18/12/2022
جشن بہاراں بموقع نکاح خوانی اور دعوت ولیمہ
اَلنِّكَاحُ مِن سُنَّتِي فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
خلیفۂ حضور تاجدارِ بلگرام حضرت مولانا عارف القادری واحدی مرکزی سلمہ المنان کے نکاح مسنون کی محفل اور دیگر پروگراموں کا انعقاد ہوا۔جس کا مفصل ذکر یہاں کیا جا رہاہے ۔
اس موقع پر مولانا عارف القادری نے اپنے بیان میں کہا کہ
اسلامی سوسائٹی میں نکاح صرف ایک معاہدہ ہی نہیں، ایک رشتہ تقدس بھی ہوتا ہے، اس کو اخلاق کی پاکیزگی کا بہت بڑا ذریعہ قرار دیا گیا ہے- حدیثِ پاک ہے کہ عکاف و داعہ سے آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہاری شادی ہوچکی ہے.....؟ جواب ملا نہیں دریافت فرمایا: کھانے پینے کا سامان ہوجاتا ہے، جواب دیا، اچھا خاصہ خوش حال ہوں، تو ارشاد ہوتا ہے، پھر تو تم شیطان کے بھائیوں میں سے ہو، عیسائیوں کی طرح ہو، اگر تم ہم میں سے ہونا چاہتے ہو تو وہی کرو جو ہم کرتے ہیں، ہماری سنتوں میں ایک سنت نکاح بھی ہے
عہد جاہلیت میں عرب حسب و نسب پر زور دیتے تھے، یہودی مال و دولت کو دیکھتے تھے، عیسائی حسن و خوبصورتی کا خیال رکھتے مگر اسلام میں دین کا اعتبار ہے
حضرتِ زینب رضی الله تعالیٰ عنہا بنت جحش آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں، لیکن آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی الله تعالیٰ عنہ بن حارث سے بیاہ دیا تھا، حضرت زید ایک غلام تھے جو آزاد کردیئے گئے تھے
ایک معزز انصاری گھرانے نے اپنی لڑکی کے لئے رشتہ تجویز کرنے کی آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم سے درخواست کی آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تم ایک جنتی کو چاہتے ہو تو بلال رضی الله تعالیٰ عنہ سے بیاہ دو، صرف حسن اور دولت کو دیکھ کر شادی کرنے والے اسلام کے صحیح مقصد کو نہیں سمجھے، حسن بگاڑنے والا اور دولت نافرمان بنانے والی ہوتی ہے، ایک سیاہ رنگ والی سادہ سی شریف اور دیندار عورت دوسری عورتوں سے بدرجہا بہتر ہے
آج کل اکثر مسلمان گھرانوں میں دین کے بجائے یہی فکر ہوتی ہے کہ پیسے والی لڑکی بیاہی جائے تاکہ کھلی دولت گھر میں آئے، اس کو آپ کاروباری شادی بھی کہ سکتے ہیں، ایسی شادیاں الله تعالی کی برکت سے محروم ہوتی ہیں، خاندانی اور دینی زندگی میں جو لطف و مسرت ہے وہ ایسے گھرانوں میں نہیں ہوتی، ایک بڑی نازیبا صورت جو آج کل ان ممالک میں مسلم ماحول میں زور پکڑ رہی ہیں کہ یہاں کے معاشرے میں باعزت رہنے اور کاروبار کی کامیابی کے لئے کسی غیر مسلم لڑکی سے شادی رچائی جاتی ہے، ایسے نکاح میں نہ تقدس ہوتا ہے نہ تقوی کا کوئی پہلو نظر آتا ہے، ایسی شادیوں میں عام طور پر یہ حیلہ ذہن میں رہتا ہے کہ اہل کتاب عورت سے شادی جائز ہے، حالانکہ اس میں بڑی احتیاط لازم ہے یہ صحیح ہے کہ ان پیغمبروں کو آسمانی کتابیں ملی تھیں لیکن....... ان کی تعلیمات اب مسخ ہوگئی ہے، اگر ان کی سچی تعلیمات پر عمل کرنے والی لڑکی ملتی ہے تو اس سے شادی ہوسکتی ہے، ورنہ وہ مشرکوں کی تعریف میں آتی ہے، اس جواز میں یہ بھی شرط ہے کہ وہ غیر مسلم اہل کتاب لڑکی ذمی یعنی اسلامی ملک میں رہنے والی ہو، امریکہ برطانیہ اور یورپ کے کفرستانوں میں رہنے والی بے باک ننگ لڑکی سے تو سختی سے ممانعت ہے۔
مذہب اسلام میں نکاح کا مقصد ہی ملت کے لیے پاک اور نیک نسل فراہم کرنا ہے، جو شرک و کفر، بے حیائی اور عریانی کی لعنت سے محفوظ ہو، سورہ مائدہ میں جو اجازت ہے وہ مشروط رخصت ہے، ان کفرستانوں میں رہنے والی لڑکی اپنی سوسائٹی سے مرعوب اور متاثر گھرانے میں پرورش پانے والی اولاد مسلمان کیسے رہ سکتی ہے۔
