Maulana Hussain Ahmad Madani Madarsa

Call Directions Website Contact the university

Maulana Hussain Ahmad Madani Madarsa Maulana Hussain Ahmed Madani Madarsa is an important islamic institute.

https://youtu.be/n64BN_xSszk?si=yGBMgPm-iWadQUCX
05/04/2026

https://youtu.be/n64BN_xSszk?si=yGBMgPm-iWadQUCX

دینی و عصری تعلیم کے متوازن امتزاج پر ایک بصیرت افروز گفتگوحضرت مولانا حبیب اللہ مدنی صاحب صدر جمعیۃ علماء ضلع سہارنپورسے مولانا مرغوب الرحمن طیب قاسمی کی ن...

24/03/2026
https://youtu.be/WWADfmyMJZo?si=_TyIPtHWJa7lQXjv
08/01/2026

https://youtu.be/WWADfmyMJZo?si=_TyIPtHWJa7lQXjv

نہایت روح پرور اور یادگار لمحات اس وقت رقم ہوئے جب حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم کے دستِ مبارک سےحفاظِ کرام کی باعثِ سعادت دستار بندی عمل میں آ...

مدرسۃ الشیخ حسین احمد المدنی، انبہٹہ پیر کے طلبہ کی درخشاں کامیابییہ امر نہایت مسرت و شادمانی کا باعث ہے کہ حال ہی میں م...
07/01/2026

مدرسۃ الشیخ حسین احمد المدنی، انبہٹہ پیر کے طلبہ کی درخشاں کامیابی
یہ امر نہایت مسرت و شادمانی کا باعث ہے کہ حال ہی میں مدرسۃ الشیخ زکریا لتحفیظ القرآن الکریم، سہارنپور کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے دوسرے مسابقۃُ القرآن الکریم میں علاقہ کی معروف دینی درسگاہ مدرسۃ الشیخ حسین احمد المدنی (انبہٹہ پیر) کے ہونہار طلبہ نے اپنی محنت، اخلاص اور قرآنی ذوق کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور اپنے مدرسہ کا نام روشن کیا۔
اس باوقار اور علمی و روحانی مسابقے میں مدرسہ ہذا کے دو باصلاحیت طلبہ نے شرکت کی اور اپنی خوش الحان قراءت، مضبوط حفظ اور قرآنی آداب کے ساتھ حاضرینِ محفل اور منصفین کو متاثر کیا۔
نتائج کے مطابق عبداللہ بن قاری محمد مجسم صاحب نے اپنی خداداد صلاحیت اور عمدہ قراءت کے ذریعے دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ
یحییٰ بن ارقم (میرٹھ) نے بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسری پوزیشن اپنے نام کی۔
ان شاندار کامیابیوں پر صدرِ جمعیۃ علماء ضلع سہارنپور، حضرت مولانا سید حبیب اللہ مدنی صاحب نے دلی مسرت کا اظہار فرمایا اور دونوں کامیاب طلبہ، ان کے والدین اور مدرسہ کے معزز اساتذہ کو پُرخلوص مبارکباد پیش کی۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ کامیابی دراصل طلبہ کی مسلسل محنت، والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی مخلصانہ تربیت کا ثمر ہے۔

https://youtu.be/MEGD6UZdZLg?si=LlNPwY6NNw0hA5wJ
03/01/2026

https://youtu.be/MEGD6UZdZLg?si=LlNPwY6NNw0hA5wJ

برسوں بعد جب پرانی رفاقتیں یکجا ہوئیں، تو وقت جیسے پلٹ کر وہیں آ کھڑا ہوا جہاں اخلاص، محبت اور علم کی خوشبو بستی ہے۔یہ ویڈیو ہے پرانے دوستوں کی اُس یادگار مل...

