29/12/2025
*گجرات کے تعلیمی و دعوتی دورے کی مختصر روداد*
از: علی محمد محمدی مدنی۔
استاد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں
اللہ تعالی کے فضل و کرم، اور اس کی خاص اعانت و توفیق سے جامعہ محمدیہ منصورہ، مالیگاؤں نے اپنے قیام کے اولین دن ہی سے علمِ دین کی اشاعت اور طلبہ کی سہولت کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ اسی مقصد کے تحت جامعہ نے داخلے کے مراحل کو سہل اور ہمہ گیر بنانے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے، جن میں ایک نہایت اہم اور دور رس فائدے کی حامل سہولت ملک کے مختلف خطوں میں داخلہ سینٹروں کا قیام ہے۔
اس سہولت کی حکمت یہ ہے کہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے، بالخصوص نادار اور متوسط طبقے کے وہ طلبہ جو طویل سفر کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، علمِ دین کے اس عظیم مرکز تک پہنچنے سے محروم نہ رہ جائیں۔ چنانچہ ادارۃ الجامعہ نے یہ طے کیا کہ ملک کے مختلف گوشوں میں داخلہ سینٹر قائم کیے جائیں، جہاں طلبہ داخلہ امتحان میں شریک ہوں، اور پھر منتخب و مستحق طلبہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر جامعہ میں حاضری دیں۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی صوبہ گجرات کے معروف شہر بھوج میں قائم ہونے والا داخلہ سینٹر تھا، جس کے لیے ممتحن کی حیثیت سے ناچیز کو ذمہ داری سونپی گئی۔ اس نسبت سے جو تعلیمی و دعوتی سفر پیش آیا، اس کی مختصر روداد پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
چنانچہ 23 دسمبر 2025ء کو رات تقریباً ساڑھے دس بجے مالیگاؤں سے احمد آباد کے لیے بس کے ذریعے روانگی ہوئی۔ سفر خیر و عافیت کے ساتھ طے ہوا اور اگلے دن 24 دسمبر کو صبح پونے آٹھ بجے احمد آباد پہنچا۔ مختصر توقف کے بعد وہیں سے بھوج شہر کے لیے رختِ سفر باندھا، اور شام تقریباً ساڑھے تین بجے بھوج پہنچنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
بس اسٹینڈ پر ہمارے استقبال کے لیے شیخ عبدالرشید محمدی اور ان کے رفیقِ کار شیخ محمد یونس جامعی پہلے سے موجود تھے۔ ان کی گاڑی میں سوار ہو کر ہم ضلعی جمعیت اہل حدیث بھوج کے مرکزی دفتر پہنچے، جہاں احباب نے نہایت گرم جوشی اور خلوص کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ چونکہ عصر کا وقت قریب ہو چکا تھا، اس لیے یہاں ظہر اور عصر دونوں نمازیں جمع کرکے ادا کی گئیں۔ نماز کے بعد مختصر ملاقات اور ضیافت کے بعد ہم ورنورہ بستی کی طرف روانہ ہوئے، جہاں اس علاقے کا معروف تعلیمی ادارہ جامعہ محمدیہ سلفیہ واقع ہے۔
جامعہ پہنچتے پہنچتے شام ڈھل چکی تھی۔ یہاں جامعہ کے ذمہ داران اور اساتذہ کرام نے نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ استقبال فرمایا۔ بالخصوص جن حضرات سے ملاقات اور شرفِ صحبت حاصل ہوا، ان میں شیخ عقیل سلفی (شیخ الجامعہ)، شیخ ثناء اللہ محمدی، شیخ عزیز الرحمن مدنی، شیخ حنیف سلفی، شیخ طارق انور سلفی، اور جناب ماسٹر عبدالمبین صاحب وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
