علماء دیوبند"Ulama e Deoband"

علماء دیوبند"Ulama e Deoband" اسلامک لائبریری

21/07/2024
Today 6 December 1992
06/12/2023

Today 6 December 1992

https://youtu.be/mOrC2ANAMfAبیان حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند
28/11/2023

https://youtu.be/mOrC2ANAMfA
بیان حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند

New Bayan Molana Arshad Madani in Madani Madarsa|Arshad Madani new Bayanحضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب کا مدنی مدرسہ انبہٹہ پیر میں بیان۔ ...

https://youtu.be/jiAeGEdB_Ioحضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب
28/11/2023

https://youtu.be/jiAeGEdB_Io

حضرت مولانا سید ازہر مدنی صاحب

Molana Azhar Madani New Bayan|Azhar Madani sahab New TaqreerMadani Madarsa Ambehta peer Musabqa 2023

*عصری درسگاہوں میں فارغینِ مدارس کی قلت کی وجہ اور حل*مدارس ومساجد کے علاوہ زندگی کے تمام اہم میدانوں میں علماء کی موجود...
13/11/2023

*عصری درسگاہوں میں فارغینِ مدارس کی قلت کی وجہ اور حل*

مدارس ومساجد کے علاوہ زندگی کے تمام اہم میدانوں میں علماء کی موجودگی دینی اعتبار سے ناگزیر اور اہم ونفع بخش ہے. اسی ضرورت کے پیشِ نظر بانیِ دار العلوم دیوبند حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے اپنے داماد مولانا عبد اللہ انصاری صاحب کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریس کے لئے بھیجا تھا جو وہاں ناظمِ دینیات بنائے گئے تھے. مولانا مناظر احسن گیلانی، مولانا عبد الباری ندوی، مولانا سعید احمد اکبرابادی اور ان کے علاوہ درجنوں مشاہیرِ علمِ دین تدریس کے لئے یونیورسٹیوں میں پہنچے اور وہاں کے ماحول سے متأثر ہوئے بغیر اپنے گہرے نقوش چھوڑے. مگر اب دیکھا یہ جارہا ہے کہ مدارس کے فارغین جب عصری درسگاہوں میں پہنچتے ہیں تو عموماً وہ متأثر ہوجاتے ہیں اور نتیجۃً اپنی شناخت جزوی یا کلی طور پر تبدیل کر لیتے ہیں. ظاہر ہے کہ وہ عصری درسگاہوں کے ماحول سے متأثر ومرعوب ہوکر ہی ایسا کرتے ہیں، اپنی کسی تبدیل شدہ علمی تحقیق کی بنیاد پر نہیں. یہ صورتحال ان کے لئے دینی طور پر تو نقصان دہ ہے ہی، یہ نقصان متعدی بھی ہے. مدارسِ دینیہ کے اساتذہ اپنے قریب الفراغت طلبہ کو دینی نقصانات کے پیشِ نظر عصری درسگاہوں میں جانے سے گریز کرنے