Darul Uloom Deoband- A School of Thought

Darul Uloom Deoband- A School of Thought The Six Pillars of Deoband:1-Hujjat al Islam Mohammad Qasim Nanawtawi2-Imam Rabbani Rashid Ahmad Gan قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم انما انا قاسم واللہ یعطی

Deoband Institute of Islamic Thoughtدیوبند میں واقع ایک اسلامی رسرچ ادارہ ہے جو اسلامی علوم بالخصوص علمائے دیوبند کی علم...
31/12/2017

Deoband Institute of Islamic Thought
دیوبند میں واقع ایک اسلامی رسرچ ادارہ ہے جو اسلامی علوم بالخصوص علمائے دیوبند کی علمی تصانیف پرعلمی تحقیقی کام کرتا ہے، اس ادارے نے اسلامی بنکنگ اور فائنانس کے میدان میں بھی خدمات انجام دینی شروع کردی ہیں۔ اسلامی بنکنگ اور فائنانس کے سہ ماہی سرٹیفکٹ کورس کی کامیاب شروعات کے بعد اب چوتھے بیج کے لیے داخلے شروع کیے جار رہے ہیں۔ خواہشمند طلبہ فوری طور پر داخلہ فارم حاصل کریں۔ داخلہ فارم انسٹٹیوٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
website: www.islamicthought.edu.in
ویب سائٹ پر جا کر
News and Updates
پر کلک کریں، پھر
Certificate Course in Islamic Banking and Finance
پر کلک کریں اور یہاں سے فارم ڈاؤن لوڈ کریں۔

مزید جانکاری کے لیے انسٹٹیوٹ کے فیسبک پیج پر جا کر رابطہ قائم کریں یا مندرجہ ذیل ای میل پر ای میل کریں۔

email: [email protected]

