Aljamiatul Ahmadiya Assunniya Kannauj UP INDIA

Call Directions Website Contact the university

Aljamiatul Ahmadiya  Assunniya  Kannauj UP INDIA Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aljamiatul Ahmadiya Assunniya Kannauj UP INDIA, Community College, Afaqui Street Ahmad Nagar Kannauj, Kannauj.

Missions...
1.‌تعليم
2.دعوة الي الله
3.تصوف
جامعہ امام ربانی مجدد و منور الف ثانی سیدنا شیخ احمد فاروقی سرہندی علیہ الرحمہ کی طرف منسوب ہے۔
اتر پردیش کے قنوج شہر میں واقع ہے ۔
بانی۔ امام الہدیٰ عارف کامل بحر العرفان حضرت مفتی آفاق احمد مجددی علیہ الرحمہ *الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ قنوج اہلسنت وجماعت کا مرکزی، علمی، عملی، دینی.، روحانی، تربیتی،ادارہ ہے اور تعلیماتِ مجدد الف ثانی قدس سرہ نورانی کا ترجمان ہے.ملت اسلامیہ کی فلاح وبہبودوارتقاء کے لئے جامعہ کے چار نکاتی پروگرام ہیں.1- تعلیم-2-دعوت3-تصوف-4- بحالی معیشت.* *نوٹ :جملہ مسائل اہل سنت کو حل کرنا جامعہ کے مقاصد کا ایک جز ہے.* ظلمت کو چھانٹ دینگے آفاق ہم جہاں سے پایا ہے مصطفیٰ سے فیضان کا وہ دھارا *بانی جامعہ :امام الھد'ی مجدد طریقت بحرالعرفان حضرت مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمۃ والرضوان*

📢  #شیخ المشائخ ،  #قطبِ عالم ،  #خواجہ خواجگان  َحرار قدس سرہ السامی❤  #ولادت باسعادت :27 رمضان المبارک 806 ھجری / 1404...
12/09/2026

📢 #شیخ المشائخ ، #قطبِ عالم ، #خواجہ خواجگان
َحرار قدس سرہ السامی

❤ #ولادت باسعادت :
27 رمضان المبارک 806 ھجری / 1404 عیسوی
( باغستان نزد تاشقند )

💛 #وصال باکمال :
29 ربیع الاول 895 ھجری / 1490 عیسوی
( تاشقند [سمرقند] ازبکستان )

💜 #نسبتِ باطنی :
شیخِ جہاں حضرت خواجہ مولانا محمد یعقوب چرخی قدس سرہ العزیز سے۔ ۔

💙 #مختصرتعارف :
اسم مبارک عبیداللہ اور لقب ناصر الدین ہے کیونکہ آپ سے دینِ اسلام کو نصرت و مدد ملی۔ احرار بھی آپ کا لقب ہے ۔ جو اصل میں خواجہ احرار ہے اس لفظ میں آپ کی بڑی منقبت ہے کیونکہ اھلُ اللہ کے نزدیک "حر" ( احرار کا واحد ) اُسے کہتے ہیں جو عبودیت کی حدود کو بروجہ کمال قائم کرے اور اغیار کی غلامی سے نکل جائے ۔ بعض اوقات فقط " اَحرار " کہتے ہیں۔ موضع باغستان علاقہ تاشقند میں ماہِ رمضان المبارک 806 ھجری میں آپ ولادت باسعادت ہوئی ۔ ۔ ۔

👈 #بحوالہ: جواہرِ نقشبندیہ
( تیسرا ایڈیشن 2003 مارچ)

💢 #بزمِ_خواجگی_امکنگیؒ

📥کفش بردار ازلی رسولِ کریم ﷺ و خواجگانِ نقشبند :
محمد فیاض صدّیقی مجدّدی

🖋ابوالمعصوم محمد اعجاز الصِدّیقی المُجدّدی

شہزادہ بحر العرفان حضرت علامہ مولانا احمد سعید صاحب قبلہ مجددی نقشبندی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ آفاقیہ مجددیہ الجامعۃ الا...
08/09/2026

شہزادہ بحر العرفان حضرت علامہ مولانا احمد سعید صاحب قبلہ مجددی نقشبندی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ آفاقیہ مجددیہ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ قنوج ۔۔۔۔۔ گزشتہ شب کرناٹک میں شموگہ کی سرزمین پر امام الانبیاء کانفرنس میں شرکت فرماتے ہوئے ۔۔۔۔ ساتھ میں خطیب الہند حضرت علامہ مفتی اشرف جیلانی ازہری صاحب قبلہ کو بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ الحمد للّٰہ شموگہ کی سرزمین پر الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ کے فارغ التحصیل خلیفہ حضور بحر العرفان حضرت علامہ مسعود نقشبندی صاحب قبلہ اپنے برادر صغیر حضرت مولانا عبد الوکیل آفاقی صاحب کے ساتھ دین متین کی خدمت انتہائی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں ۔۔۔۔ اللہ کریم ان کی خدمات کو قبول فرمائے ۔۔۔۔۔

عرس اویس زماں قطب زماں حضرت مولانا فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ والرضوان ۔۔۔۔۔نام و نسب: اسم گرامی:شاہ فضل ِ رح...
05/09/2026

عرس اویس زماں قطب زماں حضرت مولانا فضل الرحمٰن گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ والرضوان ۔۔۔۔۔

نام و نسب: اسم گرامی:شاہ فضل ِ رحمٰن۔لقب: شیخ المشائخ،قطبِ زماں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی بن حضرت شاہ اہل اللہ بن محمد فیاض بن برکت اللہ بن نور محمد بن عبداللطیف بن عبد الرحیم بن محمد المعروف شاہ مصباح العاشقین چشتی(مزار شریف قصبہ ملانواں ہردوئی میں ہے)۔علیہم الرحمہ۔(تذکرہ مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی:15)۔ آپ کے والد گرامی حضرت شاہ اہل اللہ ﷫ حضرت شاہ عبد الرحمن لکھنوی﷫ کے مرید تھے،انہوں نے ہی حضرت گنج مراد آبادی کانام ’فضلِ رحمٰن‘ تجویز فرمایا تھا۔حضرت شاہ اہل اللہ ﷫ صاحبِ ورع بزرگ اور صوفی شاعر تھے۔حضرت شاہ فضل رحمن کا سلسلۂ نسب انتیس واسطوں سےخلیفۂ اول حضرت سیدناابوبکرصدیق ﷜سےجاملتا ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام بی بی بصیرت تھا،ان کا سلسلۂ نسب حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی﷫سے ملتاہواحضرت ابوبکر صدیق﷜ پر منتہی ہوتاہے۔(تذکرہ اولیائے پاک ہند:235/اردو دائرہ معارف اسلامیہ)
ایام طفولیت میں آثارِ سعادت:اس دور میں یہ بات مشہور ہو گئی تھی کہ حضرت اہل اللہ شاہ کےہاں ایک ایسا بچہ پیداہوا ہےجورمضان کے مہینے میں دودھ نہیں پیتا۔ اس بات کا اس قدر چرچا ہوا کہ جب کبھی رمضان المبارک کی 29 تاریخ کو مطلع ابر آلود ہوتا تو لوگ آپ کی والدہ کے پاس آکر دریافت کرتے کہ کیا آج آپ کے بچے نے دودھ نوش فرمایا ہے۔آپ کی والدہ بتاتیں کہ ہاں تو وہ یقین کر لیتے کہ شوال کا چاند ہو گیا۔(ایضا)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 21/رمضان المبارک 1208ھ مطابق21/اپریل 1794ء، بروز پیر شہر ’’سنڈیلہ‘‘ ضلع ہردوئی،یوپی (ہند)میں ہوئی۔

بچپن میں پیشین گوئی: جب آپ کی عمر چھ سال کی ہوئی تو آپ کے والد آپ کو اپنے ہمراہ اپنے پیرومرشدکے پاس لے گئے۔حضرت مولاناشاہ عبدالرحمٰن لکھنوی ﷫نے آپ کو دیکھتے ہی فرمایا:’’یہ لڑکاہندوستان کاقطب ہوگا‘‘۔یہ کہ کر اپنا لعاب ان کے منہ میں ڈال دیا۔

