Department of Arabic BGSB University Rajouri قسم اللغة العربية

  • Home
  • India
  • Rajauri
  • Department of Arabic BGSB University Rajouri قسم اللغة العربية

Department of Arabic BGSB University Rajouri قسم اللغة العربية Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Department of Arabic BGSB University Rajouri قسم اللغة العربية, College & University, Rajauri.

12/05/2026
Admissions open BA Arabic and MA Arabic...Scan and apply
05/05/2026

Admissions open
BA Arabic and MA Arabic...
Scan and apply

27/01/2024

عربی مخطوطات کی تحقیق وتدوین کے اصول وضوابط
پراردو میں ایک شاندارتالیف

ریسرچ میتھاڈولوجی یعنی اصول تحقیق جس کو عربی میں ”منہج البحث“ کہتے ہیں میرا اپنا سبجکٹ ہے۔ اسے میں اپنی یونیورسٹی میں دس بارہ برس سے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ اور اسکالروں کو پڑھارہا ہوں۔یہ مضمون میں نے سب سے پہلے مدینہ یونیورسٹی میں پڑھا اور وہیں سب سے پہلے میں نے ان اصولوں کی روشنی میں کئی تحقیقی مقالے لکھے اور یہ بات یقین کی حد تک سمجھ میں آگئی کہ اگر تحقیق کے اصولوں سے واقفیت نہ ہو تو صحیح طریقے سے کوئی تحقیق کی ہی نہیں جاسکتی نہ ہی کوئی علمی کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ، وہاں کے نصاب تعلیم اور طریقہئ تدریس کا امتیاز یہ بھی ہے کہ بہت سارے اساتذہ اس طرح محنت اور ذوق وشوق سے پڑھاتے ہیں کہ طالب علم کو بہت سارے مضامین سے دلچسپی پیداہوجاتی ہے اور بعد میں وہ ان کا متخصص اور ماہربن جاتا ہے۔ عربی تنقید، عربی ادب کی تاریخ، عربی شاعربی، عروض،لسانیات، اصوات، شعر اور ادبی نثر جیسے ادبی متون کا فنی جائزہ وغیرہ مضامین کے ساتھ ساتھ ریسرچ میتھاڈولوجی کو میں نے وہیں پڑھا اور پڑھنے کے بعد سے ہی ان مضامین سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔
درحقیقت ہر فن کے اصول وضوابط ہوتے ہیں۔انھیں ہم طریقہئ کار بھی کہہ سکتے ہیں۔ سارا معاملہ طریقہئ کار کا ہی ہے۔ طریقہ ئ کار کا علم نہ ہوتو انسان غلطیوں کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔ قدم قدم پر پھسل سکتا ہے۔ بہک سکتا ہے۔ منزل سے بھٹک سکتا ہے۔ ریسرچ وتحقیق کے بھی اپنے اصول وضوابط اور طریقہائے کار ہیں۔فی زمانہ ریسرچ و تحقیق کا معیار میری ذاتی رائے میں اس لیے رو بہ زوال ہے کہ ریسرچ وتحقیق کاکام کرنے والوں کو اس کے اصولوں کا درست علم نہیں ہوتا لیکن اگر تحقیق کے اصولوں کا مکمل علم ہو تووہ اچھے اور معتبر محقق بن سکتے ہیں۔
ریسرچ میتھاڈولوجی میں عربی میں بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں جو انٹرنیٹ پر بھی متداول ہیں۔ اردو میں بھی اصول تحقیق پر کچھ کتابیں متداول ہیں۔ ان کتابوں میں تحقیق کے اصولوں کی طرف تفصیل سے رہنمائی کی گئی ہے لیکن عام موضوعات پر مقالے اور کتابیں لکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق کاایک اور میدان ہے اوروہ ہے مخطوطات کی تحقیق کامیدان جسے ہم حقیقی معنوں میں تحقیق کا میدان کہہ سکتے ہیں۔عالم عرب میں عام موضوعات پر طبع زادکتاب یا مقالہ لکھنے پر مخطوطات کی تحقیق کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ مختلف لائبریریوں کے بطون کے ظلمات ثلاث میں قدیم زمانے کے قدیم مولفین ومصنفین کی کتابوں کی تحقیق کرکے ان کی نشر واشاعت کوادبی ورثے کے احیاء کا ایک اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ اگرزمانہئ قدیم سے ان مخطوطات کی تحقیق کی روایت نہ قائم ہوئی ہوتی اور ایسے نادر مخطوطوں کی تحقیق کرکے بہت ساری اہم اور علمی وادبی کتابوں کو شائع نہ کیاگیا ہوتا تو تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول حدیث،ادیان، تاریخ، صرف ونحواور ادبیات کی گلیوں میں آج بھی بہت گھٹاٹوپ اندھیرا چھایا ہوا ہوتا۔ اسی لیے عالم عرب میں ایسے محقق علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے اپنی ذاتی محنت، کاوش، کوشش اور ذوق وشوق سے دنیا کے دور دراز گوشوں میں پڑے ہوئے مخطوطات کو نہ صرف حاصل کیا بلکہ ان کی چھان پھٹک کرکے، ان کو ایڈٹ کرکے ساری دنیا کے سامنے طشت از بام کردیا۔یہ انھیں علماء وادباء کی پرخلوص جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ ہم بہت ساری نادر علمی وادبی کتابوں سے اپنے ذہن وفکر کے گوشوں کو منور کررہے ہیں۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ مخطوطات کی تحقیق کا کام عالم عرب میں کتاب لکھنے سے زیادہ وقیع اور قابل اعتبار مانا جاتا ہے لیکن ہمارے برصغیر میں مخطوطات کی تحقیق کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جاتا۔ نہ اساتذہ کو اس کی فکر ہے نہ ہی نام نہاد اسکالروں کو۔لیکن یہ کام بہت اہم اور وقیع ہے۔ مخطوطات کی تحقیق وتدوین کے بھی اپنے اصول ہیں۔ میں جب ریسرچ میتھاڈولوجی پڑھاتا ہوں تو اس میں ایک یونٹ مخطوطات کی تحقیق کا بھی ہوتاہے کہ مخطوطہ کہتے کس کوہیں۔ مخطوطات کا حصول کیسے کیا جاتا ہے۔ پھر مخطوطات کی تحقیق وتدوین کیسے کی جائے۔ اس کے اصول وضوابط کیا ہیں ان پر بھی بحث کی جاتی ہے؟