کی نصیحت کرتے ہیں جبکہ حضرت نانوتوی کی ترغیب عصری درسگاہوں سے بھی استفادے کی تھی اور انہوں نے خود بھی شمالی ہند کی سب سے بڑی عصری درسگاہ میں بھی تعلیم حاصل کی تھی مگر حضرت نانوتوی کی اس ترغیب کے باوجود اساتذہِ مدارس عصری درسگاہوں سے گریز کرنے کی نصیحت اس وجہ سے کرتے ہیں کہ فارغینِ مدارس عصری درسگاہوں میں پہنچنے کے بعد اپنی عالمانہ شناخت کو ناقص یا ختم کردیتے ہیں. اگر وہ اپنے تشخص اور شناخت پر قائم رہتے ہوئے وہاں کی تعلیم حاصل کریں تو وہ حضرت نانوتوی کی ترغیب پر عمل کرنے والے اور اپنے کمالِ علمی میں چار چاند لگانے والے ہونگے اور اساتذہِ مدارس کو منع کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ وہ بھی عصری درسگاہوں میں جانے کی ترغیب دینگے اور نتیجۃً عصری درسگاہوں میں فارغینِ مدارس کی ایک بڑی تعداد کا وجود نظر آئے گا جس سے وہاں دینی فائدے بہت ہونگے کیونکہ مسلم طلبہ کی ایک بڑی تعداد وہاں تعلیم حاصل کرتی ہے جن کے عقائد اور اسلام کی حفاظت بھی ان فارغینِ مدارس طلبہ کے ذریعہ ہوتی رہے گی. لیکن اگر خود یہ علماء ہی علماء نظر نہیں آئینگے تو ظاہر ہے کہ خود بھی نقصان میں مبتلا ہونگے اور دوسروں کے لئے بھی مؤثر نہیں ہوسکینگے اور عصری درسگاہوں میں فارغینِ مدارس کی قلتِ تعداد کا سبب بھی بنینگے. لہذا نوجوان فارغینِ مدارس جو عصری درسگاہوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں انہیں اس سمت بہت سنجیدگی سے غور کرکے اپنے ظاہر کو بھی درست کرکے اپنی عالمانہ شناخت کو باقی رکھنے کی سخت ضرورت ہے. اس سے ان کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ ہوگا. دوسروں کے ماحول سے متأثر ہوکر اپنی قیمتی متاع اور شناخت کو گم کردینا دانشمندی اور دینی حمیت کے بھی خلاف بات ہے. کچھ کو اپنی ظاہری شناخت پر قائم رہنے سے کچھ جزوی خسارے کا اندیشہ ہوسکتا ہے مگر اللہ کی رضاء کی خاطر انسان جب اچھے کام پر کمربستہ ہوگا تو اللہ تعالی کی طرف سے نصرت حاصل ہوگی ان شاء اللہ. نیز، کسی شخص کا عالمِ دین بننا اللہ تعالی کی طرف سے بڑی سعادت کی بات ہے اور بہت بڑی نعمت ہے. اس نعمت پر شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی حفاظت کی فکر کرتے رہنی چاہیے. دعاء ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو اپنی مرضیات پر چلائے اور خود کے لئے اور دوسروں کے لئے بھی ہمیں نافع بنائے!

