جامعة الإمام أحمد بن عرفان الشهيد- الهند

  • Home
  • India
  • Lucknow
  • جامعة الإمام أحمد بن عرفان الشهيد- الهند
Call Directions Website Contact the university

جامعة الإمام أحمد بن عرفان الشهيد- الهند اس پیج کے ذریعہ جامعہ سید احمد شہید کٹولی کی تعلیمی، ثق?

جامعة اسلامية تهدف إلى إعداد و تخريج العلماء العاملين الأتقياء المجتهدين المؤهلين لحمل رسالة الإسلام في مختلف التخصصات.

آج جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد میں جلسۂ سیرت النبی منعقد ہوا جس میں طلبائے جامعہ اور قرب و جوار کے لوگوں نے بڑے ...
24/08/2026

آج جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد میں جلسۂ سیرت النبی منعقد ہوا جس میں طلبائے جامعہ اور قرب و جوار کے لوگوں نے بڑے ذوق و شوق سے شرکت کی ، علمائے کرام کے بڑے اہم بیانات ہوئے ۔ جلسہ کا آغاز حسین حسینی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا اس کے بعد جناب رسالت مآبﷺ کی شان میں طلبہ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ محمد یاسر، محمد احمد ، عکرمہ نجیب،محمد شعیب محمد ریان محمد، سبیل محمد لئیق، ابو کیف
مقررین میں سب سے پہلے مفتی یامین قاسمی نے گفتگو کی انہوں نے کہا کہ نبی کی اطاعت و فرمانبرداری میں ہی نجات ہے ، ہماری زندگی کا کوئی عمل ایسا نہ ہو جس میں نبی کی اتباع نہ ہو،
اس کے بعد مولانا شاہ فخرعالم حسن مظاہری نے گفتگو کی انہوں نے کہا کہ نبی ہمیں جس بات کا حکم دیں اس پر عمل کرنا ہمارے لیے فرض ہے ۔ہمیں ہر حال میں نبی کی اتباع کرنی ہے ، ان کے ہر حکم کی تعمیل و ارشاد بجا لانا ہے ، نبی کی بات کے بعد کسی کے قول کی کوئی حیثیت نہیں مزید یہ کہا کہ سچائی تو یہ ہے کہ نبی کی بعثت ہوئی تو انسانیت کو احترام کا پتا چلا ، اخلاقی اقدار و روایات معلوم ہوئیں ، اس کے بعد مولانا ثناء اللہ ندوی نے بچوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آئیے ہم آپ کو سیرت کے وہ واقعات سناتے ہیں جو بچوں سے متعلق ہیں انہوں نے حضرت انس کا واقعہ ذکر کیا اور بتایا کہ وہ بچپن سے اللہ کے رسول کی خدمت میں رہے اور رسول اللہ نے ان کی کیسی اعلی تربیت کی، کیسے انہیں چھوٹی چھوٹی چیزیں سکھائی یہ سب ہمارے لیے سیکھنے کی چیز ہے،مولانا نے مزید ایک صحابی کا واقعہ بیان کیا جنہیں اللہ کے رسول نے محنت و مزدوری پر لگایا مولانا نے کہا کہ اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ حلال روزی روٹی کمانے کے لیے کدو کاوش کرنا عین مطلوب ہے۔ اس کے بعد مولانا عبدالمعید ندوی کا خطاب ہوا انہوں نے کہا کہ آج نبی کے تذکرے ہر چہار دانگ عالم میں ہیں ، ہر سو انہیں کا نام لیا جا رہا ہے لیکن کیا نبی کی اقتدا ہو رہی ہے؟ ان کا اتباع کیا جا رہا ہے؟ صرف نبی کا نام لینا یا ان پر درود پڑھ لینا کافی نہیں ہے بلکہ نبی کی سنتوں پرعمل کرنا اور نبی کے راستے کی پیروی کرنا یہی اصل کمال ہے۔