تحصیلِ علم:حضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی نے مولانا نور الحق بن مولانا انوار الحق فرنگی محلی سے ابتدائی تعلیم کتبِ درسیہ لکھنؤ میں پڑھیں اور پھر دہلی کا سفر اختیار کیا جہاں حدیث شریف کی تعلیم حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت شاہ اسحٰق محدث دہلوی سے حاصل کی۔ آپ کے ہمدرس طلبہ میں مرزا حسن علی محدث لکھنوی ، مولانا حسین احمد ملیح آبادی ، اور مولانا عبدالصمد بھی شامل تھے۔ آپ نے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے حدیث مسلسل بالاولیۃ پڑھی اور سند حاصل کی جبکہ مولانا شاہ اسحٰق سے حدیث کی مکمل تعلیم حاصل کی۔

بیعت وخلافت:آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے شہرۂ آفاق بزرگ حضرت شاہ محمد آفاق دہلوی﷫ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سلوک کی تعلیم حاصل کی اور بیعت و خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ آپ کے مرشد نے آپ کو علامہ محمد ابن جزری کی کتاب ’’حصن حصین‘‘ پڑھائی اور اس کے پڑھنے اور پڑھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ حضرت شاہ آفاق﷫ آپ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور بیشتر آپ کے مرشد نے آپ کی اقتداء میں نماز یں ادا کی۔ (تذکرہ محدث سورتی:46)۔شجرۂ طریقت اس طرح ہے: حضرت شاہ فضل رحمٰن، حضرت شاہ آفاق دہلوی، حضرت خواجہ ضیاء اللہ، حضرت خواجہ محمد زبیر سرہندی،نقشبندِ ثانی حضرت خواجہ محمد نقشبندی،حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی،حضرت مجدد الفِ ثانی۔علیہم الرحمہ۔

سیرت وخصائص: قطبِ زماں،مرشدِ دوراں،اویسِ زمانہ،عارفِ یگانہ،عالم و عارف،واصل باللہ،عاشقِ رسول اللہ،عارف اسرار ربانی حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی﷫۔آپ﷫ ابتدائی چودہوی صدی کے مشہور بزرگ ہیں۔آپ کی شہرت آپ کی زندگی میں ہی ہند کے طول وعرض میں ہوگئی تھی۔خاص و عام جوق در جوق آپ کے در ِ دولت پرکثرت سے حاضر ہوکر فیوض و برکات سے مالا مال ہونے لگے۔اتباع ِ شریعت،سنتِ مصطفیٰﷺسے محبت،اور قرآن و حدیث سے شغف،تمام معاملات میں شریعت کو فوقیت اور اپنے مریدین و متوسلین کی شریعت کے مطابق تربیت آپ﷫کے اہم اوصاف تھے۔خود بھی ایک جید عالم دین تھے۔آپ کا گزر اوقات و کرام میں آپ فردِ فرید تھے۔مال جمع کرنا اور فقر و فاقہ سے ڈرنا تو آپ جانتےہی نہیں تھے۔ہزاروں روپے خدمت میں آتے،اور آپ اسی دن لوگوں میں تقسیم کردیتے، یہ بات بھی پسند نہ تھی کہ کوئی ایک ایسی رات گزرے جس میں روپے پیسے آپ کے پاس موجود ہوں،پہننے اور کھانے اور لباس میں کسی تکلف سے کام نہیں لیتے تھے۔کتب ِ دینیہ کی تصحیح (پروف ریڈنگ)تھا۔اس سے جو اجرت مل جاتی اسی سے اپنے معاش کے معاملات پورےکرتے،کبھی نوکری نہیں کی۔اللہ جل شاہ نہ کی ذات پر اعلیٰ توکل تھا۔نذرانہ و ہدایا وغیرہ غرباء و فقراء میں تقسیم کردیتےتھے۔ورع و احتیاط،قناعت و استغناء،بذل و سخا،اور زہد و کرام میں آپ فردِ فرید تھے۔مال جمع کرنا اور فقر و فاقہ سے ڈرنا تو آپ جانتےہی نہیں تھے۔ہزاروں روپے خدمت میں آتے،اور آپ اسی دن لوگوں میں تقسیم کردیتے، یہ بات بھی پسند نہ تھی کہ کوئی ایک ایسی رات گزرے جس میں روپے پیسے آپ کے پاس موجود ہوں،پہننے اور کھانے اور لباس میں کسی تکلف سے کام نہیں لیتے تھے۔قول ِحق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتےتھے،خواہ وہ کیسا ہی ظالم و جابر کیوں نہ ہو۔علم وعمل،زہد و ورع،شجاعت و کرم،جلالت مہابت،امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں اپنے معاصرین میں فائق وممتاز تھے۔اسی کےساتھ اخلاصِ نیت،گریہ و زاری،ذکر و استحضار،دعوت الی اللہ، حسنِ اخلاق،فیض رسانی میں عام میں اپنی مثال آپ تھے۔کھانے میں اکثر باجرہ کی روٹی ہوتی تھی،اور کبھی مونگ یا ماش کی دال وغیرہ کی دال بھی ہوتی،اور کھچڑا بھی پسند تھا۔مٹی کے برتن میں کھاتے،اور بوریئے پر بیٹھتےتھے۔نماز ِ تہجد کا خصوصی اہتمام تھا۔حضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کی پہلی شادی قصبہ ملاواں میں ہوئی لیکن اہلیہ کی وفات کے بعد آپ نے ملّاواں کی سکونت ترک کردی اور گنج مرادآبادی ضلع اناؤ میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور دوسرا عقد فرمایا۔ مجاہدے اور ریاضت سے آپ کو حد درجہ شغف تھا۔ چنانچہ زندگی کا بیشتر حصہ اپنی خانقاہ میں بسر کیا۔حدیث شریف سے شغف:حضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کو علم حدیث سے خصوصی شغف تھا اور معقولات کے شدید مخالفت تھے یہی وجہ ہے کہ آپ سے ارادت رکھنے والوں نے علمِ حدیث کے فروغ کی جانب زیادہ توجہ دی۔ مولانا محمد علی مونگیری اپنی کتاب ارشادِ رحمانی میں لکھتے ہیں کہ:’’طالب علمی کے زمانے میں جب میری ملاقات شاہ فضل رحمٰن سے ہوئی تو مجھ سے دریافت فرمایا کہ تم کیا پڑھتے ہو؟ میں نے کہا کہ قاضی مبارک، ارشاد ہوا، استغفراللہ، نعوذ باللہ قاضی مبارک پڑھتے ہو۔ اس سے کیا حاصل ہم نے فرض کیا کہ منطق پڑھ کر قاضی مبارک کی مثل ہوگئے پھر کیا؟ قاضی مبارک کی قبر پر دیکھو کیا حال ہے؟ کوئی فاتحہ پڑھنے والا بھی نہیں اور ایک بے علم کی قبر پر جاؤ جس کو خدا سے نسبت تھی اس پر کیسے انوار و تبرکات ہیں۔(تذکرہ محدث سورتی: 46)
مولانا حکیم قاری احمد پیلی بھیتی نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ مولانا عبدالکریم گنج مراد آبادی فرماتے تھے کہ حدیث کا مطالعہ سے انبیاء اور اولیاء کے قلوب کے انور و برکات جو اس میں ہیں قلب پر اثر کرتے ہیں مطالعہ حدیث سے استغفار اور خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے اور خلقِ خدا کی رہنمائی میں مدد ملتی ہے جبکہ معقولات کے مطالعہ سے کلماتِ کفریہ زبان سے نکلتے ہیں نفس موٹا پڑتا ہے اور کدورت پروان چڑھتی ہے۔ حضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی صحاح ستہ موطا امام مالک اور حصن حصین پڑھانے پر خاص قدرت رکھتے تھے۔ آپ سے جن علماء نے درسِ حدیث لیا ان میں مولانا عبدالکریم گنج مرادآبادی، مولانا محمد علی مونگیری، مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا وصی احمد سورتی، مولانا ظہور الاسلام فتح پوری، مولانا دیدار علی الوری، اور پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔

اعلیٰ حضرت شاہ فضل رحمٰن کی خدمت میں:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلی حضرت مولانا فضل رحمٰن گنج مرادآبادی کی زیارت کیلئے گنج مرادآباد تشریف لے گئے تھے۔ اس سفر میں آپ کے ہمراہ مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمۃ ، مولوی حکیم خلیل الرحمٰن خان تلمیذ مولانا لطف اللہ علی گڑھی، قاضی خلیل الدین، حسن رحمانی المعروف حافظ پیلی بھیتی، اور استاذ ِزمنمولانا احمد حسن کانپوری شامل تھے ۔ اس زمانے میں ریل گنج مراد آباد کیلئے نہیں چلی تھی۔ ہر دوئی، اناؤ یا بالامیؤ سے لوگ بیل گاڑی میں بیٹھ کر جایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت اپنے احباب کے ساتھ بالامیؤ اسٹیشن سے بیل گاڑی کے ذریعہ گنج مرادآباد تشریف لے گئے ۔ حضرت شاہ فضل رحمٰن کو آپ کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی لہٰذا آپ نے مریدین کے ساتھ قصبہ سے باہر تشریف لا کر اعلیٰ حضرت کو خوش آمدید کہا،اپنے خاص حجرے میں مہمان ٹھہرایا،بعد نمازِ عصر کی مجلس میں تمام حاضرین سے مخاطب ہوکر آپ کے بارے میں فرمایا:’’مجھے آپ میں نور ہی نور نظر آتاہےاور اپنی ٹوپی اڑھادی اور ان کی خود اوڑھ لی‘‘۔ تین دن سے زائد اعلیٰ حضرت گنج مرادآباد میں مقیم رہے۔ (تذکرہ محدث سورتی:48/تذکرہ علمائے اہل سنت:208)غرضیکہ حضرت شاہ فضل رحمٰن گنج مراد آبادی کی ذات گرامی منبع فیض و ہدایت تھی اور آپ کےتمام معاصر علماء و اکابر آپ کی زیارت و صحبت سے مستفیض ہوئے۔ حضرت شاہ فضل رحمٰن کا قاعدہ تھا کہ جب بھی کوئی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو پہلے اس کیلئے دعائے خیر فرماتے بعد میں اس کی آمد کا مقصد دریافت فرماتے۔ آپ کی دعا مقبول باری تعالیٰ ہوتی تھی اور اکثر لوگوں کی حاجتیں پوری ہو جایا کرتی تھیں۔ حضرت شاہ فضل رحمٰن کے خلفاء میں ممتاز اسمائے گرامی یہ ہیں: مولانا عبدالکریم گنج مراد آبادی، مولانا محمد علی مونگیری، مولانا احمد میاں گنج مرادآبادی، مولانا وصی احمد محدث سورتی، مولانا ابو سعید رحمانی فتح پور ہسوہ، مولانا ابرار احمد رحمانی رئیس اعظم مرادآبادی، حضرت مولانا قادر علی رامپوری، جد امجد مولانا ہدایت رسول رامپوری، پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری، مولانا دیدار علی محدث الوری لاہوری، مولانا ظہور الاسلام فتحپوری، مولاناتجمل حسین بہاری۔علیہم الرحمہ۔
حضرت شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی نےمولانا وصی احمدمحدث سورتی کی غیر معمولی لیاقت اور خصوصاً علمِ حدیث اور اصولِ فقہ پر متاثر کن دسترس کے پیش نظر آپ کو اپنےدرس میں شامل کرلیا۔ بلکہ نئے طلبہ کو پڑھانے کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد کی۔مولانا وصی احمد میں چونکہ ایک اعلیٰ محدث اور مدرس کی تمام صفات موجود تھیں اسلئے شاہ صاحب حصن حصین کی تمام دعائیں نہ صرف پڑھائیں بلکہ ان کے پڑھانے کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔ شاہ فضل رحمٰن چونکہ صاحب ِکشف بزرگ تھے اسلئے آپ نے مولانا وصی احمد پر خصوصی عنایت فرماتے اور دیگر طالب علموں سے کہتے کہ ان کی عزت کرو یہ ہندوستان میں فرمانِ رسول مقبول ﷺ کے محافظ قرار پائیں گے مولانا وصی احمد جب حصن حصین کے درس سے فارغ ہوئے تو شاہ فضل رحمٰن نے آپ کو خلافت عطا کی اور فرمایا کہ علم کے اظہار میں کبھی بخل نہ کرنا اور حق بات چاہے اپنے اور دوسروں کے حق میں کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو عوام الناس کی فلاح کیلئے عام کرنا۔(تذکرہ محدث سورتی: 49)
حصن ِحصین ہمیشہ علماء و صوفیا کے معمولات میں رہی ہے اور اس کی پر اثر دعاؤں سے وہ فیض اٹھاتے رہے ہیں۔ مولانا وصی احمد سورتی فرماتےہیں: میرے پیر و مرشد حضرت مولانا شاہ فضل رحمٰن گنج مردآبادی نے مجھے حصن حصین کے ورد کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو شخص بعد الجمعہ حصن حصین کو شروع کرے گا اور جمعرات کے دن بعد العصر ختم کرے گا وہ ہمیشہ ہر قسم کی آفات سے محفوظ رہے گا۔ خلق اللہ میں محبوب رہے گا اور اس کی جملہ حاجات پوری ہوتی رہیں گی۔ اوریہ وہ مبارک و مجرب طریقہ ہے جس کی تلقین و اجزت مجھے میرے نامور مربی و مرشد شاہ آفاق دہلوی علیہ الرحمۃ نے عطا فرمائی تھی۔

تاریخِ وصال: آپ کاوصال 22/ربیع الاول1313ھ ،مطابق ماہ ستمبر1895ء کو 105سال کی عمر میں ہوا۔آپ کامزارپرانوار گنج مرادمیں ہے۔


مضمون کاپی کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ممکن ہے کوئی غلطی ہو گئی ہو اگر کوئی غلطی نظر آئے ۔۔۔۔تو آگاہ کریں ۔۔۔۔

مرشد گرامی امام الھدی مجدد طریقت عارف باللہ حضور بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ و الرضو...
02/09/2026

مرشد گرامی امام الھدی مجدد طریقت عارف باللہ حضور بحر العرفان حضرت علامہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی علیہ الرحمہ و الرضوان ۔۔۔۔۔ خانقاہ شرافتیہ ثقلینیہ بریلی شریف میں ۔۔۔۔

۱۷ (17) ربیع الاول یوم وصال خواجہِ خواجگان، درویشِ کاملحضرت خواجہ محمود انجیر فغنویقدس سرہ العزیزحضرت خواجہ محمود انجیر ...
30/08/2026

۱۷ (17) ربیع الاول
یوم وصال
خواجہِ خواجگان، درویشِ کامل
حضرت خواجہ محمود انجیر فغنوی
قدس سرہ العزیز

حضرت خواجہ محمود انجیر فغنوی کا تعلق "انجیر فغنہ" نامی گاؤں سے تھا جو بخارا سے تین فرسنگ دور قصبہ واہکنہ سے متصل تھا - آپ کا ابتدائ زمانہ واہکنہ میں گزرا جہاں آپ نے علومِ ظاہری کی تکمیل فرمائ -

آپ کا ذریعہِ معاش گلکاری تھا - آپ نے خواجہ خواجگان حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بیعت فرمائ اور ساری عمر ان کی خدمت میں رہ کر مرتبہِ کمال کو پہنچے اور مرتبہِ خلافت پر فائز ہوئے - چنانچہ حضرت خواجہ محمود انجیر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے واہکنہ میں مقیم رہ کر طالبانِ حق کی تربیت و راہنمائ کا فریضہ سر انجام دیا -