محمد عبید اللہ قاسمی، دہلی
مورخہ 13 نومبر 2023

09/09/2023

فکر مودودی پر مناظرہ : پس منظر و پیش منظر

(مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کا تسلی و تشفی بخش وضاحتی بیان)

[ یہ در اصل حضرت مہتمم صاحب کا مشقی مناظرے کے پروگرام میں طلبہ کے درمیان کیا گیا خطاب ہے ، جو کسی صاحب نے تحریر کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔
مہتمم صاحب نے بڑی وضاحت اور تفصیل سے مناظرے کے پس منظر و پیش منظر کو بیان فرمایا ہے ، جس سے بہت سے لوگوں کو تسلی و تشفی کا سامان فراہم ہو سکتا ہے۔
عنوان کے اضافے ، درست املا و رموز اوقاف املا کے اہتمام اور کسی قدر ترتیب و تہذیب کے بعد یہ تحریر پیش کی جا رہی ہے۔ خالد سیف اللہ صدیقی]

بعد خطبہ
محترم حضراتِ اساتذہ کرام و عزیز طلبہ!
انجمن تقویت الاسلام (شعبہ مناظرہ) طلبہ دارالعلوم دیوبند کا آج کا یہ پروگرام اپنے معمول کے اجلاس کا ایک حصہ ہے۔
ابتداء سال ، درمیان سال ، اور اختتام سال پر اس کے اجلاس ہوتے رہتے ہیں جس طرح اور انجمنوں کے اجلاس ہوتے ہیں۔ خاص طور سے بڑی انجمنوں کے النادی الأدبی ہے ، مدنی دارالمطالعہ ہے ، سجاد لائبریری وغیرہ۔
اس اعتبار سے آج کا یہ اجلاس کسی الگ نوعیت کا نہیں ہے ؛ لیکن اتفاق سے اشتہار کو کسی نے سوشل میڈیا کے اوپر وائرل کردیا جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو اس کے سلسلے میں تشویش پیدا ہوئی ، اور کئی جگہ سے مطالبے آئے کہ آج کل کے ماحول میں مناظرہ نہیں ہونا چاہیے!
اگر یہاں میڈیا کے کچھ افراد موجود ہوں یا خبروں سے دلچسپی رکھنے والے تو ان کے سامنے میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی مناظرہ نہیں ہے اس مجمع کے اندر دونوں طرف دارالعلوم دیوبند کے طلبہ ہیں جو مسلک علمائے دیوبند کے حامل ہیں۔ دونوں ایک ہی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ان کے مشق و تمرین کا ایک حصہ ہے ، جس طرح انجمن میں تقریر کی مشق کرتے ہیں ، دیواری پرچوں میں اردو عربی اور دیگر زبانوں میں مضامین لکھ کر مضمون نویسی کی مشق کرتے ہیں ، اسی طرح مسائل کی تنقیح و تحقیق کے سلسلے میں اپنا نظریہ پیش کرنے اور اس کو مدلل کرنے کے سلسلے میں مشق و تمرین کیلئے انجمن تقویت الاسلام کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس میں جہاں اسلام سے خارج فرقوں مثلا : قادیانیوں اور عیسائیوں وغیرہ کے سلسلے میں مناظرے ہوتے ہیں ، وہیں مسلمانوں کے اندر جو فکری انحراف رکھنے والی جماعتیں ہیں اور ان سے ہمارے اکابر کے اختلافات ہیں ان سے گفتگو کے آداب اور اس کا سلیقہ سکھانے کے لیے بھی مناظرے کی مشق کی جاتی ہے۔
جہاں تک تعلق ہے مودودی جماعت کا تو ایک تو ہے ملکی مسائل میں ہر ایک کے ساتھ ہمارا تعاون و اشتراک ۔۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