مجھے ایک کتاب موصول ہوئی ہے جس کا نام ہے ”عربی مخطوطات کی تحقیق وتدوین کے اصول وقواعد“۔ اس کے مولف ہیں ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نرائن پوری۔ آپ مدینہ یونیورسٹی کے فاضل ہیں۔ وہاں سے آپ نے علم حدیث میں بی اے، ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ آپ ایک حقیقی طالب علم، مخلص اسکالر اورذہین باحث کی نہ صرف مثال ہیں بلکہ ہزاروں طلبہ اور باحثین کے لیے نمونہ اور مشعل راہ بھی ہیں۔ علم حدیث آپ کا خصوصی میدان بحث وتحقیق ہے۔اس میدان میں آپ نے بہت اہم علمی وتحقیقی کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔آپ نے متعدد علمی وادبی کتابوں کے ساتھ ساتھ مخطوطات کی تحقیق کے اصول وقواعد کے نام سے بھی زیر نظر کتاب لکھ کر اردو والوں پر احسان عظیم کیا ہے۔

اس کتاب میں فاضل مولف نے مخطوطات کی تحقیق کے طریقہائے کار، اصول وضوابط اور قواعد پر بہت تفصیل سے روشنی دالی ہے اوران تمام اصولوں کو بہت آسان طریقے سے طلبہ اور اسکالروں کے سامنے طشت از بام کردیا ہے۔ایک محقق کو کن اخلاقی اور علمی اوصاف سے متصف ہونا چاہیے؟ مخطوطے کو کیسے اور کہاں سے حاصل کیا جائے؟ا س کی جمع وترتیب کیسے کی جائے؟ اس کی تحقیق کے کیا مراحل ہیں؟یہ سب کتاب کے اہم اور مرکزی ابواب ہیں۔آپ نے لکھا ہے کہ ”علمی امانت،صبر وتحمل،مخطوطات کی خدمت کا جذبہ، مخطوطات کی ریڈنگ میں مہارت،مخطوطات کے رموز واشارات کی معلومات،مخطوطے کے موضوع کی معلومات،مخطوطے کے موضوع پر موجود مصادر ومآخذ کی معلومات، مخطوطے کے منہج واسلوب اور اصطلاحات سے واقفیت“وغیرہ اخلاقی اور علمی اوصاف وخصائل سے محقق کو سب سے پہلے آراستہ ہونا ضروری ہے۔مخطوطے کے حصول اور اس کی تحقیق وتدوین کے اہم مراحل میں آپ نے ذکر کیا ہے کہ محقق کو سب سے پہلے مخطوطے کو حاصل کرنا چاہیے۔اس کے وجود کا پتہ لگانے کے لیے مخطوطات کی فہارس پر مرتبہ ومطبوعہ کتابوں کودیکھنا چاہیے۔ مخطوطات کا اہتمام کرنے والی لائبریریوں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ مخطوطے کے ماہر محققین سے رابطہ کرنا چاہیے۔ مخطوطات کی مائیکرو فہرست بھی دیکھا جائے۔ علامہ گوگل کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کرکے اس سے بھی تعاون حاصل کرکے سب سے پہلے مخطوطے کے متعدد نسخوں کا حصول، مخطوطے کی تحقیق کا پہلا مرحلہ ہے۔مخطوطے کی تحقیق کے دوسرے مرحلے میں محقق کو چاہیے کہ مخطوطے کے حصول کے بعد مخطوطے کے مختلف نسخوں کو جمع کرنے کے بعد اصل یعنی مصنف کے ذاتی نسخے کا تعین کرے۔تیسرے مرحلے میں مختلف مخطوطوں کا آپس میں موازنہ کرکے اصل متن کو گہرائی اور دقت سے تدوین کرکے اس کی تحقیق کی کوشش کرے۔ چوتھے مرحلے میں متن کی تحقیق وتدوین کرے۔ پانچویں اور سب سے آخری اور سب سے اہم مرحلے میں متن میں وارد علامات ترقیم کااہتمام کرے۔کتاب کی عبارتوں کی صحت اورترتیب وتنسیق کااہتمام کرے۔کتاب میں وارد آیات، احادیث،آثار، اماکن کی تشریح کرے۔کتاب میں موجود اقتباسات کی توثیق کرے۔ اشخاص واعلام خاص طور سے غیر معروف شخصیات کا اختصار سے تعارف کرائے۔مشکل الفاظ کی تشریح کرے۔ان پر اعراب لگائے۔ ان کی تشکیل کرے۔واضح ہو کہ غیر معروف شخصیات کا تعارف صرف سوانح پر لکھی گئی کتابوں سے ہی کیا جائے تو الفاظ کی تشریح معتبر معاجم اورمعتبر لغات سے ہی کیا جائے گا۔مصنف کتاب نے ایسی کتابوں کی فہرست بھی دی ہے۔متن میں وارد غیر مشہور شہروں کا بھی تعارف کرایا جائے۔تاریخی واقعات کی طرف جہاں جہاں اشارہ ہو ان کی بھی تشریح کی جائے۔اشعار کی بھی تشریح کی جائے اور ان کی تخریج کی جائے۔جہاں کہیں علمی نوٹ سے، اپنی بات یا اپنے ذاتی خیالات سے بات کو مدلل کرنے کی ضرورت ہو تومحقق ضرور کرے۔ ایسا کرنے سے اس کی تحقیق کووزن حاصل ہوتا ہے۔تحقیق کے اختتام کے بعد محقق کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا ایک مفصل مقدمہئ کتاب بھی تحریرکرے۔اس مقدمے میں اصل مولف کتاب کی مفصل سوانح ذکر کی جائے۔ اس کے نام ونسب، کنیت، لقب، ولادت، نشوونما، علمی اسفار، اساتذہ،شاگردان، عقیدہ ونظریات، ان کے بارے میں اہل علم کی آراء وتاثرات، اس کی دیگر تالیفات، وفات وغیرہ پر تفصیل سے لکھنے کے ساتھ ساتھ مقدمے میں کتاب کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھے۔ جس میں مولف کی طرف کتاب کی نسبت، اس کی علمی قدر وقیمت، اس کے مآخذ ومصادر، قلمی نسخوں اور مختلف ایڈیشنوں پر تفصییل سے روشنی ڈالے۔جن جن مخطوطات پر اس نے اعتماد کیا ہے ان پر تفصیل سے لکھے۔کتاب کے نام کی بھی تحقیق کرے اور درست نام سے ہی کتاب کو شائع کرائے۔یہاں میں مولف کی ذکر کی ہوئی ایک مثال ذکر کرنے پر اکتفا کروں گا اور وہ یہ ہے کہ عربی ادبیات کی چار مشہور کتابوں میں عباسی دوور کے مشہور ادیب جاحظ کی کتاب ”البیان والتبیین“ بھی ہے۔ ڈاکٹر فاروق صاحب نے ذکر کیا ہے کہ یہ کتاب حالانکہ مشہور محقق عبد السلام ہارون کی تحقیق سے کئی بار شائع ہوچکی ہے لیکن انھی کی تحقیق ہے کہ اس کتاب کا درست نام ”البیان والتبیین“ نہیں بلکہ ”البیان والتبیُّن“(بروزن تفعُّل) ہے۔انھوں نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ محقق نے لکھا تھا کہ پانچویں ایڈیشن میں اس کے درست نام کے ساتھ اسے شائع کیا جائے گا لیکن پھر ان کا انتقال ہوگیا اور کتاب اسی نام سے شائع ہوتی رہی۔ یعنی محقق کا ایک فریضہ زیر تحقیق کتاب کے درست نام کی بھی تحقیق، تحقیق کے فرائض میں شامل ہے۔کتاب کے نام کے ساتھ ساتھ محقق کو چاہیے کہ کتاب کے مولف کے نام کی بھی تحقیق کرے۔مولف کی کتاب کی طرف نسبت کی صحت کی بھی تحقیق کرے اور آخر میں مختلف قسم کی فہرست بھی ذکر کرے۔ اس طرح مخطوطے کی تحقیق مکمل ہوجائے گی۔میں یہ تبصرہ لکھ رہا تھا تو میرے ذہن میں بار بار ایک کتاب آرہی تھی جو کہ اردو میں تحقیق کی بے مثال مثال ہے اور وہ مالک رام کی مولانا ابو الکلام آزاد کی غبار خاطر کی تحقیق۔ اردو کے جو اسکالر اردو میں کسی تحقیقی کتاب کو بطور نمونہ دیکھنا چاہیں تو وہ اس کتاب کو ضرور دیکھیں اور تحقیق کے فن کو سیکھنے کی کوشش کریں۔ یہ کتاب ریختہ پر بھی موجود ہے۔

