16/09/2026
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
دار العلوم وقف دیوبند کے بام و در ہی نہیں؛ آج پورا شہر دیوبند سوگوار ہے۔
دار العلوم وقف دیوبند کے ہونہار اور ذہین طالب علم عزیزی محمد ریاض میواتی سلمہ (متعلم عربی ہفتم) آج بعد عصر ایک ناگہانی حادثے کا شکار ہوکر، قضائے الہیٰ سے جاں بحق ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
کسے خبر تھی کہ علم کا شوقین اور کتابوں کا یہ شیدائی، بعد عصر کتاب خریدنے کی نیت سے نکلے گا تو جامعہ کے احاطے میں واپس نہیں آسکے گا، عزیزم کی موت جس انداز سے واقع ہوئی وہ انتہائی تکلیف دہ تو ہے ہی؛ سرکاری بد انتظامی کی واضح علامت بھی ہے۔
دیوبند کے کسی نالے کے پاس کتاب خریدتے ہوئے پیر پھسل کر نالے میں گیا اور دیوار کا سہارا لیا، دیوار میں کرنٹ تھا، اور یہی جان لیوا ثابت ہوا۔
ہر سال برسات کے موسم میں، شہر دیوبند میں ایک دو واقعات اس طرح کے پیش آجاتے ہیں ؛ مگر متعلقہ سرکاری محکمہ کی بے حسی اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
منتظمین جامعہ کی ہدایت پر، موصوف کو ہاسپیٹل لے جایا گیا ، جہاں ان کی موت کی تصدیق کردی گئی اور یوں گلستان قاسمی کا یہ نوشگفتہ پھول، کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گیا۔
بعد نماز عشاء جامعہ میں ایصال ثواب اور تعزیتی نشست ہوئی ، جس میں حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم اور جامعہ کے اساتذہ کرام اور تمام طلبہ نے شرکت کی، حضرت مہتمم صاحب نے اپنی گفتگو میں فانی زندگی کی بے ثباتی، دنیوی زندگی کے حقیقی مقاصد پر گفتگو کی، نیز طلبہ کو قیمتی ہدایات دیں۔
عزیزی مرحوم، دار العلوم وقف دیوبند کے ہونہار طلبہ میں تھے، اسباق کی پابندی، تکرار و مطالعہ کا شغف، خوش اخلاقی، اساتذہ کا ادب ، قوانین جامعہ کی پاسداری اور دیگر اوصاف حسنہ سے متصف تھے، ہر امتحان میں اعلی نمبرات سے کامیابی حاصل کرتے تھے، یہی تأثرات تمام اساتذہ کرام کے ہیں۔
یہ لمحہ عزیز مرحوم کے والدین اور اہل خانہ کے لیے بڑا صبر آزما ہے ، اس مصیبت کی گھڑی میں ہم سب ان کے ساتھ ہیں، ان کے لیے صبر جمیل کی دعائیں کرتے ہیں اور مرحوم کی ترقی درجات کے لیے دعا کرتے ہیں۔
یہ لمحہ دار العلوم وقف دیوبند کے منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور تمام منتسبین کے لیے بھی بہت تکلیف دہ ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت تامہ فرمائے اور ان کو
درجات عالیہ نصیب فرمائے آمین
محمد نوشاد نوری قاسمی
استاذ دار العلوم وقف دیوبند
15/09/2026
02/ 02/1448