26/08/2017

حکومت اور عدلیہ کے لیے احکام شریعت میں مداخلت کے چور دروازے کھولنے کے لیے ملی تنظیموں کی نا اہلی پوری طرح ذمہ دار ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ سے متعلق معاملے میں ملی تنظیموں نے کچھ اہم کوتاہیاں کی ہیں جسکی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہندوستان کی عدالت عظمی نے شرعی احکام میں مداخلت کا راستہ ہموار کردیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیک وقت تین طلاق دینا انتہائی معیوب، غیر شرعی اور انسانیت کے خلاف کیا جانے والا عمل ہے جس میں رجعت کا موقع ہی نہیں ملتا اور اس طرح ایک خاندان تباہ ہوجاتا ہے۔ انہیں وجوہات کی بنا پر کچھ خواتین بیک وقت تین طلاق کے خلاف عدالت میں گئیں اور ملی تنظیموں اور اداروں کے ذریعے یہیں سے کوتاہیوں کا دور بھی شروع ہوا۔ ملی تنظیمیں بالخصو ص آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اس معاملے میں مدعا علیہ تھا۔ اور بیک وقت کہی گئیں تین طلاق کی وجہ سے اپنا گھر کھو چکیں کچھ خواتین مدعی تھیں۔ بورڈ نے اس پورے معاملے میں جو کوتاہیاں کیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ بورڈ نے تین طلاق پر اپنا موقف تو واضح رکھا کہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اور اسے تبدیل کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں ہے، لیکن بورڈ اس پورے معاملے میں کوئی حکمت عملی بنانے میں پوری طرح ناکام رہا کہ جو مرد اپنی جہالت یا کسی اور وجہ سے اپنی بیویوں کو بیک وقت تین طلاق دینے کا جرم کرتے ہیں اس صورت میں مطلقہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔
۲۔ بورڈ ایک ماڈل نکاح نامہ بنانے میں پوری طرح ناکام رہا، جس میں بیک وقت تین طلاق سے متعلق احکام کے ساتھ ساتھ ایک دم تین طلاق دینے والے مرد کے لیے کوئی سزا اور جرمانہ مقرر نہیں کیا گیا۔
۳۔ آج بھی مسلمانوں کی ۹۰ فیصد آبادی ایسی ہے جو طلاق کے شرعی احکام سے پوری طرح ناواقف ہے، بورڈ اور دیگر ملی تنظیموں نے اس معاملے میں بیداری پیدا کرنے اور حقوق الزوجین کے متعلق تحریک چلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔
۴۔ سپریم کورٹ سے متعلق کیس میں بورڈ کا عمل انتہائی افسوس ناک رہا، ایک ایسے غیر مسلم وکیل کے سپرد یہ کیس کیا گیا جسکا اس کیس سے عقیدت کی بنیاد پر کوئی تعلق نہیں تھا۔ لائق مسلم وکلاء ہوتے ہوئے بھی بورڈ نے ایک غیر مسلم کو اپنا وکیل مقرر کیا۔
۵۔ ملی تنْظیموں اور اداروں مثلا دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، جمیعت علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند وغیرہ کا ایک متحدہ لائحہ عمل اس پورے معاملے میں تیار نہیں کیا جا سکا۔
۶۔ حکومت اور کورٹ پر دباؤ بنانے میں بورڈ اور دیگر اہم ملی تنظیمیں، جماعتیں اور ادارے پوری طرح ناکام رہے۔ قیادت کر رہے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر آکر واضح اعلان کرنا تھا کہ چونکہ مسلم پرسنل لاء کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور پرسنل لاء آئین ہند کا ایک جز ہے لہذا عدالت کا فیصلہ اگر شریعت کے خلاف آئیگا تو اسے کسی صورت میں تسلیم نہیں کیا جائیگا۔ اس صورت میں قیادت کر رہے افراد کو بہادری اور جراٴت سے کام لینا تھا، لیکن انہوں نے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کیا۔
۷۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ رہا کہ کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والے دن تک بورڈ اور دیگر ملی اداروں اور تنظیموں کا موقف واضح نہیں تھا، کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئ تھی کہ اگر فیصلہ مسلمانوں اور مسلم پرسنل لاء کے خلاف آیا تو اس صورت میں ملی اداروں کا متحدہ لائحہ عمل کیا ہوگا۔
۸۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپنے ہی خلاف فیصلہ آنے کے بعد ملی تنظیموں کی بوکھلاہٹ کا یہ حال تھا کہ وہ اس فیصلے کو اپنے حق میں آیا فیصلہ بتانے لگے۔ کچھ کو تو یہی معلوم نہیں تھا کہ فیصلے کی نوعیت کیا ہے۔ اور کچھ نام نہاد قائدین نے تو گمراہ کن بیان دے کر پوری ملت اسلامیہ کو گمراہ کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مذکورہ بالا یہ وہ کوتاہیاں ہیں جن کی وجہ سے حکومت کو عدالت کو آڑ بنا کر مسلمانوں کے شرعی مسئلے میں داخل ہونے کا موقع فراہم کردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ مسلم پرسنل لاء کے خلاف جا کر قانون بنائے، یقینا یہ ملی تنظیموں بالخصوص پرسنل لاء بورڈ کی بہت بڑی شکست ہے۔ اور اسکی مکمل وجہ قیادت کا انتہائی ناکارہ ہونا رہا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ موجودہ قیادت میں فیصلہ لینے کی صلاحیت معدوم ہو چکی ہے اور وہ مصلحت بینی کے سبب شریعت میں مداخلت کو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ بورڈ اور دیگر تنظیموں کی اسی نا اہلی کی وجہ سے مسلمان پہلے بابری مسجد سے دستبردار ہونے کے کگار پر کھڑے ہیں اور اب شریعت مطہرہ میں مداخلت کا دروازہ کھولنے کا سہرہ بھی اسی نااہل قیادت کے سر بندھ گیا ہے۔
بقلم: عاطف سہیل صدیقی، صدر معہد الفکر الاسلامی دیوبند

