Darul Uloom Deoband, Islamic University in India

Directions Contact the university

Darul Uloom Deoband, Islamic University in India Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Darul Uloom Deoband, Islamic University in India, College & University, Patharkandi, Karimganj.

📖 Islamic Scholar | Motivational Speaker
🕌 Spreading Quran & Sunnah with Wisdom
🎙️ Public Speaker | Educational Content Creator
🤝 Open for Ethical Brand Collaborations
📍 Based in India (Islamic Speaker)
🔒 Accept only Halal & Ethical Promotions

مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہےدار العلوم وقف دیوبند کے بام و در ہی نہیں؛ آج پورا شہر دیوبند سوگوار ہے۔...
16/09/2026

مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

دار العلوم وقف دیوبند کے بام و در ہی نہیں؛ آج پورا شہر دیوبند سوگوار ہے۔
دار العلوم وقف دیوبند کے ہونہار اور ذہین طالب علم عزیزی محمد ریاض میواتی سلمہ (متعلم عربی ہفتم) آج بعد عصر ایک ناگہانی حادثے کا شکار ہوکر، قضائے الہیٰ سے جاں بحق ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
کسے خبر تھی کہ علم کا شوقین اور کتابوں کا یہ شیدائی، بعد عصر کتاب خریدنے کی نیت سے نکلے گا تو جامعہ کے احاطے میں واپس نہیں آسکے گا، عزیزم کی موت جس انداز سے واقع ہوئی وہ انتہائی تکلیف دہ تو ہے ہی؛ سرکاری بد انتظامی کی واضح علامت بھی ہے۔
دیوبند کے کسی نالے کے پاس کتاب خریدتے ہوئے پیر پھسل کر نالے میں گیا اور دیوار کا سہارا لیا، دیوار میں کرنٹ تھا، اور یہی جان لیوا ثابت ہوا۔
ہر سال برسات کے موسم میں، شہر دیوبند میں ایک دو واقعات اس طرح کے پیش آجاتے ہیں ؛ مگر متعلقہ سرکاری محکمہ کی بے حسی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
منتظمین جامعہ کی ہدایت پر، موصوف کو ہاسپیٹل لے جایا گیا ، جہاں ان کی موت کی تصدیق کردی گئی اور یوں گلستان قاسمی کا یہ نوشگفتہ پھول، کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا۔
بعد نماز عشاء جامعہ میں ایصال ثواب اور تعزیتی نشست ہوئی ، جس میں حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم اور جامعہ کے اساتذہ کرام اور تمام طلبہ نے شرکت کی، حضرت مہتمم صاحب نے اپنی گفتگو میں فانی زندگی کی بے ثباتی، دنیوی زندگی کے حقیقی مقاصد پر گفتگو کی، نیز طلبہ کو قیمتی ہدایات دیں۔
عزیزی مرحوم، دار العلوم وقف دیوبند کے ہونہار طلبہ میں تھے، اسباق کی پابندی، تکرار و مطالعہ کا شغف، خوش اخلاقی، اساتذہ کا ادب ، قوانین جامعہ کی پاسداری اور دیگر اوصاف حسنہ سے متصف تھے، ہر امتحان میں اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کرتے تھے، یہی تأثرات تمام اساتذہ کرام کے ہیں۔

یہ لمحہ عزیز مرحوم کے والدین اور اہل خانہ کے لیے بڑا صبر آزما ہے ، اس مصیبت کی گھڑی میں ہم سب ان کے ساتھ ہیں، ان کے لیے صبر جمیل کی دعائیں کرتے ہیں اور مرحوم کی ترقی درجات کے لیے دعا کرتے ہیں۔
یہ لمحہ دار العلوم وقف دیوبند کے منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور تمام منتسبین کے لیے بھی بہت تکلیف دہ ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت تامہ فرمائے اور ان کو
درجات عالیہ نصیب فرمائے آمین

محمد نوشاد نوری قاسمی
استاذ دار العلوم وقف دیوبند
15/09/2026
02/ 02/1448

﴿ اہم اعلان برائے تمام طلبۂ دارالعلوم ﴾کل سے دارالعلوم کے تمام طلبہ کو انتظامیہ کی جانب سے شناخت نامہ رکھنے کے لیے `خصوص...
11/09/2026

﴿ اہم اعلان برائے تمام طلبۂ دارالعلوم ﴾

کل سے دارالعلوم کے تمام طلبہ کو انتظامیہ کی جانب سے شناخت نامہ رکھنے کے لیے `خصوصی کارڈ ہولڈر` اور `گلے میں ڈالنے والی ڈوری` تقسیم کی جائے گی۔ تمام طلبہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اسے وصول کریں اور آئندہ اسے مسلسل اپنے گلے میں آویزاں رکھیں۔

