الجامعة المحمدية منصورة

الجامعة المحمدية منصورة الجامعة المحمدية هي جامعة إسلامية متكاملة تقع في مدينة ماليغاؤن على بُعد 280 كلو متر من مدينة ممبئي، أسسها الشيخ مختار أحمد الندوي رحمه الله

*گجرات کے تعلیمی و دعوتی دورے کی مختصر روداد*از: علی محمد محمدی مدنی۔استاد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں اللہ تعالی کے فض...
29/12/2025

*گجرات کے تعلیمی و دعوتی دورے کی مختصر روداد*
از: علی محمد محمدی مدنی۔
استاد جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں

اللہ تعالی کے فضل و کرم، اور اس کی خاص اعانت و توفیق سے جامعہ محمدیہ منصورہ، مالیگاؤں نے اپنے قیام کے اولین دن ہی سے علمِ دین کی اشاعت اور طلبہ کی سہولت کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ اسی مقصد کے تحت جامعہ نے داخلے کے مراحل کو سہل اور ہمہ گیر بنانے کے لیے متعدد عملی اقدامات کیے، جن میں ایک نہایت اہم اور دور رس فائدے کی حامل سہولت ملک کے مختلف خطوں میں داخلہ سینٹروں کا قیام ہے۔

اس سہولت کی حکمت یہ ہے کہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے، بالخصوص نادار اور متوسط طبقے کے وہ طلبہ جو طویل سفر کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، علمِ دین کے اس عظیم مرکز تک پہنچنے سے محروم نہ رہ جائیں۔ چنانچہ ادارۃ الجامعہ نے یہ طے کیا کہ ملک کے مختلف گوشوں میں داخلہ سینٹر قائم کیے جائیں، جہاں طلبہ داخلہ امتحان میں شریک ہوں، اور پھر منتخب و مستحق طلبہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر جامعہ میں حاضری دیں۔

اسی سلسلے کی ایک کڑی صوبہ گجرات کے معروف شہر بھوج میں قائم ہونے والا داخلہ سینٹر تھا، جس کے لیے ممتحن کی حیثیت سے ناچیز کو ذمہ داری سونپی گئی۔ اس نسبت سے جو تعلیمی و دعوتی سفر پیش آیا، اس کی مختصر روداد پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

چنانچہ 23 دسمبر 2025ء کو رات تقریباً ساڑھے دس بجے مالیگاؤں سے احمد آباد کے لیے بس کے ذریعے روانگی ہوئی۔ سفر خیر و عافیت کے ساتھ طے ہوا اور اگلے دن 24 دسمبر کو صبح پونے آٹھ بجے احمد آباد پہنچا۔ مختصر توقف کے بعد وہیں سے بھوج شہر کے لیے رختِ سفر باندھا، اور شام تقریباً ساڑھے تین بجے بھوج پہنچنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

بس اسٹینڈ پر ہمارے استقبال کے لیے شیخ عبدالرشید محمدی اور ان کے رفیقِ کار شیخ محمد یونس جامعی پہلے سے موجود تھے۔ ان کی گاڑی میں سوار ہو کر ہم ضلعی جمعیت اہل حدیث بھوج کے مرکزی دفتر پہنچے، جہاں احباب نے نہایت گرم جوشی اور خلوص کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ چونکہ عصر کا وقت قریب ہو چکا تھا، اس لیے یہاں ظہر اور عصر دونوں نمازیں جمع کرکے ادا کی گئیں۔ نماز کے بعد مختصر ملاقات اور ضیافت کے بعد ہم ورنورہ بستی کی طرف روانہ ہوئے، جہاں اس علاقے کا معروف تعلیمی ادارہ جامعہ محمدیہ سلفیہ واقع ہے۔