ان ممالک میں جو شادیاں ہوں گی ان میں دیناداری کا مسئلہ تو بعد کا ہے، پاک دامنی سے ہی محرومی رہتی ہے، قرآن مجید میں صاف صاف ارشاد ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔
شریعت مطہرہ کی پاسداری کرتے ہوئے 6 دسمبر بروز منگل صبح 11 بجے [برمکان مولانا عارف القادری] سہرا بندی کی محفل علمائے کرام و شعرائے اسلام کی موجودگی میں سجائی گئی۔ جس میں نعت و منقبت اور مسلک اعلیٰ حضرت کے ترانے گنگنائے گئے بعدہ خلیفۂ حضور تاج الشریعہ استاذ الشعراء اقبال زمانہ حضرت علامہ سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی صاحب قبلہ کے قلم سے وجود میں آئے سہرے کے اشعار شہنشاہ ترنم شاعر اسلام توفیق قمر صاحب قبلہ نے اپنے دل فریب انداز پیش کئے
نوٹ :- یہ محفل مرد و خواتین کے اختلاط اور تمام جاہلانہ رسم و رواج سے پاک و صاف رہی..
موضع نیا گاؤں ستارگنج سے بارات روانہ ہوئی اور قبل نماز مغرب صابری شادی ہال نواب گنج بریلی شریف میں آمد ہوئی,شادی ہال کے قریب اولیاء مسجد میں مغرب کی نماز شہزادہ حضور تاجدارِ بلگرام پیر طریقت رہبر راہ شریعت حضور سہیل ملت حضرت علامہ الحاج الشاہ سید میر محمد سہیل میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم العالیہ سجادہ نشین خانقاہ واحدیہ طیبیہ بلگرام شریف کی اقتداء میں ادا کرنے کے بعد شاہکار ترنم شاعر ہندوستان حضرت مولانا راشد رضا مرکزی صاحب نے حضور تاج الشریعہ کا مشہور زمانہ کلام زندگی ہے نبی کی نبی کے لئے پیش کیا شہنشاہِ ترنم شاعر اسلام توفیق قمر صاحب نے تہنیت کے اشعار پیش کئے اور خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا رئیس الدین نوری صاحب قبلہ پرنسپل مرکز گلشن فاطمہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ نیوریا حسین پور نے اس موقع پر 'اسلام میں نکاح کی اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں نکاح کی بڑی اہمیت ہے۔ اسلام نے نکاح کے تعلق سے جو فکرِ اعتدال اور نظریہٴ توازن پیش کیا ہے وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے۔ اسلام کی نظر میں نکاح محض انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کا نام نہیں ہے۔ انسان کی جس طرح بہت ساری فطری ضروریات ہیں بس اسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک اہم فطری ضرورت ہے۔ اس لئے اسلام میں انسان کو اپنی اس فطری ضرورت کو جائزاور مہذب طریقے کے ساتھ پوراکرنے کی اجازت ہے اوراسلام نے نکاح کوانسانی بقا وتحفظ کے لئے ضروری بتایا ہے اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ”النکاح من سنّتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی “ نکاح کرنا میری سنت ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کوآدھا ایمان بھی قرار دیا ہے ”اِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ اِسْتَکْمَلَ نِصْفَ الدِّیْنِ فَلْیَتَّقِ فِیْ النِّصْفِ الْبَاقِیْ“ جو کوئی نکاح کرتاہے تو وہ آدھا ایمان مکمل کرلیتاہے اور باقی آدھے دین میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔ نکاح انبیاء کرام کی بھی سنت ہے۔ ارشاد ربانی ہے ”وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً“ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپ سے پہلے یقینا رسول بھیجے اورانہیں بیویوں اور اولاد سے بھی نوازا۔ اس ارشاد ربانی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام بھی صاحبِ اہل وعیال رہے ہیں۔ارشاد نبوی اس طرح ہے حضرت ابوایوب انصاری رضی المولی المولی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رسولوں کی چار سنتیں ہیں: (۱) شرم و حیاکا خیال (۲)مسواک کا اہتمام (۳) عطر کا استعمال (۴) نکاح کا التزام(۴)۔