خصوصا کل جب ساتھی امتحان دینے کے لیے شیخ الہند لائبریری ( امتحان گاہ) میں جائیں گے، تو جوابات کی کاپی کے ساتھ انہیں ایک `پی وی سی کارڈ ہولڈر` (باکس) اور شناخت نامہ گلے میں لٹکانے کے لیے `ڈوری` فراہم کی جائے گی۔
ساتھی اپنی جیب میں موجود شناخت نامہ نکال کر پی وی سی کارڈ ہولڈر کے اندر محفوظ طریقے سے رکھیں، اسے بند کریں، ڈوری اس کے ساتھ لگائیں اور شناخت نامہ کو گلے میں آویزاں کرکے امتحان گاہ میں بیٹھیں۔*

*لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ کل سے `شناخت نامہ` ، `کارڈ ہولڈر` اور `ڈوری` کے استعمال کا اہتمام لازما کریں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس نظم و ضبط کی پابندی فرمائیں۔*

کیا یہ خبر صحیح ہے؟
04/09/2026

کیا یہ خبر صحیح ہے؟

Important announcement Darul Uloom Deoband
01/09/2026

Important announcement Darul Uloom Deoband

24/08/2026

نئی ٹیکنولوجی سے پتہ چلتا ہے کہ 9 ربیع الاول مطابق 20 اپریل 571 ءبروز پیر کو حضور ص کی پیدائش ہو سکتی ہے۔حضرت مولانا رضا احمد خاں صاحب نے 8 ربیع الاول کو حضور ص کی پیدائش لکھی ہے۔اس ویڈیو کو دیکھیں۔
مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ

اس ثمیری کیلنڈر میں دیکھیں کہ12ربیع الاول  مطابق23 اپریل 571ء کو جمعرات کا دن ہے۔جبکہ حدیث میں کہ حضور ص پیر کے دن پیدا ...
22/08/2026

اس ثمیری کیلنڈر میں دیکھیں کہ12ربیع الاول مطابق23 اپریل 571ء کو جمعرات کا دن ہے۔جبکہ حدیث میں کہ حضور ص پیر کے دن پیدا ہوئے ہیں۔اس لئے 12 ربیع الاول کو اپ کی پیدائش نہیں ہے۔البتہ 9 ربیع الاول مطابق 20 اپریل 571 کو پیر کا دن ہے۔اس لئے قرین قیاس ہے کہ اپ ص کی پیدائش 9 ربیع الاول مطابق 20 اپریل 571 ء کو ہوئی ہوگی۔
و اللہ اعلم۔
مولانا مفتی ثمیر الدین قاسمی صاحب دامت برکاتہم العالیہ

دارالعلوم دیوبند کا یہ عظیم الشان سہ منزلہ ”باب الظاہر“ گیٹ تقریباً آٹھ دہائی قبل 1940ء میں افغانستان کے بادشاہ ”محمد ظا...
20/08/2026

دارالعلوم دیوبند کا یہ عظیم الشان سہ منزلہ ”باب الظاہر“ گیٹ تقریباً آٹھ دہائی قبل 1940ء میں افغانستان کے بادشاہ ”محمد ظاہر شاہ“ کے عطیہ سے حضرت قاری محمد طیب صاحب رح کے دورِ اہتمام میں تعمیر کیا گیا تھا۔
کل یہ خوبصورت عمارت بھی تاریخ کا عنوان بن جائے گی

اس باب کے متعلق سب سے پہلی روایت یہ سنی کہ اس میں ڈیڑھ سو کمرے ہیں ، دوسری یہ کہ دارالعلوم میں زیرتعلیم جنوں کی رہائش کا...
20/08/2026

اس باب کے متعلق سب سے پہلی روایت یہ سنی کہ اس میں ڈیڑھ سو کمرے ہیں ، دوسری یہ کہ دارالعلوم میں زیرتعلیم جنوں کی رہائش کا انتظام اسی میں ہے اور تیسری یہ کہ ان کمروں پر جن میں یہ غیر مرئی مخلوق سکونت پذیر ہے پرانی طرز کے موٹے موٹے تالے پڑے ہوئے ہیں جو کبھی نہیں کھولے جاتے۔ اس میں کچھ اربابِ دارالعلوم یا تاریخ کا قصور نہیں دیوبند میں نئے آنے والے افراد کے لیے شہر کی مختلف تاریخی عمارتوں کا پہلا تعارف اتنا ہی پرتحیر اور سحرانگیز ہوا کرتا ہے۔ پھر ذرا شعور سنبھالا اور اس پر لگا ہوا کتبہ پڑھا تو جانا کہ حکیم الاسلام رحمہ اللہ کے سفر افغانستان پر بادشاہ ظاہر شاہ نے یہ دروازہ دارالعلوم کو عطیہ کیا ، ١٣٥٩ ھ میں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور ١٣٦٢ ھ میں یہ اپنے تمام تر شکوہ کے ساتھ تکمیل کو پہنچا ؛ یوں آج اس کی عمر مادر علمی کے بہت سے اساتذہ کرام سے بھی زیادہ ہے۔