مولف کتاب ڈاکٹر فاروق عبد اللہ مدینہ یونیورسٹی کے ذہین ترین فضلاء میں ہیں۔ آپ نے متعدد علمی اور تحقیقی کتابیں عربی میں لکھ کر اہل علم سے نہ صرف خراج تحسین حاصل کی ہیں بلکہ انہیں کئی تحقیقی مقابلوں میں ہزاروں ریال کے ساتھ پہلی پوزیشن، گولڈ میڈل اور سر ٹیفکیٹ بھی حاصل ہوئے ہیں۔ آپ اردو کے بھی بہت اچھے قلمکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی قارئین کوآپ اپنی علمی سرگرمیوں سے مستفید ومستفیض کرتے رہتے ہیں۔ موصوف کی زیر نظر کتاب آپ کی علمی تصانیف میں سے ایک ہے۔اس میں آپ نے بہت سادہ، سلیس اور شاندار اسلوب میں یہ تمام اصول وقواعد اس طرح ذکر کیے ہیں کہ اگر تحقیق کا ذوق وشوق وشغف رکھنے والاکوئی طالب علم اس کو بغور پڑھ لے تو اسے مخطوطات کی تحقیق وتدوین کا مکمل طریقہ سمجھ میں آجائے گا۔ یہ کتاب خوب صورت گٹ اپ میں شائع ہوئی ہے۔قیمت بھی بہت کم ہے۔

میں دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے مجھے یہ کتاب ارسال کرکے اس سے استفادے کا موقع عنایت فرمایا۔ مجھے یہ بھی امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے ساتھ لوگوں میں مخطوطات کی تحقیق کا شوق بڑھے گا کہ کسی موضوع پر طبع زاد کتاب لکھنے سے زیادہ کسی نادر مخطوطے کی تحقیق اور اس کی نشرواشاعت بہت اہم کارنامہ ہے۔ (26جنوری 2024ء بوقت شب۱۱بجکر پینتالیس منٹ)

The students of the Department of Arabic celebrated Teachers Day yesterday, presented gifts to their teachers... Thank t...
06/09/2022

The students of the Department of Arabic celebrated Teachers Day yesterday, presented gifts to their teachers... Thank to them....
بارک اللہ فیھم جمیعا

Glimpses of the WorkshopOrganised by the Department of Arabic BGSBU on August 10, 2022 as one of the series of Azadi ka ...
11/08/2022

Glimpses of the Workshop
Organised by the Department of Arabic BGSBU on August 10, 2022 as one of the series of Azadi ka Amrit Mahotsav...
لقطات من فعاليات ورشة عمل عقدها قسم اللغة العربية بجامعة بابا غلام شاه بادشاه راجوري حول تدريس اللغة العربية وآدابها في منطقة بير بانجال

  on  in Pir Panjal regionAugust 10, 202210am..... Organised by: Department of Arabic  خطہء پیر پنجال میں عربی کے فروغ ک...
09/08/2022

on
in Pir Panjal region
August 10, 2022
10am.....
Organised by: Department of Arabic
خطہء پیر پنجال میں عربی کے فروغ کی ایک اور چھوٹی سی کوشش۔۔۔

Department of Arabic welcomes the aspirants of Arabic to its campus....
18/07/2022

Department of Arabic welcomes the aspirants of Arabic to its campus....

قسم اللغة العربية يرحب بكم في رحابه لتعلم لغة الضاد فاهلا وسهلا ومرحبا بكم.....
21/06/2022

قسم اللغة العربية يرحب بكم في رحابه لتعلم لغة الضاد فاهلا وسهلا ومرحبا بكم.....

Address

Rajauri
185234

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Department of Arabic BGSB University Rajouri قسم اللغة العربية posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Department of Arabic BGSB University Rajouri قسم اللغة العربية:

Share