مدرستہ الشیخ حسین احمد المدنی، انبہٹہ پیر میں منعقدہ مسابقۃ القرآن و العلوم الدراسیۃ کی تصویری جھلکیاں
31/12/2025

مدرستہ الشیخ حسین احمد المدنی، انبہٹہ پیر میں منعقدہ مسابقۃ القرآن و العلوم الدراسیۃ کی تصویری جھلکیاں

https://youtu.be/8AOxlvOAoFc?si=lAV2C3TIqYOVyoVTالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہپیشِ خدمت ہے مدرسہ مولانا حسین احمد مدنی،...
24/11/2025

https://youtu.be/8AOxlvOAoFc?si=lAV2C3TIqYOVyoVT
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

پیشِ خدمت ہے مدرسہ مولانا حسین احمد مدنی، انبہٹہ پیر، ضلع سہارنپور کا مکمل تعارف۔

معزز ناظرین!
اگر آپ ایسی مزید مفید اور معلوماتی ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا یوٹیوب چینل ضرور سبسکرائب کریں:
https://youtube.com/?si=sUlAsVqqca691tuj

ساتھ ہی بیل آئیکن لازمی دبائیں تاکہ ہر نئی اپ ڈیٹ بروقت آپ تک پہنچے اور کوئی اہم ویڈیو آپ سے رہ نہ جائے۔

آپ کی ایک سبسکرپشن ہمیں مزید اعلیٰ اور معیاری مواد پیش کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔
آپ کی محبت اور تعاون ہمارے لیے بے حد قیمتی ہے۔

والسلام

*مولانا غلام محمد وستانویؒ — ایک عہد ساز تعلیمی و فکری مجاہد کی رحلت*فضا پر سکوت چھا گیا ہے، گویا کائنات بھی غم کی چادر ...
05/05/2025

*مولانا غلام محمد وستانویؒ — ایک عہد ساز تعلیمی و فکری مجاہد کی رحلت*

فضا پر سکوت چھا گیا ہے، گویا کائنات بھی غم کی چادر اوڑھ کر سوگوار ہو گئی ہے،ہواؤں میں سناٹا ہے، لفظوں میں لرزش ہے، دل و دماغ سوگ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
یہ دن فقط ایک سانحہ نہیں، بلکہ ایک عہد کے ختم ہونے کا اعلان ہے، دل کی زمین سوگوار ہے، آنکھوں کے دریچے اشک بار، اور زبان پر بے اختیار دعائیں رواں ہیں۔
ہر سمت ایک خاموش ماتم جاری ہے، جیسے وقت بھی رک گیا ہو اور لمحے بھی سجدۂ غم میں ڈھل گئے ہوں،
زندگی کے افق پر ایک روشن ستارہ غروب ہو گیا، جس کی روشنی مدتوں دلوں کو منور کرتی رہے گی۔ ایک ایسی عظیم ہستی ہم سے رخصت ہو گئی، جو علم، حلم، اخلاص، قیادت، فکری جرأت، قومی درد اور دینی تڑپ کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ یہ محض ایک فرد کا فراق نہیں بلکہ ایک عہد، ایک فکر، ایک نظام اور ایک اخلاص سے لبریز دور کا اختتام ہے۔ ان کی جدائی نے امتِ مسلمہ کے دل کو چیر کر رکھ دیا ہے۔ ان کی زندگی جدوجہد، ایثار اور بے مثال خدمات کا روشن استعارہ تھی۔
حضرت مولانا وستانویؒ ایک عرصے سے علالت کا سامنا کر رہے تھے۔ مختلف اسپتالوں میں ان کا علاج جاری رہا، مگر تقدیرِ الٰہی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بیماری کی شدت نے اگرچہ ان کے جسدِ خاکی کو کمزور کر دیا تھا، مگر ان کی روحانی توانائی، اخلاص کی حرارت، اور فکر کی جوت بدستور روشن رہی۔ انہوں نے بیماری کو بھی صبر، رضا اور توقیر کے ساتھ جھیلا، اور اپنے رب کی طرف اس شان کے ساتھ لوٹے جیسے کوئی ولی اپنے محبوب سے ملنے جاتا ہے۔

حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کی حیاتِ طیبہ دین و دنیا کے حسین امتزاج، علم و عمل کے سنگم اور اخلاص و فداکاری کی درخشاں داستان تھی۔ ان کی علمی و روحانی خدمات، قرآن و سنت کی ترویج، اور مدارس و مساجد کی تعمیر و ترقی، ہمیشہ تاریخ کے سنہری اوراق پر عقیدت و احترام کے ساتھ رقم کی جائیں گی۔ ان کا وصال علمی، دینی اور روحانی دنیا کے لیے ایک ایسا غم ہے جس کی تپش مدتوں محسوس کی جاتی رہے گی۔ برصغیر کی علمی فضا آج ایک ایسی معتبر آواز سے محروم ہو گئی ہے جو دلوں کو گرما دیتی تھی۔