جمعیت علمائے ہند ہمارے اکابر کی جماعت ہے۔ اس کا اپنا ایک منشور ہے اور ایک انداز فکر ہے ، انداز عمل ہے۔ لیکن مسلمانوں کے مشترکہ مسائل جب زیر بحث آتے ہیں تو تمام مسلم جماعتوں سے ، مسالک والوں سے اشتراک ہوتا ہے ، چاہے وہ جماعت اسلامی ہو ، چاہے جمیعت اہل حدیث ہو ، چاہے کچھوچھا سے تعلق رکھنے والے حضرات ہوں ، اور اگر بریلوی مسلک کے بھی معتدل مزاج کچھ لوگ ان میں شرکت کرنا چاہیں تو ان کو بھی شریک کیا جاتا ہے۔ وہ ملکی مسائل ہیں۔ مسلمانوں کے ملی مسائل ہیں ، ان میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا ، سب شانہ بشانہ کام کرتے ہیں ؛ لیکن جہاں تک مسلک اور نظریے کی بات ہے تو ہر ایک اپنے مسلک کے سلسلے میں پختہ ہے اور آزاد ہے۔ مودودی صاحب سے ہمارا فکری اختلاف ہے۔ وہ اپنی جگہ پر قائم ہیں ، اور ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے اکابر نے ان سے علیحدگی کیوں رکھی ہے؟ دوری کیوں بنائے رکھی ہے؟ ہمارے اور ان کے خیال میں کیا فرق ہے؟
حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی ، دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین ، شیخ الہند رحمت اللہ علیہ کے شاگرد ، مجاہد ازادی ، ان کو کیا پڑی تھی کہ وہ مودودی صاحب کے دستور اور اصول کو سامنے رکھ کر انہوں نے ان کے بارے میں سوالات قائم کیے اور گفتگو قائم کی؟!
آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مودودی صاحب کی سب سے پہلے گرفت کرنے والے مولانا حسین احمد صاحب مدنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ہیں۔ جب جماعت اسلامی کا دستور شائع ہوا ، اس کے دفعہ 6 کے اندر یہ دفعہ موجود تھی کہ "کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو ، ہر ایک کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دیئے ہوئے معیار پر پرکھے"۔
حضرت مدنی رحمت اللہ علیہ کے کان کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو بھی ہم اسی طرح پرکھیں گے؟ ان کے بارے میں بھی جانچ پڑتال کریں گے؟ ان کی بھی تنقیح کریں گے؟ یا وہ ہماری تنقید سے بالاتر ہیں ؟ تو اس کا یہ جواب ملا کہ نہیں وہ تنقید سے بالاتر نہیں ہیں۔ ان کے اوپر بھی اسی طرح تنقید کی جائے گی۔ چنانچہ آگے کا پورا عمل اسی کے مطابق رہا کسی کو چھوڑا نہیں گیا۔
یہ بنیادی اختلاف شروع ہوا ہے یہاں سے۔ اور پھر تفصیلات کے اندر جائیں تو دین کی پوری تعبیر کو مودودی صاحب نے اپنے انداز سے بدل ڈالا۔ رب کا کیا معنی ہے؟ الہ کا کیا معنی ہے؟ دین کا کیا معنی ہے؟ عبادات کے اثرات و مقاصد کیا ہیں؟ نماز کس لیے پڑھی جاتی ہے؟ روزہ کس لیے رکھا جاتا ہے؟ زكاة اور حج کس لیے کیا جاتا ہے؟
ایک تو مفہوم اور اغراض و مقاصد ۔۔ وہ تو جو امت کے اندر متوارث چلے آرہے تھے ایک وہ ہے جو مودودی صاحب نے بیان کرنے کی کوشش کی۔
مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ جیسا یکسو عالم کہ جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کا کسی سے کوئی اختلاف نہیں تھا ، ہر ایک کے ساتھ وہ جڑ کر رہتے تھے اور ایک متفق علیہ شخصیت کی حیثیت رکھتے تھے ؛ لیکن ان کو بھی ان اصطلاحات کے سلسلے میں مودودی صاحب کے خلاف قلم اٹھانا پڑا۔
حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی رحمت اللہ علیہ خانقاہ نشین ، محدث جلیل ، خالص درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے ، یعنی اس زمانے میں جب ہندوستان کے اندر لیگ اور کانگرس کا شدید اختلاف چل رہا تھا۔ ایک طرف حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمت اللہ علیہ ، اور ان کے تلامذہ اور ان کے متوسلین جو دیانتا یہ سمجھتے تھے کہ لیگ کے ساتھ وابستگی مسلمانوں کے حق میں مفید ہے۔ ایک طرف حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی اور حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے دیگر تلامذہ ، جو یہ سمجھتے تھے کہ غیر مسلم برادران وطن کے ساتھ اشتراک کر کے ہمیں آزادی کی لڑائی لڑنی چاہیے وہ دیانتا مسلمانوں کے حق میں اس کو بہتر سمجھتے تھے۔ دونوں اپنے اپنے نظریے کے اوپر جمے ہوئے تھے ، اور بہت شدید اختلاف پیدا ہوگیا تھا ، اس زمانے میں بھی مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا جو طرزِ عمل تھا ، دونوں کے ساتھ یکساں تعلقات تھے ، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہیں یا ان کے ساتھ۔
کسی کے سلسلے میں انہوں نے کبھی کوئی چیز نہیں لکھی ؛ لیکن مودودی صاحب کے سلسلے میں ان کو قلم اٹھانا پڑا۔
مولانا محمد یوسف بنوری رحمت اللہ علیہ علامہ کشمیری رحمت اللہ علیہ کے شاگرد ، خالص درسگاہی آدمی ، ان کو ان کے خلاف قلم اٹھانا پڑا۔
اور جب مودودی صاحب کی تحریک شروع ہوئی ہے ، اور ان کے قلم کا جادو اتنا سر چڑھ کر بولا کہ بڑے بڑے چوٹی کے علما ان کے ہمنوا ہو گئے ، جن میں مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی ہیں ، مولانا منظور نعمانی ہیں ، مولانا عبدالرحیم اشرف ہیں۔ اور اسی طریقے سے بڑے بڑے علماء تھے ؛ لیکن جب قریب گئے ہیں ، اور جماعت کے نظریات کو اور مودودی صاحب کے نظریات کو اور ان کے عمل کو دیکھا ، تو ایک ایک کرکے چھٹتے ہوئے سب کے سب الگ ہو گئے۔
مولانا منظور نعمانی رحمت اللہ تعالٰی علیہ اتنے اخلاص کے ساتھ انکے ساتھ گئے تھے کہ جب انہوں نے اپنا مستقر بریلی چھوڑا ہے ، اور وہ سیالکوٹ سفر کرکے گئے ہیں مودودی صاحب کی حمایت میں ، اس کا نام ہجرت رکھا تھا کہ میں گویا ہجرت کر کے آیا ہوں ، تن من دھن سے ان کے ساتھ ہو گئے تھے ؛ لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد ان کو لکھنا پڑا "مولانا مودودی صاحب کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف"۔ یہ پوری کتاب انہوں نے لکھی ہے۔
یہ چیزیں ہمارے طلبہ کے سامنے آنی چاہیے ، ان کے علم میں رہنی چاہیے ، اور اس وجہ سے خاص طور سے رہنی چاہیے کہ خاموشی اختیار کرنے کا اثر یہ ہوا ہے کہ آج دارالعلوم دیوبند کے احاطے میں مودودیت سے متاثر ہمارے طلبہ کی بڑی تعداد پیدا ہوگئی ہے ، اور تنبیہ اور ہدایت کے باوجود وہ اپنی سرگرمیوں کے اندر ملوث ہیں ، اور ان کے اندر سرگرم ہیں ، یہ بہت خطرناک چیز ہے۔ اس لیے حقیقت ہر ایک کے سامنے واضح ہونی چاہیے۔ آج کے اس مناظرے کا مقصد طلبہ کے درمیان مودودی صاحب کے فکر کا تعارف کرانا ہے اور جب یہ میدان عمل میں جائیں تو اپنے اکابر کے معتدل مسلک کے حامل بن کر جائیں۔
ہمارا اختلاف بہت سی چیزوں میں جماعت اہل حدیث کے ساتھ بھی ہے۔ بریلوی حضرات* کے ساتھ بھی ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ بھی ہے۔
یہ اختلاف صرف ہمیں ہی نہیں ہے ، ان کو بھی ہم سے اختلاف ہے ، مودودی صاحب کو بھی ہم سے اختلاف ہے ، جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث کو بھی ہم سے اختلاف ہے ، بریلویوں کو بھی ہم سے اختلاف ہے۔ اٍدھر سے بھی اختلاف ہے ، اُدھر سے بھی اختلاف ہے۔