اس کے بعد مولانا یونس حسینی ندوی کی تقریر ہوئی انہوں نے کہا کہ نبی کی بعثت سے پہلے دنیا میں ظالمانہ و جابرانہ نظام تھا دنیا ظلم و استبداد کی چکی تلے پس رہی تھی اور طوق و سلاسل سے گراں بار تھی، لیکن نبی رحمت نے ساری بیڑیاں توڑ دیں رحمت کے جھونکوں نے انسانیت میں ایک نئی امنگ اور تر و تازگی پیدا کردی اج ہمیں اسی پیغمبرانہ مشن کو لے کر آگے چلنے کی ضرورت ہے، آج پھر انسانیت اسی دوراہے پر کھڑی ہے اور اسی نبی رحمت کے پیغام رحمت کی منتظر ہے۔
اس کے بعد مولانا یوسف حسینی ندوی کا خطاب ہوا انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جو یہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے یہ کوئی رسمی جلسہ نہیں بلکہ یہ اس نام نامی اور ذات گرامی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہے جن کے بغیر نہ کسی کا اسلام معتبر ہے نہ ایمان ، یہ جلسہ اسی لیے منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے عطر بیز تذکروں سے شمع ہدایت روشن ہو اور ہم اس کی روشنی میں زندگی کا سفر طے کریں انہوں نے مزید فرمایا کہ افسوس آج ربیع الاول کے مہینے میں مسلمان اس پر جھگڑ رہے ہیں کہ میلاد منانا جائز ہے کہ نہیں ؟ درود و سلام پڑھنا درست ہے کہ نہیں ؟ کیا علماء کا صرف یہی کام رہ گیا ہے ان بحثوں میں امت کے نوجوانوں کو الجھائیں اور کسی کی تکفیر کریں اور کسی کو مشرک قرار دیں؟ کیا نبی کی محبت کے نغمے گنگنانا، نبی کی شان میں ترانے پڑھنا اور درود و سلام کے نذرانہائے عقیدت پیش کرنا کیا یہ شرک ہے؟
اخیر میں حضرت مولانا سید صہیب حسینی ندوی کی صدارتی تقریر ہوئی مولانا نے فرمایا کہ یہ سیرت النبی کی جلسے بڑے مبارک ہیں نبی کا تذکرہ کرنا ان سے محبت و عشق کا اظہار کرنا عین مقصود ہے لہذا جو لوگ سیرت النبی کے جلسوں کو بدعت قرار دیتے ہیں جہالت و نادانی کا ثبوت پیش کرتے ہیں ان جلسوں کا تو مقصد ہی نبی کی سیرت کو عام کرنا نبی کے چرچے و تذکرے کرنا ہے انہوں نے مزید یہ کہا کہ سیرت رسول کے اتنے پہلو ہیں کہ صرف ایک جلسے میں یا کسی ایک نشست میں اس کا احاطہ ممکن نہیں ۔ اصل کام تو یہ ہے کہ ہم نبی کے اسوہ کواپنی زندگی میں اپنائیں ۔ مولانا ہی کی دعا پر مجلس اپنی اختتام کو پہنچی۔