جامعہ پہنچتے پہنچتے شام ڈھل چکی تھی۔ یہاں جامعہ کے ذمہ داران اور اساتذہ کرام نے نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ استقبال فرمایا۔ بالخصوص جن حضرات سے ملاقات اور شرفِ صحبت حاصل ہوا، ان میں شیخ عقیل سلفی (شیخ الجامعہ)، شیخ ثناء اللہ محمدی، شیخ عزیز الرحمن مدنی، شیخ حنیف سلفی، شیخ طارق انور سلفی، اور جناب ماسٹر عبدالمبین صاحب وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

ضیافت کے فوراً بعد مغرب کی اذان ہو گئی۔ نمازِ مغرب کے بعد اساتذہ کرام کی خواہش پر ناچیز نے طلبہ کے سامنے چند پند و نصائح پیش کیے۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک طلبِ علم کی فضیلت، آدابِ تعلیم، اور محنت و جدوجہد کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔ یہ مختصر مگر مؤثر تعلیمی و تربیتی نشست اختتام پذیر ہوئی تو جامعہ کے صدر جناب عبدالوہاب بچو صاحب کی جانب سے ایک خصوصی دعوت میں شرکت کی گئی۔

اس دعوت کی انفرادیت یہ تھی کہ یہ بستی سے باہر، کھیتوں اور کھلیانوں کو عبور کرتے ہوئے، ندی نالوں سے گزر کر ایک بلند ٹیلے پر، کھلے آسمان تلے منعقد تھی۔ صاف ستھرا ماحول، فطرت کی قربت، اور دیہی سادگی اس محفل کو خاص بنا رہی تھی۔ مزید برآں مہمانوں کے لیے ایسے مقامی اور انوکھے کھانے پیش کیے گئے جو ہمارے لیے بالکل نئے تھے۔ اس دعوت میں شیخ عبدالرشید محمدی، شیخ محمد یونس جامعی، اور شیخ عبدالخالق محمدی وغیرہ بھی شریک تھے۔

رات کا وقت تھا، ہلکی ہلکی سردی نے موسم کو مزید خوشگوار بنا دیا تھا، اس لیے سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کا الاؤ بھی روشن تھا۔ الاؤ کے گرد بیٹھے ہوئے ہم لوگ قدرت کے مناظر، فطرت کے حسن، اور پھر اسی کے تسلسل میں وجودِ باری تعالی کے دلائل پر گفتگو کرنے لگے۔ کھانے کی تیاری کے دوران شاندار سوپ اور دیگر لوازمات پیش کیے گئے، پھر مختلف اقسام کے پکوانوں سے آراستہ دسترخوان بچھایا گیا۔ کھلے آسمان کے نیچے، ٹھنڈی فضا میں گرم کھانوں کا لطف دوبالا ہو گیا۔

کھانے کے بعد کچھ دیر مزید الاؤ کے گرد بیٹھ کر گفتگو اور گرماہٹ سے لطف اندوز ہوئے، پھر میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس جامعہ محمدیہ سلفیہ ورنورہ لوٹ آئے، جہاں شب بسری کی گئی۔

اگلی صبح مرکز اہل حدیث بھوج کا رخ کیا گیا، جہاں طلبہ کے داخلہ امتحان کا انتظام تھا۔ صبح ساڑھے دس بجے تحریری امتحان کا آغاز ہوا جو تقریباً ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔ اس دوران امتحان گاہ میں طلباء کی نگرانی کے سلسلے میں حافظ شعیب رحمانی امام مسجد عثمان بن عفان، شیخ عبدالرشید محمدی، شیخ عبدالستار محمدی، شیخ عبدالخالق محمدی، شیخ محمد یونس جامعی، شعیب بھائی خزانچی وغیرہ نے بھرپور تعاون فرمایا۔ اس کے بعد شریک طلبہ کا تقریری امتحان شروع ہوا، جو پونے چار بجے تک مکمل ہوا۔ دورانِ امتحان ظہر کی نماز ادا کی گئی، اور ضلعی جمعیت اہل حدیث بھوج کی جانب سے تمام طلبہ اور مہمانوں کے لیے شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ اس حسنِ انتظام پر جمعیت کے ذمہ داران یقینا شکریہ کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالی انہیں علم اور اہلِ علم کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