مولانا وستانویؒ نہ صرف ایک جید عالمِ دین تھے بلکہ صاحبِ بصیرت مربی، خوش فکر مصلح اور علومِ دینیہ کے سچے ترجمان بھی تھے۔ ان کی زندگی تقویٰ، طہارت، علم، اخلاص اور خدمتِ خلق کا مجسم نمونہ تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات مدارس کی آبیاری، مساجد کی رونق افروزی اور نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت میں صرف کیے۔ ان کی مجالس علم و نور کا سرچشمہ اور ان کی گفتگو دلوں میں نقش چھوڑ جانے والی ہوا کرتی تھی۔ وہ ان گنے چنے افراد میں شامل تھے جن کی موجودگی محفل کو نکھار دیتی، اور جن کی دعاؤں سے دلوں کو قرار نصیب ہوتا۔

مولانا وستانویؒ ایک ایسا روشن چراغ تھے، جو خود بھی منور رہا اور دوسروں کو بھی اپنے نور سے فیض پہنچاتا رہا۔ ان کی شخصیت میں انکساری، متانت اور اخلاص کی جو خوشبو تھی، وہ آج کے پرآشوب دور میں نایاب ہے۔ اہلِ علم، طلبہ اور عوام الناس یکساں طور پر ان کے علم، حلم اور رہنمائی سے مستفید ہوتے رہے۔

ان کا رقیق القلب مزاج ایک بحرِ کرم تھا، جس سے سبھی یکساں فیض پاتے۔ یتیم، بیوائیں، مساکین، طلبہ و علماء – سبھی ان کی سخاوت کے دائرے میں شامل تھے۔ ان کا دستِ عطا کسی سوالی کو خالی نہ لوٹاتا، اور ان کی مجلس شفقت، محبت اور امید کا سرچشمہ ہوا کرتی تھی۔ ان کی رفاہی خدمات ایک خاموش انقلاب تھیں، جو نہ شہرت کی طلبگار تھیں، نہ اسٹیج کی روشنیوں کی محتاج، مگر ان کے اثرات نسلوں تک دلوں کو روشن کرتے رہیں گے۔

آزاد ہندوستان کی تعلیمی و رفاہی تاریخ اگر کسی ایک فرد کی تجدیدی کاوشوں کی گواہ بنے، تو حضرت مولانا غلام محمد وستانویؒ کا نام صفِ اول میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ سرسید احمد خاںؒ کے مشنِ تعلیم کے علَم بردار، اور قاسم نانوتویؒ کے افکار و بصیرت کے امین تھے۔ وہ ان افکار کی زندہ تعبیر تھے جو دینی و عصری، روحانی و مادی علوم کے حسین امتزاج کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔

مولانا وستانویؒ ایک ہمہ گیر، کرشماتی اور بصیرت افروز شخصیت کے حامل تھے۔ ان کے نظریات اور تعلیمی منصوبے کسی ایک ادارے یا علاقے تک محدود نہ تھے، بلکہ وہ ایک پوری نسل کے ذہنوں کو جِلا بخشنے والے مشعل بردار تھے۔ وہ ان علماء کی زنجیر کی ایک سنہری کڑی تھے، جنہوں نے تعلیم کو عبادت جانا، اور امت کی فلاح کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔

آپؒ کے ہاتھوں تعمیر ہونے والے ادارے – مدارس، مساجد، اسکول، کالجز اور پروفیشنل مراکز – محض اینٹ و گارے کی عمارتیں نہیں، بلکہ فکری، دینی اور معاشرتی بیداری کی علامتیں ہیں۔ آپؒ نے ایک ایسا تعلیمی ماڈل پیش کیا، جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں جدید علوم کی تدریس اور طلبہ کی ہمہ جہتی تربیت نمایاں تھی۔

آپؒ 1950ء کو گجرات کے ضلع سورت کے ایک چھوٹے سے گاؤں "کوساڑی" میں پیدا ہوئے، اور بعد ازاں "وستان" کی طرف نسبت سے "وستانوی" کہلائے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ قوت الاسلام کوساڑی سے حاصل کی، قرآن مجید حفظ کیا، اور پھر مدرسہ شمس العلوم بروڈہ، دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر، اور مظاہر علوم سہارنپور میں علمی منازل طے کیں۔ صحیح بخاری انہوں نے حضرت مولانا محمد یونس جونپوریؒ سے پڑھی۔