27/05/2026
*جامعہ سید احمد شہید میں ایک روزہ تدریب المعلمین ورکشاپ کا انعقاد*19 مئی 2026 بروز منگلحضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی ...
21/05/2026

*جامعہ سید احمد شہید میں ایک روزہ تدریب المعلمین ورکشاپ کا انعقاد*

19 مئی 2026 بروز منگل
حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی دامت برکاتہم بانی و ناظم جامعہ سید احمد شہید کی زیر سرپرستی یک روز تعلیمی و تربیتی ورکشاپ کا انعقاد عمل میں آیا

جامعہ سید احمد شہید میں معلمین و مدرسین کے لیے ایک روزہ ’’تدریب المعلمین ورکشاپ‘‘ کا مقصد مدارس و مکاتب میں تعلیمی و تربیتی نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا تھا۔ پروگرام میں مختلف مقامات سے تشریف لائے علماء، معلمین اور مدرسین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، اس کے بعد مقررین نے تدریسی و تربیتی میدان کے اہم موضوعات پر قیمتی اور بصیرت افروز خطابات پیش کیے۔

پہلا محاضرہ جناب مولانا عبدالمعیید صاحب ندوی نے بعنوان ’’بچوں کی نفسیات اور ان کی تربیت کا طریقہ‘‘ پیش فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اساتذہ کو بچوں کی نفسیات کو سمجھنے اور اسی کے مطابق تعلیم و تربیت کا نظام قائم کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب استاد وہی ہے جو بچوں کی ذہنی کیفیت اور نفسیات کو سامنے رکھ کر تعلیم دے، کیونکہ بچے اپنے اساتذہ کے کردار، گفتار اور اندازِ زندگی سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور انہیں ہی اپنا نمونہ بناتے ہیں۔

دوسرا محاضرہ مولانا محمد اکرم صاحب پرتاب گڑھی نے ’’حفظ کا نظام اور اس کا طریقۂ کار‘‘ کے عنوان پر پیش کیا۔ انہوں نے بچوں کو حفظ کرانے کے مختلف معروف طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ناظرہ مکمل کرانے کے بعد حفظ شروع کرانا سب سے زیادہ مؤثر اور کامیاب طریقہ ہے۔ انہوں نے طلبہ کی باقاعدہ حاضری کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مستقل مزاجی اور پابندی ہی اچھے نتائج کی ضمانت ہے۔

تیسرا خطاب جناب مولانا مفتی محمد شاہجہاں صاحب ندوی کا تھا، جنہوں نے ’’قربانی کے احکام و مسائل‘‘ پر مدلل گفتگو فرمائی۔ خطاب کے بعد شرکاء کی جانب سے مختلف سوالات کیے گئے، جن کے اطمینان بخش اور علمی جوابات مفتی صاحب نے عنایت فرمائے۔

پروگرام کا آخری اور خصوصی خطاب صدر محترم مخدوم گرامی مولانا سید محمد یوسف حسینی ندوی صاحب مدظلہ العالی جنرل سیکرٹری جمعیت شباب الاسلام انڈیا نے فرمایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مدارس کے نظام میں شفافیت، حکمت، صبر و تحمل اور حسنِ اخلاق کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک استاد طلبہ کے لیے عملی نمونہ ہوتا ہے، اس لیے اساتذہ کو تحمل و بردباری کا پیکر ہونا چاہیے۔ غصہ اور سخت مزاجی اچھے معلم کی علامت نہیں۔
معاشرتی زندگی میں معلم و مدرس کا مقام بڑا اونچا ہے اللہ تعالی نے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت معلم کی بھی تھی اور مربی کی بھی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معلم گر اور انسان ساز بھی تھے، مدارس و مکاتب میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے نظام کو مضبوط و مستحکم کرنے کی غرض سے تدریب المعلمین ورکشاپ کا انعقاد ہوا،

جامعہ کے قدیم استاذ حضرت مولانا محمد ثناء اللہ ندوی صاحب نے بھی اپنے قیمتی تجربات پیش فرمائے۔ اس موقع پر شركاء نے بھی پروگرام کو مفید اور مؤثر قرار دیا۔

پروگرام کا اختتام صدر محترم کی دعا پر ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا وکیل احمد جمالی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
ذو الفقار علي ندوي .

26/03/2026

جامعہ کے مختلف شعبوں میں آج سے داخلہ کا آغاز ہوچکا ہے
تشنگان علم کو نیا تعلیمی سال مبارک ہو.
رابطہ نمبرات:
8090349949
8009739632
7800022170
92358 71954

21/03/2026

اس پیج کے ذریعہ جامعہ سید احمد شہید کٹولی کی تعلیمی، ثق?

07/03/2026

أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله.

03/03/2026

أصبحنا وأصبح الملك لله والحمد لله.

جامعہ کو آپ سب رمضان میں یاد رکھیں، خود بھی حسب استطاعت تعاون فرمائیں اور اپنے دوستوں و احباب کو بھی متوجہ فرمائیں ، الل...
23/02/2026

جامعہ کو آپ سب رمضان میں یاد رکھیں، خود بھی حسب استطاعت تعاون فرمائیں اور اپنے دوستوں و احباب کو بھی متوجہ فرمائیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیکوکاروں میں شامل فرمائے ۔ آمین

Address

أحمدآباد ، مليح آباد، لكهنؤ، يوبي، الهند
Lucknow

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when جامعة الإمام أحمد بن عرفان الشهيد- الهند posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to جامعة الإمام أحمد بن عرفان الشهيد- الهند:

Shortcuts

Share