ضیافت کے فوراً بعد مغرب کی اذان ہو گئی۔ نمازِ مغرب کے بعد اساتذہ کرام کی خواہش پر ناچیز نے طلبہ کے سامنے چند پند و نصائح پیش کیے۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک طلبِ علم کی فضیلت، آدابِ تعلیم، اور محنت و جدوجہد کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ یہ مختصر مگر مؤثر تعلیمی و تربیتی نشست اختتام پذیر ہوئی تو جامعہ کے صدر جناب عبدالوہاب بچو صاحب کی جانب سے ایک خصوصی دعوت میں شرکت کی گئی۔
اس دعوت کی انفرادیت یہ تھی کہ یہ بستی سے باہر، کھیتوں اور کھلیانوں کو عبور کرتے ہوئے، ندی نالوں سے گزر کر ایک بلند ٹیلے پر، کھلے آسمان تلے منعقد تھی۔ صاف ستھرا ماحول، فطرت کی قربت، اور دیہی سادگی اس محفل کو خاص بنا رہی تھی۔ مزید برآں مہمانوں کے لیے ایسے مقامی اور انوکھے کھانے پیش کیے گئے جو ہمارے لیے بالکل نئے تھے۔ اس دعوت میں شیخ عبدالرشید محمدی، شیخ محمد یونس جامعی، اور شیخ عبدالخالق محمدی وغیرہ بھی شریک تھے۔
رات کا وقت تھا، ہلکی ہلکی سردی نے موسم کو مزید خوشگوار بنا دیا تھا، اس لیے سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کا الاؤ بھی روشن تھا۔ الاؤ کے گرد بیٹھے ہوئے ہم لوگ قدرت کے مناظر، فطرت کے حسن، اور پھر اسی کے تسلسل میں وجودِ باری تعالی کے دلائل پر گفتگو کرنے لگے۔ کھانے کی تیاری کے دوران شاندار سوپ اور دیگر لوازمات پیش کیے گئے، پھر مختلف اقسام کے پکوانوں سے آراستہ دسترخوان بچھایا گیا۔ کھلے آسمان کے نیچے، ٹھنڈی فضا میں گرم کھانوں کا لطف دوبالا ہو گیا۔
کھانے کے بعد کچھ دیر مزید الاؤ کے گرد بیٹھ کر گفتگو اور گرماہٹ سے لطف اندوز ہوئے، پھر میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس جامعہ محمدیہ سلفیہ ورنورہ لوٹ آئے، جہاں شب بسری کی گئی۔
اگلی صبح مرکز اہل حدیث بھوج کا رخ کیا گیا، جہاں طلبہ کے داخلہ امتحان کا انتظام تھا۔ صبح ساڑھے دس بجے تحریری امتحان کا آغاز ہوا جو تقریباً ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔ اس دوران امتحان گاہ میں طلباء کی نگرانی کے سلسلے میں حافظ شعیب رحمانی امام مسجد عثمان بن عفان، شیخ عبدالرشید محمدی، شیخ عبدالستار محمدی، شیخ عبدالخالق محمدی، شیخ محمد یونس جامعی، شعیب بھائی خزانچی وغیرہ نے بھرپور تعاون فرمایا۔ اس کے بعد شریک طلبہ کا تقریری امتحان شروع ہوا، جو پونے چار بجے تک مکمل ہوا۔ دورانِ امتحان ظہر کی نماز ادا کی گئی، اور ضلعی جمعیت اہل حدیث بھوج کی جانب سے تمام طلبہ اور مہمانوں کے لیے شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس حسنِ انتظام پر جمعیت کے ذمہ داران یقینا شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالی انہیں علم اور اہلِ علم کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عصر کے وقت ناچیز نے مرکز کی مسجد عثمان بن عفان میں نمازِ عصر کی امامت کی، جس کے بعد مختصر درس کا اہتمام بھی ہوا۔ عصر کے بعد شیخ یحیی خان جامعی کے ہمراہ چائے نوشی اور شہر کی مختصر سیر کا موقع ملا۔ مغرب کی نماز شہر کی خوبصورت اور دلکش مسجد اعلی والی میں ادا کی گئی، جس کا طرزِ تعمیر مسجد نبوی کے طرز پر ہے۔
