوالا

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت علم نافع دے دیا گیا ہو اور
یہ بھی ہو سکتا ہے
کہ اُسے رزق کی صورت لمبی عمر دے دی گئی ہو

○ قد يكون الرزق قلبا صافيا
يمنح الناس ودادا ونَوالا

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا پاکیزہ دل دے دیا گیا ہو جس سے وہ لوگوں میں محبت اور خوشیاں بانٹتا پھر رہا ہو

○ قد يكون الرزق بالا هادئا إنما المرزوق من يهدأ بالا

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ذہنی سکون دے دیا گیا وہ شخص بھی تو خوش نصیب ہی ہے جس کو ذہنی سکون عطا کیا گیا ہو

○ قد يكون الرزق طبعا خيّرا
يبذل الخير يمينا وشمالا

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت نیک و سلیم طبع عطاکی گئی ہو
وہ شخص اپنی نیک طبیعت کی وجہ سے اپنے ارد گرد خیر بانٹتا
پھرے

○ قد يكون الرزق ثوبا من تقى
فهو يكسو المرء عزا وجلالا

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت تقوٰی کا لباس پہنا دیا گیا ہو اور اس شخص کو اس لباس نے عزت اور مرتبہ والی حیثیت بخش دی ہو

○ قد يكون الرزق عِرضَاً سالماً
ومبيتاً آمن السِرْبِ حلالاً

🍂 یہ بھی تو ہو سکتا ہے کسی کو رزق کی صورت ایسا عزت اور شرف والا مقام مل جائے
جو اس کے لئے حلال کمائی اور امن والی جائے پناہ بن جائے

○ ليس شرطا أن يكون الرزق مالا
كن قنوعاً و احمد الله تعالى

🌼 پس
رزق کے لئے مال کا ہونا شرط نہیں
پس
جو کچھ عطا ہوا
اس پر مطمئن رہیں
اور الله تعالٰی کا شکر ادا کرتے رہیں
الحَمْدُ ِلله

┄┄┅✵✰✿🍂

24/07/2021
13/07/2021

*سبز الائچی*

الائچی روزمرہ گھریلو استعمال کی عام چیز ہے، جسے عام طور پر کھانوں، چائے یا منہ میں خوشبو کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر یہاں ہم آپ کو الائچی کے مزید حیران کن فوائد سے متعلق آگاہ کریں گے۔
نظام انہظام:
کھانے کے بعد سونف اور الائچی کے مرکب کا استعمال کھانے کو ہضم کرنے میں بے حد مدد گار ہے، یہ تیزابیت کو ختم کرتی ہے۔ خوابیدگی کے خمار کو کم کرتی ہے جبکہ معدے میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہوئے ریع پیدا ہونے سے روکتی ہے۔ بد ہضمی سے ہونیوالی گیس اور سردرد کیلئے سبز چائے میں الائچی ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے۔
سانس کی بدبو:
اگر آپ کے سانس کی بدبو ہزار کوشش کے باوجود بھی ختم نہیں ہوتی تو الائچی استعمال کریں یہ اینٹی بیکٹریل خصوصیات کا حامل بھی ہوتی ہے اور اس کی تیز خوشبو منہ کی بدبو دور کر دیتی ہے۔ یہ نظام انہضام کو بہتر بناتی ہے اور منہ کی بدبو کی ایک بڑی وجہ نظام انہضام کی خرابی ہوتی ہے۔
تیزابیت:
الائچی معدے میں موجود لعابی جھلی کو مضبوط بناتی ہے، اس لئے یہ تیزابیت کیلئے اکسیر ہے۔ اس کو چبانے سے منہ میں بننے والے لعاب میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جو خوراک کو ہضم کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
نظام تنفس:
الائچی پھیپھڑوں میں خون کے دورانیہ کو بڑھا کر نزلہ، زکام، کھانسی، دمہ کے امراض میں آرام پہنچاتی ہے جبکہ بلغم کو باہر نکالنے کیلئے بھی انتہائی مدد گار ہے۔
دل کی دھڑکن:
الائچی میگنیشیم، پوٹاشیم اور کیلشیم کے مرکبات سے بھرپور ہوتی ہے اس لئے یہ خون کے الٹرولائٹس کیلئے صحت کا خزانہ ہے۔ یہ اجزاءدوران خون کو بہتر بنانے میں اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔
اینیما(خون کی خاص کمی) :
الائچی کے بنیادی اجزاءمیں آئرن، کاپر اور وٹامنز سی کے علاوہ ایسے وٹامنز موجود ہوتے ہیں کہ جو خون کے سرخ جرثوموں کی افزائش کیلئے بے حد مدد گار ہوتے ہیں اور اینیما کی بیماری کےخلاف ڈھال ثابت ہوتے ہیں۔
زہریلے مادوں کا تدارک:
الائچی معدنیات سے بھی معمور ہوتی ہے جو کہ جسم کے زہریلے اور فاسد مادوں کو ختم کوتی ہے، انہیں جسم سے خارج کرتی ہے، حتیٰ کہ کینسر جیسے موذی مرض سے بھی بچاتی ہے۔
نظام تولید:
الائچی ایک طاقتور محرک ہے، جو جنسی صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ نظام تولید کو بھی بہتر بناتا ہے۔ یہ نہ صرف سرعت انزال جیسے امراض کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ تولیدی اعضا کو طاقت عطاءکر کے ان کے افعال کو طوالت بخشتی ہے۔
٭٭•┈••✦✿✦••┈•٭٭