عصر کے وقت ناچیز نے مرکز کی مسجد عثمان بن عفان میں نمازِ عصر کی امامت کی، جس کے بعد مختصر درس کا اہتمام بھی ہوا۔ عصر کے بعد شیخ یحیی خان جامعی کے ہمراہ چائے نوشی اور شہر کی مختصر سیر کا موقع ملا۔ مغرب کی نماز شہر کی خوبصورت اور دلکش مسجد اعلی والی میں ادا کی گئی، جس کا طرزِ تعمیر مسجد نبوی کے طرز پر ہے۔

مغرب کے بعد اگلا پروگرام بھوج کے مضافات میں واقع مرزا پور کی مسجد عائشہ میں تھا۔ مولانا عبدالخالق محمدی کی معیت میں وہاں روانگی ہوئی، ساتھ میں مولانا یحیی خان جامعی اور چند دیگر احباب بھی تھے۔ عشاء سے کچھ پہلے مرزا پور پہنچے، جہاں مولانا عبدالغفور اور مولانا علی محمد سلفی اور ان کے رفقاء نے نہایت محبت سے استقبال کیا اور چائے پانی سے تواضع کی۔

عشاء کی نماز مولانا یحیی خان جامعی نے پڑھائی۔ نماز کے بعد ناچیز نے تزکیہ نفس کے موضوع پر تقریباً آدھے گھنٹے خطاب کیا۔ سنن و نوافل کے بعد مسجد سے متصل مدرسے میں شاندار عشائیے کا اہتمام تھا۔ عشائیے کے بعد کچھ دیر علمی و دوستانہ گفت و شنید ہوئی، پھر واپس مرکز مسجد عثمان بن عفان لوٹ آئے۔

26 دسمبر بروز جمعہ، فجر کی نماز کی امامت کے بعد مختصر درس دیا گیا۔ مرزا پور کے احباب نے پہلے ہی ناشتے کی دعوت طے کر رکھی تھی، چنانچہ صبح نو بجے جناب سلیم صاحب اور حافظ یحیی خان صاحب کی معیت میں وہاں تشریف لے گئے، اور ان کی محبت و خلوص کی ضیافت قبول کی۔ ناشتے کے بعد واپس مرکز آئے اور جمعہ کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔

کچھ دیر بعد شیخ عبدالخالق محمدی کی معیت میں مسجد اعلی والی پہنچا، جہاں ایک دن پہلے ہی خطبہ جمعہ طے ہو چکا تھا۔ بعثتِ نبوی کے عظیم مقصد اور تزکیہ نفس کے موضوع پر تقریباً پینتیس منٹ خطاب کیا۔ نماز کے بعد متعدد احباب سے ملاقات ہوئی، بالخصوص شیخ عبدالستار محمدی اور شیخ محمد اسحاق محمدی سے۔ بعد ازاں اہلِ مسجد کی جانب سے اجتماعی ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔

اس کے بعد مرکز واپس آ کر واپسی کی تیاری کی گئی، اور شام پونے چھ بجے بھوج سے ٹرین کے ذریعے سورت کے لیے روانگی ہوئی۔ رات کے وقت سورت پہنچنے پر مالیگاؤں کے لیے فوری سواری میسر نہ تھی، چنانچہ شیخ عبدالستار محمدی، اور شیخ عبدالرشید محمدی کے تعاون سے وہاں کے ایک تعلیمی و دعوتی مرکز میں قیام کا انتظام ہوا۔ عدیل بھائی اور عارف بھائی نے نہایت خلوص سے استقبال کیا۔ مختصر آرام اور ناشتہ کے بعد وہاں سے مالیگاؤں کے لیے روانگی ہوئی، اور یوں 27 دسمبر کی شام بحمد اللہ بخیر و عافیت اپنی منزل پر پہنچنا نصیب ہوا۔
آخر میں ناچیز اپنے دل کی عمیق گہرائیوں سے ادارۃ جامعہ محمدیہ منصورہ، ضلعی جمعیت اہل حدیث بھوج، جامعہ محمدیہ سلفیہ ورنورہ، اور ان تمام معزز میزبانوں، رفقائے کار، ذمہ داران اور احبابِ خیر کا تہہ دل سے شکر گزار ہے جنہوں نے اس تعلیمی و دعوتی سفر کو نہ صرف خوش اسلوبی سے ممکن بنایا بلکہ ہر مرحلے پر خلوص، محبت، حسنِ انتظام اور ایثار کا عملی مظاہرہ فرمایا۔ قیام و طعام، آمد و رفت، امتحانات کے انتظامات، اور علمی و دعوتی مجالس—ہر گوشے میں جس دل جمعی، اخلاص اور وقار کے ساتھ تعاون کیا گیا، وہ بلاشبہ قابلِ تحسین اور باعثِ اجر ہے۔
اللہ تعالی ان سب حضرات کی ان مساعیِ جمیلہ کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی سے سرفراز کرے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اور انہیں دینِ اسلام، علمِ نافع اور نسلِ نو کی صحیح تربیت کی مزید توفیق نصیب فرمائے۔
وما ذٰلک علی اللہ بعزیز۔ آمین یا رب العالمین۔
اخوکم: علی محمد محمدی مدنی

30/10/2025

ملتقی الخریجین کی پہلی نشست
تلاوت کلام پاک، قاری عبدالمتین فیضی
ترانۂ جامعہ محمدیہ، طلبہ جامعہ
افتتاحی کلمات، رئیس الجامعہ

30/10/2025

ترانۂ جامعہ محمدیہ منصورہ

30/10/2025
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے❤️
29/10/2025

لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے❤️

28/10/2025

ملتقی الخریجین کی مناسبت سے پیش کی گئی ایک نظم؛ بہ آواز برادرم سلمان ملک محمدی ؛

سوزو سازِ دل ملا ،آنکھوں کو بینائی ملی
بے خیالوں کے خیالوں کو، توانائی ملی
وہ، جہاں اہل تمناء کو پذیرائی ملی
علم و فکر و فن کے اُس کوہ و دمن میں آگئے
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

اک دل رمز آشنا، عُقدہ کُشا جس سے ملا
نغمہ ہائے سوز کو صدق وصفا جس سے ملا
آرزو مندوں کو پیغام ِ حرا جس سے ملا
اُس شعور و آگہی کے آچرن میں آگئے
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

ہم کِھلاتے تھے جہاں اپنی تمناؤں کے پھول
ہم نےسیکھا ہےجہاں سے دین ودانش کے اصول
جس کے ہر ذرے پہ ہے وحئ بصیرت کا نزول
ہم پلٹ کر پھر اسی شہرِ سخن میں
طٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

تربیت گاہِ طلب گارانِ فکر و فن ہے جو
علم کا مرکز، شعور ِ ذات کا مخزن ہے جو
ہر گریبان ِ کتاب و لوح کا دامن ہے جو
عقل و دل کے سایہء سروو سمن میں آگئے
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

اے مرے شہر طرب، اے میرے شہر آرزو
تجھ سے وابستہ ہر اک فکر و نظر ہو سرخ رو
جامعہ تُو! دوڑتا ہے بن کے رگ رگ میں لہو
دیکھ ہم پھر تیرے رنگیں پیراہن میں آگئے
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

تیری فصل گل میں نغمہ زن ہے آواز بلال
تو صدائے جاوداں ہے تو ندائے لازوال
تو ہی ہے در اصل زخم آرزو کا اندمال
ہم کہ چمنستان قرآن و سنن میں آگئے
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

