02/06/2022
🎯 نائب امیر جامعہ کا پیغام ابناء قدیم کے نام:
عزیز طلبہ فارغین جامعہ/ أعزکم اللہ ورعاکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خدا کرے آپ سب بخیر ہوں اور امید ہے کہ اپنی اپنی جگہوں پر اپنی ذاتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قوم و ملت کی بھلائی اور خیر خواہی کے کام میں بھی ہمہ تن مصروف ہوں گے کہ (خیر الناس من ینفع الناس)
ابھی جامعہ کی طرف سے آپ کو دعوت نامہ بھیجا گیا اور ایک دعوت پر آپ لوگ بصد شوق جامعہ چلے آئے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اپنے مادر علمی کے تعلق سے آپ سبھی کے دلوں میں کتنی محبت اور خلوص ہے اور یہ چیز ہمارے لئے نا صرف خوشی کا باعث ہے بلکہ مہمیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہاں اس کا مجھ کو بہت افسوس رہا کہ اس تاریخی موقعہ پر میں موجود نہیں تھا۔ اور اسکی وجہ یہ رہی کہ میں بعض ضروری کاموں اور مصروفیت کی وجہ سے سینکڑوں میل دور تھا اور اچانک دوسرے پروگرام کے ساتھ اس کو بھی شامل کر لیا گیا، اور مجھ کو بالکل عین وقت پر پتہ چل پایا۔ امیر جامعہ سے کہلوایا بھی گیا کہ فارغین طلبہ کے پروگرام کو تھوڑا مؤخر کردیا جائے لیکن شاید انکے نزدیک اسی وقت بلانا زیادہ مناسب تھا خیر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ع۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرضئ مولی از ہمہ اولی
اسی کے ساتھ مجھے یہ جان کر بھی بہت افسوس ہوا کہ آپ لوگوں کے ساتھ جو میٹنگ یا مذاکرہ ہونا تھا وہ نہیں ہوا۔ بس چند منٹ کی بند کمرے کی مجلس کے بعد پروگرام کا اختتام ہوگیا، اور آپ لوگ اپنے تأثرات پیش کرنے کی حسرت لئے ہی بھاری دلوں سے گھروں کو واپس ہوگئے۔ حتی کہ آپ میں سے بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ "اب تو حشر کے دن ہی ملاقات ہوگی"۔
🔸آپ کے درد کو ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن آپ لوگ بددل نہ ہوں۔ آپ کو ہم بلائیں گے اور بار بار بلائیں گے، اور اپنے گھر میں آپ کو آنا ہوگا۔ اگر آپ ناراض ہوں گے تو ہم منانے آپ کے گھر آئیں گے۔ بہرحال آپ ہماری اولاد اور چھوٹے بھائی کی طرح ہیں۔
آپ میں سے بیشتر کے علم میں شاید یہ بات ہوگی کہ میں بہت پہلے اس طرح کا پروگرام رکھنا چاہتا تھا۔ اور اس سلسلہ کی ایک ابتدائی نشست سنہ ٢٠١٦ میں رکھی بھی گئی تھی جس میں آپ کے بعض سینئر ساتھی شریک محفل ہوئے تھے اور اس میں یہی طے پایا تھا کہ ایک بڑا پروگرام منعقد کیا جائے اور اس میں امیر جامعہ بھی موجود رہیں۔ لیکن مختلف اسباب کی بنا پر وہ مؤخر ہوتا گیا۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ جامعة الھدایة کا قیام ایک مخصوص فکر اور عظیم مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا اور مدرسہ کے روایتی نصاب و نظام سے الگ ہٹ کر ایک نئے اور انقلابی طریقہ کو روشناس کرانے کی کوشش کی گئی تھی حالانکہ یہ کام اسوقت اتنا آسان نہیں تھا جتنا اب محسوس ہوتاہے اسلئے کہ ع-
تعمیر نو سے ڈرنا طرز کہن پے اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
لیکن بانئ جامعہ رحمة اللہ علیہ نے تعمیر نو سے ڈرنے کے بجائے اسکے چیلینج کو قبول کیا اور عشق الہی سے سرشار ہوکر عظیم مقصد کے حصول کیلئے جامعہ کی بنیاد ڈالی۔
آپ لوگوں کا امتیاز الحمد للہ یہی ہے کہ آپ سبھی اس ادارہ کے فارغین ہیں جس کی طرف اہل فکر واصحاب علم کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔
میرے سامنے آپ کو اجتماعی طور پر بلانے کے چند بنیادی مقاصد تھے جن پر تفصیلی اور کھل کر تبادلۂ خیال ہونا تھا مثلا؛
1️⃣ جامعہ سے فراغت کے بعد اس نصاب تعلیم سے آپ کو کیا بنیادی فائدہ پہونچا؟
2️⃣ جامعہ سے فراغت کے بعد کیا آپ نے مزید اعلی عصری یا دینی تعلیم حاصل کی؟
3️⃣ اپنے اور دیگر مدارس کے فارغین میں آپ کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟
4️⃣ کیا کبھی ایسا اتفاق ہوا کہ کسی مدرسہ یا عصری تعلیم گاہ کے فارغ سے آپکا مذاکرہ ہوا ہو اور اس ملاقات میں آپ کو جامعہ میں پڑھائے جانے والے نصاب کا فائدہ محسوس ہوا ہو؟
5️⃣ جیسا کہ آپ جانتے ہیں جامعہ کا نصاب تین قسم کی تعلیم پر محیط ہے؛ اعلی دینی تعلیم، عصری تعلیم اور ٹیکنیکل تعلیم۔ فراغت کے بعد آپ کو بنیادی طور پر کس شعبہ سے زیادہ سابقہ پڑا؟
6️⃣ تعلیم کا عمل مسلسل تغیر پذیر رہتا ہے اور وہی نصاب تعلیم زیادہ مفید ہوتا ہے جس میں موجودہ ضرورتوں کا لحاظ رکھا جائے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جامعہ کے موجودہ نصاب میں مناسب تبدیلی کی ضرورت ہے، اگر ہے تو کیا؟
یہ اور اس طرح کے بہت سے مقاصد تھے جن پر تفصیلی گفتگو ہونی تھی، لیکن نہیں ہو پائی۔ ان شاء اللہ بہت جلد آپ سے دوبارہ رابطہ کیا جائیگا، اور مزید گفتگو اسی وقت ہوگی۔
یہ تحریر بھی آپ کو سفر سے ہی ارسال کی جارہی ہے، اس امید کے ساتھ کہ آپ کو جو ملال خاطر ہوا ہے اسکا کچھ مداوا ہوسکے۔
نوٹ: میرا ایمیل ایڈریس مندرجہ ذیل ہے اس پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے:
1- [email protected]
2- [email protected]
والسلام
محمد ضیاء الرحیم مجددی
نائب امیر
جامعة الھدایة، جےپور