لیکن وہ نظریات کا ہے ، مسلک کا ہے ، دین کے احکام کا ہے۔
اور جہاں تک ہندوستان کے اندر مسلمان کی حیثیت سے جینے اور زندگی گزارنے کا معاملہ ہے ، مسلمانوں کے حقوق کا مسئلہ ہے ، ان کے ملی مسائل کا مسئلہ ہے ، ہم سب ایک ساتھ رہتے ہیں۔
اور یہ مناظرہ کسی اسٹیج پر نہیں ہورہا ہے ، کسی میدان میں نہیں ہورہا ہے ، کوئی چیلنج نہیں کیا جارہا ہے ، یہاں دونوں طرف دارالعلوم دیوبند کے طلبہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ حقیقت سے واقف ہو جائیں۔
اس لیے جن طلبہ کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اس کو موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ ان سے بھی میں کہتا ہوں کہ اگر آپ اس سے واقف نہیں رہیں گے ، تو یا تو آپ ان کی فکروں کے شکار ہو جائیں گے یا اگر کبھی آپ کو گفتگو کی ضرورت پڑی ، تو آپ کو لاجواب ہوکر خاموش بیٹھنا پڑے گا۔
اس لیے جیسے اور دیگر موضوعات کے اوپر تیاری کرکے آپ کے ساتھی آپس میں گفتگو کرتے ہیں۔ ایک فریق اٍدھر کا بن جاتا ہے ، دوسرا فریق اُدھر کا بن جاتا ہے ، جب کہ دونوں ایک ہی فکر کے حامل ہیں۔ اسی طریقے سے یہاں بھی دو جماعتِ بناکر افکار کا تقابل کیا جائے گا ؛ تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ مودودی صاحب کے اور جماعت اسلامی کے نظریات کیا ہیں ؟
اور ہمارے اکابر کے نظریات کیا ہیں؟ کیوں حضرت مدنی رحمت اللہ علیہ ، حضرت مولانا یوسف بنوری رحمت اللہ علیہ ، حضرت مولانا زکریا صاحب کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا منظور احمد نعمانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور مولانا نجم الدین اصلاحی رحمت اللہ علیہ ، ان جیسے اکابر نے آخر کیوں مودودی صاحب کے نظریات کی تردید کو ضروری سمجھا ؟!.
اس لیے آج اس مناظرے کو آپ غور سے سنیں ، اس کے مضامن کو ذہن میں رکھیں!
ہاں! مجادلہ ، مخاصمہ نہیں ہونی چاہیے ، دلائل کے ساتھ گفتگو ہونی چاہیے ؛ تاکہ آپ کے ذہن کے اندر دونوں طرف کے دلائل آجائیں۔ پھر آپ یہاں سے فارغ ہوکر جائیں گے ، اپنی درسگاہوں میں جاکر اپنے عمل میں مشغول ہو جائیں گے ، کوئی آپس کے اندر کا مباحثہ نہیں ہوگا۔ یہ ایک مشق ہے جیسے تقریر کی مشق ہوتی ہے۔ تحریر کی مشق ہوتی ہے۔ اسی طریقے سے گفتگو کرنے کی بھی مشق ہے۔
اور آپ جانتے ہیں اگر آپ نے الفوز الکبیر پڑھی ہے ۔۔ قرانی علوم کو جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمت اللہ علیہ نے پانچ قسموں پر منقسم کیا ہے۔ اس میں ایک علم مجادلہ بھی ہے کہ دوسرے کے ساتھ گفتگو کرنے کا انداز بھی قران نے ہمیں سکھایا ہے : وجادلهم بالتي هي أحسن۔
اسی مجادلہ بالتی هي احسن کو سکھانے کے لیے انجمن تقویة الاسلام (شعبہ مناظرہ) کے ذریعے اس طرح کے پروگرام ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد نہ حقیقی مناظرہ ہے ، نہ کسی کو یہاں چیلنج کیا گیا ہے ؛ بلکہ طلبہ ہی کے دو جماعتوں کے درمیان مباحثے کی شکل پیدا کی جا رہی ہے ؛ تاکہ دونوں طرف کے دلائل ہمارے سامنے آجائیں ، اور ہم اپنے اکابر کے معتدل مسلک کے اوپر گامزن رہتے ہوئے آگے قدم بڑھائیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو صحیح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے!