جامعہ!اےحضرت مختار کی آنکھوں کا خواب
جس نے ڈالا ہے ترے ذروں میں رنگِ ماہتاب
جس نے نسلوں کو کیا ہے رو شناسِ انقلاب
ہم اسی اہل جنوں کی بانکپن میں آگئے
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

جامعہ تیرا چمن سر سبز ہو شاداب ہو
تیری آنکھوں میں بصیرت کاچمکتا خواب ہو
تیرے پہلو میں مگن ہر حلقہ احباب ہو
ہم تیرے بھولے ہوئے دل کے صحن میں آگئے
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

اے خدا میرِ مکاں کو، شاد رکھ، آباد رکھ
جامعہ کے پاسباں کو، شاد رکھ ،آباد رکھ
اِس کے ہر وابستگاں، کو شاد رکھ آباد رکھ
ہم دعا بردوش کس دورِ فتن میں آگئے؟
لوٹ کر ہم آج اپنی انجمن میں آگئے

سلمان احمد محمدی( فائز بلرام پوری)

28/10/2025

ابنائے جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کی تصنیفی و تالیفی جہود کے چند نمونے

رپورٹ برائے الملتقى الأول لخريجي الجامعۃ محمدیۃ منصورہ مالیگاؤںالحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات،والصلاة والسلام على سي...
28/10/2025

رپورٹ برائے الملتقى الأول لخريجي الجامعۃ محمدیۃ منصورہ مالیگاؤں

الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات،
والصلاة والسلام على سيدنا ونبینا محمدٍ وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

الملتقى الأول لخريجي الجامعة المحمدية منصورہ مالیگاؤں الہند، جو ۲٦ اور ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نہایت شاندار نظم و ترتیب کے ساتھ منعقد ہوا، بحمد الله تعالیٰ بحسنِ خوبی اپنے مقاصد کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

یہ ملتقى دراصل محبت، وفا اور انتماء کا حسین مظہر تھا۔
جہاں جامعہ کے قدیم و جدید فارغین ایک خانوادے کی طرح جمع ہوئے، اور اپنے مادرِ علمی سے وابستگی کا عملی ثبوت پیش کیا۔

پروگرام کی نشستوں کا اجمالی خاکہ:

پروگرام کا آغاز محترم قاری عبدالمتین فیضی حفظہ اللہ کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، تلاوت کلام پاک کے بعد عزیزم عبدالمقتدر محمدی اور ان کے رفقاء نے ترانۂ جامعہ پیش فرمایا۔
افتتاحی کلمات رئیس الجامعہ فضیلۃ الشیخ ارشد مختار محمدی حفظہ الله نے ارشاد فرمائے، جن میں ملتقى کی غرض و غایت اور جامعہ کے اہداف ومقاصد وغیرہ کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا گیا۔
اس کے بعد جامعہ کے تعارف پر مشتمل ایک مختصر مگر پُراثر فلم پیش کی گئی،
جس میں جامعہ کی خدمات اور علمی کردار کو نہایت دلنشین انداز میں دکھایا گیا۔

پہلی نشست کی صدارت رئیس الجامعہ حفظہ الله نے فرمائی۔
اور نظامت کے فرائض فضیلۃ الشیخ عبدالباری کلیم حفظه الله نے انجام دیے۔

دوسری نشست میں فارغینِ جامعہ کے تجربات و مشاہدات پیش کیے گئے۔
یہ نشست روحانی و جذباتی پہلوؤں سے بھرپور تھی، جس میں مختلف ادوار کے فارغین نے اپنے تجربات، مشاہدات اور احساسات کو بیان کیا۔
اس نشست کی صدارت فضیلۃ الشیخ مختار احمد محمدی مدنی حفظه الله نے فرمائی،
جبکہ نظامت کے فرائض جناب ارشد محمدی حفظه الله نے بحسن و خوبی انجام دیے۔