19/08/2017
06/08/2017

سرزمین دیوبند پر اسلامی بنکنگ اور فائنانس کی تعلیم کے لیے معہد الفکر الاسلامی دیوبند کا قابل ستائش قدم:
سودی نظام کے برخلاف اسلام کا پاکیزہ غیر سودی معاشی نظام ہی اس وقت پوری دنیا کے مالی بحران کا ایک واحد ذریعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام پر نقد کرنے والے اور اسلام کے عقائد پر اعتراض کرنے والے کفار و مشرکین کو اسلام کے نظام معیشت سے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ جاپان، چین اور کمبوڈیا جیسے خالص غیر مسلم ممالک جہاں مسلمانوں کی تعداد نہیں کے برابر ہے اور وہ وہاں کی معیشت میں کوئی اہم کردار ادا بھی نہیں کرتے ان ممالک نے اسلامی معاشی نظام کو اپنانا شروع کردیا ہے، اس وقت اسلامی معاشی اور اسلامی بنکاری کا کل عالمی اثاثہ چھ سو ارب امریکی ڈالرکے قریب پہنچ چکا ہے۔ ایسے وقت میں اس نظام کو معتبر مسلم اسلامی معاشیات کے ماہرین کی سخت ضرورت ہے، بالخصوص طلبہ مدارس جو فکری طور پر مضبوط ہیں اگر وہ اسلامی معاشی نظام اور اسلامی بنکاری کے عمل میں بطور ماہرین اپنی خدمات انجام دینے کے لیے آگے آئیں تو اسلامی معاشی نظام پوری دنیا میں ایک انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ اس کی انتہائی افادیت اور اہمیت کو دیکھتے ہوئے دیوبند میں اسکی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اسکا پہلا بیچ الحمد للہ شروع ہوچکا ہے، جسمیں طلبہ مدارس نے بہت دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مدارس میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے علاوہ، ۱۲ویں پاس، گریجوئیشن کر چکے حضرات، بنکوں میں ملازمت کر رہے حضرات بھی اس کورس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اسکی مکمل جانکاری مندرجہ ذیل ذرائع سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
Phone: +91 8394 09 1236. (10AM- 3.00PM)
email: [email protected]

12/01/2017

अफगानिस्तान मे एक अंग्रेज़ औरत को सिर्फ इसलिये मार दिया जाय की वो तालीबानी सोच के हिसाब से कपड़े नही पहने थी और ये सबकुछ भी अदालत के अंदर जज, वकील और पुलिस के सामने ।
यकीन मानिये आपका खून खौल जायेगा ।
फिर आपको मिडीया बताए की वह औरत प्रेग्नेंट थी।
और उसके पेट पर भी वार किया गया चाकू से पूरे पंद्रह बार जबतक की वह मर न गयी।
अब आपको तालिबान तो वहशी नज़र ही आरहे होगे
साथ-साथ आप उस सोच को गाली दे रहें होगें
जो तालिबान जैसे लोग पैदा करती है।
लो आपतो निष्कर्ष पर भी पहुँच गये की ये इस्लाम की कट्टर सोच ही है जो ऐसी सोच बनाती है, आपका गुस्सा
लगभग जाएज़ है,
पर एक मिनट ठहरिये, कहानी मे थोड़ा तरमीम है
यह घटना किसी बर्बर तालीबानी मुल्क अफगानिस्तान मे नहीं हुई ये तो हुई है आपके आइडियल दुनिया इंसानियत के ढेकेदार योरोप के देश जर्मनी मे ।
चाकू से पंद्रह वार करके एक हामला औरत को मारने वाला कोई दाढ़ी वाला तालिबानी नहीं है ।
जर्मनी का एक तरक्की पसंद २७ साल का जवान "एलेक्जेंडर" है
मरने वाली खातून का कसूर इतना था कि उन्होंने जर्मनी जैसे नंगो के देश मे हिजाब डाल रखा था ।
क्या हुआ आपका गुस्सा ठंडा होगया क्या ?
--"मारवा अल सरबीनी" की हत्या जैसी वारदात को आतंकवादी घटना कब माना जायेगा ।
-जिस नफरत का शिकार मारवा अल सरबीनी हुई है
उसको ईसाइयत की शिक्षाओं से जोड़कर क्यों न देखा जाये ?
-औरत के ऊपर ज़ुल्म के नाम पर मलाला को इंटरनेशनल आइकन बना देने वाली संस्था UN को मारवा की कहानी क्यों नहीं दिखती ?
--अफगानिस्तान और सीरियाई पहाड़ियों की गुफाओं से ओसामा और बग़दादी की खबर देने वाला मीडिया इन खबरों को कब दिखाएगा ?