وٱخر دعوانا أن الحمدللہ رب العالمین!

برائے مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔
21/08/2023

برائے مہربانی چینل کو سبسکرائب کر دیں۔

DARUL ULOOM DEOBAND FULL VIDEO| Deoband Madarse ki VideoDunya ki sab se badi library india deoband Twitter linkhttps://twitter.com...

 # #   # #  اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اختلاف ہوجائے تو قرآن سنت کی طرف جائیں شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے،...
27/06/2023

# # # # اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اختلاف ہوجائے تو قرآن سنت کی طرف جائیں
شیطان مسلمانوں میں تفرقہ چاہتا ہے، ایسی ہرچیز جس سے اتحادٹوٹے دور رہنےکا حکم ہے، مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد کا خطبہ حج کے ذریعہ دنیا بھر کے مسلمانوں سے خطاب
مکہ مکرمہ۔ ۲۷؍جون: میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمدبن سعید نے خطبہ حج دیا جسے لاکھوں عازمین سمیت دنیا بھر میں موجود مسلمانوں نے ٹی وی پر براہ راست سنا۔خطبہ حج کا ترجمہ اردو سمیت دنیا کی تقریباً ۲۰ زبانوں میں براہ راست نشر کیا گیا۔خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ ڈاکٹر یوسف بن محمد کا کہنا تھا کہ اے ایمان والو ، دنیا اور آخرت کے معاملات میں اللہ کے حکم کو پورا کرو، اللہ تعالی نے تفرقہ ڈالنے سے منع کیا ہے، توحید کی دعوت تمام نبیوں میں مشترک رہی، اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اللہ کے سوا تمام چیزوں کو ختم ہوجانا ہے۔شیخ یوسف بن محمدکا کہنا تھا کہ حکم دیا گیا ہے کہ نماز ادا کی جائے، زکوٰۃ دی جائے، غریبوں کی مدد کی جائے، حج بھی ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل نہیں، جس طرح اس مہینے کی حرمت ہے اسی طرح جان مال کی حرمت ہے، دن رات کا آناجانا اللہ تعالی کی نشانیاں ہیں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اللہ کی حدود کی حفاظت کا مطلب ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، ہر نبی نے یہ ہی دعوت دی کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کا حکم اللہ نے دیا ہے۔خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ یوسف بن محمدکا کہنا تھا اللہ عظیم ہے اور حکمت والا ہے، اللہ رب العزت نے تفرقے سے منع فرمایا، قرآن میں اتحاد کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے، اتحاد میں ہی دین و دنیا کے معاملات میں فلاح ہے، مسلمانوں کا آپس میں مل کر رہنا ضروری ہے، اللہ نے فرمایا جس نے کتاب میں اختلاف کیا وہ ہدایت سے دور ہیں، مسلمانوں کو آپس میں جڑ کر رہنا ضروری ہے، ہمیں حکم دیا گیا اختلاف ہوجائے تو قرآن اور سنت کی طرف جائیں، قرآن کریم میں مسلمانوں کے لیے جڑکر رہنے کا حکم ہے۔امام کعبہ کا کہنا تھا کہ اچھے اخلاق سے دوسروں کے دل میں جگہ پیدا ہوجاتی ہے، مسلمانوں کے لیے ضروری ہے اچھے اخلاق رکھیں، شریعت مطہرہ کا مقصد ہے مسلمان آپس میں جڑ جائیں، ارشاد ہوتا ہے شرک نہ کرنا، والدین سے حسن سلوک کرو،گناہ کے کاموں میں تعاون نہ کرو، تقویٰ میں تعاون کرو، شیطان چاہتا ہے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو، دین میں تمام تعلیمات ہیں جو مسلمانوں کو جوڑ کر رکھتی ہیں، شریعت میں حکم ہے جھگڑا کرنے والوں کو سمجھایا جائے، ارشاد ہوتا ہے امت واحدہ ہے، اللہ کے حکم پر عمل کرنےوالی۔بتادیں کہ مناسک حج کے دوران منیٰ کی عارضی خیمہ بستی میں ۸ ذو الحج کا پورا دن قیام کے دوران پانچوں وقت کی نمازیں ادا کر کے دنیا بھر سے آئے لاکھوں عازمین لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے حج کے رکن اعظم وقوف عرفہ کیلئے ۹؍ ذوالحج کو نماز فجرکی ادائیگی کے بعد میدان عرفات میں جمع ہوئے۔ میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا ہونےکے بعد عازمین نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج سننے کے بعد ظہر و عصر کی نمازیں یکجا کرکے ایک ساتھ ادا کیں۔ اذان مغرب کے بعد عازمین میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ نماز مغرب اور عشاء ملا کرادا کریں گے۔ عازمین حج آج رات بھر مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے عبادت اور ذکر و اذکار کرتے ہوئے رات گزاریں گے اور شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔۱۰ ذی الحج کو نماز فجر کے بعد مزدلفہ سے واپس منیٰ روانہ ہوں گے اور حضرت ابراہیم کی سنت کی پیروی میں رمی جمرات کریں گے، شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد قربانی کریں گے، قربانی کے بعد حاجی احرام اتار دیں گے اور بال منڈوا کر طواف زیارت کے لیے مسجد الحرام جائیں گے، عازمین حج خانہ کعبہ جا کر طواف زیارت کریں گے اور واپس منیٰ جا کر ایام تشریق گزاریں گے ۔

Address

Uttar Pardesh
Deoband

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علماء دیوبند"Ulama e Deoband" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share