نکاح کی اہمیت ان احادیث سے بھی واضح ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت رکھتا ہے اسے نکاح کرلینا چاہئے کیونکہ نکاح نگاہ کو نیچا رکھتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے (یعنی نظرکو بہکنے سے اور جذبات کو بے لگام ہونے سے بچاتا ہے) اور جو نکاح کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اسے چاہئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے وقتاً فوقتاً روزے رکھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ جب بعض صحابہ کرام نے عبادت و ریاضت میں یکسوئی و دلچسپی کے پیشِ نظر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی قوت شہوت کو ختم کردینے کی خواہش ظاہر کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور شادی نہ کرنے کو زندگی سے فرار اختیار کرنا قرار دیا۔ اس لیے کہ اسلام زندگی سے فرار کی راہ کو بالکل ناپسند کرتاہے۔ چنانچہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ”وَاللّٰہِ اِنِّیْ لاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہ وَلٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّیْ وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ“ بخدا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کی ناراضگی سے بچنے والا ہوں (لیکن میرا حال) یہ ہے کہ میں کبھی نفل روزے رکھتا ہوں اور کبھی بغیر روزوں کے رہتا ہوں راتوں میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بھی کرتا ہوں (یہ میرا طریقہ ہے) اور جو میرے طریقے سے منھ موڑے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
انسان کسی قدر آرام طلب واقع ہوا ہے اور فطری طور پر راحت وسکون کا محتاج ہے اوراسی طرح فطری جذبات اورانسانی خواہشات کو پورا کرنے کا مزاج رکھتا ہے۔ راحت و مسرت سکون و اطمینان اس کی فطرت میں داخل ہیں۔ انسان کو اپنے مقصد تخلیق میں کامیاب ہونے، عبادت میں یکسوئی و دلچسپی پیدا کرنے، بندوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے اور اپنے متضاد جبلی اوصاف کو صحیح رخ پر لانے کے لیے نکاح انسان کے حق میں نہایت موٴثر ذریعہ اور کارآمد طریقہ ہے۔ اللہ پاک نے نکاح میں انسان کے لیے بہت سے دینی ودنیاوی فائدے رکھے ہیں۔ مثلاً معاشرتی فائدے خاندانی فائدے اخلاقی فائدے سماجی فائدے نفسیاتی فائدے غرضیکہ فائدوں اور خوبیوں کا دوسرا نام نکاح ہے۔
انسان کو نکاح کے ذریعہ صرف جنسی سکون ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ قلبی سکون ذہنی اطمینان غرض کہ ہرطرح کا سکون میسر ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”هُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ اِلَیْہَا“ وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنادیا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔ اس آیت سے عورت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے کہ عورت مرد کے حق میں ایک انمول تحفہ ہے اورمرد کے لئے باعث سکون و اطمینان ہے لہٰذا جو مرد عورت کی قدر کرتا ہے وہ کامیاب اور پرسکون زندگی گزارتا ہے۔ اگر انسان نکاح سے جو انسانی فطری ضرورت ہے منھ موڑنے کی کوشش کرتا ہے تو انسان کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نکاح کے بغیر سارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ تاریخ میں چند استثنائی صورتوں اور چند مذہبی لوگوں کے افکار کے علاوہ دنیا میں ہمیشہ تمام انسان ہر زمانے میں شادی کو اہم ضرورت تسلیم کرتے آئے ہیں تاریخ کی روشنی میں شادی سے مستثنیٰ کبھی کوئی قوم مذہب اور ملت نہیں رہے ہیں۔ہر مذہب وملت میں مقررہ مراسم اور رواجات کے بغیر تعلقات مرد وعورت برے اوراخلاق سے گرے ہوئے سمجھے گئے ہیں اگرچہ ہر مذہب وملت میں شادی کے طور طریقے رسم و رواج الگ الگ رہے ہیں بحرحال شادی کی اہمیت پر سب متفق ہیں۔