آپ نے طریقہ نقشبندیہ کی روش کے برعکس "ذکر جہر" شروع کیا کیونکہ آپ کے خیال میں یہ مصلحتِ وقت کا تقاضا تھا - آپ سے دریافت کیا گیا کہ:
آپ ذکر جہر کس نیت سے کرتے ہیں"؟
تو آپ نے فرمایا:
"تا کہ سویا ہوا بیدار ہو جائے، غافل آگاہ ہو جائے اور شریعت و طریقت پر استقامت اختیار کر کےاس راہ پر آئے اور اس میں حقیقی توبہ و انابت کی رغبت پیدا ہو جائے" -
نیز فرمایا:
"ذکرِ جہر اس شخص کے لئے مناسب ہے جس کی زبان جھوٹ اور غیبت سے پاک ہو، حلق شبہ و حرام کے لقمہ سے صاف ہو، دل ریا سے منزہ ہو اور ذہن ماسواء اللہ کے خیال سے خالی ہو" -

آپ کے خلیفہ و جانشین حضرت خواجہ علی رامیتنی سے روائت ہے کہ ایک مرتبہ ایک درویش نے حضرت خواجہ خضر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ دور حاضر کے مشائخ میں سے ایسا کون ہے جس کی اقتداء کی جائے تو انہوں نے جواب دیا "حضرت خواجہ محمود انجیر فغنوی" -

آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے سالِ وفات میں اختلاف پایا جاتا ہے - بعض روایات میں ۷۱۵ ہجری جبکہ بعض روایات میں ۶۴۳ ہجری کا سنہ آیا ہے -

آپ کا وصال شریف واہکنہ کے مقام پر ہوا اور وہیں آپ کا مزارِ اقدس مرجعِ خلائق اور منبعِ فیوض و برکات ہے -

رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

Anwaar e sultania

....

حضور شیخ العالم کا تربیتی منہاجتحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی مرشد گرامی، حضور شیخ العالم، مولانا شاہ احمد رضا خان نقش ...
29/08/2026