دینی تعلیم کے ساتھ عصری میدان میں بھی قدم رکھا، اور MBA کی ڈگری حاصل کی۔ روحانی تعلقات حضرت محمد زکریا کاندھلویؒ، حضرت سید صدیق احمد باندویؒ، اور حضرت یونس جونپوریؒ سے استوار ہوئے۔

1979ء میں انہوں نے "جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم، اکل کوا" کی بنیاد رکھی، جو ابتدا میں ایک مکتب تھا۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ ایک مثالی جامعہ بن کر ابھرا۔ یہاں نہ صرف دینی تعلیم بلکہ انجینئرنگ، فارمیسی، IT، B.Ed، D.Ed اور متعدد عصری کورسز فراہم کیے جاتے ہیں۔ یہ بھارت کا واحد اقلیتی میڈیکل کالج بھی چلاتا ہے، جو MCI سے تسلیم شدہ ہے۔

یہ ادارہ صرف ایک درسگاہ نہیں، بلکہ ایک تحریک اور زندہ نظریہ ہے – جہاں علم کے ساتھ حلم، عقل کے ساتھ اخلاق، اور تعلیم کے ساتھ تربیت کی آمیزش کی جاتی ہے۔ مولاناؒ نے ملک بھر میں درجنوں ادارے قائم کیے اور ان کے انتظام و انصرام میں بھرپور کردار ادا کیا۔

ان کی زندگی سادگی، انکساری اور اخلاص کا مرقع تھی۔ انہوں نے شہرت، مقام و مرتبہ یا دنیاوی عزت کے لیے کبھی کوئی قدم نہ اٹھایا۔ غربت، یتیمی، بیوگی اور محرومی ان کے نزدیک محض اصطلاحات نہیں، بلکہ انسانیت کی آزمائشیں تھیں، جن کا جواب عملی خدمت سے دیا جانا چاہیے۔

جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کے زیرِ سایہ ایک منظم رفاہی نظام بھی قائم کیا، جہاں یتیم بچوں کی کفالت، بیواؤں کی اعانت، نادار مریضوں کا علاج، اور محتاجوں کی باوقار مدد کا سلسلہ مؤثر انداز میں جاری ہے۔ ان اداروں کی فضا سے علم، کردار اور خدمت کی مہک آتی ہے۔

ان کا ایک عظیم کارنامہ یہ بھی ہے کہ اپنی وفات سے قبل جامعہ اشاعت العلوم کی قیادت کے لیے اپنے ہونہار فرزند، حضرت مولانا حذیفہ وستانوی دامت برکاتہم کو جانشین مقرر فرمایا، جو ان کے فکر و مزاج کے سچے امین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے، اور انہیں اس امانت کی حق دارانہ ادائیگی کی توفیق دے۔

آج مولانا غلام محمد وستانویؒ ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ان کا مشن، ان کی دعائیں، ان کا علمی ورثہ اور ان کی روشن مثالیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔ وہ چلے گئے، مگر ان کی فکر، ان کا عزم، اور ان کا کردار دلوں میں زندہ رہے گا۔
مولانا کی رحلت سے ملک و ملت ایک مخلص راہنما، دوراندیش مفکر، اور بے مثال منتظم سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کی علمی، روحانی اور انتظامی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ اور سرچشمۂ ہدایت بنی رہیں گی، ان شاء اللہ۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ حضرت کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ نیز، ان کے اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردانِ وفا شعار اور تمام محبانِ علم و دین کو صبرِ جمیل اور حوصلۂ عظیم عطا فرمائے۔

اللّٰھم اغفر لہ، وارحمہ، وعافہ، واعف عنہ، ووسّع مدخلہ، واغسله بالماءِ والثلجِ والبَرَد، ونقِّه من الخطایا کما ینقَّى الثوبُ الأبیضُ من الدَّنَس۔ آمین یا رب العالمین۔
*اندوہگین*
*محمد احسان تحسین قاسمی*
*مدنی مدرسہ انبہٹہ پیر ضلع سہارنپور*

Address

Madani Nagar Islam Nagar Road Ambehta Peer Distt. Saharanpur
Saharanpur
247340

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm
Sunday 9am - 5pm

Telephone

9084484786

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Hussain Ahmad Madani Madarsa posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Maulana Hussain Ahmad Madani Madarsa:

Shortcuts

Share