اس کے بعد حضور سید سہیل ملت کا پر جوش استقبال کیا گیا پورا شادی ہال واحدی دولہا فیضان بلگرام شریف اور جشن شادی مولانا عارف القادری واحدی کے نعروں سے گونج اٹھا۔۔ بعدہ بزبان حضور سہیل ملت رسول اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق خطبہ نکاح اور ایجاب و قبول اور دعائیہ کلمات ادا کئے گئے
7 دسمبر بروز بدھ (بمقام زویا پیلس ستارگنج اودھم سنگھ نگر میں جشن بہاراں بموقع دعوت ولیمہ کا پروگرام قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہوا جس میں نعت و منقبت اپنے اپنے انداز میں علمائے کرام و شعرائے اسلام نے شہزادہ حضور سید شاہد علی تقوی رحمتہ اللہ علیہ پیر طریقت حضور سید فیضی میاں تقوی صاحب قبلہ سجادہ نشین خانقاہ بشیری منظوری شاہدی بہیڑی بریلی شریف کی سرپرستی میں پیش کئے۔۔۔اس موقع پر قائد اہل سنت حضرت علامہ زاہد رضا رضوی سابق چیئرمین اتراکھنڈ حج کمیٹی نےکہا کہ
اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش کے بعد ان کی تمام اہم ضرورتوں کا انتظام اور اس کے لئے مناسب نظام بھی بنایا۔کھانے کے لئے غذائیں، پینے کے لئے پانی فراہم کیا تو ساتھ ہی حلال وحرام اور جائز و ناجائز کی تفصیلات واضح کرکے اس کا پابند کردیا۔ سانس لینے کے لئے ہوا اور آکسیجن کا فطری انتظام کیا، شجرکاری کی حوصلہ افزائی اور اس کی افادیت کو واضح کیا تو بے ضرورت درخت کاٹنے کو ممنوع قرار دے دیا۔ دنیا میں کامیاب زندگی کے لئے خاندان کی ضرورت، خاندان کی تشکیل اور وجود کے لئے نکاح کی مشروعیت، نکاح جیسے جائز اور مسنون عمل کی طرف ترغیب، اس کے بے شمار سماجی فوائد، اس پر اجر و ثواب کا وعدہ، ناجائز رشتوں کی قباحت و حرمت، اس کی مذمت، اس پر دنیوی سزا اور اخروی عذاب کو بیان کیا۔ اوراس طرح نکاح و شادی کے بعد ازدواجی تعلق کو نہایت مہذب شائستہ اور مطلوب طریقہ قرار دے کر اس کو نہایت آسان بنادیا۔
نکاح مرد اور عورت کا خالص نجی اور ذاتی معاملہ ہی نہیں، بلکہ یہ نسل انسانی کے وجود، قیامت تک اس کی بقا و دوام اور بے شمار انسانی وسماجی ضرورتوں اور تقاضوں کی فراہمی اور تکمیل کے لئے اللہ اور رسول کی طرف سے متعین کردہ نہایت مہذب اور شائستہ طریقہ ہے اس لئے آئیے جائزہ لیں کہ نکاح سے کن انسانی و سماجی ضرورتوں کی فراہمی اور تکمیل ہوتی ہے۔ اور اس کے کیا فوائد اور اس کے نہ ہونے کے کیا نقصانات ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ نکاح اور شادی انسانوں کے لئے کیوں ضروری ہے۔
(1) آپسی سکون ومحبت کا ذریعہ:
اسلام میں نکاح کوکسی نا محرم سے آپسی پیار و محبت اور جائز تعلق کی بنیاد قرار دیا گیا اور اسے زندگی کی بہت سی اہم ترین ضروریات کی تکمیل، سکون و اطمینان اور باہمی الفت و مودت کا ذریعہ بنادیا گیا۔ "وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً”یعنی اللہ نے تمہاری ہی نسلوں سے تمہارے لئے جوڑا بنا کر ایک دوسرے کے سکون اور آپسی پیار و محبت کا انتظام فرمایا اور اس کو اللہ کی نشانیوں میں اہم نشانی قرار دیا۔ (الروم21)
(2) اللہ کا مطالبہ:
نکاح صرف انسانوں کی نجی ضرورت اور ان کا اختیاری مسئلہ و فیصلہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کو اللہ نےبے شمار سماجی ضرورتوںاور عفت و پاکدامنی کی خاطر مطلوب و مسنون قرار دیا اور فرمایا ” فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ” کہ پسند آنے والی خواتین سے نکاح کرو (النساء 3)
(3)انبیاء کا طریقہ:
نکاح عام انسانوں کی ضرورت اور طریقہ کار ہی نہیں بلکہ یہ اللہ کے منتخب کردہ اور کائنات کے سب سے افضل اور دنیا میں آئیڈیل اور اسوہ بناکر بھیجے گئے انبیاء اور رسولوں کی سنت اور طریقہ ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بیشتر نبیوں کا اسوہ قرار دیا اور فرمایا "وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً”ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیوی بچوں سے نوازا (الرعد 38)
(4) مختلف رشتوں اور قرابت داری کا ذریعہ:
نکاح وہ سنت ہے جس کے ذریعہ صرف دو لوگوں کو باہمی پیار و محبت اور الفت و مودت کے ساتھ مربوط نہیں کیا جاتا بلکہ بہت سے ایسے نئے رشتے بھی عطا کئے جاتے ہیں جو زندگی خوشگوار بنانے اور اس کی خوشیوں کو دو بالا کرنے اور دکھ درد بانٹنے کا سبب بن جاتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نسبی رشتوں کی طرح نکاح کی وجہ سے بننے والے رشتوں کو اپنے انعام و احسان کے طور پر بیان فرمایا "وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهْرًا” کہ اللہ نے ہی پانی (انسانی نطفہ) سے انسانوں کو پیدا کیا اور انھیں دو طرح کے رشتے نسبی اور سسرالی رشتے عطا فرمائے۔ (الفرقان 54)
(5) نبی اکرم کی سنت:
سورہ رعد آیت نمبر38 میں اللہ تعالی نے نکاح کو بیشتر انبیاء کی سنت قرار دیا اور آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صرف نجی اور جنسی ضرورت کے بجائے ایک عمومی بڑی سماجی ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی اہمیت، ضرورت اور فضیلت کو مزید واضح کیا اور اس کو خود اپنی سنت بھی قرار دیا اور کئی شادیاں کیںجس کے بے شمار دعوتی و سماجی فائدے ملے اور فرمایا ”النِّكاحُ من سُنَّتي”( ابن ماجة عن عائشة)
(6) عام جانداروں اور انسان میں فرق:
اللہ تعالی نے کائنات میں بہت سی جان دار مخلوق پیدا کیے، ان کے اندر جنسی خواہش اور اس کے ذریعہ ان کی نسل بڑھانے کا انتظام فرمایا لیکن انسانوں اور دوسرے جانداروں میں فرق کرنے کے لئے انسانوں کو نکاح کا مسنون طریقہ دے کر اس کو صرف وقتی ضرورت ہی نہیں رہنے دیا بلکہ عام حالات میں اس کو دائمی اور ایک دوسرے کے تئیں بہت سے حقوق و ذمہ داریوں سے مشروط کردیا ۔
اس کے بعد مہمانوں کے لئے لذیذ طعام کا بہترین انتظام کیا گیاتھا۔ واضح ہوکہ مردوں کے طعام کا اہتمام الگ کیا گیا تھا جس میں عورتوں کا دخول ممنوع تھا۔اور عورتوں کا الگ اہتمام کیا گیا تھا نیز خاص طور پر کھانا کھلانے کے لئے عورتوں کو ہی زمہ داری دی گئی تھی ۔اس جشن بہاراں و دعوت ولیمہ میں شہر کی سیاسی سماجی معزز شخصیات نے شرکت کی سعادت حاصل کی جن میں خلیفۂ حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ رئیس الدین نوری, جامع معقولات و منقولات استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مفتی فرید احمد نوری صاحب قبلہ, معمار قوم حضرت مولانا عابد حسین صاحب قبلہ, خلیفۂ حضور تاجدارِ بلگرام حضرت علامہ قاری حبیب القادری مصباحی صاحب قبلہ,نیر برج سیادت حضرت مولانا قاری سید تحسین رضا واحدی صاحب قبلہ, پیکر اخلاص حضرت مولانا انتظار احمد القادری,الحاج انوار احمد سابق وزیر اتراکھنڈ الحاج شمس الحق ڈائریکٹر ایس ایچ اسپتال ستارگنج نقیب الہند حضرت علامہ رفیق القادری واحدی صاحب حضرت حافظ شرافت ازہری صاحب قبلہ, حضرت حافظ و قاری عبد الباسط صاحب قبلہ, حضرت علامہ مفتی منان رضا مرکزی صاحب قبلہ, حضرت علامہ مولانا ایوب میاں صاحب قبلہ,حضرت علامہ مولانا عبد القیوم صاحب قبلہ, حضرت علامہ مولانا عارف نوری واحدی صاحب قبلہ اور حضرت علامہ مولانا سعید مصباحی صاحب قبلہ کے علاوہ کثیر تعداد میں علمائے کرام اور عوام الناس نے شرکت کی۔اور زوجین کو ڈھیروں مبارکباد اور نیک خواہشات کے ساتھ دعائیں دیں۔
از قلم : محمد قمر انجم فیضی
ایڈیٹر سہ ماہی جام میر بلگرام شریف
پروگرام کے حسین منظر کے کچھ نظارے.!!