مغرب کے بعد اگلا پروگرام بھوج کے مضافات میں واقع مرزا پور کی مسجد عائشہ میں تھا۔ مولانا عبدالخالق محمدی کی معیت میں وہاں روانگی ہوئی، ساتھ میں مولانا یحیی خان جامعی اور چند دیگر احباب بھی تھے۔ عشاء سے کچھ پہلے مرزا پور پہنچے، جہاں مولانا عبدالغفور اور مولانا علی محمد سلفی اور ان کے رفقاء نے نہایت محبت سے استقبال کیا اور چائے پانی سے تواضع کی۔
عشاء کی نماز مولانا یحیی خان جامعی نے پڑھائی۔ نماز کے بعد ناچیز نے تزکیہ نفس کے موضوع پر تقریباً آدھے گھنٹے خطاب کیا۔ سنن و نوافل کے بعد مسجد سے متصل مدرسے میں شاندار عشائیے کا اہتمام تھا۔ عشائیے کے بعد کچھ دیر علمی و دوستانہ گفت و شنید ہوئی، پھر واپس مرکز مسجد عثمان بن عفان لوٹ آئے۔
26 دسمبر بروز جمعہ، فجر کی نماز کی امامت کے بعد مختصر درس دیا گیا۔ مرزا پور کے احباب نے پہلے ہی ناشتے کی دعوت طے کر رکھی تھی، چنانچہ صبح نو بجے جناب سلیم صاحب اور حافظ یحیی خان صاحب کی معیت میں وہاں تشریف لے گئے، اور ان کی محبت و خلوص کی ضیافت قبول کی۔ ناشتے کے بعد واپس مرکز آئے اور جمعہ کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔
کچھ دیر بعد شیخ عبدالخالق محمدی کی معیت میں مسجد اعلی والی پہنچا، جہاں ایک دن پہلے ہی خطبہ جمعہ طے ہو چکا تھا۔ بعثتِ نبوی کے عظیم مقصد اور تزکیہ نفس کے موضوع پر تقریباً پینتیس منٹ خطاب کیا۔ نماز کے بعد متعدد احباب سے ملاقات ہوئی، بالخصوص شیخ عبدالستار محمدی اور شیخ محمد اسحاق محمدی سے۔ بعد ازاں اہلِ مسجد کی جانب سے اجتماعی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔
اس کے بعد مرکز واپس آ کر واپسی کی تیاری کی گئی، اور شام پونے چھ بجے بھوج سے ٹرین کے ذریعے سورت کے لیے روانگی ہوئی۔ رات کے وقت سورت پہنچنے پر مالیگاؤں کے لیے فوری سواری میسر نہ تھی، چنانچہ شیخ عبدالستار محمدی، اور شیخ عبدالرشید محمدی کے تعاون سے وہاں کے ایک تعلیمی و دعوتی مرکز میں قیام کا انتظام ہوا۔ عدیل بھائی اور عارف بھائی نے نہایت خلوص سے استقبال کیا۔ مختصر آرام اور ناشتہ کے بعد وہاں سے مالیگاؤں کے لیے روانگی ہوئی، اور یوں 27 دسمبر کی شام بحمد اللہ بخیر و عافیت اپنی منزل پر پہنچنا نصیب ہوا۔
آخر میں ناچیز اپنے دل کی عمیق گہرائیوں سے ادارۃ جامعہ محمدیہ منصورہ، ضلعی جمعیت اہل حدیث بھوج، جامعہ محمدیہ سلفیہ ورنورہ، اور ان تمام معزز میزبانوں، رفقائے کار، ذمہ داران اور احبابِ خیر کا تہہ دل سے شکر گزار ہے جنہوں نے اس تعلیمی و دعوتی سفر کو نہ صرف خوش اسلوبی سے ممکن بنایا بلکہ ہر مرحلے پر خلوص، محبت، حسنِ انتظام اور ایثار کا عملی مظاہرہ فرمایا۔ قیام و طعام، آمد و رفت، امتحانات کے انتظامات، اور علمی و دعوتی مجالس—ہر گوشے میں جس دل جمعی، اخلاص اور وقار کے ساتھ تعاون کیا گیا، وہ بلاشبہ قابلِ تحسین اور باعثِ اجر ہے۔
اللہ تعالی ان سب حضرات کی ان مساعیِ جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی سے سرفراز کرے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اور انہیں دینِ اسلام، علمِ نافع اور نسلِ نو کی صحیح تربیت کی مزید توفیق نصیب فرمائے۔
وما ذٰلک علی اللہ بعزیز۔ آمین یا رب العالمین۔
اخوکم: علی محمد محمدی مدنی