اس گیٹ نے جو باب الظاہر کے نام سے موسوم ہے دارالعلوم کا ایک عہد پایا ، ایک زمانے کو برتا اور ان شخصیات کے جھرمٹ کو دیکھا ہے جن کے دم قدم سے دارالعلوم کے در و دیوار پر قندیل رہبانی کا عکس جھلملاتا تھا۔ وہ لوگ جن کے کردار کی خوشبو مادر علمی کی فضا میں گلاب کی مانند مہکتی تھی ، جن کے الفاظ کا جادو نہاخانۂ دل تک اثر کرتا تھا اور جن کی شخصیتیں ہم دوشِ ثریا ہونے کے باوصف مٹی کا ایک اجلا اور متحرک سانچا محسوس ہوتی تھیں وہ اس پورے عہد میں باب الظاہر کی آنکھوں میں زندہ رہے، اس کی بھربھراتی مٹی کے ذروں میں ان کی سادگی کا عکس نظر آیا ، اس کی سہ دریوں میں ان کی روایات بولتی محسوس ہوئیں، اس کے کمروں کی قدامت اور خود یوں ایستادگی میں ان کا عزم و ہمت نظر آیا جو ہرطوفان سہ کر جواں عزم ، شجر سایہ دار بن کر کھڑے رہے۔ وہ لوگ یہاں اپنے باوقار قدموں چلتے ، اپنی متواضع روش سے اٹھتے بیٹھتے اور دارالعلوم کی کلیاں ان کی مسکراہٹ سے کھل اٹھتیں۔ وہ لوگ جو علم و عمل کی زندہ علامت تھے ، جنہوں نے دارالعلوم کو اپنی زندگیاں دیں ، اپنی شب زندہ داری اور آہ سحر گاہی میں یاد رکھا ، علم دین کے فرزانوں کو جگر کا لہو دیا ، علم و کتاب کی نغمہ سرائی سے آفاق عالم کو عرفان و آگہی بخشا ان کے ہاتھوں کا لمس ، ان کی باتوں کی تاثیر اور کی نظروں تابانی باب الظاہر کے وجود میں پیوست ہے جو آج بوڑھا ہوکر اپنے انہدام کی راہ دیکھ رہا ہے ۔

باب الظاہر سے ہماری بہت سی یادیں وابستہ ہیں ، دارالعلوم میں گزارے گئے تقریباً دس سال کے عرصے میں یہ ہماری گزرگاہ ، نشان راہ اور جاے پناہ سبھی کچھ رہا ۔ اس کے کمروں میں ہمارے بہت سے احباب سکونت پذیر رہے ، بہت سے دوستوں کی مجلسیں لگیں ، ان کے قہقہے گونجے ، اس کی چھت پر ہماری علمی بحثیں ہوئیں ، تاریخی مناقشے ہوئے اور ادب و آداب کی باتیں چھڑیں۔ ایک عرصے تک یہ تخصص فی الحدیث کی درس گاہ رہا ، وہی درس گاہ جو بحر العلوم مولانا نعمت اللہ اعظمی ، مولانا حبیب الرحمن اعظمی ، مولانا عبداللہ معروفی اور نہ جانے کتنے اہل علم و اتقان کی آماجگاہ رہی ۔ جس سے علم کے ان مطربان رنگیں نوا نے حدیث کا دلکش ساز چھیڑا ، تحقیق کے جوہر دکھلائے اور دارالعلوم کے ممتاز فضلا کو درایت و روایت کا امتزاج سکھلایا ۔ اسی درس گاہ کے اطراف میں مادر علمی کے باذوق طلبہ کے حجرے رہے اور انہی کے انہماک کی روشنی سے ان تنگ و تاریک حجروں میں درخشندگی آئی ‌۔ انہی طلبہ نے آگے چل کر پھر ہندوستان کے گوشوں گوشوں میں دین شریعت کو عام کیا اور آج تک کررہے ہیں ۔
سال گزشتہ سے اس کی حالت زیادہ مخدوش ہوچکی تو اس کو مکمل خالی کرایا گیا ، اس کی حیثیت ایک تاریخ اور علامت کی سی رہ گئی ، پھر بھی یہ احساس نہ تھا کہ وقت کے تھپیڑوں کو سہتا سہتا آخرکار یہ خود فنا کی جانب بڑھے گا ، بہت ممکن ہے اس کے پروانوں کو جدائی اس کی عمر کا اختتام ثابت ہوئی ہو ، آخر کو عمارتیں لوگوں اور زندگیوں سے زندہ رہتی ہیں ، سو یہ بھی خالی ، تنہا اور ویران اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہم ایسے خوشہ چینان دارالعلوم کو ایک سنہری یاد دیکر جارہا ہے ۔ خدا اس کے بنانے والے کو شاد و آباد اور تعمیر کرنے والے کو طمانیت میں رکھے کہ انہوں نے تقریباً سو سال پر مشتمل فن تخلیق و تعمیر کا ایک شاہکار دارالعلوم کو دیا اور رہتی دنیا تک امر ہوگئے۔
Copy post
حذیفہ صبیح

دار العلوم دیوبند میں جلسہ انعامیہ
19/08/2026

دار العلوم دیوبند میں جلسہ انعامیہ

امیر الہند حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۔
18/08/2026

امیر الہند حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ۔

Address

Patharkandi
Karimganj
788724

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darul Uloom Deoband, Islamic University in India posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Darul Uloom Deoband, Islamic University in India:

Shortcuts

Share