اسی نوعیت کی تیسری نشست فضیلۃ الشیخ انصار زبیر محمدی حفظه الله کی صدارت میں منعقد ہوئی،
جس میں مزید خریجین نے اپنے تاثرات پیش کیے۔
یہ نشست بعد از عصر منعقد ہوئی، جس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی گئی، بعدہ عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔

بعد نمازِ عشاء ایک روح پرور ادبی محفل منعقد ہوئی جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے

ملتقی کی رنگا رنگ تقریبات میں ایک پُر وقار ادبی نشست بھی شامل تھی، جس میں نعت و نظم کے چرچے، تخلیقی اظہار کے رنگ، اور جذبۂ عقیدت و فن کی بہاریں یکجا نظر آئیں۔
اس نشست کی نظامت محترم جناب امتیاز خلیل حفظہ اللہ نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔
امتیاز خلیل ہی نے جامعہ کی تعارفی فلم بھی نہایت عمدہ اور مؤثر انداز میں تیار کی، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔

اس نشست میں ملک کے مختلف شہروں سے تشریف لانے والے مہمان شعراء اور ابنائے جامعہ کے باکمال شعراء نے اپنے کلام سے محفل کو رونق بخشی۔

مہمان شعراء:

1. جناب ندیم صدیقی — صدرِ نشست
2. جناب شاہد لطیف — مدیرِ انقلاب
3. جناب عبید اعظم اعظمی
4. جناب فرحان دل
5. ڈاکٹر شہروز خاور

شعراء ابنائے جامعہ:

1. فضیلۃ الشیخ عبدالباری کلیم المحمدي
2. فضیلۃ الشیخ نورالاسلام المحمدي
3. فضیلۃ الشیخ عبدالرب اسد بستوي المحمدي
4. معاذ ابوالکلام المحمدي
5. کریم اللہ شاکر المحمدي
6. سلمان ملک المحمدي
7. عارف الاسلام المحمدي

دوسرا دن:

اگلے دن ۲۷ اکتوبر کو پہلی نشست صبح ساڑھے آٹھ بجے منعقد ہوئی، جو کہ حوار مفتوح (Open Discussion)۔ یعنی سوال و جواب کی نشست تھی۔
اس میں حاضرین کے سوالات کے جوابات رئیس الجامعہ حفظہ اللہ نے نہایت حکیمانہ انداز میں مرحمت فرمائے۔
نظامت کے فرائض فضیلۃ الدکتور محمد وسیم محمدی مدنی حفظہ اللہ نے انجام دیے، اور کئی سوالات کے جوابات انہوں نے بھی بنفسِ نفیس عنایت فرمائے۔
یہ نشست علمی و فکری لحاظ سے بڑی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی۔

نشانِ جامعہ ایوارڈ؛ اعزاز و اعتراف کی نشست:

پروگرام کی چھٹی نشست اپنی نوعیت میں منفرد اور تاریخی تھی، جس میں جامعہ محمدیہ کے بارز و ممتاز فارغین کو ان کی علمی و دعوتی خدمات کے اعتراف میں "نشانِ جامعہ" ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس نشست کے آغاز میں نشانِ جامعہ ایوارڈ کے تعارف اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر محمد نسیم مدنی حفظہ اللہ، جو اس انتخابی کمیٹی کے صدر تھے، نے نہایت جامع اور مؤثر انداز میں وضاحت فرمائی کہ اس ایوارڈ کا مقصد اُن فارغینِ جامعہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جنہوں نے مختلف میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دے کر جامعہ محمدیہ منصورہ کے نام کو روشن کیا ہے۔
ایوارڈ یافتہ حضرات کے انتخاب کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کمیٹی نے بڑی دقتِ نظر اور غیر جانب دارانہ غور و فکر کے بعد اُن 18 منتخب فارغین کا انتخاب کیا جنہوں نے درس و تدریس، دعوت و تبلیغ، رفاہی و تعلیمی خدمات، اور دیگر میدانوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
یہ کمیٹی چار معزز اراکین پر مشتمل تھی:
ڈاکٹر محمد نسیم مدنی (صدر کمیٹی)،
ڈاکٹر محمد یوسف مدنی،
ڈاکٹر نوح عالم مدنی،
اور ڈاکٹر سلمان بیگ۔
ان حضرات نے تنقیدی نظر، جامع بصیرت، اور علمی دیانت کے ساتھ ان افراد کو منتخب کیا جنہیں بعد ازاں جامعہ کے معزز اساتذہ کرام کے ہاتھوں “نشانِ جامعہ ایوارڈ” سے نوازا گیا۔