03/07/2021

دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں۔
"یا عمر ؓ یہ ہے وہ شخص!"
سیدنا عمر ؓ ان سے پوچھتے ہیں۔
"کیا کیا ہے اس شخص نے؟"
"یا امیر المؤمنین، اس شخص نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔"
"کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟"
سیدنا عمرؓ ان سے پوچھتے ہیں۔
سیدنا عمر ؓ پھر اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں۔
"کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟"
وہ شخص کہتا ہے :
"ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے ان کا باپ۔"
"کس طرح قتل کیا ہے؟"
سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔
"یا عمرؓ، ان کا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔"
"پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اس کی سزا۔"
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔
نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں۔ نہ ہی اس شخص سے اس کے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے؟ نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں؟ معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓ کو مطلب ہی کیا ہے؟؟؟ کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر ؓپر کوئی بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔
وہ شخص کہتا ہے۔
"اے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں۔ مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تا کہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اس کے بعد واپس آ جاؤں گا۔"
سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں:
"کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟"
مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اس کا نام تک بھی جانتا ہو۔ اس کے قبیلے، خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔
کون ضمانت دے اس کی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے، جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔
اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کی لئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔
محفل میں موجود صحابہ ؓ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود حضرت عمر ؓ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کے لئے چھوڑ دیئے جائیں؟ یا پھر اس کو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!
خود سیدنا عمرؓ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں،
"معاف کر دو اس شخص کو۔"
"نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے، اس کو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا"، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔
حضرت عمرؓ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں۔
"اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس شخص کی ضمانت دے؟"
حضرت ابوذر غفاری ؓ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں۔
"میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!"
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔
"ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔"
"چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو"، ابوذر ؓ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔
عمرؓ: "جانتے ہو اسے؟"
ابوذرؓ: "نہیں جانتا اسے"
عمرؓ: "تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟"
ابوذرؓ: "میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔"
عمرؓ: "ابوذرؓ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تمہاری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔"
"امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔"
سیدنا عمرؓ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کے لئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔
حضرت ابوذرؓ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر حضرت عمرؓ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
"کدھر ہے وہ آدمی؟"
سیدنا عمرؓ سوال کرتے ہیں۔
"مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین"،
ابوذر ؓ مختصر جواب دیتے ہیں۔
ابوذرؓ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں آج معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟
یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں، کاٹ کر ابوذرؓ کے حوالے کر دیں۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔
مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے۔ بےساختہ حضرت عمرؓ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔
حضرت عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔
"اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا"
"امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپ کی نہیں ہے، بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے"۔
سیدنا عمرؓ نے ابوذرؓ کی طرف رخ کر کے پوچھا۔
"ابوذرؓ، تو نے کس بنا پر اس کی ضمانت دے دی تھی؟"
ابوذرؓ نے کہا،
"اے عمرؓ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔"
سیدنا عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دونوں نوجوانوں سے پوچھا۔
"کہ کیا کہتے ہو اب؟"
نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا،
"اے امیر المؤمنین، ہم اس شخص کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے"۔
سیدنا عمرؓ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔
"اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔"
"اے ابوذرؓ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے"۔
اور
"اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے"۔
اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔
محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں،
"قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمرؓ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں"۔
اور اے اللہ، جزائے خیر دے اپنے بے کس بندے کو، جس نے ترجمہ کر کے اس پیغام کو اپنے احباب تک پہنچایا۔
اور اے اللہ، جزائے خیر دینا ان کو بھی، جن کو یہ پیغام اچھا لگے اور وہ اسے آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں۔

آمین یا رب العالمین

28/06/2021

صحیح مسلم
کتاب: ایمان کا بیان

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي کَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ کَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا

ترجمہ:
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جلد جلد نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے صبح آدمی ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کافر اور دنیوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔

Translation:
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) observed: Be prompt in doing good deeds (before you are overtaken) by turbulence which would be like a part of the dark night. During (that stormy period) a man would be a Muslim in the morning and an unbeliever in the evening or he would be a believer in the evening and an unbeliever in the morning, and would sell his faith for worldly goods.

26/06/2021

صحیح مسلم
کتاب: ایمان کا بیان

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ

ترجمہ:
ابوبکر بن خلاد باہلی، یحییٰ قطان، سفیان، سلیمان، اعمش، سلیمان بن مسہر، خرشہ بن حر، ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا ایک وہ آدمی جو ہر نیکی کا احسان جتلاتا ہے، دوسرا وہ جو جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچتا ہے اور تیسرا وہ آدمی جو اپنے کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔

Translation:
It is narrated on the authority of Abu Dharr (RA) who narrates that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) observed: Three are the persons with whom Allah would not speak on the Day of Resurrection: the bestower of gift who does not give anything but by laying obligation on him, the seller of goods who sells them by taking false oath and one who hangs low his lower garment.

20/06/2021

*💕جب تک دوسروں کی زندگیوں، اور گریبانوں کا جائزہ لیتے رہوگے تو خود کو آسانی سےمطمئن کر لو گےلیکن جس دن خود کی زندگی کا جائزہ لو گے اور اپنے گریبان میں جھانکو گے،نہ تو خود کو مطمئن کر پاؤ گےاور نہ ہی اپنے ضمیر کواس لیئے دوسروں کو دیکھ کر خود کو مطمئن کرنا دھوکہ ہی ہے صرف💕

20/06/2021

*💕اگر کسی کی شخصیت کو پہچاننا چاہتے ہیں تو یہ نہ دیکھیں کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں بلکہ یہ دیکھیں کہ وہ لوگوں کے بارے میں کیسے گفتگو کرتا ہے💕

Address

Sikthi, Mubarakpur
Azamgarh
276404

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madrasa Tahfeezul QURAN posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Madrasa Tahfeezul QURAN:

Share