15/08/2025
79th independence day 2025
JAMIA MUNEMIA, KHANQAH MUNEMIA
15 اگست کے موقع پر خانقاہ منعمیہ کے صحن میں یوم آزادی کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں جامعہ منعمیہ اور جامعہ منعمیہ اسکول کے طلبہ و اساتذہ شریک ہوئے اور کچھ چنندہ بچوں نے قومی ترانہ اور خطابت میں وغیرہ میں حصہ لیا، نقابت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے جناب محمد عاصم صدیقی صاحب نے اس بزم کی کاروائی کو آگے بڑھایا اور جامعہ منعمیہ اسکول کے طلبہ اردو(معیف الدین)، ہندی (عالیہ پروین) اور انگلش (نوشین فاطمہ) میں اپنا خطاب فرمایا۔
خصوصی طور پر حضور صاحب سجادہ نشین حضرت شمیم الدین احمدمنعمی صاحب نے اس موقع پر کہا کہ آج ہم 79واں یوم آزادی کی تقریب میں شامل ہوئے ہیں اور جس بات پر سب سے زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے وہ ہے خود کا احتساب خود کا جائزہ لینا کہ انگریز ہم کو کہاں پر چھوڑ کر گئے تھے اور ہم آج کہاں پر کھڑے ہیں اور جب بھی ہم خود کا احتساب کریں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کیسے عملی طور پر دیش کو آگے بڑھانا ہے اور یہ بھی بتایا کہی ہم جس ملک میں رہتے ہیں یہاں قدم قدم پر بھاشائیں و تہذیب بدل جاتی ہیں سنسکرتی بدل جاتی ہے جلد کا رنگ بدل جاتا ہے کھانے کا ذائقہ بدل جاتا ہے قانون بدل جاتا ہے ، اگر اس دیش کو ترقی کرنا ہے تو ان سب اختلاف کے باوجود اتحاد کے ساتھ ، ایک دوسرے کی قدر کرکے، ایک دوسرے کے حقوق کو محفوظ کرکے اس دیش کو آگے بڑھا سکتے ہیں، اور بتایا کہ اس ملک کی آزادی میں سب سے بڑا رول علماء اور مدارس کا ہے جنھوں نے انگریزوں کے ساتھ لڑائی کرنے کا فتویٰ دیا اور علماء کے بعد اس ملک کے کم و بیش سبھی لوگوں نے حصہ لیا ساتھ ہی ساتھ بتایا کہ اس ملک کو سب سے زیادہ گندی سیاست سے خطرہ ہے جس نے لوگوں کو آپس میں لڑادیا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو ہماری آزادی کو تکلیف پہنچا رہی ہے۔آخر میں تنبیہاً کہا کہ ہندی اور اردو سگی بہنیں ہیں، جئے ہند اور ہندوستان زندہ باد کا مطلب ایک ہی ہے اسی لیے جئے ہند سن کر ہندوستان زندہ باد ہے والے کو خوش ہونا چاہیے اور ہندوستان زندہ باد سن کر جئے ہند والے کو خوش ہونا چاہیے آئیے ہم سب مل کر بولیں ہندوستان زندہ باد، جئے ہند۔
اس تقریب کو کامیاب بنانے میں جامعہ منعمیہ کے صدر المدرسین جناب مفتی محب اللہ مصباحی صاحب اور جامعہ منعمیہ اسکول کے پرنسپل جناب شبیر صاحب و دیگر تمام اساتذہ یعنی مولانا مظہر الکبریاء صاحب، مولانا توفیق ازہری صاحب، قاری نور اللہ صاحب، مولانا احمدر رضا مصباحی صاحب، قاری افسر امام منعمی صاحب، قاری منت اللہ صاحب، قاری افتخار صاحب،ماسٹر توحید صاحب، مس شاہین پروین، مس ساجدہ امام، مس فرحین ناز ، مس مسکان خاتون، مس شمع پروین ، مس زینت پروین برابر کے شریک رہیں۔