حضور شیخ العالم کا تربیتی منہاج
تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی
مرشد گرامی، حضور شیخ العالم، مولانا شاہ احمد رضا خان نقش بندی مجددی دامت برکاتہم اس دور قحط الرجال میں مغتنمات روزگار ہستیوں میں سے ہیں، جنھوں نے اپنے کردار سے ایک بار پھر عملی تصوف کو زندہ کیا اور بڑی خاموشی کے ساتھ اسلاف کی روش پر گامزن ہو کر نہ جانے کتنے ہی سالکین طریقت کو سلوک و معرفت کی اعلی منزلیں طے کروائیں۔
ہر طرف بیعت برکت کے دور دوروں کے بیچ حضرت قبلہ نے بیعت سلوک کا احیا کر کے نہ صرف یہ کہ مشائخ نقش بندیہ مجددیہ کی واقعی جا نشینی کا حق ادا کیا ہے بلکہ بجائے خود بھی بڑا جاں گسل کام کیا ہے اور تصوف و روحانیت کے اصل مطلوب کو پورا کیا ہے۔ کتابی تصوف اور اس کے بھی دور زوال میں یہ وہ عظیم کارنامہ ہے، جس کا کوئی کوتا نگاہ اور متعصب مؤرخ اعتراف کرے، یا نہ کرے، واقعی صلہ خالق کائنات ہی دے گا اور وہی دے بھی سکتا ہے۔
ہر چند کہ گردش دوراں کی کرم فرمائیوں سے حضرت مرشد گرامی کا یہ سفر بڑا صبر آزما اور کانٹوں بھرا رہا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام تر نازک حالات اور سہل پسند طبیعتوں کے باوجود آپ کا طریق تربیت نہ کبھی کسی سے متاثر ہوا اور نہ ہی کبھی سمجھوتہ پسند اور یہی وجہ ہے کہ آپ کا طرز تادیب ہمارے عہد میں رائج طرق تربیت سے بالکل الگ تھلگ اور اپنے آپ میں منفرد نوعیت کا ہے، جو کہنے سے کہیں زیادہ کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ہم اس مضمون میں حضرت دام ظلہ کے اس ممتاز منہاج تربیت پر نکتہ وار روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔
(الف) لگے رہنا اور لگائے رکھنا:-
حضرت مرشد گرامی کی خاص نصیحتوں میں ہوتا ہے کہ آپ اپنے حاضر باشوں اور تربیت یافتگان کو بار بار استقلال اور پامردی کی تاکید فرماتے ہیں۔ عام طور پر کہتے رہتے ہیں: لگے رہو، لگے ہی رہنے سے کام ہوگا۔
حسب ضرورت اپنے اس اصول زندگی کو اپنے بزرگوں کے علاوہ خود اپنی زندگی کی مثالوں سے بھی واضح فرماتے ہیں۔
آپ کے پرانے صحبت یافتگان بخوبی جانتے ہیں کہ آپ نے گردش دوراں کی ہر بہار و خزاں کو خندہ روئی کے ساتھ برداشت کیا، نہ کبھی شاکی ہوئے اور نہ ہی اپنے پائے استقلال میں ذرا لغزش آنے دی۔
یہ اول اول وابستگی کی بات ہے جب ایک دن فقیر نے اپنے اسباق کے متعلق بطور شکوہ عرض کیا: لطیفہ قلب میں کسی حرکت کا احساس نہیں ہوتا تو نہایت پر اعتماد لہجے میں فرماتے ہیں: کرتے رہیے! دیکھتے ہیں کب تک متحرک نہیں ہوتا۔
ایک دن وسوسوں کے متعلق شکوے کے جواب میں فرمانے لگے: وسوسوں کا کام ہے آنا اور ہمارا کام ہے لگے رہنا۔
آپ سے وابستہ سالکین کے ساتھ آپ کے اس اصول زندگی کے نہ جانے کتنے ہی قضایا بطور یادگار جڑے ہوں گے، جن کا تفصیلی تذکرہ نہ مقصود ہے اور نہ ممکن۔
(ب) کر کے دکھانا اور پھر سکھانا:-
حضرت مرشد گرامی دام ظلہ کی شخصیت مکمل عملی شخصیت رہی ہے، اس لیے آپ جو کہتے ہیں، کسی اور کی زندگی سے اس پر کوئی دلیل ملے، ملے، نہ ملے لیکن آپ کی اپنی زندگی سے ضرور مل جاتی ہے اور یہ بھی گویا آپ کا عملی اصول تربیت ہے کہ آپ کر کے دکھانے اور پھر کہنے پر یقین رکھتے ہیں۔
جبہ پہننا سنت رسول ہے لیکن عام طور پر مارکیٹ میں جو جبے دست یاب ہیں، ان کی سائز مسنون سائز نہیں اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مرشد گرامی دام ظلہ اور آپ کے قریبی وابستگان ایسے جبے زیب تن نہیں فرماتے بلکہ آپ کے جبوں کی سائز ٹھیک وہی ہوتی ہے جو کتابوں میں آدھی پنڈلی تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جبوں کی سائز منقول ہے اور اپنی عملی زندگی میں اس کو نافذ کرنے کے بعد آپ حسب ظرف اپنے قریبی لوگوں کو اس بات پر متوجہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ٹخنوں سے نیچے پاجامہ رکھنے، دسترخوان پر نمائشی اور آج کے روایتی انداز میں تکلفات برتنے، گفتگو میں سنت کے مطابق متانت و وقار کا لحاظ نہ رکھنے، مہمانوں کو ہلکے میں آنکنے، وعدہ وفا نہ کرنے، صاف گوئی کی بجائے ٹال مٹول کا اسلوب اپنانے جیسے کتنے ہی معائب ہیں جو گردش زمانہ کے ساتھ کیا عوام اور کیا خواص، سب کی زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں لیکن آپ نہ صرف یہ کہ بنیادی اسلامی تعلیمات پر کاربند رہتے ہیں بلکہ اپنے وابستگان کے معمولات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور حسب ظرف اور حسب موقع انھیں اصلاح حال کی طرف متوجہ بھی کرتے رہتے ہیں جبکہ آپ کے کتنے ہی تربیت یافتگان ہیں، جنھیں زبان قال سے کچھ کہنے کی نوبت نہیں آتی بلکہ وہ آپ کی مزاج آشنائی اور پسندیدگی یا ناپسندیدگی سے ہی اصلاح حال کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور دراصل یہ بھی آپ ہی کی تربیت کا حصہ ہے۔
(ج) دینی محفلوں کے ذریعے تربیت:-
حضرت مرشد گرامی کی عادت ہے کہ جب کہیں دعوت کے لیے تشریف لے جاتے ہیں اور وقت میں گنجائش ہوتی ہے تو حاضر باشوں کو ادھر ادھر کے غیر ضروری مصروفیات سے بچائے رکھنے اور کچھ سکھانے کے لیے مجلس کو دینی محفل میں تبدیل کرنے کا حکم فرما دیتے ہیں: یوں ہی بیٹھنے سے بہتر ہے کہ اللہ و رسول کا کچھ ذکر ہی ہو جائے۔
اور جب تعلیم و تربیت اور ذکر و نعت وغیرہ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو کبھی اشعار کی تشریح کے ضمن میں اور کبھی کسی بات پر گرہ لگانے کے بہانے تربیتی سلسلہ جاری رہتا ہے جبکہ عموماً بھی آپ کی نجی مجلسیں غیر شعوری تربیت سے خالی نہیں ہوتیں۔
آپ کی اس طرح کی مجلسیں تعلیمات اسلام کی تشریح، سنتوں کی ترغیب، بزرگان دین کے معمولات کی توضیح، کسی گنجلک دینی قضیے کی تصریح یا کسی مسئلہ تصوف کی تفہیم وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اگر کچھ رسا اہل سلوک موجود ہوتے ہیں تو کچھ راز و نیاز کی گہری باتیں بھی ہو جاتی ہیں۔
دینی مجلسوں سے آپ کا لگاؤ بجائے خود ایک موضوع ہے کیوں کہ اپنے مشائخ اور دیگر سلسلوں کے مشاہیر کے عرس منانا، آپ کی تربیت کا حصہ رہا ہے۔ ان محفلوں میں آپ کا روحانی جوش دیدنی ہوتا ہے۔
(د) حکم دینے سے بچنے کا انداز:-
حضرت مرشد گرامی کی ایک خاص ادا یہ ہے کہ کیا سالک کے اسباق اور کیا دیگر تربیتی مراحل، عموماً آپ کوئی صریح حکم دینے سے بچتے ہیں اور جو بھی بات کہتے ہیں مشاورتی یا مناسبتی انداز میں کہتے ہیں جس سے آپ کی پسندیدگی بھی واضح ہو جاتی ہے اور حکم بھی نہیں ہوتا کیوں کہ راہ سلوک میں شیخ کی حکم عدولی سالک کے لیے گھاتک ہوتی ہے۔ آپ کی تربیت کا یہ وہ گوشہ ہے جو خاص طور پر سالکین اور روحانی مرشدوں کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے موقعوں پر آپ کا عمومی انداز ہوتا ہے:بہتر ہے کہ یہ کیا جائے۔ ایسا کر لیا جائے تو ٹھیک ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسا ہونا چاہیے وغیرہ۔
(ھ) دقت نظری پیدا کرنا:-
حضرت مرشد گرامی کی ادائیں ان کے حاضر باشوں میں باریک بینی پیدا کرتی ہیں بایں طور کہ آپ اپنے معمولات میں سمجھوتہ نہیں کرتے اور آپ کے معمولات پر نظر رکھنے والا بآسانی یہ جان جاتا ہے کہ آپ کتنی نزاکت اور دقت نظری کے ساتھ کام انجام دیا کرتے ہیں۔
عموماً آپ کی نشست گاہ ممتاز ہوا کرتی ہے لیکن جب محفل میں مریدوں کے علاوہ دیگر علما موجود ہوتے ہیں یا کوئی خصوصی نشست ہوتی ہے تو وہ چوکی جس پر تشریف فرما ہوتے ہیں، ہٹا دیتے ہیں۔ ایسے ہی جب تلاوت قرآن ہوتی ہے تو یا تو تالی کو اپنے بغل میں بٹھا لیتے ہیں یا خود ہی نیچے تشریف لے آتے ہیں لیکن بہر صورت خود اوپر اور تالی قرآن کو نیچے نہیں رہنے دیتے۔
ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ تشریف فرما ہو رہے تھے کہ فقیر نے آپ کا عصا لیا اور رکھتے ہوئے اس کا نچلا حصہ غیر شعوری طور پر قبلے کی طرف کر دیا تو کچھ کہے بنا اسے قبلے سے موڑ دیا اور اس بات کا احساس کروا دیا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔
اگر مسجد میں موجود ہوں تو عصا کا استعمال نہیں کرتے اور اگر ایسا ہوا کہ مسجد میں کوئی محفل منعقد ہوئی اور سلام وغیرہ کے لیے کھڑے ہوتے وقت نقاہت کی وجہ سے مسجد میں کھڑا رہنا پڑا تو احترام کا یہ عالم ہوتا ہے عصا کا نچلا حصہ مسجد کے فرش پر ٹیکنے کی بجائے اپنے پاؤں کے پنجوں پر رکھ لیتے ہیں جبکہ عموماً کبر سنی اور نقاہت کے باوجود سلام وغیرہ کے لیے پوری قوت اور وقار کے ساتھ بنا سہارا کھڑے رہتے ہیں۔ یوں ہی اگرچہ خود دعا نہیں کرواتے لیکن دعا کے وقت پورے خشوع کے ساتھ دست بدعا رہتے ہیں۔ آپ کی زلفیں، آپ کا لباس، آپ کی داڑھی کی ساخت، آپ کا طریق وضو اور کھانا کھانے کے بعد ایک روایت کے مطابق ہاتھوں کی تری پاؤں کے تلووں پر مس کرنے جیسے کتنے ہی شبانہ روز کے معمولات ہیں جو سنتوں پر آپ کی باریک نظروں کی صاف نشان دہی کرتے اور دوسروں کو سکھاتے ہیں۔ عملاً سکھانے کے علاوہ بارہا صراحتاً بھی سنتوں پر عمل اور نظر کی تاکید کرتے ہیں اور اسی کو مقصود بندگی قرار دیتی ہیں۔
(و) صحبت شیخ پر بلا کا زور:-
سلسلہ نقش بندیہ میں اتباع سنت کے بعد جس چیز پر سب سے زیادہ زور رہتا ہے، وہ صحبت شیخ ہے۔ اس لیے جتنی شدت کے ساتھ آپ سنتوں کو اپنا معمول بنانے کی تاکید فرماتے ہیں، اتنا ہی زیادہ صحبت شیخ کی بھی تاکید کرتے ہیں۔
(ز) رابطے میں رہنے کی تاکیدی تلقین:-
ظاہر ہے تمام مریدوں کے لیے بار بار صحبت شیخ ممکن نہیں، اس لیے ایسے دور افتادہ لوگوں کو بذریعہ فون رابطے میں رہنے اور اپنے روحانی احوال بتاتے رہنے کی تاکیدی تلقین کرتے ہیں۔
(ح) پیر پر فدائیت:-
حضرت مرشد گرامی کے انداز تربیت کا ایک اہم ترین حصہ آپ کی اپنے پیر و مرشد پر فدائیت بھی ہے۔ غیر معمولی ہی نہیں بلکہ معمولی قسم کی بھی کتنی ہی باتیں ہوتی ہیں، جو اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک آپ کے مرشد گرامی حضرت شیخ المشائخ مولانا شاہ غلام محمد خاں نقش بندی کمال پوری علیہ الرحمہ کی تعلیمات یا معمولات کا ذکر نہ ہو جائے۔ بات بات پر ان کا حوالہ اور بہانوں بہانوں سے ان کا ذکر اور وہ بھی اس شدت کے ساتھ کہ گزشتہ دنوں ایک موقع پر فرمانے لگے: میں کوئی پیر نہیں بلکہ اپنے پیر کا نوکر ہوں۔
(ط) بزرگوں کے اصولوں کی پاس داری:-
جیسا کہ اوپر بیان ہوا، آپ اپنے صحبت یافتگان کو دقت نظری سکھاتے ہیں، اسی کا ایک حصہ یہ ہے کہ اپنے بزرگوں کے معمولات اور اصولوں پر پوری شدت کے ساتھ کار فرما رہتے ہیں اور کسی صورت ان کے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔
پچھلے سال عرس شیخ المشائخ کی بات ہے برادر طریقت فاروق بھائی نقش بندی، کرلا، ممبئی جو اس وقت تک بے ریش تھے، ان کے لیے عرض کیا گیا: حضور! ان پر کچھ روحانی عطائیں ہو جائیں۔
پہلے تو بڑی نرمی سے یہ سمجھایا کہ جس طرح کسی اسکول میں پڑھائی کرنے کے لیے اس کے طے شدہ ڈریس کوڈ کی پابندی ضروری ہوتی ہے ویسے ہی روحانیت سے استفاضہ کے لیے بزرگوں کے طے شدہ اصولوں کی پاس داری ضروری ہے لیکن جب یہی گزارش کسی دوسرے نے دوسرے انداز سے کی تو سخت ناراض ہو گئے اور فرمایا:
کیا آپ مجھ پر دباؤ بنا رہے ہیں، روحانیت و طریقت کے کچھ اصول ہوا کرتے ہیں، جس کو میرے پاس رہنا ہو، رہے اور جسے جانا ہو، جائے مجھے ان چیزوں کی پرواہ نہیں لیکن میں کسی صورت اپنے بزرگوں کے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
(ی) اصول پسندی کی تربیت:-
اپنے اسلاف کے روحانی اصولوں کے علاوہ آپ نجی زندگی میں بھی نہایت اصول پسند واقع ہوئے ہیں اور یہی اپنے حاضر باشوں کو سکھاتے بھی ہیں۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ لوگ وقت بے وقت حاضر ہو جاتے ہیں جس سے آپ کے معمولات متاثر ہوتے ہیں، اگرچہ اخلاقی طور پر ایسے لوگوں سے بے رخی نہیں برتی جاتی اور انھیں احساس بھی نہیں ہونے دیتے لیکن حسب موقع بڑی حکمت سے نصیحت فرما دیتے ہیں:
کوئی کسی سے ملاقات کے لیے جائے تو وقت لے کر ملنے کے لیے جانا چاہیے تاکہ سامنے والے کا کوئی معمول متاثر نہ ہو۔
اسی طرح جہاں میزبانوں کو مہمانوں کی فضیلت بتاتے ہیں، وہیں مہمانی کے آداب پر بات کرتے ہوئے نصیحت فرماتے ہیں: مہمان وہ ہے جو میزبان پر بوجھ نہ بنے۔
کہیں جانا ہو تو بر وقت بلکہ بارہا قبل از وقت پہنچ جانا، جہاں کہیں جائیں تو منزل سے پہلے غیر ضروری طور پر نہ ٹھہرنا، کہیں بھی ضرورت بھر ہی ٹھہرنا، گول مول گفتگو کی بجائے صاف صاف بات کرنا، دوا دارو سے لے کر عام معمولات تک میں ذرا ٹال مٹول یا سستی کا مظاہرہ نہ کرنا وغیرہ کتنے ہی معمولات ہیں، جو آپ کے کہنے کے علاوہ آپ کے کرنے سے بھی سیکھے جاتے ہیں۔
(ک) نظم و نسق کی تربیت:-
جہاں آپ اصول پسندی کی تربیت فرماتے ہیں، وہیں زندگی میں نظم و نسق کی بھی بہت پریکٹیکل تربیت کرتے ہیں۔ نظم کا عالم یہ ہے کہ جیسے ایک ایک کام کے لیے وقت متعین ہے، ویسے ہی روزمرہ استعمال میں آنے والی اشیا میں سے ایک ایک چیز کے لیے جگہ بھی مختص ہے اور یہ اہتمام صرف گھر میں رکھی اشیا کے لیے ہی نہیں بلکہ آپ کے اپنے جھولے کی جیبوں میں بھی دوا کے لیے، سپاری کے لیے اور پیسوں وغیرہ کے لیے بھی جیبیں مختص ہیں۔
پیسے رکھنے کا انداز بھی اتنا خاص ہوتا ہے کہ ایک طرح کے نوٹ ایک جگہ رکھتے ہیں اور پھر ان سب کو مرتب رکھتے ہیں بلکہ کئی مرتبہ تو محفلوں میں بھی یہ ہوتا ہے کہ جب سامعین کسی خطیب یا نعت خواں کو نذر پیش کرتے ہیں تو آپ اس غیر مرتب نذرانے کے نوٹوں کو بھی مرتب کر دیتے ہیں۔
مصروفیات کے باوجود کب، کتنا اور کیا کھانا ہے کیا نہیں، تقریباً سب کا ایک نظم ہوتا ہے جبکہ اس نظم کے ساتھ اخلاقیات کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی میزبان کا کھانا پسند نہ آیا تو اسے کسی صورت یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ کھانا طبیعت یا پرہیز کے مطابق نہیں بلکہ حس و حرکات اس طرح کی ہوتی ہیں کہ اسے لگے، بخوبی کھایا ہے۔
(ل) باتوں باتوں میں اصلاح و تربیت:-
آپ کی اصلاح کا انداز بڑا نرالا ہے ایسا کہ نہ تو کوئی ٹارگیٹ ہو، نہ کسی کو برا لگے، بات بھی مکمل ہو جائے اور وہ بھی اتنے مصلحانہ اور خیرخواہانہ انداز میں کہ بطور خاص جس کی اصلاح مقصود ہو، وہ خاص طور پر اور ہر حاضر باش عام طور اس سے نصیحت حاصل کرے۔
(م) قدیم تربیت یافتگان سے منسلک کر دینا:-
نئے لوگوں کے لیے آپ کا انداز تربیت یہ رہتا ہے کہ آپ انھیں پرانے تربیت یافتگان سے وابستہ کر دیتے ہیں، جس سے ان کی اصلاح و تربیت آسان اور بسرعت ہو جاتی ہے۔
یہ جہاں ایک انداز تربیت ہے، وہیں نئے لوگوں کی نفس کشی بھی ہے اور پرانے لوگوں کا امتحان بھی یعنی آپ کا یہ وہ طریق تربیت ہے جس سے آپ بیک وقت تین شکار کرتے ہیں۔
(ن) اخفائے حال اور سخن وری:-
حضرت مرشد گرامی کی من جملہ عادتوں میں ایک عادت بلکہ تعلیمات میں اہم ترین تعلیم ہے کہ سالک اپنے احوال و کوائف کا جتنا اخفا کر سکتا ہے، کرے اور کسی پر قطعاً ظاہر نہ ہونے دے کہ وہ کن مراحل سے گزر رہا ہے۔
ہاں! کبھی کبھار شاعری کی زبان میں اپنا درد دروں کہہ دیا ہے، جس سے جگ بیتی کے بہانے آپ کی آپ بیتی بھی کسی حد تک سامنے آ ہی گئی ہے۔
ایک موقع پر اس کے لیے بھی کہنے لگے: میں وہ کم ظرف آدمی ہوں، جس نے اپنی کچھ باتیں شاعری کی زبان میں کہہ دی ہیں۔
در اصل اس راہ میں جتنا اخفا ہے، اتنا کمال اور جتنا اظہار ہے اتنی آزمائش۔ لیکن شکر خدا کہ اللہ رب العزت نے حضرت مرشد گرامی دام ظلہ کو اس بابت بلا کا ظرف دیا ہے، جو نہ صرف اپنا بلکہ آپ کے ذریعے رسا کتنے ہی سالکین طریقت کے احوال کا بھی نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ اخفا فرما لیتے ہیں اور یہی اصلا آپ کی تعلیم و تربیت ہے اور یہی سلسلہ نقش بندیہ کہ تعلیم و تربیت کا حصہ۔

