17/05/2026
ہر کسی سے نہ ملو ہنس کے کچھ اندازہ ہے
اس سے افواہوں کا کھلتا نیا دروازہ ہے
مسکراہٹ کو سمجھ بیٹھے تھے ہم تیرا خلوص
قلب بسمل کی تڑپ جس کا یہ خمیازہ ہے
ڈھونڈئیے مجھ میں نہ یوں گم شدہ چاہت کے نشاں
مت کریدو کہ ابھی زخم مرا تازہ ہے
ہے تیرا ذوق سخن مشق سخن سے مہمیز
ہرطرف تیرے سخن کا عجب آوازہ ہے
کھوگئے ہوش و خرد چل کہ سمیٹیں یوسف
سارا بکھرا ہوا تیرا جو یہ شیرازہ ہے
*** یوسف قدیر