24/08/2026
آج جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد میں جلسۂ سیرت النبی منعقد ہوا جس میں طلبائے جامعہ اور قرب و جوار کے لوگوں نے بڑے ذوق و شوق سے شرکت کی ، علمائے کرام کے بڑے اہم بیانات ہوئے ۔ جلسہ کا آغاز حسین حسینی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا اس کے بعد جناب رسالت مآبﷺ کی شان میں طلبہ نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ محمد یاسر، محمد احمد ، عکرمہ نجیب،محمد شعیب محمد ریان محمد، سبیل محمد لئیق، ابو کیف
مقررین میں سب سے پہلے مفتی یامین قاسمی نے گفتگو کی انہوں نے کہا کہ نبی کی اطاعت و فرمانبرداری میں ہی نجات ہے ، ہماری زندگی کا کوئی عمل ایسا نہ ہو جس میں نبی کی اتباع نہ ہو،
اس کے بعد مولانا شاہ فخرعالم حسن مظاہری نے گفتگو کی انہوں نے کہا کہ نبی ہمیں جس بات کا حکم دیں اس پر عمل کرنا ہمارے لیے فرض ہے ۔ہمیں ہر حال میں نبی کی اتباع کرنی ہے ، ان کے ہر حکم کی تعمیل و ارشاد بجا لانا ہے ، نبی کی بات کے بعد کسی کے قول کی کوئی حیثیت نہیں مزید یہ کہا کہ سچائی تو یہ ہے کہ نبی کی بعثت ہوئی تو انسانیت کو احترام کا پتا چلا ، اخلاقی اقدار و روایات معلوم ہوئیں ، اس کے بعد مولانا ثناء اللہ ندوی نے بچوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آئیے ہم آپ کو سیرت کے وہ واقعات سناتے ہیں جو بچوں سے متعلق ہیں انہوں نے حضرت انس کا واقعہ ذکر کیا اور بتایا کہ وہ بچپن سے اللہ کے رسول کی خدمت میں رہے اور رسول اللہ نے ان کی کیسی اعلی تربیت کی، کیسے انہیں چھوٹی چھوٹی چیزیں سکھائی یہ سب ہمارے لیے سیکھنے کی چیز ہے،مولانا نے مزید ایک صحابی کا واقعہ بیان کیا جنہیں اللہ کے رسول نے محنت و مزدوری پر لگایا مولانا نے کہا کہ اس سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ حلال روزی روٹی کمانے کے لیے کدو کاوش کرنا عین مطلوب ہے۔ اس کے بعد مولانا عبدالمعید ندوی کا خطاب ہوا انہوں نے کہا کہ آج نبی کے تذکرے ہر چہار دانگ عالم میں ہیں ، ہر سو انہیں کا نام لیا جا رہا ہے لیکن کیا نبی کی اقتدا ہو رہی ہے؟ ان کا اتباع کیا جا رہا ہے؟ صرف نبی کا نام لینا یا ان پر درود پڑھ لینا کافی نہیں ہے بلکہ نبی کی سنتوں پرعمل کرنا اور نبی کے راستے کی پیروی کرنا یہی اصل کمال ہے۔
اس کے بعد مولانا یونس حسینی ندوی کی تقریر ہوئی انہوں نے کہا کہ نبی کی بعثت سے پہلے دنیا میں ظالمانہ و جابرانہ نظام تھا دنیا ظلم و استبداد کی چکی تلے پس رہی تھی اور طوق و سلاسل سے گراں بار تھی، لیکن نبی رحمت نے ساری بیڑیاں توڑ دیں رحمت کے جھونکوں نے انسانیت میں ایک نئی امنگ اور تر و تازگی پیدا کردی اج ہمیں اسی پیغمبرانہ مشن کو لے کر آگے چلنے کی ضرورت ہے، آج پھر انسانیت اسی دوراہے پر کھڑی ہے اور اسی نبی رحمت کے پیغام رحمت کی منتظر ہے۔
اس کے بعد مولانا یوسف حسینی ندوی کا خطاب ہوا انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج جو یہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے یہ کوئی رسمی جلسہ نہیں بلکہ یہ اس نام نامی اور ذات گرامی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہے جن کے بغیر نہ کسی کا اسلام معتبر ہے نہ ایمان ، یہ جلسہ اسی لیے منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے عطر بیز تذکروں سے شمع ہدایت روشن ہو اور ہم اس کی روشنی میں زندگی کا سفر طے کریں انہوں نے مزید فرمایا کہ افسوس آج ربیع الاول کے مہینے میں مسلمان اس پر جھگڑ رہے ہیں کہ میلاد منانا جائز ہے کہ نہیں ؟ درود و سلام پڑھنا درست ہے کہ نہیں ؟ کیا علماء کا صرف یہی کام رہ گیا ہے ان بحثوں میں امت کے نوجوانوں کو الجھائیں اور کسی کی تکفیر کریں اور کسی کو مشرک قرار دیں؟ کیا نبی کی محبت کے نغمے گنگنانا، نبی کی شان میں ترانے پڑھنا اور درود و سلام کے نذرانہائے عقیدت پیش کرنا کیا یہ شرک ہے؟
اخیر میں حضرت مولانا سید صہیب حسینی ندوی کی صدارتی تقریر ہوئی مولانا نے فرمایا کہ یہ سیرت النبی کی جلسے بڑے مبارک ہیں نبی کا تذکرہ کرنا ان سے محبت و عشق کا اظہار کرنا عین مقصود ہے لہذا جو لوگ سیرت النبی کے جلسوں کو بدعت قرار دیتے ہیں جہالت و نادانی کا ثبوت پیش کرتے ہیں ان جلسوں کا تو مقصد ہی نبی کی سیرت کو عام کرنا نبی کے چرچے و تذکرے کرنا ہے انہوں نے مزید یہ کہا کہ سیرت رسول کے اتنے پہلو ہیں کہ صرف ایک جلسے میں یا کسی ایک نشست میں اس کا احاطہ ممکن نہیں ۔ اصل کام تو یہ ہے کہ ہم نبی کے اسوہ کواپنی زندگی میں اپنائیں ۔ مولانا ہی کی دعا پر مجلس اپنی اختتام کو پہنچی۔