*نشانِ جامعہ پانے والے معزز فارغین کی فہرست:*
یہ فہرست اُن فارغین کی ہے جنہوں نے مختلف علمی، دعوتی، تعلیمی، رفاہی، اور اجتماعی میدانوں میں اپنی مادرِ علمی کے وقار کو بلند کیا:
1. فضیلۃ الشیخ محمد متعلم غیاث الدین المحمدي (برائے تأسيس المركز التعليمي)
2. فضیلۃ الشیخ عبدالحمید عبدالواحد المحمدي (برائے الدعوة وتأسيس المركز التعليمي)
3. فضیلۃ الشیخ أفضل حسین تراب علی المحمدي (برائے تأسيس المركز التعليمي)
4. فضیلۃ الشیخ مكمل حسین تراب علی المحمدي (برائے تأسيس المركز التعليمي)
5. فضیلۃ الشیخ محمد إسماعيل رافعي المحمدي (برائے تأسيس المركز التعليمي)
6. فضیلۃ الشیخ أبورضوان محمد اسماعیل المحمدي (برائے التدريس والدعوة)
7. سعادۃ الدکتور أمجد علی محمد إقبال المحمدي (برائے التدريس)
8. فضیلۃ الدکتور محمد وسیم خان محمد نسیم خان المحمدي (برائے التدريس)
9. فضیلۃ الشیخ عبدالباری کلیم عبد الخالق المحمدي (برائے التدريس)
10. فضیلۃ الشیخ مختار أحمد نصر الله المحمدي (برائے الدعوة)
11. فضیلۃ الشیخ حافظ ثناء الله شبیر أحمد المحمدي (برائے الدعوة)
12. فضیلۃ الشیخ عبدالوهاب محمود بھائی واریاوا المحمدي (برائے الدعوة والتعليم)
13. فضیلۃ الشیخ أشرف الله أبو الکلام المحمدي (برائے الصحافة(
14. سعادۃ الدکتور محمد الیاس محمد إدريس المحمدي (برائے الخدمات الطبية)
15. فضیلۃ الشیخ عبدالتواب عبدالغفار المحمدي (برائے الدعوة)
16. محمدی ویلفیئر اینڈ ایجوکیشنل سوسائٹی (برائے الأعمال الخيرية)
17. فضیلۃ الدکتور قاضي سفيان المحمدي (برائے الدعوة)
18. فضیلۃ الشیخ انصار زبیر المحمدي (برائے الدعوة)

*نوٹ*: فضیلۃ الشیخ افضل حسین و مکمل حسین محمدی، کو مراکز تعلیمیہ کی تاسیس پر مشترکہ ایوارڈ سے نوازا گیا اس طرح سے ایوارڈز کی مجموعی تعداد 17 ہوتی ہے.

ایوارڈ کی تقسیم جامعہ کے معزز اساتذۂ کرام ڈاکٹر اقبال احمد بسکوہری مدنی،
فضیلۃ الشیخ عبدالقدوس مدنی،
فضیلۃ الشیخ حافظ محمد ادریس،
اور فضیلۃ الشیخ راحت الله مدنی حفظهم الله کے ہاتھوں انجام پائی۔
اس نشست کی نظامت فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سفیان عبدالعزیز قاضی مدنی نے نہایت وقار کے ساتھ کی۔

اختتامی نشست و تاثرات:

آخری نشست بعد نمازِ ظہر منعقد ہوئی جس کی صدارت رئیس الجامعہ نے فرمائی
اور نظامت کے فرائض راقم (علی محمد محمدی مدنی) نے انجام دیے۔
اس نشست میں مختلف فارغین نے ملتقى سے متعلق اپنے تاثرات اور تجاویز پیش کیں، اور چند منتخب نظمیں بھی پڑھی گئیں۔

اختتامی کلمات میں رئیس الجامعہ حفظه الله نے تمام مہمانان، خریجین، منتظمین، اساتذہ و طلبہ کا شکریہ ادا کیا اور دعا کے کلمات کے ساتھ اس مبارک ملتقى کے اختتام کا اعلان فرمایا

تشکر و ممنونیت:

میں بحیثیت انچارج استقبالیہ و تودیع کمیٹی سب سے پہلے اپنے مادرِ علمی جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کی انتظامیہ کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس بڑے اجتماع کے لیے مثالی نظم و ضبط، خوش اسلوب انتظام اور مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا۔

میں اپنے تمام اساتذۂ کرام، منتظمۂ اعلیٰ، اور خدمت گزار طلبہ کا بھی تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے دن رات محنت کر کے اس پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

خصوصی طور پر رئیس الجامعہ فضیلۃ الشیخ ارشد مختار محمدی حفظه الله
کے اخلاص، قیادت، اور سرپرستی پر دلی تشکر پیش کرتا ہوں جن کی رہنمائی اس ملتقى کی روح ثابت ہوئی۔

آخر میں، تمام مہمانانِ گرامی اور ابناءِ جامعہ کا شکریہ جنہوں نے اپنے قیمتی اوقات اور لمبے سفر کی مشقتوں کے باوجود
اس اجتماع میں شرکت کر کے جامعہ کے ساتھ اپنے تعلقِ قلبی کو تازہ فرمایا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ملتقى کو قبول فرمائے، اس کے اثرات کو پائیدار بنائے،
اور جامعہ محمدیہ کو خدمتِ علم و دعوت میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

✍️
مرتب:
علی محمد محمدی مدنی
انچارج: استقبالیہ کمیٹی
الملتقى الأول لخريجي الجامعة المحمدية – ۲۰۲۵ء
28/10/2025

26/10/2025

🎓 *Session-4 | Literary Session - First Alumni Meet*
📍 *Jamia Mohammediyah – Sharia Department* 🎓
🕣 *Live Today at 8:30 PM*

Join us for a momentous occasion as we proudly present *Session-4* of today's enriching program lineup at *Jamia Mohammediyah* , featuring a *Literary Session* as part of the *First Alumni Meet* of the *Sharia Department* .
This session is a celebration of intellectual heritage and literary excellence, bringing together alumni, scholars, and students to reflect on the journey of Islamic scholarship and the power of words in shaping thought and community.

🔔 *Set your reminder and join us at 8:30 PM sharp!*



https://youtube.com/live/iHAGPalV0B4?feature=share

🎓 First Alumni Meet | Jamia Mohammediyah – Sharia Department 🎓A memorable gathering of knowledge, brotherhood, and nosta...
26/10/2025

🎓 First Alumni Meet | Jamia Mohammediyah – Sharia Department 🎓

A memorable gathering of knowledge, brotherhood, and nostalgia! Join us live as former students of the Sharia Department, Jamia Mohammediyah reconnect, share experiences, and celebrate years of learning and togetherness.

📍 Witness heartfelt moments, inspiring speeches, and the spirit of unity that continues to strengthen our Jamia family.



🎓 First Alumni Meet | Jamia Mohammediyah – Sharia Department 🎓A memorable gathering of knowledge, brotherhood, and nostalgia! Join us live as former studen...

21/10/2025

الوداعی نظم، تعلیمی سال 2023-24

Address

Jamia Mohammadia Mansoora
Malegaon
423203

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الجامعة المحمدية منصورة posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share