Shaykh al Hadith of Darul Uloom Deoband, Shaykh Muhammad Abdul Haq Azami passed away on Dec 30, 2016. His death brought ...
02/01/2017

Shaykh al Hadith of Darul Uloom Deoband, Shaykh Muhammad Abdul Haq Azami passed away on Dec 30, 2016. His death brought dismay and grief amongst the scholars, his students and common Muslims. Thousands thronged in his funeral prayer, which was held in the campus of Darul Uloom Deoband followed by a burial in Qasmi Cemetery close to the grave of Hujjat al Islam Imam Muhammad Qasmi Al-Nanawtawi, Founder of Darul Uloom Deoband.

15/08/2016

Cold blood murder of a New York Imam has proved that the United States is no more a 'bacon of opportunity' for the aliens. This country has been hijacked by the human-haters and now is losing its prestige and reputation.

US has become the most insecure place on the earth, where no life is secure. Yet the US government does not recognize it as a 'locality terrorism unleashed by the Whites Americans.' There are no serious efforts done by the US government to secure the lives of the people and it is happening because of the double standard against the terrorism.

Such killings, very often in the United States, state that this country has double standard towards the terrorism. The criminal silence of local US and international media has grown serious concerns among the peace loving people.

(With Thanks from Deoband Institute of Islamic Thought)

سالة رئيس الجامعة دارالعلوم دیوبند إلى طيب أردغان، رئيس جمهورية تركياA letter sent by the Vice Chancellor of prestigious...
22/07/2016

سالة رئيس الجامعة دارالعلوم دیوبند إلى طيب أردغان، رئيس جمهورية تركيا
A letter sent by the Vice Chancellor of prestigious Darul Uloom Deoband to President Recep Tayip Erdogan of Turkey.

‘Life and Thoughts of Imam Muhammad Qasim Al-Nanawtawi' is ready for researchers and academicians in religious, comparat...
05/02/2016

‘Life and Thoughts of Imam Muhammad Qasim Al-Nanawtawi' is ready for researchers and academicians in religious, comparative religious and especially Islamic Studies.
The book of Dr Atif Suhail Siddiqui, founder president of Deoband Institute of Islamic Thought, is the first academic biography of Imam Muhammad Qasim Al-Nanawtawi (1832-1880). Al-Nanawtawi was the founder of Darul Uloom Deoband and the Deobandi Thoughts of Sunni Hanafi Islam. This book covers Al-Nanawtawi's life through his social, religious reforms, his Islamic political views, religious philosophy, examples from his neo-ilm al kalam and polemics, etc. This book is very valuable for the researchers in Islamic, religious, comparative religious, Islamic political, Islamic philosophical studies, etc.

Book Title: Life and Thoughts of Ḥujjat al-Islām Imām Muḥammad Qāsim al-Nānawtawī, Founder of Darul Uloom Deoband
Author: Atif Suhail Siddiqui (Ph.D.)
Language: English
Publisher: Deoband Institute of Islamic Thought (DIIT) Deoband
Year Published: 2016
ISBN: 9788189857660
Areas of Study: Academic Biography | Islamic Studies| Religion | Islamic Intellectualism | Social and political Science | Islamic History | Religious Philosophy | Polemics| Religious Dialectics | Comparative Religion | South Asian Studies | Islam in Indian Subcontinent | Muslim Reform Movements
For more details send email to [email protected].
Also online purchase is available at:

http://www.amazon.com/Thoughts-al-Islam-Muhammad-Al-Nanawtawi-Founder/dp/8189857665/ref=sr_1_1?ie=UTF8&qid=1454654041&sr=8-1&keywords=Atif+Suhail

'Life and Thoughts of Imam Muhammad Qasim Al-Nanawtawi Founder of Darul Uloom Deoband' is ready for researchers and academicians in religious, comparative religious and especially Islamic Studies. This book is the long awaited material in the studies of Islam. The book of Dr Atif Suhail Siddiqui ...

Address

Deoband
247554

Telephone

+911336222429

Website

http://www.dud.edu.in/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Uloom Deoband- A School of Thought posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Darul Uloom Deoband- A School of Thought:

Share