۱۲ ربیع الاول ۵۷۵ ھجرییومِ وصال شریفخواجہِ خواجگان، قطبِ عالم، سرخیلِ ہفت خواجگانِ نقشبندحضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانیقدس...
26/08/2026

۱۲ ربیع الاول ۵۷۵ ھجری
یومِ وصال شریف
خواجہِ خواجگان، قطبِ عالم، سرخیلِ ہفت خواجگانِ نقشبند
حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی
قدس سرہ السامی

حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ العزیز کے آباء و اجداد ایشیائے کوچک (موجودہ ترکی) کے رہنے والے اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں سے تھے - آپ کی والدہِ ماجدہ سلطانِ روم کے خاندان سے تھیں - آپ کے والدِ ماجد کا نام حضرت عبدالجمیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھا جو خود بھی اکابر اولیائے کرام میں سے تھے اور "امام" کے لقب سے مشہور تھے - حضرت امام عبدالجمیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت خضر علیہ الصلاۃ والسلام کے صحبت دار تھے - حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت امام کو بشارت دی کہ:
"آپ کے گھر ایک فرزند پیدا ہو گا ان کا نام عبدالخالق رکھنا، انہیں ہم اپنی فرزندی میں لیں گے اور اپنی نسبت سے بہرہ مند کریں گے"
کچھ عرصہ بعد حضرت عبدالجمیل امام رحمۃ اللہ علیہ ماورا النہر کی طرف ہجرت کرکے بخارا سے چھ فرسنگ دور "غجدوان" میں آکر آباد ہوئے اور یہیں حضرت خواجہِ خواجگان حضرت عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ السامی کی ولادتِ مبارک ہوئ -

حضرت خواجہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن اپنے باغ کے دروازہ پر تشریف فرما تھے کہ ایک ضعیف العمر بزرگ تشریف لائے - حضرت خواجہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی بے حد تعظیم فرمائی - نووارد بزرگ نے فرمایا:
"نوجوان ہم آپ میں بزرگی کے آثار دیکھتے ہیں - آپ نے کہیں بیعت بھی کی ہے یا نہیں"
حضرت خواجہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:
"ہم تو مدت سے اس کی تلاش میں ہیں"
بزرگ نے فرمایا:
"میں خضر (علیہ السلام) ہوں - میں نے آپ کو اپنی فرزندی لیا - ایک سبق آپ کو بتاتا ہوں، اس پر مداومت رکھیے، آپ کے کام میں کشادگی ہوگی"
پھر فرمایا:
"حوض میں غوطہ ماریں اور دل سے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کہیں"
حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تعمیل فرمائ اور اس کے بعد اس بتلائے گئے سبق میں مشغول ہو گئے - اللہ کی طرف سے آپ کے باطن میں عظیم کشائش ہوئ اور بے شمار اسرار آپ پر کھلتے چلے گئے -

اسی اثناء میں حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بخارا میں تشریف لائے - حضرت خواجہ عبدالخالق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کی صحبت میں باقاعدہ حاضر رہتے حتیٰ کہ آپ کو خرقہِ خلافت عطاء فرمایا گیا - یوں آپ کے پیرِ سبق حضرت خضر علیہ السلام اور پیرِ صحبت و خرقہ حضرت خواجہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تھے -

حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حضور شاہنشاہِ نقشبند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تک سات (۷) نامور مشائخ کو ہفت خواجگانِ نقشبند کہا جاتا ہے - یوں حضرت قطبِ عالم خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ "سرخیلِ ہفت خواجگانِ نقشبند" کے لقب سے بھی ملقب ہیں -

حضرت خواجہِ خواجگان حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا طریقہِ ذکر "خفی" تھا جو سلسلہ نقشبندیہ کے مزاج کا حصہ بن گیا اور اس سلسلہ شریف کے مشائخ آج بھی اسی پر کاربند ہیں - طریقہِ نقشبندیہ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پہلے "طیفوریہ" کہلاتا تھا - اس سلسلہ کی باقاعدہ تنظیم حضرت خواجہ غجدوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمائ - آپ کا وصیت نامہ ایک باقاعدہ دستور العمل کی حیثیت رکھتا ہے اور سالکین اس سے ہدائت و راہنمائ حاصل کرتے ہیں -

اس کے علاوہ سلسلہ نقشبندیہ کے آٹھ (۸) اصول آپ نے وضع فرمائے جو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کی بنیاد ہیں:
۱- ہوش در دم
۲- نظر بر قدم
۳- سفر در وطن
۴- خلوت در انجمن
۵- یاد کرد
۶- بازگشت
۷- نگاہ داشت
۸- یادداشت
بعد میں حضور شاہنشاہِ نقشبند قدس سرہ العزیز نے مزید تین (۳) اصولوں کا اضافہ فرمایا:
۱- وقوف زمانی
۲- وقوف عددی
۳- وقوف قلبی

حضرت سیدنا خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ السامی کا وصال شریف ۱۲ ربیع الاول ۵۷۵ ہجری بمطابق 1179 عیسوی غُجدوان کے مقام ہوا -

آپ کا مزارِ مقدسہ و منورہ غجدوان (بخارا) میں مرجعِ خلائق اور منبعِ فیوض و برکات ہے -

بعد از وصال کسی بزرگ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خواجہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عرش کے نیچے ایک نور کے تخت پر تشریف فرما ہیں، فرشتے آپ کے گرد جمع ہیں اور اللہ تعالیٰ کا سلام آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پہنچاتے ہیں -

(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

Anwaar e Sultania انوارِسلطانیہ

Meelad 2026
26/08/2026

Meelad 2026

 #عرس *عرس جانشین مجدد و منور الف ثانی قیوم ثانی سلطان المشائخ حضرت خواجہ محمد معصوم بن مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہما سرہ...
23/08/2026

#عرس
*عرس جانشین مجدد و منور الف ثانی قیوم ثانی سلطان المشائخ حضرت خواجہ محمد معصوم بن مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہما سرہندی *

آپ کی ولادت سرہند شریف میں شوال 1007ھ بمطابق مئی، 1599ء میں ہوئی۔
نام *محمد معصوم،*
کنیت *ابوالخیرات*،
لقب *مجدالدین* اور
خطاب *عروۃالوثقی* ہے۔

اسی سال امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللّٰہ عنہ اپنے مرشد خواجہ خواجگان حضرت محمد باقی باللہ (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ اس لیے امام ربانی عروۃ الوثقیٰ خواجہ محمد معصوم سرہندی کی ولادت کو نیک فال خیال کرتے تھے اور اپنی زندگی ہی میں انکو قطب عالم کے منصب پر فائز ہونے کی بشارت دے دی تھی۔ گیارہ سال کی عمر میں امام ربانی نے آپ کو بیعت فرمالیا اور طریقت کی تعلیم دی۔ سولہ سال کی عمر میں تمام علوم عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل سے فارغ ہوئے۔

*صرف ایک ماہ کی مختصر مدت میں قرآن مجید حفظ کر لیا*

آپ نے اپنے قیام حرمین شریفین کے دوران اپنے خلیفہ مولانا سید زین العابدین یمنی محدث مدنی سے اجازتِ حدیث لی

مجدد الف ثانی نے اپنے وصال سے قبل ہی آپ کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا اور اپنے ایک مکتوب بنام خواجہ محمد سعید و خواجہ محمد معصوم عروۃ الوثقی میں بہت واضح طور پر تحریر فرمایا:

” *کل صبح کی نماز کے بعد مجلسِ سکوت یعنی مراقبہ و خاموشی کے وقت ظاہر ہوا کہ وہ خلعت جو میں پہنے ہوئے تھا مجھ سے جدا ہو گئی ہے اور اس کی بجائے دوسری خلعت میری طرف متوجہ ہے جو اس خلعت کی جگہ پہنائی گئی۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ خلعتِ زائلہ (میری اتاری ہوئی خلعت) کسی کو دیتے ہیں یا نہیں۔ مجھے یہ آرزو ہوئی کہ یہ خلعت زائلہ میرے فرزندِ ارشد محمد معصوم کو دے دیں تو بہتر ہے۔ ایک لمحہ کے بعد دیکھا کہ وہ میرے فرزند کو مرحمت فرما دی گئی اور وہ پوری خلعت اس کو پہنا دی گئی۔ یہ خلعتِ زائلہ معاملہ قیومیت سے مراد ہے جو تربیت و تکمیل سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے اس عرصہ مجتمعہ کے ساتھ ارتباط کا باعث ہوا ہے۔* “

گویا مجدد الف ثانی نے وضاحت فرما دی کہ اس خلعت سے مراد منصب قیومیت ہے جو ارشاد و تعلیم و تربیت سے عبارت ہے۔ حسنات الحرمین اور روضۃ القیومیہ میں ہے کہ قیام حرمین شریفین کے دوران آپ کو الہام ہوا کہ

*"تمہیں محض خلقت کے ارشاد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔چنانچہ آپ سے خلق کثیر نے ظاہری و باطنی علوم میں فیض پایا۔*

اللہ تعالیٰ نے آپ کے نفس گرم، توجہ مبارک اور صحبت میں ایسی برکت دی تھی کہ آپ کے حین حیات ہی آپ کے خلفاء پورے عرب، ماوراء النہر اور افغانستان سے سرہند تک اس طرح پھیل گئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ دعوت و عزیمت کے مبارک منصب پر فائز ہو کر آپ جہاں بھر کو منور فرما رہے ہیں۔ حضرت شاہ احمد سعید مجددی نے لکھا ہے کہ آپ کے دستِ مبارک پر 9 لاکھ افراد نے بیعت کی اور آپ کے خلفاء تقریباً 9 ہزار تھے۔جو کامل و مکمل و مکمِل تھے.

مولف مقامات معصومیہ نے جو آپ کے نواسے تھے، آپ کے بہت سے خلفاء کے نام ان کی وطنی نسبتوں سمیت تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض کی صحبت انہیں بھی میسر آئی۔ انہوں نے تیس خلفاء کے مفصل حالات بھی لکھے ہیں۔

*تصانیف* میں سے بعض

مکتوبات معصومیہ تین جلدوں میں۔

مکاشفات غیبیہ اس عربی رسالہ کا اردو ترجمہ مکاشفات غیبیہ مجددیہ کے نام سے ہوا۔

اذکار معصومیہ
بیاض حضرت خواجہ محمد معصوم

*سفر حرمین شریفین*

آپ 1067ھ بمطابق 1657ء میں حج کے لیے ہندوستان سے روانہ ہوئے۔ آپ کے تقریباً تمام صاحبزادگان بھی آپ کے ہم سفر تھے۔ صاحبِ روضۃ القیومیہ کے مطابق آپ خواجہ محمد سعید و خواجہ محمد یحیی اور سات ہزار خاص مریدوں جن میں دو ہزار آپ کے خلفاء اور سات سو مجد دالف ثانی کے خلفاء کے ہمراہ روانہ ہوئے۔

آپ کے اس سفر حرمین شریفین کے دوران جہاں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی بہت سی کتب تالیف ہوئیں وہیں عرب میں اس سلسلہ کی نشرواشاعت بھی ہوئی جبکہ حضور مجدد الف ثانی کے بہت سے خلفاء پہلے ہی سے یہاں سرگرم عمل تھے اس لیے خواجہ محمد معصوم کا استقبال بھی بڑا پرجوش ہوا۔

*اتباع سنت*

اتباعِ سنت اور عمل بہ عزیمت کے سلسلے میں آپ مجدد الف ثانی کے عملی نمونہ تھے، جس کا اظہار مکتوبات معصومی میں بخوبی ہوتا ہے۔ امام ربانی نے آپ کو وصیت فرمائی تھی کہ تم خوش دل ہو یا تنگ دل، ہر صورت میں جس سے بھی ملو خواہ وہ اچھا ہو یا برا، کشادہ پیشانی اور حسن اخلاق سے ملو۔ کسی پر اعتراض نہ کرو، گفتگو میں سختی ہرگز نہ کرو، خانقاہ کی ٹوٹی چٹائی کو تختِ سلطنت سمجھو۔ پرانی جھونپڑی اور سوکھی روٹی پر قناعت کرو۔ صحبت امرا اور مجلس سلطان سے پرہیز رکھو۔ خواجہ معصوم کی زندگی اسی عہد پر ختم ہوئی کہ مغل سلطان شاہ جہاں آپ کی رفاقت کی تمنا کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو سکے سلطان عالمگیر حلقۂ ارادت میں داخل ہوۓ۔ حاکمِ وقت تھے مگرآپ کا ان پر اس قدر رعب طاری رہتا تھا کہ مجلس میں جہاں جگہ مل جاتی بیٹھ جاتے تھے اور آپ کی خدمت میں ادب کی بنا پر زبان سے ش*ذ و نادر ہی کچھ عرض کرتے تھے۔ لکھ کر گذارشات پیش کرتےتھے۔ مشہور روایت کے مطابق آپ کے نو لاکھ مریدین تھے۔ کئی بادشاہ آپ کے مرید تھے۔ جب آپ حجاز مقدس تشریف لے گئے تو ہزاروں کی تعداد میں اہل حرمین آپ سے بیعت ہوئے۔ اس قدر تبلیغی مصروفیات کے باوجود درس و تدریس کا مشغلہ کبھی ترک نہ کیا۔ عصر کے بعد وعظ نصیحت کی مجلس ہوتی تھی۔ خواتین کی تلقین اور نصیحت کے لیے وقت مقرر ہوتا تھا۔ لوگ باعیال آپ کے دربار میں آتے، جن کے لیے الگ جگہ کا انتظام ہوتا تھا اور آپکی صاحبزادیاں درمیان میں واسطہ ہوتی تھیں۔

*اورنگزیب عالمگیر کی تخت نشینی*
(1659ء) سے بہت پہلے خواجہ محمد معصوم کے ساتھ ان کی عقیدت کے ثبوت ملتے ہیں۔ چنانچہ 1048ھ / 1638ء میں وہ باقاعدہ بیعت ہونے کے لیے خواجہ کی بارگاہ میں سرہند حاضر ہوئے، جہاں انہیں سلطنت کی خوش خبری بھی دی گئی تھی۔[

خواجہ محمد معصوم کے فرزند خواجہ سیف الدین نے اپنے ایک مکتوب میں واضح طور پر اورنگزیب عالمگیر کے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل ہونے اور حضرت خواجہ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا ذکر کیا ہے۔

یہ فیضان مجدد و معصوم پاک ہی تھا جس نے پورے مغل خاندان کے حالات کو ولایت و بزرگی سے سرشار کر دیا اور پھر جہانگیر اور ان کے بعد کے شاہان مغل اسلامی انقلاب جو بھی اس دور میں آیا اس کا باعث بنے۔۔۔

*وصال*
آپ کا وصال 9 ربیع الاول 1079ھ بمطابق 17 اگست 1668ء کو سرہند میں ہوا۔ اورمدفن سرہند شریف، انڈیا میں ہے۔

طالب دعا....
گدائے آقایان سرہند مقدس
*محمد ابودجانہ آفاقی مجددی*
الجامعہ الاحمدیہ السنیہ قنوج یو پی الہند

Address

Afaqui Street Ahmad Nagar Kannauj
Kannauj
209725

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm
Sunday 9am - 5pm

Telephone

+918299119077

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aljamiatul Ahmadiya Assunniya Kannauj UP INDIA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Aljamiatul Ahmadiya Assunniya Kannauj UP INDIA:

Shortcuts

Share